rss

امریکہ اور یورپ کا ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کے مسائل سے نمٹنے کا مشترکہ منصوبہ

English English, اردو اردو

کرسٹوفر کانل
2جون 2016

 

تصور کیجیے کہ بیرون ملک کسی جگہ آنے والا ایک سیاح بس کی ٹکر سے بے ہوش  ہو جاتا ہے اور اسے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اور نرس پاسپورٹ کے ذریعے اس کا نام جان لیتے ہیں مگر اس کے طبی ریکارڈ کے بارے میں انہیں کچھ علم نہیں کہ آیا اسے کون سی ادویات سے الرجی ہو سکتی ہے یا طبی حوالے سے اس کی دیگر خاص کیفیات کیا ہیں۔

تاہم اگر آپریشن سے پہلے اس  مریض کی صحت کا الیکٹرانک ریکارڈ باآسانی حاصل کیا جا سکے   تو کیسا رہے؟ اور اگر ایک ملک میں جمع کردہ طبی ضابطوں اور اصطلاحات کی بدولت ڈاکٹروں کو اس مریض کے آئندہ علاج میں مدد مل جائے توکیا ہو گا؟

2010 میں امریکہ اور یورپی یونین نے ایک ترقی پسندانہ ” ای ہیلتھ ”منصوبے کا بیڑا اٹھایا تھا جس کا یہی مقصد ہے۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ گزشتہ برس مکمل ہوا اور حکومتوں، عالمی معیار کے اداروں، صحت عامہ سے متعلق کمپنیوں  اور کاروباری اداروں میں ای ہیلتھ کے حوالے سے اوقیانوس کے آر پار  تعاون بڑھانے کی حکمت عملی پر بہت جلد کام دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔

فی الوقت اس حکمت عملی پر کام کرنے والی ٹیموں کی توجہ ان انفرادی طبی تلخیصات (جس میں مریض کو اپنے طبی ریکارڈ تک رسائی حاصل ہو) کے لیے راہ ہموار کرنے پر ہے۔ انہوں نے اس پر بھی کام کیا ہے کہ ای ہیلتھ میں ریکارڈ کے تبادلے کا کام موثر طور سے انجام دینے کے لیے عملے کو بہترین طور سے کیسے بھرتی کیا جا سکتا ہے اور تربیت دی جا سکتی ہے۔

تاہم ای ہیلتھ کے شعبے میں اوقیانوس کے آر پار  تعاون  سے ایک بڑا نتیجہ حاصل ہونے کی یقین دہانی بھی  موجود ہے۔ اگر دنیا کے ممالک ایک جیسے معیارات اور ضوابط اپنا لیں تو طبی آلات بنانے والی صنعتیں بہت جلد نئی منڈیوں تک پہنچ سکتی ہیں۔

آجکل دنیا کے بہت سے ممالک کو طبی حوالے سے جن مسائل کا سامنا ہے ان میں معمر آبادی اور لوگوں کی بڑی تعداد کا دیرینہ بیماریوں میں مبتلا ہونا بھی شامل ہیں۔ ایسے میں امید ہے کہ ای ہیلتھ کم قیمت میں بہتر طبی نگہداشت مہیا کرے گی۔ ای ہیلتھ پہلے ہی ادویہ ساز کمپنیوں کو تحفظ زندگی کی ممکنہ ادویات کے کلینیکل ٹرائلز کی غرض سے مریضوں کے لیے بہت سے امکانات سے کام لینے میں مدد دے رہی ہے۔

ایبولا، ذِکا وبائیں اور فوری اقدامات کی اہمیت

اس شعبے میں امریکہ اور یورپی یونین کے باہمی تعاون کا مقصد مریض کی پرائیویسی کا تحفظ کرتے ہوئے طبی ریکارڈ کے نظام کو اچھے طریقے سے کام کے قابل بنانا ہے۔ اس کے لیے باہم تعامل کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ اس میں اہم بات یہ دیکھی جا رہی ہے کہ عالمی مریض کے حوالے سے کون سی علامات حیات، لیبارٹری ٹیسٹ اور دیگر معلومات سب سے زیادہ اہم ہیں۔

حکومتی ماہرین کہتے ہیں کہ ایبولا اور ذِکا وبائیں طبی معلومات کے حوالے سے عالمگیر تعاون کی واقعتاً فوری ضرورت کو واضح کرتی ہیں۔

صحت سے متعلق کمپنی ”نووارٹِس” میں کمپیوٹر سائنس دان اور ادویہ ساز محقق جوریس وین ڈیم کا کہنا ہے کہ ای ہیلتھ کو اپنانے کی رفتار ”انتہائی سست” رہی ہے۔ اس سلسلے میں وہ کمپیوٹر کے طریقہ ہائے کار کے بجائے معلومات کے تبادلے سے متعلق ضابطے کی رکاوٹیں اور تعلیمی طبی مراکز کی ہچکچاہٹ کو زیادہ بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ”طبی ادارے نہیں چاہتے کہ وہ جن مریضوں کا علاج کر رہے ہیں ان پر کوئی اور بھی تحقیق کرے۔”

اس کے باوجود ای ہیلتھ سرکاری اور نجی شعبے کی ایک اعلیٰ ترجیح ہے۔ طبی آلات اور ادویات کو برآمدی ترجیح کے طور پر فروغ دینے والا امریکی محکمہ تجارت بھی یکساں عالمی معیارات کے حصول کے لیے قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ عالمی تجارتی ماہر میتھیو ہین کا کہنا ہے کہ ”باہم تعامل سے تخلیقیت، کاروبار اور اختراع کو فروغ ملتا ہے۔”


मूल सामग्री देखें: https://share.america.gov/tackling-health-challenges-with-technology/
यह अनुवाद एक शिष्टाचार के रूप में प्रदान किया गया है और केवल मूल अंग्रेजी स्रोत को ही आधिकारिक माना जाना चाहिए।
ईमेल अपडेट्स
अपडेट्स के लिए साइन-अप करने या अपने सब्सक्राइबर प्राथमिकताओं तक पहुंचने के लिए कृपया नीचे अपनी संपर्क जानकारी डालें