rss

مشیر برائے قومی سلامتی کا بیان

وائیٹ ہاؤس

پریس سیکریٹری کا دفتر

برائے فوری اجراء

1 فروری 2017

 

مشیر برائے قومی سلامتی کا بیان

 

"ایران کی حالیہ کارروائیاں، بشمول ایک اشتعال انگیز بیلسٹک میزائل کا تجربہ اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے ایک سعودی بحری جہاز پر کیا جانے والا حملہ، اس چیز کو نمایاں کرتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے غیر مستحکم کرنے والے طرزِ عمل کے بارے میں پوری عالمی برادری پر واضح ہونی چاہیئے۔

 

حال ہی میں بیلکسٹک میزائل کا تجربہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی بھی ہے، جو ایران سے "جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے کے لیے تیار کردہ بیلسٹک میزائلوں سے متعلق کوئی بھی سرگرمی انجام نہ دینے کا مطالبہ کرتا ہے، بشمول ایسی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے تجربہ کرنا۔”

 

یہ گزشتہ چھ ماہ میں رونما ہونے والے واقعات کے تسلسل میں سے صرف تازہ ترین واقعات ہیں جن میں حوثی فوج جو ایرانی تربیت یافتہ اور اس کے اسلحہ سے لیس ہے، نے اماراتی اور سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور بحیرۂ احمر سے گزرنے والے امریکی اور اتحادی بحری جہازوں کو دھمکیاں دی ہیں۔ ان اور ایسی ہی دیگر سرگرمیوں میں، ایران خطے میں امریکہ کے دوستوں اور اتحادیوں کو دھمکانا جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

اوبامہ حکومت تہران کی ان مذموم کارروائیوں کا مناسب جواب دینے میں ناکام رہی – جن میں ہتھیاروں کا تبادلہ، دہشت گردی کی حمایت اور بین الاقوامی اصولوں کی دیگر خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ ٹرمپ حکومت ایران کی جانب سے ایسی کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے تک کی سلامتی، خوشحالی اور استحکام کو تباہ کرتی ہیں اور امریکی جانوں کو خطرے سے دوچار کرتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران اور اوبامہ حکومت، نیز اقوامِ متحدہ کے مابین ہونے والے کئی معاہدوں پر ان کے کمزور اور غیر مؤثر ہونے کی وجہ سے شدید تنقید کی ہے۔

 

ان معاہدوں پر امریکہ کا شکرگزار ہونے کی بجائے، ایران کے حوصلے اب بلند ہو گئے ہیں۔

 

آج سے، ہم ایران کو باضابطہ طور پر نگاہ میں رکھ رہے ہیں۔”


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں