rss

صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم مودی کے مشترکہ بیان کی تصریحات

English English, हिन्दी हिन्दी

وائٹ ہاؤس
دفتر برائے پریس سیکرٹری
برائے فوری اجرا
26 جون 2017
روز گارڈن

صدر ٹرمپ: آپ کا بے حد شکریہ۔ وزیراعظم مودی ، آج یہاں ہمارے ساتھ موجودگی پر میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے رہنما کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کرنا میرے لئے ایک بہت  بڑا اعزاز ہے۔

میں ہمیشہ آپ کے ملک اور عوام کا  مداح رہا ہوں اور آپ کی متمول ثقافت ، ورثے اور روایات کا بھرپور قدردان ہوں۔ اس موسم گرما میں انڈیا اپنی آزادی کی 70 ویں سالگرہ منائے گا  اورآپ کی عظیم قوم کی زندگی کے اس شاندار سنگ میل پر امریکہ کی جانب سے میں بھارتی عوام کو مبارک باد دینا چاہوں گا۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران میں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر میں منتخب ہو گیا تو انڈیا وائٹ ہاؤس کا حقیقی دوست ہو گا، اور اب ایسا ہی ہے۔ امریکہ اور انڈیا میں دوستی کی بنیاد مشترکہ اقدار پر ہے جن میں جمہوریت سے ہماری وابستگی بھی شامل ہے۔ بہت سے لوگ اس بات سے آگاہ نہیں ہوں گے کہ امریکہ اور انڈیا دونوں کے آئین کا آغاز ایک جیسے خوبصورت الفاظ یعنی ‘ہم عوام ‘ سے ہوتا ہے۔

وزیراعظم  اور میں ان الفاظ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں جس سے ہماری اقوام میں تعاون کی بنیاد قائم کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ ہم جن لوگوں کی خدمت کے لیے آئے ہیں اگر ان کے مفادات کو مقدم رکھا جائے تو ممالک کے باہمی تعلقات میں مضبوطی آتی ہے۔ آج ہماری ملاقات کے بعد میں کہوں گا کہ انڈیا اور امریکہ کے مابین تعلقات کبھی اس قدر مضبوط اور بہتر نہیں تھے۔

میں میڈیا، امریکی عوام اور انڈین عوام کے لیے فخریہ طور سے اعلان کرتا ہوں کہ وزیراعظم مودی اور میں سماجی میڈیا میں   عالمی رہنما  ہیں ۔۔۔ (قہقہہ) ۔۔۔ ہمیں اس پر یقین ہے  ، اپنے ملکوں کے شہریوں کو اپنے منتخب اہلکاروں کی باتیں براہ راست سننے کا موقع دینے  اور ہمیں ان کی باتیں براہ راست سننے پر۔  میراخیال ہے کہ یہ طریقہ دونوں ملکوں میں بڑا کامیاب رہا ہے۔

وزیراعظم مودی، آپ اور انڈیاکے عوام باہم مل کر جو کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں اس پر میں آپ کو پرجوش سلام پیش کرتا ہوں۔ آپ کی کامیابیاں وسیع تر ہیں۔ انڈیا دنیا میں تیزترین ترقی کرنے والی معیشت ہے۔ ہمیں امید ہے  کہ معیشت کی ترقی کی بڑھتی شرح میں بہت جلد ہم آپ کو جا لیں گے، میں آپ کو اس بابت بتا چکا ہوں۔ ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔

صرف دو ہفتوں میں آپ اپنے ملک کی تاریخ میں ٹیکسوں کی سب سے بڑی جانچ پڑتال پر عملدرآمد شروع کریں گے۔ ہم بھی ایسا ہی کر رہے ہیں جس سے شہریوں کے لیے بے پایاں نئے مواقع جنم لیتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے حوالے سے آپ بڑی سوچ کے مالک ہیں اور سرکاری سطح پر ہونے والی بدعنوانی کے خلاف لڑ رہے ہیں جو ہمیشہ جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ رہی ہے۔ امریکہ اور بھارت باہم مل کر مستقبل کے  لیے پرامید راہ ترتیب دے سکتے ہیں، یہ راہ نئی ٹیکنالوجی اور نئے انفراسٹرکچر کی طاقت نیز  نہایت محنتی و متحرک لوگوں کے جوش و جذبے کو ابھرنے کا موقع دے گی۔

جناب وزیراعظم، میں آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں تاکہ ہمارے ملکوں میں نوکریاں پیدا ہوں، معیشت میں ترقی ہو اور منصفانہ و دوطرفہ بنیاد پر تجارتی تعلقات ترتیب پا سکیں۔ امریکی اشیا کی آپ کی منڈیوں کو برآمدات کی راہ میں رکاوٹوں کا خاتمہ اہم بات ہے اور آپ کے ملک کے ساتھ ہمارے تجارتی خسارے میں کمی آئی ہے۔

مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ایک انڈین فضائی کمپنی نے حال ہی میں 100 نئے امریکی جہازوں کا آرڈر دیا ہے جو اپنی نوعیت کا سب سے بڑا آرڈر ہے جس سے ہزاروں امریکیوں کو نوکریاں ملیں گی۔ اب جبکہ آپ کی معیشت ترقی کر رہی ہے تو ہم مزید امریکی توانائی کی انڈیا کو برآمد کے بھی منتظر ہیں ، اس میں امریکی قدرتی گیس کی خریداری کے بڑے طویل مدتی معاہدے بھی شامل ہیں جن پر اس وقت گفت وشنید ہو  رہی ہے اور پھر ہم ان پر دستخط کریں گے۔ ا س سلسلے میں ہم قیمت میں قدرے اضافے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اپنی معاشی شراکت کو مزید ترقی دینے کی غرض سے مجھے یہ کہتے ہوئے نہایت خوشی ہے کہ وزیراعظم نے میری بیٹی ایوانکا کورواں سال کے آخر میں انڈیا میں ہونے والی ‘عالمگیر کاروباری کانفرنس’ میں امریکی وفد کی قیادت کی دعوت دی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے یہ دعوت قبول کر لی ہے۔

آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ امریکہ اور انڈیا میں سکیورٹی شراکت بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ دونوں ممالک کو دہشت گردی کی مصیبت کا سامنا ہے اور ہم دونوں دہشت گرد تنظیموں اور ان کے محرک بنیاد پرستانہ نظریے کو تباہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ کر دیں گے۔ ہماری افواج باہمی تعاون میں اضافے کے لیے باقاعدگی سے کام کر رہی ہیں۔ اگلے ماہ یہ دونوں جاپانی بحریہ کے ساتھ بحر ہند میں سب سے بڑی سمندری مشقوں میں شریک ہوں گی۔

میں افغانستان میں استحکام کے لیے کوششوں اور شمالی کوریا کی حکومت کے خلاف نئی پابندیوں کے اطلاق میں ہمارا ساتھ دینے پر انڈین عوام کا مشکور ہوں۔ شمالی کوریا کی حکومت مہیب مسائل پیدا کر رہی ہے اور یہ ایسا معاملہ ہے جس سے فوری نمٹنا ضروری ہے۔

میں پرخلوص طور سے یقین رکھتا ہوں کہ دونوں ممالک باہم مل کر کام کرتے ہوئےمشترکہ خطروں کے سدباب اور حیران کن خوشحالی اور ترقی کے ضمن میں  بہت سی دوسری اقوام کے لیے مثال بن سکتے ہیں۔

وزیراعظم مودی، آج یہاں میرے ساتھ موجودگی، ہمارے ملک کے دورے اور ہمارے شاندار وہائٹ ہاؤس اور اوول آفس آمد  پر ایک مرتبہ پھر شکریہ۔  اس سہ پہر ہمارے درمیان ہونے والی  تعمیری بات چیت پر مجھےبے حد خوشی ہوئی اور میں آج رات کھانے پراسے جاری رکھنے کا منتظر ہوں۔ ہماری شراکت کا مستقبل کبھی اس قدر شاندار دکھائی نہیں دیا۔ انڈیا اور امریکہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ دوستی اور احترام کے رشتے میں بندھے رہیں گے۔ وزیراعظم مودی، آپ کا بے حد شکریہ، شکریہ  (تالیاں)

———BREAK——–

وزیراعظم مودی: (بذریعہ ترجمان) صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول، نائب صدر، خواتین و حضرات اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات، ابتدائی ٹویٹ سے ہماری گفتگو کے اختتام تک، صدر ٹرمپ کی جانب سے دوستی سے بھرپور خیرمقدم، ان کی اور خاتون اول کی طرف سے وائٹ ہاؤس میں اپنے پرجوش خیرمقدم پر میں دل کی گہرائیوں سے آپ دونوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔

صدر ٹرمپ، میں اپنے ساتھ اس قدر وقت گزارنے نیز  میرے اور میرے ملک کے بارے میں ایسے مشفقانہ الفاظ پر آپ کا خصوصی طور پر بھی شکرگزار ہوں۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ میں کاروباری کانفرنس کے لیے آپ کی صاحبزادی کو انڈیا میں خوش آمدید کہنے کا متمنی ہوں۔ آپ نے مجھے جو وقت دیا اس پر میں ایک مرتبہ پھر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ اس کے لیے میں آپ کا خصوصی طور پر مشکور ہوں۔

آج عزت مآب صدر ٹرمپ اور میری بات چیت متعدد وجوہات کی بنا پر ہر اعتبار سے انتہائی اہم رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گفت و شنید کی بنیاد باہمی اعتماد پر تھی ،اس کا سبب یہ تھا کہ  ہماری اقدار، ہماری ترجیحات ہمارے خدشات اور مفادات میں مماثلت ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ گفتگو ہمارے تعاون میں اعلیٰ درجے کی کامیابی، باہمی معاونت اور شراکت پر مرکوز تھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک عالمگیر ترقی کے سرخیل ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ ہمہ گیر یا جامع معاشی ترقی اور دونوں ممالک کی مشترکہ نمو اور دونوں معاشرے صدر ٹرمپ اور میرے بنیادی مقاصد ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، اس کی وجہ یہ تھی کہ صدر ٹرمپ اور میری اولین ترجیح ہمارے معاشروں کو دہشت گردی جیسے عالمگیر مسائل سے تحفظ دینا ہے اور اس کا سبب یہ تھا کہ ہمارا مقصد دنیا کی دو عظیم جمہوریتوں انڈیا اور امریکہ کو مضبوط بنانا ہے۔

ہماری مضبوط تزویراتی شراکت انسانی زندگی کے ہر شعبے سے متصل ہے۔ آج ہماری بات چیت میں صدر ٹرمپ اور میں نے انڈیا امریکہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر گفتگو کی۔ دونوں اقوام باہمی تعمیری عمل سے وابستہ ہیں جو ہماری تزویراتی شراکت کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔

اس تعلق کی رو سے دونوں ممالک میں بارآوری، نمو، نوکریوں کی تخلیق اور نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ترقی ہمارے تعاون کا مضبوط محرک ہے اور رہے گی جس سے ہمارا باہمی تعلق مزید تیزی سے پھلے پھولے گا۔

ہم اپنے تمام اہم ترین پروگراموں اور منصوبوں میں ہونے والی سماجی و معاشی تبدیلی کے لیے امریکہ کو اپنا بنیادی شریک کار سمجھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ میری ‘نئے انڈیا’ کی بابت سوچ اور صدر ٹرمپ کی جانب سے ‘امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے’ کی سوچ میں باہمی ارتکاز ہمارے تعاون کو نئی جہتیں عطا کرے گا۔

میں اس حقیقت کی بابت بالکل واضح ہوں کہ انڈیا کا مفاد ایک مضبوط، خوشحال اور کامیاب امریکہ سے وابستہ ہے۔ اسی طرح انڈیا کی ترقی اور عالمی سطح پر اس کا بڑھتا ہوا کردار امریکہ کے مفاد میں ہے۔

تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں روابط کی ترقی ہماری مشترکہ ترجیحات کا حصہ ہوں گی۔ اس حوالے سے ٹیکنالوجی، اختراع اور علمی معیشت کے شعبہ جات میں باہمی تعاون کو وسعت دینا بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم اپنی کامیاب ڈیجیٹل شراکت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

دوستو، ہم محض اتفاقیہ شراکت دار نہیں ہیں۔ ہم موجودہ اور مستقبل کے مسائل سے نمٹنے میں بھی ایک دوسرے کے شریک کار ہیں۔ آج اپنی ملاقات میں ہم نے دہشت گردی، انتہاپسندی اور بنیاد پرستی جیسے سنگین مسائل پر بات چیت کی جو آج کی دنیا کو درپیش بڑے مسائل ہیں۔ ہم ان مسائل کے خلاف جدوجہد کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر متفق ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف لڑنا اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ ہمارے تعاون کا اہم حصہ ہو گا۔ دہشت گردی کے حوالے سے اپنے مشترکہ خدشات کے حوالے سے ہم انٹیلی جنس اور معلومات کے تبادلے میں بھی اضافہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک میں پالیسی کی بابت ربط کو ہرممکن حد تک مضبوطی اور وسعت دی جا سکے۔

ہم نے علاقائی مسائل پر بھی تفصیلی بات چیت کی۔ افغانستان میں دہشت گردی کے باعث بڑھتا ہوا عدم استحکام ہمارے مشترکہ خدشات میں سے ایک ہے۔ انڈیا اور امریکہ دونوں کا افغانستان کی تعمیرنو اور اس کی سلامتی یقینی بنانے میں اہم کردار ہے۔ افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر ہم ایک دوسرے سے قریبی مشاورت اور امریکہ سے بات چیت کا سلسلہ برقرار رکھیں گے تاکہ دونوں ممالک میں ربط کو مزید ترقی دی جا سکے۔

بحر ہند و الکاہل کے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی برقرار رکھنے کے لیے یہ ہمارے تزویراتی تعاون کا ایک اور مقصد بھی ہے۔ اپنے تزویراتی مفادات کے تحفظ کی خاطر تعاون میں اضافے کے بڑھتے ہوئے امکانات ہماری شراکتی جہتوں کا تعین کریں گے۔ ہم اس خطے میں امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔

جہاں تک سلامتی کے حوالے سے مسائل کا تعلق ہے تو ہمارا افزودہ اور ترقی پاتا دفاعی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم نے اس موضوع پر بھی تفصیلی بات چیت کی ہے۔

امریکہ کی مدد سے انڈیا کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ایک ایسی چیز ہے جس کی ہم واقعتاً ستائش کرتے ہیں۔ ہم نے دونوں ممالک میں سمندری سیکیورٹی کے حوالے سے تعاون میں اضافے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ صدر ٹرمپ اور میں نے دو طرفہ دفاعی ٹیکنالوجی اور ہماری تجارتی اور مینوفیکچرنگ شراکت میں بہتری لانے پر بھی بات چیت کی ہے جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔

ہماری ملاقات میں عالمی امور اور ہمارے مشترکہ تزویراتی مفادات بھی زیربحث آئے۔ اس تناظر میں ہم عالمی اداروں میں انڈیا کی رکنیت کے لیے امریکہ کی جانب سے مسلسل حمایت پر اس کے انتہائی مشکور ہیں۔ ہم اس تائید کی پرخلوص طور سے ستائش کرتے ہیں کیونکہ اس سے دونوں ممالک کا مفاد وابستہ ہے۔

صدر ٹرمپ، انڈیا اور میرے حوالے سے دوستی کے جذبات پر میں آپ کا مشکور ہوں۔ میں دونوں ممالک میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی بابت آپ کے مضبوط عزم کی دلی طور سے ستائش کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی قیادت میں ہماری باہمی مفید تزویراتی شراکت مزید تقویت پائے گی اور نئی بلندیوں کو چھو لے گی۔ کاروباری دنیا میں آپ کا وسیع اور کامیاب تجربہ ہمارے باہمی تعلقات کے لیے توانا اور دوررس نتائج کا باعث بنے گا۔

انڈیا امریکہ تعلقات کے اس سفر میں عظیم قائدانہ کردار ادا کرنے پر میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ یقین رکھیں کہ میں ترقی اور خوشحالی کی جانب دونوں اقوام کے اس سفر میں ہمیشہ متحرک، ثابت قدم اور فیصلہ کن شراکت دار رہوں گا۔

جناب عالی، آج میرا دورہ اور آپ کے ساتھ جامع گفت و شنید بے حد کامیاب اور ثمرآور رہی۔ مائیک چھوڑنے سے پہلے میں آپ کو اپنے اہلخانہ کے ہمراہ انڈیا آنے کی دعوت دینا چاہوں گا۔ مجھے امید ہے کہ آپ مجھے انڈیا میں اپنے خیرمقدم اور میزبانی کا موقع دیں گے۔

آخر میں ایک مرتبہ پھر میں اپنے اور اپنے وفد کے گرمجوش خیرمقدم پر آپ اور خاتون اول کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔ شکریہ (تالیاں)

صدر ٹرمپ: آپ تمام لوگوں کا بے حد شکریہ۔ میں آپ کا قدردان ہوں۔ شکریہ۔

###

 


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں