rss

موصل میں داعش کی شکست مشترکہ ٹاسک فورس کے کمانڈنگ جنرل سٹیفن جے ٹاؤنسینڈ کا بیان

العربية العربية, Français Français, Español Español

لیفٹیننٹ جنرل ٹاؤنسینڈ کا بیان
موصل میں داعش کی شکست پر
سنٹرل جوائنٹ ٹاسک فورس
دفتر برائے ترجمان
2017/07/09

جنوب مغربی ایشیا – عالمی اتحاد وزیراعظم عبادی کی جانب سے موصل میں عراقی فتح کے اعلان کا خیرمقدم کرتا ہے اور ہم داعش کے خلاف اس غیرمعمولی کامیابی پرعراقی سکیورٹی فورسز کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

اگرچہ موصل کے قدیم شہر میں تاحال بعض علاقوں کو دھماکہ خیز مواد اور داعش کے چھپے ہوئے جنگجوؤں سے صاف کیا جانا ضروری ہے تاہم موصل پر اب عراقی سکیورٹی فورسز کا مضبوط کنٹرول ہے۔

مجموعی مشترکہ ٹاسک فورس – ‘آپریشن انہیرنٹ ریزالو’ کے کمانڈنگ جنرل لیفٹیننٹ جنرل سٹیفن جے ٹاؤنسینڈ نے کہا ہے کہ ’بدترین اور بے رحم  دشمن کے خلاف تاریخی فتح پر وزیراعظم العبادی اور عراقی سکیورٹی فورسز کو مبارک باد دیتے ہیں۔ داعش عراق میں اپنے دارالحکومت اور دنیا میں اپنے زیرتسلط سب سے زیادہ آبادی والے مرکز سے محروم ہو چکی ہے’۔

اس مشکل فتح کے حصول میں کاوشوں اور قربانیوں کا سہرا علاقائی کرد حکومت کے پیشمرگا جنگجوؤں اور صدر برزانی کو بھی جاتا ہے۔

ٹاؤنسینڈ کا کہنا تھا کہ ‘موصل کو فتح کرنا کسی بھی فوج کے لیے آسان ہدف نہ ہوتا اور اس مشکل فتح کے جشن میں اپنے عراقی شراکت کاروں کے ساتھ شمولیت اتحاد کے لیے باعث فخر ہے۔ یہ ایک ایسی فتح ہے جس میں بہت سے بہادرعراقیوں، سپاہیوں، پولیس اہلکاروں اورعام شہریوں نے اپنی جانیں قربان کیں ہیں۔ تمام قومیتوں اور فرقوں کے لوگوں نے ناصرف اپنے ملک کے لیے بلکہ خطے اور پوری دنیا کے تحفظ کی خاطر مشترکہ طور پر مصائب جھیلے اور قربانیاں دیں’ ۔

‘تاہم یہ فتح اس برے نظرئیے اور داعش سے لاحق عالمگیر خطرے کا اختتام نہیں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام عراقی متحد ہو کر داعش کی عراق بھر میں شکست اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ ملک میں دوبارہ ایسے حالات جنم نہ لیں جن میں داعش کا ظہور ہوا’ ۔

موصل پر اپنے تسلط کے دوران داعش نے شہر کے کئی مذہبی و ثقافتی اثاثوں کو تباہ کیا جن میں النوری مسجد اور حضرت یونس کا مزار بھی شامل ہیں۔ داعش نے دہشت پھیلائی اور بہت سی عورتوں و بچوں سمیت ہزاروں شہریوں کو قتل کیا۔ داعش نے مساجد، سکولوں اور ہسپتالوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا لیکن بلآخر اسے شکست اٹھانا پڑی۔

اگرچہ موصل داعش کے ہاتھ سے نکل چکا ہے تاہم عراق کے دوسرے حصوں میں خطرہ تاحال برقرار ہے۔ داعش کی مکمل شکست، تمام عراقیوں کی آزادی اور سکیورٹی کی بحالی تک عالمی اتحاد عراقی حکومت اور اس کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔

###


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں