rss

داعش کے خلاف اتحاد کے لیے خصوصی صدارتی نمائندے کا عالمی اتحاد کے ارکان کو خط

English English, العربية العربية

 

 

بریٹ مکگرک
داعش کے خلاف عالمی اتحاد کے لیے خصوصی صدارتی نمائندہ
دفتر برائے داعش کے خلاف عالمی اتحاد کے لیے خصوصی صدارتی نمائندہ
واشنگٹن، ڈی سی
25 جولائی 2017
عزیز اتحادیو!

داعش کے خلاف ہمارے 73 رکنی اتحاد کااس  مہینے اجلاس یہاں واشنگٹن میں ہو رہا ہے۔ اس موقع پر میں ایک مرتبہ پھر عراقی حکومت، عراقی افواج، کرد پیشمرگہ اور پورے عالمی اتحاد کو موصل کی آزادی کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ وزیراعظم عبادی کی جانب سے موصل میں عراق کی فتح کا اعلان داعش کے خلاف عالمگیر لڑائی میں ایک نمایاں سنگ میل تھا۔ اس ضمن میں ہم نے باہم مل کر بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

داعش نے موصل پر قبضے کے دوران شہر کے بہت سے مذہبی و ثقافتی اثاثوں کو تباہ کر دیا جن میں النوری مسجد اور پیغمبر یونس کا مزار بھی شامل ہے۔ داعش نے مساجد، سکولوں اور ہسپتالوں کو بم بنانے کی جگہوں اور جنگی پوزیشنوں کے طور پر استعمال کیا۔ اس نے قتل عام کی کارروائیاں کیں، عورتوں اور لڑکیوں کو غلام بنایا اور قدیم شہر میں لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ پرانے شہر میں جنگ کے آخری ہفتوں میں دنیا بھر سے آئے سیکڑوں جنگجو خودکش جیکٹیں پہن کر گھروں میں داخل ہو گئے اور جس شہری نے فرار کی کوشش کی اسے قتل کر ڈالا۔

عراقی افواج کو ان دہشت گردوں سے اپنا ملک واپس لینے کے لیے ان کے عزم و ہمت کی بدولت کامیابی ملی جس کے ساتھ انہیں اتحاد کی جانب سے تربیت و معاونت بھی حاصل تھی جسے ہم جاری رکھیں گے۔ اب تک ہم عراقی افواج کے ایک لاکھ سے زیادہ ارکان کو تربیت دے چکے ہیں اور اتحاد سے تربیت یافتہ ان دستوں کو کبھی کسی لڑائی میں شکست نہیں ہوئی۔ جب تک عراقی فورسز داعش کے جنگجوؤں کا پیچھا کر رہی ہیں اور جب تک تمام عراقی علاقوں کو آزاد نہیں کرا لیا جاتا اس وقت تک ہم یہ تربیتی معاونت جاری رکھیں گے۔ ہم اس ضمن میں بھی عراقی حکومت کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے کہ وہ فوجی دستوں کی جانب سے قانون کے اعلیٰ ترین معیار کی پاسداری ممکن بنائے اور جہاں فورسز کے ارکان اس معیار تک پہنچنے میں ناکام رہیں وہاں ایسے الزامات کی تحقیقات کی جائیں۔

یہ فوجی کامیابیاں انسانی امداد کے ضمن میں بے مثل ردعمل کے ساتھ ساتھ  سامنے آئی ہیں۔ ہمارے اتحاد نے فوجی کارروائیوں کے آغاز سے قبل موصل کی مہم میں بے گھر ہونے والے 10 لاکھ لوگوں کی نگہداشت کے لے عراقی حکومت کے ساتھ چھ ماہ تک منصوبہ بندی کی۔ اس لڑائی میں اب تک 9 لاکھ 30 ہزار شہری علاقہ چھوڑ چکے ہیں اور ان تمام کو پناہ اور امداد مہیا کی گئی۔ ہم عراقی حکومت اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر فوری استحکام لانے کے پروگرامز پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جن کی بدولت 2 لاکھ 25 ہزار سے زیادہ لوگ گھروں کو واپس آئے اور ساڑھے تین لاکھ بچوں کی سکولوں کو واپسی ممکن ہوئی۔ ملک بھر میں 20 لاکھ سے زیادہ عراقی داعش سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ جنگ کے بعد شہریوں کی واپسی کے حوالے سے یہ بے مثال شرح ہے۔

میں تمام اجلاسوں میں اس بات پر زور دیتا چلا آیا ہوں کہ اگرچہ یہ کامیابیاں غیرمعمولی ہیں مگر ہمیں انہیں بہرصورت  دیرپا بنانا ہو گا۔ ابھی مزید بہت کچھ کرنا  باقی ہے اور لوگوں کی گھروں کو واپسی کی شرح برقرار رکھنے کے لیے مالی وسائل درکار ہوں گے۔ اقوام متحدہ نے نشاندہی کی ہے کہ عراق بھر میں انسانی امداد کے لیے مزید 560 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ نے استحکامی پروگرام میں اضافی سرمایہ کاری کی درخواست بھی کی ہے۔ اس سلسلے میں مغربی موصل کے لیے 707 ملین، مشرقی موصل کے لیے 174 ملین اور عراقی کے دیگر علاقوں کے لیے 232 ملین ڈالر درکار ہیں۔

سرحد پار شام میں ہمارا اتحاد رقہ کی آزادی کے لیے شامی جمہوری فورسز کی زوردار کارروائیوں کی معاونت کر رہا ہے۔ ان کارروائیوں میں شہر کا 40 فیصد سے زیادہ علاقہ داعش کے دہشت گردوں سے آزاد کرا لیا گیا ہے۔ رقہ کی آزادی کے لیے تیزرفتار فوجی مہم کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں استحکامی منصوبوں کی نشاندہی، ارتباط اور ان کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کے لیے اپنی کوششیں بہرصورت دگنا کرنا ہوں گی۔ رقہ کی ضروریات کے لیے اقوام متحدہ کو اضافی انسانی امداد کی مد میں 140 ملین ڈالر کی ضرورت ہے اور ہمارے اندازے کے مطابق وہاں بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے  کے لیے 50 ملین ڈالر سے زیادہ درکار ہوں گے۔ اتحادی شراکت کار متعدد ذرائع سے ان اقدامات میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں جن میں رواں ماہ ہمارے استحکامی ورکنگ گروپ کے تحت بننے والا آزاد علاقوں میں فوری بحالی کا نیا کنسورشیم یا شامی بحالی کا ٹرسٹ فنڈ (ایس آر ٹی ایف) شامل ہیں جو رقہ میں ضروری خدمات کی بحالی میں معاونت کرتا ہے۔

امریکہ پہلے ہی ان مسائل کے حل میں مدد دے رہا ہے۔ گزشتہ ماہ ہم نے عراق میں انسانی امداد کے لیے مزید 119 ملین ڈالر، عراق میں استحکامی پروگرام کے لیے 150 ملین ڈالر جبکہ ‘ایس آر ٹی ایف’ کے لیے 20 ملین ڈالر کا اعلان کیا تھا۔ اس ماہ ہمارے اجلاسوں کے دوران آپ میں بہت سے شراکت کاروں نے اپنے وعدوں کی تصدیق کی تھی۔ اتحاد کے تمام ارکان کو یہ دیکھنا ہو گا کہ آپ کی معاونت سے کہاں فوری فائدہ ہو سکتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح میری ٹیم مخصوص منصوبہ جات کی نشاندہی کے لیے آپ کے ساتھ مل کر کام کر سکتی ہے۔ ان میں بارودی سرنگوں کے خاتمے سے لے کر پانی، بجلی، نکاسی آب، ملبہ ہٹانے، زراعت اور سکولوں کی بحالی سمیت ہر قسم کے کام شامل ہیں۔ ہمارا دفاعی شعبہ عراق اور شام میں فوجی معاونت کرنے والے اتحادیوں کو مہم کے اگلے مرحلے کے بارے میں جلد آگاہ کرے گا۔

ہمارے اجلاسوں میں عراق اور شام میں ہونے والی کارروائیوں کے علاوہ داعش کی مالیات، غیرملکی جنگجوؤں اور پیغام رسانی کا مقابلہ کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ ان اجلاسوں میں عراق و شام میں داعش پر زمین تنگ ہونے کے ساتھ عالمی سطح پر اس کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے متعدد تجاویز سامنے آئیں۔ گوگل، مڈل ایسٹ براڈکاسٹنگ سنٹر اور دوسرے اداروں نے داعش کے پروپیگنڈے اور پیغام رسانی کو روکنے کے لیے ہمارے اجلاسوں میں شرکت کی۔ یہ ہمارے اتحادی شراکت داروں، عالمی تنظیموں اور نجی شعبے میں واقعتاًباہمی  اشتراک کی کوشش کہی جا سکتی ہے اور ہم اس سال کے دوسرے نصف میں اسے مزید آگے بڑھانے کے متمنی ہیں۔

ہمارے اتحاد کی طاقت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ہم نے جبوتی، چاڈ، نائیجر اور ایتھوپیا کو اس اتحاد میں خوش آمدید کہا جس کے بعد ہمارے ارکان کی تعداد 73 تک جا پہنچی ہے جن میں 69 ممالک اور چار عالمی ادارے ‘نیٹو، یورپی یونین، انٹرپول اور عرب لیگ’ شامل ہیں۔ ہمارے نئے ارکان نے براعظم افریقہ میں شدت پسندوں کے نیٹ ورکس پر توجہ مرکوز کرنے میں ہمیں مدد دی ہے۔ شام اور عراق میں داعش کے مرکز اور افریقہ، مشرقی ایشیا اور جنوب وسطی ایشیا یا کہیں بھی اس کے وابستگان میں کمزور ہوتے روابط کا خاتمہ کرنے کے لیے ہمیں بہرصورت مل کر کام کرنا ہو گا۔

صدر ٹرمپ، وزیرخارجہ ٹلرسن، وزیر دفاع میٹس اور ہماری قومی سلامتی کی پوری ٹیم کی جانب سے میں اس ماہ یہاں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کے لیے ایک مرتبہ پھر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ داعش کے خلاف اس تاریخی اور تقویت پاتے اتحاد کے شرکا کی حیثیت سے ہم مل کر جو کچھ بھی کریں گے اس کے لیے میں آپ کو پیشگی مبارک باد بھی دینا چاہوں گا۔

مخلص

بریٹ ایچ مکگرک

خصوصی صدارتی نمائندہ

###

 


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں