rss

ایران کی جانب سے جوہری معاہدہ ترک کرنے کی دھمکیوں پر سفیر نکی ہیلی کا بیان

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Español Español, Português Português

امریکی مشن برائے اقوام متحدہ
دفتر برائے اطلاعات و عوامی سفارتکاری
2017/08/15
برائے فوری اجراء

امریکی کانگریس نے حال ہی میں اسلامی جمہوری ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کی ہیں جن کی امریکی کانگریس نے کثرت رائے سے منظوری دی اور صدر ٹرمپ نے اسے قانونی شکل میں منظور کیا۔ یہ پابندیاں ایران کی جانب سے دنیا بھر میں دہشت گردی کی برملا معاونت، اسلحے کی سمگلنگ، اشتعال انگیز اور عدم استحکام پر مبنی میزائل تجربات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی پاداش میں عائد کی گئیں۔ ان میں بہت سے سرگرمیاں ایران کی جانب سے اس کی عالمی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہیں جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 بھی شامل ہے۔ نئی امریکی پابندیوں کا ‘مشترکہ جامع منصوبہ عمل’  (JCPOA) سے کوئی واسطہ نہیں جسے ایرانی جوہری معاہدہ بھی کہا جاتا ہے۔

آج ایرانی صدر حسن روحانی نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ اس معاہدے سے ہٹ کر اس کے عدم استحکام پیدا کرنے والے رویے پر جواب طلبی کے لیے اس کے خلاف اضافی اقدامات اتھاتا ہے توہ وہ جوہری معاہدے کے تحت اپنے عہد توڑ دے گا۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ایران کو جوہری معاہدے کے ذریعے دنیا کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایران کو کسی بھی طرز کے حالات میں کبھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ تاہم اس کے ساتھ ہمیں ایران کو اس کے میزائل تجربات، دہشت گردی کی معاونت، انسانی حقوق سے بے پروائی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں پر بہرصورت انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے۔ جوہری معاہدے کی آڑ میں سب کچھ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے’

سفیر نکی ہیلی ایرانی جوہری سرگرمیوں پر عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی قیادت سے بات چیت کے لیے آئندہ ہفتے ویانا کا دورہ کریں گی۔

###


اصل مواد دیکھیں: https://usun.state.gov/remarks/7933
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں