rss

وزیرخارجہ ٹلرسن کی پریس کانفرنس

English English, العربية العربية, Français Français

دفتر برائے ترجمان

22 اگست 2017

وزیرخارجہ ٹلرسن: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ میں صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ شب قوم سے خطاب میں جنوبی ایشیا کے لیے پیش کردہ حکمت عملی پر چند باتوں کے لیے کچھ وقت لوں گا جس کے بعد اس موضوع پر آپ کے چند سوالات کے جواب دوں گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ صدر نے خاصے مفصل انداز میں نئے عسکری طریق کار کا خاکہ بیان کیا ہے۔ میرے خیال میں حالات پر مبنی طریق کار اس میں اہم ترین نکتہ ہے جو ماضی کے وقت پر مبنی طریق کار سے برعکس ہے جس میں فوج کی مخصوص تعداد اور نظام الاوقات دیے جاتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں صدر ٹرمپ اس حوالے سے واضح ہیں کہ اس مرتبہ صورتحال بالکل مختلف ہو گی کیونکہ انہوں نے میدان جنگ میں فوجی کمانڈرز کو بروقت فیصلے کرنے، زمینی حالات کی بنیاد پر میدان جنگ میں کارروائی اور جنگی منصوبوں کا اختیار دیا ہے جن کی منظوری وزیردفاع ماٹس دیں گے۔ اس سے عملی طور پر صورتحال میں خاصی تبدیلی آئے گی۔ یہ چند ایسی تدابیر ہیں جن کا شام اور عراق میں داعش کو شکست دینے کی انتہائی کامیاب مہم میں اطلاق ہو چکا ہے۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہم وہاں اپنی کامیابی سے بہت سے سبق لے رہے ہیں اور انہیں افغانستان میں استعمال کریں گے۔

ہماری فوج کو افغان فورسز کے ساتھ تربیتی عمل میں کچھ وقت درکار ہو گا۔ اس جنگ کا بوجھ افغان فورسز کو ہی اٹھانا ہو گا مگر ہمیں یقین ہے کہ ہم گزشتہ ڈیڑھ برس سے اس ہاری ہوئی جنگ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں اور کم از کم صورتحال کو مستحکم ضرور بنا سکتے ہیں۔ پرامید طور سے افغان فوج کو میدان جنگ میں کچھ کامیابیاں ملنے کا سلسلہ بھی شروع ہو سکتا ہے جس نے نہایت بہادری کا مظاہرہ کیا ہے مگر انہوں نے اس جنگ میں اپنی مکمل صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کیا جبکہ ہم انہیں اس کے لیے تیار کر سکتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ سفارتی محاذ پر بھی ہم حالات پر مبنی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔ ہم اپنی کوششوں کو افغان حکومت کی جانب سے کی گئی پیش رفت سے مشروط کر رہے ہیں جسے بہرصورت اصلاحات کی کوششیں جاری رکھنا ہوں گی جن پر ہم کچھ عرصہ سے کام کر رہے ہیں۔ انہیں بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ کڑی کوششیں کرنا ہوں گی۔

اب بعض اعتبار سے بدعنوانی کا مسئلہ ان طریقہ ہائے کار سے جڑا ہے جن کے ذریعے ہم اپنی کچھ امداد کی ترسیل کرتے رہے ہیں۔ ہم نے یہ امر یقینی بنانے پر زیادی توجہ نہیں دی کہ ہمارے امدادی اور ترقیاتی پروگرام وہی نتائج دے رہے ہیں جن کا حصول ایسے پروگرامز کا مقصد تھا۔ اس میں کسی حد تک سلامتی سے متعلق ماحول کا کردار بھی ہے۔ ہمارے بہت سے امدادی کارکنوں کے لیے افغانستان میں کام کرنا بے حد مشکل ہے۔ لہٰذا ہمیں توقع ہے کہ سلامتی کے ماحول میں بہتری کے نتیجے میں ہم ایک مختلف طریق کار اختیار کریں گے جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ افغان حکومت کو ترقیاتی اور امدادی مد میں کیسے معاونت دی جا سکتی ہے جس سے انہیں اصلاحاتی عمل میں بھی مدد مل سکے۔

میں سمجھتا ہوں کہ صدر اس بارے میں واضح تھے کہ اس تمام کوشش کا مقصد طالبان کو یہ باور کرانے کے لیے ان پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ میدان میں جنگ میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ شاید ہمیں کامیابی نہ ملے مگر وہ بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ چنانچہ کسی نکتے پر ہمیں مذاکرات کی میز پر اس مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہو گا۔ اب یہ ایک علاقائی حکمت عملی ہے جس میں ہماری توجہ صرف افغانستان پر ہی نہیں بلکہ ہم نے پاکستان اور انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کا بھی جامع جائزہ لیا ہے۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں تینوں حکمت عملیوں میں ارتباط پیدا ہو گا اور اس کے ذریعے پاکستان اور انڈیا کو افغانستان کی صورتحال میں بوجھ بٹانے پر مجبور کیا جائے گا۔

خاص طور پر پاکستان اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے خصوصاً طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اس کا کردار اہم ہو گا۔ پاکستان نے دہشت گردی میں بہت سا نقصان اٹھایا ہے، اس کے شہری دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ہم پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کے ضمن میں اس کی مدد کے لیے تیار ہیں تاہم اس کے لیے اسے بہرصورت خود ایک مختلف سوچ اور طریق کار اپنانا ہو گا۔

تاریخی طور پر پاکستان اور امریکہ میں بہت اچھے تعلقات رہے ہیں مگر گزشتہ چند برس میں دونوں حکومتوں میں باہمی اعتماد کی کیفیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اعتماد میں یہ دراڑ اس لیے آئی کہ ہم نے پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مشاہدہ کیا جہاں سے امریکی افواج اور امریکی حکام کے خلاف حملے اور افغانستان میں امن کی کوششیں سبوتاژ کی جاتی ہیں۔ پاکستان کو بہرصورت نئی سوچ اور نیا طریق کار اپنانا ہو گا اور ہم انہیں ان تنظیموں کے خلاف تحفظ میں مدد دینے اور امن کے لیے ہماری کوششوں کو غارت کرنے والے حملوں کا قلع قمع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ہم پاکستان کے لیے اپنی معاونت کو مشروط کریں گے اور ان کے ساتھ ہمارے تعلقات کی بنیاد اس علاقے میں اس کی جانب سے دیے گئے نتائج پر ہو گی۔ ہم پاکستان کے ساتھ مثبت انداز میں کام کرنا چاہتے ہیں مگر اسے اپنا طریق کار تبدیل کرنا ہو گا۔

انڈیا امریکہ کے انتہائی اہم علاقائی شراکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے اور اس نے افغان حکومت کی مدد خصوصاً اس کی معاشی معاونت کے ضمن میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ انڈیا نے ترقیاتی میدان میں معاونت فراہم کی ہے۔ اس نے معاشی معاونت مہیا کی ہے۔ وہ آئندہ ہفتے ایک اہم معاشی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے۔

افغانستان کو بحیثیت قوم مستحکم کرنے، اس کی معیشت کو فعال بنانے اور شہریوں کو مزید مواقع مہیا کرنے کے لیے ملک میں استحکام لانے میں ان کوششوں کا اہم کردار ہے۔ یہ تمام عناصر استحکام اور بالاآخر امن معاہدے پر منتج ہوں گے۔ مگر بہرحال یہ ایک علاقائی کوشش ہو گی۔ ہمیں فریقین پر یہ سمجھنے کے لیے زور دینا ہے کہ یہ جنگ کسی کو کہیں نہیں لے جائے گی۔ یہ امن عمل شروع کرنے کا موقع ہے، مفاہمت اور امن معاہدے کا یہ عمل طویل بھی ہو سکتا ہے۔

جیسا کہ صدر نے کہا، افغانستان اپنے لیے اسی طرز کی حکومت کا انتخاب کر سکتا ہے جو اس کے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہتر ہو، جو دہشت گردی کو مسترد کر سکے، جو افغانستان میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں قائم کرنے کے لیے جگہ نہ دے اور افغانستان میں ہر قومیت کے گروہوں کو ساتھ لے کر چل سکے۔ یہ فیصلہ انہیں خود کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کیسے منظم کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ہمیں بات ذہن میں رکھنا ہو گی کہ وہاں قبائلی تمدن رائج ہے اور ان کی تاریخ ان تعلقات کی نوعیت کو قبول کرتی ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ ان کی حکومت انہیں ساتھ لے کر نہ چل سکے۔

لہٰذا ہم مفاہمتی امن عمل میں سہولت دینا چاہتے ہیں اور ہم انہیں اس ضمن میں بعض نتائج تک پہنچنے میں سہولت دیں گے کہ وہ اپنے لیے کیسی حکومت چاہتے ہیں۔ یہی اس حکمت عملی کا حقیقی جوہر ہے۔

آپ کے سوالات لینے سے پہلے میں شمالی کوریا کے معاملے پر ایک بات کرنا چاہوں گا۔ میرے خیال میں یہ بات اہم ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متفقہ منظوری کے بعد شمالی کوریا کی جانب سے کوئی میزائل تجربہ اور اشتعال انگیزی سامنے نہیں آئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات اہم ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہے کہ شمالی کوریا کی حکومت نے اپنے آپ کو کسی قدر حدود میں رکھا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ ہمیں امید ہے کہ یہ اس اشارے کا آغاز ہے جس کے ہم منتظر تھے۔ ہم ان کی جانب سے یہ اشارہ دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ تناؤ کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کو تیار ہیں، وہ اپنے اشتعال انگیز اقدامات پر روک لگانے کو تیار ہیں اور شاید مستقبل قریب میں ہم کسی طرح کے مذاکرات کی جانب بڑھیں گے۔ ہمیں ان کی جانب سے مزید اقدامات کا انتظار ہے مگر میں اب تک ان کی جانب سے اٹھائے گئے ان اقدامات کا اعتراف کروں گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اہم بات ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں آپ کے سوالات کی جانب آتا ہوں۔

مس نوئرٹ: میں یہاں موجود بعض رپورٹرز کے نام پکاروں گی۔ براہ مہربانی اپنے سوالات تیار رکھیے۔ آج ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ اے پی سے میٹ لی، ہم آپ کے سوال سے آغاز کریں گے۔

سوال: شکریہ، میں مختصر بات کروں گا۔ کم از کم مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر کی جانب سے گزشتہ شب ‘تعمیر اقوام’ کے تصور کو ترک کرنے اور فوجی معاملے کے نظام الاوقات والے حصے کے علاوہ سابقہ اور موجودہ حکمت عملی میں بڑا فرق یہ ہے کہ آپ ‘صاف کریں، قابو کریں اور تعمیر کریں’ کی حکمت عملی کا دو تہائی ختم کرنے جا رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اسے یوں کہا جائے گا کہ ‘ہم/ آپ صاف کریں گے، آپ قابو کریں گے اور ہم نہیں بلکہ آپ ہی تعمیر کریں گے’ اگر ایسا ہی ہے تو انسداد بدعنوانی کی کوششوں، اچھی حکمرانی، انسداد منشیات اور تعلیمی پروگرامز کے بارے میں کیا کہا جائے گا جن کا ابھی آپ نے تذکرہ کیا ہے۔ خاص طور پر افغان عورتوں اور لڑکیوں کا کیا ہو گا جنہیں گزشتہ 16 برس میں دو مختلف حکومتوں کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ انہیں اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ افغان حکومت کی کارکردگی بارے ہماری توقعات میں کوئی ڈرامائی فرق ہے۔ جیسا کہ آپ نے نشاندہی کی افغانستان میں بہت بڑے کام ہوئے ہیں، لاکھوں بچے زیرتعلیم ہیں اور افغان معیشت میں عورت کا کردار ڈرامائی طور پر تبدیل ہوچکا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ان میں کوئی بھی کامیابی اکارت جائے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ افغان حکومت کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ بن چکی ہیں۔ میرے خیال میں یہ افغان عوام کا حصہ بن گئی ہیں۔ اگر آپ اس تمام تر انتشار سے پہلے کے ماہ و سال پر نظر ڈالیں تو آپ کو افغانستان کی حقیقی تصویر دکھائی دے گی۔ یہ آج سے 30، 40 اور 50 سال پہلے کا افغانستان تھا۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم و ترقی پہلے ہی ان کے تمدن کا حصہ ہے۔ ہم صرف اس کی معاونت کرنا چاہتے ہیں۔

جہاں تک صاف کرو اور قابو کرو کا تعلق ہے تو ہماری یہ سوچ اب بھی برقرار ہے کہ جو علاقے دہشت گردوں سے آزاد کرائے جائیں گے وہاں افغان سکیورٹی فورسز اپنا تسلط قائم کر سکتی ہیں جس سے افغان معیشت کو ترقی ملے گی۔ افغان کے مسائل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں اپنی معیشت پر مکمل کنٹرول نہیں ہے۔ لہٰذا فورسز آزاد علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے اور انہیں مستحکم کرنے کے قابل ہو جائیں گی تاکہ دشمن کو مزید علاقہ نہ مل سکے اور جیسا کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں وہ اپنے زیرتسلط علاقے کھو رہا ہے۔ لہٰذا اس میں کچھ وقت درکار ہو گا۔ جب علاقہ حاصل کر لیا جائے گا تو اسے افغان سکیورٹی فورسز سنبھال لیں گی جبکہ افغان حکومت اپنا کردار حسب سابق کامیابی سے جاری رکھے گی جو وہ کئی سال سے ہماری معاونت کے ذریعے انجام دیتی چلی آئی ہے۔ افغان حکومت زمین پر حاصل کردہ کامیابیوں کو ہاتھ سے جانے نہیں دے گی۔ میں نہیں سمجھتا کہ افغان حکومت یا افغان عوام اس تمام عرصے میں حاصل کردہ کامیابیوں کے ثمرات سے دستبردار ہونا چاہیں گے۔

لہٰذا ہم اداروں کی سطح پر ان کی مدد جاری رکھیں گے۔ ہو سکتا ہے ہمارے طریقہ ہائے کار مختلف ہوں اور اہم امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ افغانستان میں سکولوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں استعمال نہ کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی مدد کے لیے کہہ رہے ہیں۔ اس کے بجائے ہم وہاں سہولت مہیا کریں گے اور مفاہمتی و امن مذاکرات کی راہ یقینی بنائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں اور پہلے سے ہی یہ بات جانتے ہیں کہ طالبان میں ایسے اعتدال پسند عناصر موجود ہیں جو مستقل کی راہ متعین کرنے میں مدد دینے کو تیار ہیں۔ تاہم اس میں کتنا وقت درکار ہو گا، اس کا انحصار حالات اور زمینی حقائق پر ہے۔

مس نوئرٹ: درست، این بی سی سے اینڈریا مچل۔

سوال: شکریہ۔ میرا سوال عسکری اور سفارتی دونوں پہلوؤں سے متعلق ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ پہلے آپ عسکری معاملے کا جواب دیں۔ ہم جانتے ہیں کہ افغان فوجی مکمل طور پر تربیت یافتہ نہیں ہیں اس لیے وہ طالبان کی پیشقدمی کو نہیں روک سکتے۔  کیا نئے قواعد  اپنانے کے بعد ہماری فورسز کی زندگیاں خطرے میں نہیں پڑ جائیں گی کیونکہ بھلے مختصر مدت کے لیے سہی، انہیں رات کو طالبان کے خلاف کارروائیاں کرنا ہوں گی۔ سفارتی حوالے سے میرا سوال یہ ہے کہ صدر نے اپنے خطاب میں اس بات کا ذکر کیوں نہیں کیا کہ روس طالبان کو اسلحہ فراہم کررہا ہے حالانکہ یہی بات جنرل نکلسن کھلے عام کہہ رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ وہ روس کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ یہ بھی بتائیےچونکہ خطے میں کئی اسامیوں پر صدر ٹرمپ کی جانب سے تصدیق شدہ سفارتی عملہ موجود نہیں تو کہیں آپ کو سفارتی عملے کی کمی کا سامنا تو نہیں ہے؟

وزیر خارجہ ٹلرسن: جہاں تک فوجی کارروائی کے بارے میں سوال کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ محکمہ دفاع ہی  اس کا جواب دے سکتا ہے۔ تاہم جس طرح ہم نے دیگر جگہوں پر کامیابیاں حاصل کیں یہاں بھی ویسی ہی حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔  جیسا کہ وزیر دفاع ماٹس نے بتایا ہے کہ فوجی آپریشن کے دوران افغان فوجیوں کے ذریعے، ان کی مدد سے یا ان کے ساتھ مل کر کارروائیاں کی جائیں گی۔ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے فیصلے کے پس منظر میں بھی یہی حکمت عملی کار فرما ہے  کہ  وہاں رہ کر ہی ہم بٹالین کی سطح پر افغان فوج کو منظم اور جنگی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد دے سکتے  ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ  انہیں اس طرح تربیت دی جائے کہ وہ  ضرورت کے وقت فوری مدد کے قابل ہو تاکہ شکست کو فتح میں بدلا جاسکے۔

جہاں تک روس کی جانب سے طالبان کو اسلحے کی فراہمی کا سوال ہے تو یہ عالمی اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ظاہر ہے ہمیں اس پر اعتراض ہے اور ہم اس معاملے پر روس کی توجہ مبذول کرائیں گے۔ اسلحے کی فراہمی افغان حکومت کے ذریعے ہونی چاہیے۔ جہاں تک سفارتی عملے کی تعیناتی کا معاملہ ہے تو ہمارے ہاں بہت اہل، قابل اور تجربہ کار لوگ ہیں۔ افغانستان میں امریکی سفیر کی تقرری ہونا باقی ہے تاہم پاکستان میں نامزدگی ہو چکی ہے، انہیں جلد ہی کلیئرنس مل جائے گی۔ ہمارے سفیر ہیل افغانستان سے جارہے ہیں اور ان کی جگہ ایک دوسرے ماہر سفارتکار بیس کو سفیر نامزد کیا گیا ہے جو اس وقت انقرہ میں ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ترکی ایک پیچیدہ علاقہ ہے اور انہیں مشکل صورتحال سے نمٹنے کا خوب تجربہ ہے۔ ہمیں پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی بھی تعینات کرنا ہے۔ اس اسامی پر ایک بہت تجربہ کار شخص کو رکھا جارہا ہے۔

لہذا ہمیں نہایت قابل لوگوں کا ساتھ میسر ہے اور مجھے ان کی قابلیت اور تجربے پر کوئی شبہ نہیں ہے۔ مجھے ان پر مکمل اعتماد ہے۔

سوال: اور انڈیا؟

مس نوئرٹ: ٹھیک ہے۔ اگلے سوال کی جانب چلتے ہیں۔ اب این بی سی کی، معاف کیجیے،اے بی سی کی مارتھا ریڈاٹس سوال کریں گی۔

سوال: کوئی بات نہیں، میں جانتی ہوں کہ آپ فوجی معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتے لیکن ابھی گفتگو میں آپ نے بٹالین جیسی فوجی اصطلاحات استعمال کی ہیں۔ میں اس بات کو اچھی طرح سمجھتی ہوں کہ انتظامیہ حکمت علمی تو بتاتی ہے لیکن جنگی چالوں کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی۔ میرا سوال یہ ہے آیاامریکہ کے عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ 16 سال سے جاری افغان جنگ میں ان کے اور کتنے بیٹے اور بیٹیاں شامل ہونے جارہے ہیں۔

وزیر خارجہ ٹلرسن: یہ باتیں وزیر دفاع ماٹس کے بتانے کی ہیں تاہم میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ مجھے لگتا ہے کوئی فیصلہ ہونے کے بعد افغانستان جانے والے فوجیوں کی تعداد بھی بتا دی جائے گی۔ صدر نے اپنی تقریر میں جو پیغام  دیا ہے مجھے اس سے مکمل اتفاق ہے اور پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے منصوبوں کے بارے میں پیشگی نہیں بتائیں گے۔ ہم اضافہ کریں یا کمی، اپنے کسی منصوبے کے بارے میں  قبل از وقت کچھ نہیں بتائیں گے۔ جو کچھ ہوگا زمینی حالات کے تحت ہوگا۔ ہمیں ایک چالاک، پر فریب  اور شاطر دشمن کا سامنا ہے اور اسے شکست دینے کے لیے ایسے ہی حربے اختیار کرنا ہوں گے۔

سوال: کیا اس حکمت عملی میں پاکستان میں حملے بھی شامل ہیں؟

وزیر خارجہ ٹلرسن: ہماری حکمت عملی میں کیا کیا شامل ہے، میں اس کے بارے میں کوئی تبصرہ نہہں کرنا چاہتا تاہم صدر ٹرمپ اپنے موقف میں بہت واضح ہیں کہ ہمیں امریکی فوجیوں اور ملازمین کی حفاظت کرنا ہے۔ دہشت گرد جہاں بھی ہوں گے ہم ان پر حملہ کریں گے اور ہم نے لوگوں کو تنبیہ کر دی ہے کہ اگر انہوں نے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے یا انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کررکھے ہیں تو وہ خبردار بلکہ پیشگی خبردار رہیں۔ ہم دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والوں سے دو دو ہاتھ کریں گے اور ان سے کہیں گے وہ دہشت گردی کے خاتمے میں ہماری مدد کریں۔ میرے خیال میں، افغانیوں کے بعد افغانستان میں استحکام اور امن کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کے عوام کا ہے۔

مس نوئرٹ: سی بی ایس کی مارگریٹ برینن

سوال: شکریہ، جناب ٹلرسن، میں یہاں پیچھے ہوں۔ آپ نے کہا کہ طالبان سے صرف غیر مشروط مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکا کو اس بات سے کوئی سرو کار نہیں کہ طالبان افغان آئین کو قبول کرتے اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟

پاکستان کے معاملے پر میرا سوال ہے کہ کیا آپ نے وضاحت سے اور مخصوص اصطلاحات کے ذریعے پاکستان کو یہ بات باور کرائی ہے یا کرانے کا ارادہ ہے کہ جو کچھ وہ کررہے ہیں اس کے نتائج پابندیوں اور غیر نیٹو اتحادی کی حیثیت سے علیحدگی پر منتج ہو سکتے ہیں؟

وزیر خارجہ ٹلرسن: میں نے کل سہ پہر پاکستان کے وزیر اعظم سے بات کی تھی جس میں انہیں صدر ٹرمپ کی تقریر کے بارے میں قبل از وقت انتباہ کردیا تھا۔ میں نے آپ کے سامنے آج جن مسائل کا ذکر کیا ہے، پاکستانی وزیر اعظم سے کچھ ان معاملات پر بھی بات ہوئی تھی۔ ہم ان سے معاملات طے کرنے میں بہت سنجیدہ ہیں۔ جن باتوں کا آپ نے ذکر کیا ان پر بات چیت ہوگی۔ دراصل وہ اپنے طور طریقے اور سوچ بدلنے پر راضی ہیں اور نہ ہی دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے پر تیار۔ دہشت گرد وہاں محفوظ ٹھکانوں میں بیٹھے ہیں۔ میں ایک بار پھر یہ کہوں گا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی  خود پاکستان کے مفاد میں ہے۔

جب ہم کہتے ہیں کہ بات چیت سے پہلے شرائط عائد نہیں ہوں گی تو ہمارا دراصل یہ مقصد ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کو بات چیت کرنی چاہیے۔ انہیں کس طرح مذاکرات کرنے چاہئیں،یہ بتانا امریکہ  کا کام نہیں۔ صدر ٹرمپ اسی تناظر میں کہتے ہیں کہ قومی تعمیر نو ہماری ذمہ داری نہیں۔ دیکھیے ہم نے دنیا بھر میں مختلف جگہوں پر مختلف اصول اپنائے ہیں کہیں یہ کوششیں کامیاب تو کہیں ناکام ہوئی ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم یہاں کیا ہوگا۔ ہم وہاں بس دوسروں کی حوصلہ افزائی کے لیے جا رہے ہیں۔

اب یہ افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں پر منحصر ہے کہ وہ ایسے مصالحتی عمل کا حصہ بنیں جس سے نہ صرف ان کے مفادات بلکہ امریکی عوام کی سلامتی کے مقاصد پورے ہوں۔ مذاکرات میں یہ طے کیا جائے کہ افغانستان میں اب یا مستقبل میں دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہوگی۔

مس نوئرٹ: اب واشنگٹن ایگزامنر کے ٹام روگن سوال کریں گے۔

سوال: جناب وزیر خارجہ ،آپ نے امریکی فوجیوں کے تحفظ کی بابت خدشات کا اظہار کیا ہے اور بتایا ہے کہ سفیر بیس ‘ ایس آر اے پی’ مذاکرات کے لیے جلد افغانستان کا دورہ کریں گے لیکن آپ ایسا آدمی کہاں سے لائیں گے  جو خو د کو خطرے میں ڈال کر فعال طریقے سے ان مذاکرات میں شامل حقانی نیٹ ورک کے لوگوں سے باقاعدگی سے بات چیت کرے؟

وزیر خارجہ ٹلرسن: ہم وہاں حفاظتی انتظامات بہتر کررہے ہیں۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ فی الوقت وہاں ایسی سرگرمیوں کے لیے حالات ساز گار نہیں ہیں۔ اس لیے ہمارا اولین مقصد وہاں ساز گارماحول کو  یقینی بنانا ہے تاکہ بات چیت چیت کا عمل شروع ہو۔ میں اپنی بات دھراؤں گا کہ پاکستان کا ان مذاکرات میں اہم کردار ہے اور وہ اس سلسلے میں بہت مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ علاقے کے دیگر ملکوں کے لیے بھی یہ تنازع اور غیر مستحکم صورتحال بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ہم نے اس سلسلے میں چین سے اس کے کردار کے بارے میں بات کی ہے، روس سے گفتگو کی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو وہ بھی معاملات سلجھانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خلیج اور جی سی سی کے رکن ممالک بھی افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں۔ وہاں آس پاس کے بہت سے شراکت دار ہیں جو اپنے اپنے وقت پر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔  تاہم آخر کار معاملہ دو فریقین افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کو ہی سلجھانا ہوگا۔

مس نوئرٹ: وال سٹریٹ جنرل کی فیلیسیا شوارز۔

سوال: شکریہ جناب وزیر خارجہ۔ میرا سوال پاکستان کے بارے میں ہے۔ ڈیمو کریٹک اور ریپبلکن انتظامیہ نے اپنے اپنے طور پر حکومت پاکستان کو حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناگاہیں فراہم کرنے سے باز رکھنے کی کوششیں کی ہیں۔ یہ بتائیے کہ آپ اس سلسلے میں کیونکر پر امید ہیں؟

وزیر خارجہ ٹلرسن: ہم انہیں اقتصادی اور فوجی امداد دیتے ہیں اور ہم نے انہیں غیر نیٹو اتحادی کا درجہ دے رکھا ہے۔ اس تناظر میں میرا خیال ہے کہ ہم ان سے کچھ منوا سکتے ہیں۔

یہ سب باتیں ان کے سامنے رکھی جاسکتی ہیں لیکن آخر کار فیصلہ پاکستان کو کرنا ہوگا۔ پاکستان کو اپنے طویل مدتی مفاد کو سلامتی کے نقطہ نطر سے دیکھنا ہوگا کہ ملک کے لیے اور عوام کے مفاد میں کیا ہے۔ میں جب پاکستان کی موجودہ صورتحال جائزہ لیتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اگر میں حکومت پاکستان کا حصہ ہوتا تو مجھے طالبان اور دیگر تنظیموں کی بڑھتی ہوئی طاقت پر خدشات ہوتے۔ یہ تنظیمیں اپنی تعداد میں اضافہ کررہی ہیں اور ایک وقت آئے گا جب یہ حکومت پاکستان کے استحکام کے لیے حقیقی خطرہ بن جائیں گی۔

میرا خیال ہے کہ انہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے بہترین طویل مدتی مفاد میں کیا ہے اور اگلی دہائیوں میں ایک محفوظ اور زیادہ مستحکم پاکستان کے خواب کو ممکن بنانے کے لیے ہم ان کے ساتھ کیسے کام کرسکتے ہیں؟ یہ سب ان پر منحصر ہے۔ انہیں یہ سوال خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ ملک میں ان عناصر کی موجودگی کو بڑھانے اور برقرار رکھنے کی اجازت دیتے ہیں تو پھر یہ کس طرح ان کے اور ملکی استحکام کے مفاد میں ہے۔

  مس نوئرٹ: آخری سوال۔ اے ایف پی ،خوش آمدید۔ یہ آگے بیٹھے ہیں۔

سوال: شکریہ، کیا آپ کو اس بات کا خدشہ نہیں کہ شدید دباؤ پاکستان کو غیر مستحکم کر سکتا ہے، ایسا ہوا تواس سے پورا خطہ متاثر ہوگا جبکہ ملک میں موجود طالبان  مضبوط ہوں گے؟

وزیر خارجہ ٹلرسن: یہ خدشہ موجود ہے۔ میں نے ابھی اسی لیے کہا کہ پاکستان کو ان گروہوں کو قابو میں رکھنے کی اپنی اہلیت  کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ ہم نے اسی لیےعلاقائی نقطہ نظر کو اپنایا ہے۔ امریکا تنہا اس صورتحال سے نہیں نمٹ سکتا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین کچھ مسائل ہیں تاہم انہیں مل کر کام کرنا ہوگا۔ کچھ معاملات میں بھارت مفاہمتی رویہ  اختیار کرے تو پاکستان کو اندرون خانہ سلامتی کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ وہ ان عناصر سے نمٹ سکتا ہے  جو اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے پاکستان میں مضبوط مفادات ہیں۔ مستحکم اور محفوظ پاکستان ہمارے بھی مفاد میں ہے۔ وہ ایٹمی طاقت ہے اور ہمیں ان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کے بارے میں خدشات ہیں۔ ہم اپنے اور علاقائی مفادات سے ہم آہنگ معاملات پر بامقصد بات چیت کر سکتے ہیں۔

لہذا یہ ایسی صورت حال نہیں ہے جہاں ہم کہہ رہے ہوں کہ ‘دیکھو، یہ صرف ہم اور آپ ہیں’ ہم اور علاقائی طاقتیں محض یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان اپنے حالات ٹھیک کرنے میں دلچسپی لے۔  ہم نے   شمالی کوریا کے معاملے میں بھی دنیا بھر کے ملکوں کی کوششوں کو ہم آہنگ کیا۔ جب امریکا اور دوسرے ملک  کے درمیان کوئی معاملہ ہوتا ہے تو مجھے اکثر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ان مسائل پر قابو پا لیں گے، ہمیں باہمی دلچسپی کے امور میں پیش رفت  اور دوسروں کو اس میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ایک مقصد کے حصول کے لیے باہمی کوششوں میں بھی دوسروں کو شامل کرنے اور انہیں مربوط بنانے کی ضرورت ہے اور پاکستان کے ساتھ ہم یہی کررہے ہیں۔

# # #

 


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں