rss

شمالی کوریا کے معاملے پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے سفیر نکی ہیلی کا خطاب

Français Français, English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Español Español

امریکی مشن برائے اقوام متحدہ

دفتر اطلاعات و عوامی سفارتکاری

برائے فوری اجراء

4 ستمبر 2017

اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل سفیر نکی ہیلی نے شمالی کوریا کے معاملے پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کیا۔ ہیلی اور جاپان، فرانس، برطانیہ اور جمہوریہ کوریا سے تعلق رکھنے والے ان کے ہم منصبوں نے شمالی کوریا کی جانب سے تازہ ترین جوہری تجربے کے بعد ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست دی تھی۔

اس موقع پر نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ ‘میں سلامتی کونسل کے ارکان سے کہوں گی کہ اب بہت ہو چکا۔ اس بحران کے حل کے تمام سفارتی ذرائع استعمال کرنے کا وقت آ گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں سلامتی کونسل میں فوری طور پر موثر ترین ممکنہ ذرائع کو عمل میں لانا ہو گا۔ صرف کڑی ترین پابندیاں ہی اس مسئلے کو سفارتی طور سے حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ ہم نے بہت برداشت کر لیا اور اب مزید برداشت ممکن نہیں رہی۔

‘کسی نے انجماد برائے انجماد کی تجویز پیش کی ہے جو کہ توہین آمیز ہے۔ جب ایک بدمعاش حکومت کے پاس جوہری ہتھیار ہوں اور وہ آپ کی جانب بین البراعظمی بلسٹک میزائل تانے ہو تو آپ اپنے حفاظتی انتظامات میں کمی نہیں لاتے۔ کوئی بھی ایسا نہیں کرے گا۔ ہم بھی نہیں کریں گے’ ۔

‘یہ بحران اقوام متحدہ کے قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ کاروبار کرنے والے ہر ملک کو ایسے ملک کے طور پر دیکھے گا جو اس کے لاپرواہانہ اور خطرناک جوہری ارادوں کی تکمیل میں مدد دیتا ہے۔ اس سے بڑا خطرہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ اب ہمیں ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے۔ ادھورے اقدامات اور ناکام مذاکرات کے 24 سال بہت ہیں’ ۔


اصل مواد دیکھیں: https://usun.state.gov/remarks/7953
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں