rss

برما کی صورتحال پر نائب معاون وزیرخارجہ برائےجنوب مشرقی ایشیا پیٹرک مرفی کی پریس کانفرنس

العربية العربية, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ

دفتر برائے ترجمان

برائے فوری اجراء

8 ستمبر 2017

آن ریکارڈ بریفنگ

برما کی صورتحال پر نائب معاون وزیرخارجہ برائےجنوب مشرقی ایشیا پیٹرک مرفی کی پریس کانفرنس

بذریعہ ٹیلی کانفرنس

غیرمدون/ مسودہ

ہیدا نوئرٹ: آپ کا بے حد شکریہ، سبھی کو سہ پہر بخیر اور برما کی صورتحال پر بات چیت کے لیے آج ہمارے ساتھ فون پر موجود رہنے کا شکریہ۔ میں جانتی ہوں کہ اس موضوع پر بے حد دلچسپی پائی جاتی ہے۔ آج پیٹرک مرفی ایک مرتبہ پھر ہمارے ساتھ ہیں جو مشرقی ایشیااور بحرالکاہل کے امور کے دفتر میں جنوب مشرقی ایشیا سے متعلق نائب معاون وزیر خارجہ ہیں۔ آج کی کال آن ریکارڈ ہو گی اور بات چیت کے اختتام پر اسے نشرو شائع کیا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ہی میں نائب معان وزیر مرفی سے کہوں گی کہ وہ بات کا آغاز کریں۔

پیٹرک مرفی:ہیدا آپ کا بے حد شکریہ اور سبھی کو سہ پہر بخیر۔ مجھے آج برما کے بارے میں آپ سے بات کا موقع ملنے پر خوشی ہے۔ یہ ملک امریکہ کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ جہاں تک شمالی راخائن ریاست کی صورتحال کا تعلق ہے تو ہم چند اہم مقاصد پر خاص توجہ مرکوز رکھیں گے۔ اس حوالے سے انسانی امداد کی بحالی پہلا نکتہ ہے تاکہ وہاں ضرورت مندوں کو عالمی برادری اور برمی حکام کے ذریعے معاونت فراہم کی جا سکے۔ متاثرہ علاقوں تک رسائی کی بحالی سے بھی ضرورت مندوں کے بارے میں درست اندازے لگائے جا سکیں گے۔ یہ ملک کا ایک پیچیدہ علاقہ ہے اور خاص طور پر خود ریاست راخائن کا بھی پیچیدہ حصہ ہے۔ وہاں حقیقی ضروریات اور حالات کے بارے میں کچھ باتیں ہمارے علم میں ہیں۔

ہم میڈیا کی وہاں تک رسائی کی بحالی کے بھی خواہش مند ہیں تاکہ صحافی ہمیں وہاں کی صورتحال کے بارے میں مزید درست طور سے آگاہ کر سکیں۔ میں ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ وہ ملک کا بے حد پیچیدہ حصہ ہے۔ ہم وہاں مختلف النوع حملوں کی مذمت کرتے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز پر حملے، عام شہریوں پر حملے اور شہریوں کے حملے شامل ہیں، اس کے ساتھ ہمیں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر بھی بے حد تشویش ہے جن کا نتیجہ بہت سے لوگوں کی بے گھری کی صورت میں نکل رہا ہے۔ ہم تمام فریقین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ تناؤ دور کرنے کے اقدامات اٹھائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم برمی حکام اور ان کے شراکت داروں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ حالیہ تشدد کا باعث بننے والے مسائل پر قابو پائیں۔

گزشتہ روز ہیدا کی جانب سے آپ لوگوں کے ساتھ بات چیت کے بعد کچھ نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اقوام متحدہ اور متعلقہ اداروں کو برما سے سرحد پار کر کے بنگلہ دیش آنے والوں کے بارے میں بہتر طور سے اندازے مل رہے ہیں اور درحقیقت یوں دکھائی دیتا ہے کہ یہ تعداد گزشتہ چند دنوں سے زیربحث اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ چنانچہ 25 اگست کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کا انخلا ہوا ہے اور میرے پاس اس بارے شبے کی کوئی وجہ نہیں کہ دو لاکھ سے زیادہ لوگ برما سے بنگلہ دیش کی جانب آئے  ہیں۔

اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں جن میں صرف روہنگیا ہی نہیں بلکہ مقامی راخائنی اور دوسری اقلیتیں بھی ہو سکتی ہیں جو راخائن ریاست میں رہتی ہیں۔

ہم ابتدائی طور پر اپنے سفیر سکاٹ مارشل اور رنگون میں موجود ان کی ٹیم کے ذریعے حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں جس میں سویلین اور فوجی دونوں حکام شامل ہیں۔ ہم دوسرے عطیہ دہندگان اور شراکت داروں، ریڈ کراس کے اداروں سے بھی بات چیت کر رہے ہیں جس میں ہماری بنیادی توجہ امدادی کارروائی پر ہے تاکہ وہاں تک رسائی اور شمالی راخائن میں انسانی ضروریات کی تکمیل کا عمل بحال ہو سکے۔

ہم ہمسایہ ممالک بشمول بنگلہ دیش سے بھی گفت و شنید کر رہے ہیں جو کئی سال سے روہنگیا کمیونٹی کو پناہ دینے والے خطے کے متعدد ممالک میں شامل ہے اور ہم پناہ گزینوں کی میزبانی اور انہیں تحفظ مہیا کرنے پر اس کے شکرگزار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی میں آپ کے سوالات کی جانب آؤں گا۔

ہیدا نوئرٹ: ٹھیک ہے، اب ہم آپ کا پہلا سوال لیں گے۔

آپریٹر: شکریہ۔ سوالات کے لیے ٭ اور 1 بٹن دبا کر قطار میں آ جائیے۔ میں ایک مرتبہ پھر دہراؤں گا کہ ٭ اور 1 دبائیے۔ قطار میں سب سے پہلے اے ایف پی کے ڈیو کلارک ہیں۔ جی بات کیجیے۔

سوال: ہیلو، کال لینے کا شکریہ۔ یقیناً برما کی حکومت نے حال ہی میں جزوی طور پر انتخابی حکمرانی اختیار کی ہے۔ راخائن میں سکیورٹی کا ذمہ دار کون ہے؟ یقیناً حکومت ہی اس کی ذمہ دار ہے، مگر کیا یہ علاقہ فوج کے زیر کمان ہے؟ کیا وہاں سویلین عملداری ہے؟ وہاں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قتل عام یا لوگوں کو غیرفوجی عناصر کے حملوں سے نہ بچانے پر کسے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے؟

پیٹرک مرفی: ڈیو، سوال کے لیے شکریہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے برما کی ایک پیچیدگی کی جانب اشارہ کیا ہے۔ وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ہم اس بات کی بے حد ستائش کرتے ہیں کہ ملک میں تبدیلی آئی ہے اور وہاں منتخب سویلین حکومت قائم ہے اور درحقیقت یہ نصف صدی میں وہاں پہلی سویلین حکومت ہے۔ اس سے ملک کو کئی نسلوں کے بعد ترقی کا بہترین موقع میسر آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منتخب حکومت کو ایسا آئین ورثے میں ملا ہے جس کی رو سے برما کی مسلح افواج کو بھرپور اختیارات حاصل ہیں۔ شمالی راخائن میں فوج کا برتر کردار بھی انہی اختیارات کا حصہ ہے۔

لہٰذا ہم منتخب سویلین حکومت سے بھی بات چیت کر رہے ہیں جو مجموعی طور پر ملک کی ذمہ دار ہے جبکہ فوجی حکام سے بھی ہماری بات چیت جاری ہے۔ اس گفت و شنید میں ہمارا پیغام اصولی ہے۔ 25 اگست کو سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات پر ذمہ دارانہ ردعمل کی ضرورت ہے۔ یہی حملے حالیہ بحران کے آغاز کا سبب بنے۔ سکیورٹی فورسز کو عام لوگوں کی حفاظت اور انتظامی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے وہاں موجود ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ یہ کارروائیاں قانون اور عالمی انسانی حقوق کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دیں۔ یہ وہ پیغامات ہیں جو ہم نے سویلین حکومت اور فوجی رہنماؤں کو پہنچائے ہیں۔

ہیدا نوئرٹ: ٹھیک ہے، جی اگلا سوال۔

آپریٹر: آپ کا بے حد شکریہ۔ اگلا سوال ایسوسی ایٹڈ پریس کے میتھیو پیننگٹن کی جانب سے ہے۔ جی بات کیجیے۔

سوال: ہیلو پیٹرک، کال لینے کا شکریہ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو برمی حکام خصوصاً ان حالات میں فوجی حکام پر خاطرخواہ اثرورسوخ حاصل ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ راخائن کی صورتحال پر عالمی برادری کی جانب سے خاصی مذمت سامنے آئی ہے مگر یوں لگتا ہے کہ ملک سے روہنگیا مہاجرین کا بڑی تعداد میں انخلا اور تشدد بھی جاری ہے۔ کیا امریکہ حقوق کی خلاف ورزیوں کی پاداش میں برما کے بعض اداروں جیسا کہ فوج پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے غور کرے گا۔

پیٹرک مرفی: میتھیو، میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے برما کے ساتھ تعلقات اس نوعیت کے ہیں کہ ہم اس پر اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔ دراصل یہ شراکت ہے۔ منتخب حکومت کی جانب تبدیلی کے بعد دونوں ممالک میں بات چیت اور نہایت جامع تبادلہ خیال ہوا۔ شراکت داروں کی حیثیت سے ہم اس تبدیلی میں معاونت کے خواہاں ہیں تاکہ جمہوریت مضبوط ہو سکے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا یہ کئی نسلوں کے بعد برما کے لیے درست راہ اختیار کرنے کا بہترین موقع آیا ہے اور نئی حکومت کو بے پایاں مسائل ورثے میں ملے ہیں۔ ان میں قومی مفاہمت اور امن جس سے برما 1940 میں آزادی کے بعد سے محروم چلا آیا ہے، علاقائی تنازعات اور راخائن ریاست کا خاص معاملہ شامل ہیں۔ یہ طویل عرصہ سے حل طلب مسئلہ ہے اور نئی حکومت پہلے دن سے اس کے ساتھ نبردآزما ہے۔

چنانچہ اس شراکت میں ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ انہیں اپنی صلاحیتوں میں اضافے میں مدد دی جائے اور ان کے پاس ایسے ذرائع ہوں جن کی مدد سے وہ مسائل حل کر سکیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم نے اپنے خدشات پس پشت ڈال کر جائز تنقید سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ درحقیقت ہم تشدد اور اس تناؤ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو اس تشدد کو جنم دیتا ہے۔

جہاں تک پابندیوں کا تعلق ہے تو ہم نے دو دہائیوں کے بیشتر حصے میں برما پر یہ پابندیاں عائد رکھیں۔ بنیادی طور پر ان کا مقصد جمہوری تبدیلی اور انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری کی راہ ہموار کرنا تھا۔ کامیاب الیکشن اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے نئی حکومت کے ابتدائی اقدامات کی بنیاد پر ان میں بیشتر پابندیاں اٹھا لی گئیں۔ ایسا نہیں کہ اس سے تمام مسال حل ہو گئے۔ تاحال بہتری کی بہت سی گنجائش موجود تھی۔ مگر اب شراکت کار کی حیثیت سے ہم ان کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں، انہیں سہولت دے سکتے ہیں اور ان کی معاونت کر سکتے ہیں۔ راخائن ریاست جیسی پیچیدہ صورتحال میں بھی ہم یہی کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہیدا نوئرٹ: شکریہ، جی اگلا سوال۔

آپریٹر: شکریہ، اگلا سوال رائٹر کے ڈیوڈ برنسٹروم کی جانب سے ہے۔ جی سوال کیجیے۔

سوال: آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو مزید اقدامات کرنا چاہئیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سویلین رہنما کی حیثیت سے آنگ سان سوکی کو مزید بات کرنا چاہیے تھی اور مسلم اقلیت سے ہونے والے سلوک پر خدشات کا اظہار کرنا چاہیے تھا؟ بہت شکریہ

پیٹرک مرفی: میں سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ برما ایک نہایت متنوع ملک ہے جہاں سیکڑوں نسلی گروہ آباد ہیں۔ آزادی کے حصول اور جدید دنیا میں اپنی راہ تلاش کرنے کے حوالے سے برما ایک طویل اور پیچیدہ تاریخ کا حامل ہے۔ وہاں بہت سی نسلی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک ہوتا چلا آیا ہے۔ راخائن ریاست میں روہنگیوں کی حالت زار خطے میں سب سے بڑے انسانی المیوں میں سے ایک ہے۔ وہ اس خطے میں مسائل کا سامنا کرنے والی واحد نسلی اقلیت نہیں ہیں۔ میں نے پہلے ہی بتایا ہے کہ مقامی راخائن بذات خود اقلیتی آبادی ہیں جنہیں سالہا سال سے پسماندگی اور محدود حقوق جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ تاہم یقینی طور پر روہنگیوں کی صورتحال نمایاں ترین ہے اور یہ حقیقت ہے کہ دس لاکھ سے زیادہ روہنگیوں کو کئی نسلوں سے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ یہ مسئلہ طویل عرصہ سے حل طلب ہے اور امریکہ میں ہمیں طویل عرصہ سے اس پر تشویش ہے۔ اس مسئلے کو حل ہونا چاہیے۔

برما کی حکومت نے جو مثبت قدم اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ اسے ریاست راخائن میں مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک سال قبل آنگ سان سوکی اور ان کی حکومت نے اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے زیرقیادت راخائن کمیشن قائم کیا تھا۔ 25 اگست کو حملوں کے دن ہی راخائن کمیشن نے اپنی حتمی رپورٹ اور سفارشات جاری کیں۔

آنگ سان سوکی اور ان کی حکومت نے ان سفارشات کو قبول کیا اور اب ہم ان پر مکمل عملدرآمد کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہ آسان کام نہیں ہو گا۔ کمیشن نے 80 سے زیادہ سفارشات پیش کی ہیں مگر ان میں بہت سی راخائن ریاست میں بنیادی نوعیت کے حالات کو سدھارنے سے متعلق ہیں۔ ہم حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہش مند ہیں اور یہ امر یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر توجہ دے گی اور اسے حل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ تاہم جیسا کہ میں نے کہا ہے یہ آنگ سان سوکی ہی تھیں جنہوں نے کمیشن قائم کیا اور پھر اس کی سفارشات کو قبول کیا۔ یہ حوصلہ افزا بات ہے۔ ہم اسی عمل کی حمایت کرنا چاہتے ہیں اور اسی میں شراکت کے خواہش مند ہیں۔

ہیدا نوئرٹ: ٹھیک ہے، جی اگلا سوال۔

آپریٹر: شکریہ، اگلا سوال سی بی ایس نیوز کی کائلی ایٹوڈ کریں گے۔ جی بات کیجیے۔

سوال: بریفنگ کے لیے شکریہ ۔ میں متجسس ہوں۔ آپ نے کہا ہے کہ آپ برما کی فوج اور سکیورٹی فورسز کی کمزوریوں کے بارے میں وہاں کی حکومت سے بات کرتے رہے ہیں۔ کیا آپ ان کمزوریوں کوئی تفصیل بیان کرنا چاہیں گے جن کی آپ نے اب تک نشاندہی کی ہو؟ میں یہ وضاحت چاہتی ہوں کہ آیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہاں مسلمانوں کو بطور خاص نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ راخائن خطے میں دیگر کو بھی اسی سلوک کا سامنا ہے؟

پیٹرک مرفی: شکریہ کائلی۔ ہماری برما حکومت سے نہایت موثر بات چیت ہوئی ہے جس میں ہمارے باہمی تعلقات اور ملک میں موجود مسائل سمیت بہت سے حقائق کا احاطہ کیا گیا۔ درحقیقت دونوں ممالک میں رسمی شراکت ہے۔ ایک سال قبل اس شراکت کے آغاز کے لیے میں دارالحکومت نے پھی ڈو میں امریکی سفیر مارشل سے ملا تھا۔ اس موقع پر کوئی 22 برمی وزراء بھی وہاں موجود تھے جن میں سویلین اور فوجی دونوں عہدیدار شامل تھے۔ اس موقع پر حکومت اور فوج نے اپنی بہت سی کمزوریوں اور مسائل کا اعتراف کیا تھا۔

میں سمجھتا ہوں کہ خاص طور پر جب ہم فوج کی کمزوریوں کی بات کرتے ہیں تو ان میں ایک یہ ہے جس کی نشاندہی حکومت نے کی ہے۔ برما کے آئین کی رو سے وہاں کی مسلح افواج کو اچھے خاصے اختیارات حاصل ہیں۔ تین اہم ترین وزارتیں ان کے پاس ہیں اور پارلیمان میں 25 فیصد نمائندگی بھی فوج کی ہے جبکہ نائب صدر کی ایک نشست فوجی نمائندے کو دی جاتی ہے۔ وہاں کی حکومت ایسی آئینی اصلاحات کی امید اور خواہش رکھتی ہے جن سے جمہوریت مکمل طور سے مستحکم ہو سکے۔ یہ ایک الہامی سی مگر قابل ستائش بات ہے اور ہم ہرممکن حد تک اس میں برما حکومت کی مدد کریں گے۔

راخائن ریاست میں یہ ایک خاص معاملہ ہے جس میں بیشتر حکام کا تعلق سکیورٹی فورسز سے ہے۔ میں وہاں گیا ہوں۔ میں نے شمالی راخائن کا دورہ کیا ہے۔ یہ نئی حکومت کے لیے چیلنج ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا پورے برما میں نسلی اقلیتوں کے خلاف طویل عرصہ سے امتیازی سلوک ہوتا آیا ہے اور راخائن ریاست میں بھی بہت سی آبادیوں کو اسی مسئلے کا سامنا ہے۔ اس ملک کو مذہبی حوالے سے بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے، ملک میں بہت سے مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ وہاں صرف اکثریتی بدھ آبادی ہی نہیں بستی بلکہ ملک کے ہر بڑے شہر اور قصبے میں بڑی تعداد میں عیسائی اور مسلمان بھی رہتے ہیں جن کے علاوہ ہندومت کے پیروکار اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی وہاں کے شہری ہیں۔ بنیادی طور پر راخائن ریاست میں نسلی مسئلہ ہے۔ روہنگیوں کو الگ تھلگ رکھا جاتا رہا ہے۔ انہیں تسلیم نہیں کیا جاتا اور انہیں ملکی شہریت بھی نہیں دی گئی۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا وہ سالہا سال سے بنیادی حقوق سے بھی محروم چلے آ رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے راخائن ریاست سے متعلق بنائے گئے کمیشن نے اب اپنی سفارشات دے دی ہیں جن میں ایسے بہت سے بنیادی حقوق جیسا کہ عدم شناخت کے حامل لوگوں کو شہریت دینے اور ترقیاتی صورتحال میں بہتری کی بات کی گئی ہے۔ یہ اس غریب ملک کا سب سے مفلس علاقہ ہے۔ حکومت نے ان سفارشات کو قبول کیا ہے اور اب ان پر عملدرآمد ہونا باقی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری تمام توجہ اسی پر ہے۔

ہیدا نوئرٹ: اور اب آخری سوال۔

آپریٹر: شکریہ، یہ سوال سی این این کی مچل کوزنسکی کی جانب سے ہے۔ جی سوال کیجیے۔

سوال: میں جانتی ہوں کہ یہ ایک طویل بات چیت اور لمبا عمل ہے، تاہم وہاں تازہ ترین تناؤ اور تشدد کو دیکھتے ہوئے امریکہ اور برما حکومت میں بات چیت کے نتیجے میں کس قدر فوری اقدامات کی توقع ہے؟ اوہ، مجھے آپ سے کچھ اور بھی پوچھنا تھا۔ میں بیک وقت بہت سی باتیں کر رہی ہوں۔ اس گفت و شنید کی اثرپذیری کے حوالے سے دیکھا جائے تو کیا اس سے مختصر مدتی نتائج کے حصول کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر صحافیوں کو متاثرہ علاقے تک رسائی کا ہی معاملہ لے لیجیے۔ شکریہ۔

پیٹرک مرفی: میں اس بات پر زور دوں گا کہ یہ مسائل طویل مدتی ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد پیچیدہ بھی ہیں اور ان میں بعض نئی اور پریشان کن جہتیں بھی شامل ہو گئی ہیں۔ 25 اگست کو سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے بے حد موثر و مربوط تھے۔ یہ مقابلتاً ایک نئی چیز ہے اور ان حملوں میں جانی نقصان بھی ہوا۔ اس سے خاصی تشویش اور بہت سا خوف جنم لیتا ہے اور سکیورٹی فورسز کو جواب دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

یقیناً ہم ان حملوں پر سکیورٹی فورسز کے ردعمل پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ یہ ردعمل قانون اور انسانی حقوق کے مطابق اس انداز میں ہونا چاہیے کہ مقامی آبادیوں کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ اندرون ملک اور سرحد پر بڑے پیمانے پر لوگوں کی منتقلی سے اس امر کا واضح اظہار ہوتا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کی بابت خوفزدہ ہیں۔ چنانچہ حکومت کے ساتھ بات چیت میں ہم صرف انسانی امدادی اداروں اور میڈیا کے لیے متاثرہ علاقوں تک فوری اور ہنگامی رسائی ہی نہیں مانگ رہے بلکہ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز اور عام لوگ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں کیونکہ وہاں مقامی آبادیوں میں مقامی ملیشیا کی صورت میں ایک اور پیچیدہ نئی جہت موجود ہے۔ یہ ملیشیا سویلین لوگوں پر حملے کر رہی ہیں جس سے شمالی راخائن میں تشدد اور تناؤ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

ہم حکومت کے ساتھ تعمیری بات چیت چاہتے ہیں۔ فطری طور پر جب متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد اور میڈیا کی رسائی بحال ہو جائے گی تو ہم کہہ سکیں گے کہ اس بات چیت کے نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ یہ بات چیت تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور ہم حکومت میں ایسے شراکت دار دیکھ رہے ہیں جو صورتحال کو سمجھتے ہوں اور متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد اور میڈیا کی رسائی بحال کرنے اور تناؤ میں کمی لانے کی کوششوں میں دلچسپی رکھتے ہوں۔

ہماری تمام توجہ اسی پر ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا اس کے ساتھ ساتھ عنان کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کے آغاز کا بھی یہ مناسب وقت ہے۔ شکریہ۔

ہیدا نوئرٹ: ٹھیک، بات چیت میں شمولیت پر آپ سب کا شکریہ، نائب معاون سفیر مرفی، اس مسئلے پر آپ کے علم اور مہارت کا بھی شکریہ۔ اس بات چیت کو نشروشائع کرنے پر پابندی اٹھا لی گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ آن ریکارڈ تھی۔ شکریہ۔

###


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں