rss

وزیرخارجہ ٹلرسن اور ان کے برطانوی ہم منصب بورس جانسن کی پریس کانفرنس

हिन्दी हिन्दी, English English, Français Français

وزیرخارجہ ٹلرسن

دفتر برائے ترجمان

لندن، برطانیہ

برائے فوری اجراء

14 ستمبر 2017

سوال: بی بی سی سے جیمز لینڈل۔ سب سے پہلے میں برطانوی وزیر خارجہ سے امداد کے بارے میں پوچھنا چاہوں گا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اپنا امدادی بجٹ جزائر غرب الہند میں ضرورت مندوں پر خرچ کرنا چاہیے؟ اگر ایسا ہے تو آپ اس حوالے سے کیا کریں گے؟

میرا دوسرا سوال لیبیا سے متعلق ہے۔ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ آئندہ برس وہاں انتخابات ممکن ہیں؟ آپ کے خیال میں انتخابات کا انعقاد کب عمل میں آنا چاہیے؟

میرا تیسرا موضوع برما ہے۔ آپ نے گزشتہ اختتام ہفتہ پر کچھ یوں کہا تھا کہ ‘آنگ سان سو کی ہمارے عہد کی انتہائی متاثر کن شخصیات میں سے ایک ہیں’ کیا آپ کو اب اپنی بات پر کوئی افسوس ہے اور کیا اس ہفتے پیش آنے والے واقعات کے بعد آپ کے خیالات تبدیل ہو گئے ہیں؟

اجازت ہو تو امریکی وزیرخارجہ سے میں ایران کے بارے میں سوال کرنا چاہوں گا۔ اس وقت ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکہ کی حقیقی پوزیشن کیا ہے؟ کیا آپ ایران کے خلاف پابندیاں اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے؟ کیا آپ یہ سمجھیں گے کہ ایران معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے؟

دوسری بات یہ کہ میانمار اور بنگلہ دیش میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر اور آنگ سان سو کی کے رویے کی بابت آپ کی کیا رائے ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: جہاں تک امریکی انتظامیہ کی ایرانی جوہری معاہدے سے متعلق پوزیشن کا تعلق ہے تو اس حوالے سے میں یہ کہوں گا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے بارے میں اپنی پالیسی کا جائزہ لینے اور اسے آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔ اس پر کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں ہماری قوم سلامتی کونسل میں اندرونی طور پر اور صدر کے ساتھ متعدد مرتبہ بات چیت ہوئی ہے۔ مگر تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔

تاہم میں سمجھتا ہوں یہ بات اہم ہے کہ انتظامیہ ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے جائزہ لے رہی ہے۔ میرے خیال میں صدر ٹرمپ نے اس پالیسی کی تشکیل میں ان کی مدد کرنے والے ہم لوگوں پر یہ واضح کر دیا ہے کہ ہمیں ایران سے درپیش مجموعی خطرات کو مدنظر رکھنا ہو گا، اس حوالے سے صرف ایرانی جوہری صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کرنا ہی  کافی نہیں ہے کیونکہ وہ ایران کے حوالے سے ہمارے طرزعمل کا صرف ایک حصہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ ایرانی جوہری معاہدے کی تمہید کا دوبارہ جائزہ لیں تو اس میں لکھا ہے کہ ‘شرکا توقع رکھتے ہیں کہ اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد سے علاقائی و عالمی امن و سلامتی کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی’ یہ اس معاہدے سے وابستہ ایک توقع تھی۔

ہماری رائے میں ایران اس معاہدے سے وابستہ توقعات پوری کرنے میں واضح طور پر ناکام رہا ہے کہ وہ اسد حکومت کی مدد، خطے میں کینہ پرور اقدامات بشمول سائبرسرگرمیوں اور تیزی سے بلسٹک میزائل تیار کرنے میں مصروف ہے۔ یہ سب کچھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی کھلی خلاف ورزی ہے جس سے خطے کے ممالک اور امریکہ کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ لہٰذا ہمیں صرف جوہری معاہدے کے بجائے ایرانی سرگرمیوں کو مجموعی طور پر دیکھنا ہے۔ چنانچہ اس معاہدے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور فی الوقت اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

جہاں تک برما میں پیش آنے والے خوفناک حالات کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس نئی ابھرتی ہوئی جمہوریت کے لیے کئی انداز میں ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ اگرچہ اسے مکمل جمہوریت نہیں بلکہ اختیارات میں حصہ داری ہی کہا جا سکتا ہے۔ ہم سب اسے واضح طور سے سمجھتے ہیں۔ چنانچہ آنگ سان سو کی کو جس مشکل اور پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے اس کا ہمیں بخوبی ادراک ہے۔ میرے خیال میں یہ ضروری ہے کہ عالمی برادری نسلی امتیاز سے ہٹ کر تمام لوگوں سے اسی سلوک کے حق میں بات کرے جس کی توقع رکھی جاتی ہے اور اس تشدد کا بہرصورت خاتمہ ہونا چاہیے، اس عقوبت اور تکلیف کو روکا جانا چاہیے۔ بہت سے حلقوں نے اسے نسل کشی قرار دیا ہے۔ اسے ہر صورت روکا جانا چاہیے۔

ہمیں آنگ سان سو کی اور ان کی قیادت کی حمایت کرنی چاہیے مگر حکومت میں فوجی عنصر پر بھی بالکل واضح کر دینا چاہیے کہ یہ سب کچھ ناقابل قبول ہے۔ مستقبل  میں برما کی راہ اسی سے متعین ہو گی۔ انہیں ہماری موثر معاونت درکار ہے۔ ہمیں ان کی بھرپور حمایت کرنا ہو گی۔

سوال: وزیر ٹلرسن، میرا سوال شمالی کوریا کے بارے میں ہے۔ صڈر ٹرمپ نے اس ہفتے سلامتی کونسل میں منظور ہونے والی قرارداد کو چھوٹا قدم قرار دیا ہے۔ کیا آپ اس بیان سے متفق ہیں اور کیا آپ اب بھی شمالی کوریا کو تیل کی ترسیل پر مکمل پابندی کے حق میں ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ چین اس سے اتفاق کرے گا؟

وزیر خارجہ جانسن سے میرا سوال ایران کے بارے میں ہے۔ فرانس نے جوہری معاہدے میں اضافے اور اس کی مدت بڑھانے کا اشارہ دیا ہے۔ کیا آج کی بات چیت میں یہ موضوع بھی زیربحث آیا اور کیا برطانیہ ایسی تجویز پر غور کے لیے تیار ہے؟ وزیر خارجہ ٹلرسن سے مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا امریکہ بھی اس پر غور کے لیے تیار ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: جہاں تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد اور اس بارے صدر کے خیالات کا تعلق ہے تو میں ان سے متفق ہوں۔ ہمیں سلامتی کونسل سے مزید موثر قرارداد کی امید تھی۔ تاہم اس کے ساتھ میں یہ بھی کہوں گا کہ یہ قرارداد بھی متعدد مقاصد پورے کرتی ہے جن میں ٹیکسٹائل برآمدات پر مکمل پابندی بھی شامل ہے جس سے شمالی کوریا حکومت کو برآمدی مد میں 7 سے 800 ملین ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ سلامتی کونسل میں ایک اور متفقہ قرارداد کی منظوری سے شمالی کوریا کی حکومت اور اس کی سرگرمیوں میں تعاون کرنے والوں کو یہ پیغام جاتا ہے کہ عالمی برادری شمالی کوریا کی جانب سے ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے پھیلاؤ کی سنگینی سے متعلق یکساں سوچ کی حامل ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ بات واضح ہے کہ سلامتی کونسل کی جانب سے تیل پر مکمل پابندی بہت مشکل ہو گی۔

شمالی کوریا کو بنیادی طور پر تمام تیل چین فراہم کرتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ عظیم ملک اور عالمی طاقت کی حیثیت میں چین شمالی کوریا کو ہتھیاروں کی تیاری کے معاملے پر نظرثانی اور مستقبل میں اسے  بات چیت اور مذاکرات پر قائل کرنے کے لیے یہ موثر ذریعہ خود استعمال کرے گا۔ یہ نہایت موثر ذریعہ ہے جس سے ماضی میں کام لیا جا چکا ہے اور ہمیں امید ہے کہ چین اس موثر ذریعے کو مسترد یا ترک نہیں کرے گا جس کے ذریعے وہ اکیلا ہی شمالی کوریا سے بات منوا سکتا ہے۔

لہٰذا ہم اس حوالے سے عالمی مہم کے سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں تمام ممالک سے کہا جائے گا کہ وہ سلامتی کونسل کی پابندیوں اور قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کرائیں ۔ ہم دنیا بھر کے ملکوں سے کہتے ہیں کہ اگر وہ سمجھیں کہ اس حکومت کو مذاکرات کے نکتے پر لانے کے لیے وہ دباؤ کے طور پر مزید اقدامات کر سکتے ہیں تو ضرور کریں۔

# # #


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں