rss

صدر ٹرمپ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں اجلاس سے خطاب

हिन्दी हिन्दी, English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español

وائٹ ہاؤس

پریس سیکرٹری کا دفتر

برائے فوری اجراء

19 ستمبر 2017

ای ڈی ٹی وقت کے مطابق صبح 10 بجکر 4 منٹ

جناب سیکرٹری جنرل، جناب صدر، عالمی لیڈران، وفود کے معزز ممبران: نیویارک میں خوش آمدید۔ میرے لیے یہاں اپنے شہر میں امریکی عوام کے ایک نمائندے کی حیثیت سے دنیا کے عوام سے خطاب کرنے کے لیے کھڑا ہونا ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔

اس وقت جب ہمارے لاکھوں شہری ہمارے ملک میں آنے والے تباہ کن طوفانوں سے پیدا ہونے والے مصائب جھیل رہے ہیں، تو ایسے میں میں اس کمرے میں موجود ہر اُس لیڈر کو اپنی طرف سے خراج تحسین پیش کرنے چاہتا ہوں جس نے تعاون اور امداد کی پیشکش کی ہے۔ امریکی عوام طاقتور اور صابر ہیں اور وہ اِن مصائب سے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مصمم ارادے لے کر نکلیں گے۔

خوش قسمتی سے امریکہ کی گزشتہ 8 نومبر کے انتخابی دن کے بعد سے اب تک کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے۔ سٹاک مارکیٹ اپنی بلند ترین سطح پر ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔  16 برسوں میں بے روزگاری کی شرح کم ترین سطح پر ہے اور ہماری نگرانی اور دیگر اصلاحات کے نتیجے میں پہلے کے مقابلے میں آج امریکہ میں کام کرنے والے ہمارے لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ کمپنیاں  واپس آ رہی ہیں جس سے ملازمتوں کی تعداد میں ایسا اضافہ ہو رہا ہے جس کی مثالیں ہمارے ملک میں ایک لمبے عرصے سے دیکھنے میں نہیں آئیں۔ اور حال ہی میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ہم اپنی فوج اور دفاع پر تقریباً 700 ارب ڈالر خرچ کریں گے۔

ہماری طاقتور ترین فوج عنقریب مزید اتنی طاقتور ہو جائے گی جتنی کہ پہلے کبھی نہیں تھی۔ 70 برسوں سے زائد، جنگ اور امن کے وقتوں میں قوموں، تحریکوں، اور مذاہب کے لیڈر اس اسمبلی میں آتے رہے ہیں۔ اُن کی مانند میرا بھی، ہمیں آج درپیش شدید ترین خطروں میں سے کچھ کے بارے میں بات کرنے کا ارادہ ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ میرا اُن بے پناہ صلاحیتوں کے بارے میں بھی بات کرنے کا ارادہ ہے جو بروئے کار لائے جانے کی منتظر ہیں۔

ہم غیر معمولی مواقعوں کے زمانے میں رہ رہے ہیں۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور میڈیسن میں کی جانے والی ایجادات ایسی بیماریوں کا علاج کر رہی ہیں اور ایسے مسائل حل کر رہی ہیں جنہیں ماضی کی نسلیں حل کرنا ناممکن سمجھا کرتی تھیں۔

مگر ہر دن اپنے ساتھ بڑھتے ہوئے ایسے خطرات کی خبریں بھی لاتا ہے جن سے ہر اُس چیز کو خطرہ لاحق ہے جو ہمیں عزیز ہے اور جس کی ہم قدر کرتے ہیں۔ دہشت گرد اور انتہا پسند زور پکڑ گئے ہیں اور وہ کرہ ارض کے ہر خطے میں پھیل چکے ہیں۔ بدمعاش حکومتیں، جنہیں اس تنظیم میں نمائندگی حاصل ہے نہ صرف دہشت گردوں کی حمایت کرتی ہیں بلکہ دوسری اقوام اور اپنے عوام کو انسانی تاریخ میں پائے جانے والے مہلک ترین ہتھیاروں سے دھمکاتی بھی ہیں۔

اقتدار اور استبدانہ قوتیں اُن اقدار، ایسے نظاموں اور اتحادوں کو ختم کرنے کے درپے ہیں جنہوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد، تصادم کی راہ روکی اور  دنیا کا رُخ آزادی کی جانب موڑا۔

بین الاقوامی مجرم گروہ، منشیات، ہتھیاروں اور انسانوں کا کاروبار کرتے ہیں؛ لوگوں کو بے گھر اور ہجرت پر مجبور کرتے ہیں؛ ہماری سرحدوں کے لیے خطرہ بنتے ہیں؛ اور جارحیت کی نئی شکل کے طور پر، ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر کے ہمارے شہریوں کو دھمکاتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں، ہم عظیم مواقع اور شدید خطرے کے لمحات میں مل رہے ہیں۔ یہ قطعی طور پر ہم پر منحصر ہے کہ آیا ہم دنیا کو نئی بلندیوں تک لے جاتے ہیں یا اس کو بوسیدگی کی کسی وادی میں گرنے دیتے ہیں۔

اگر ہم ایسا انتخاب کریں تو یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالیں، اپنے شہریوں کی اُن کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے میں مدد کریں، اور یہ یقینی بنائیں کہ بچوں کی نئی نسلوں کی پرورش تشدد، نفرت اور خوف سے پاک ماحول میں ہو۔

دو عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں کے بعد، اس ادارے کی بنیاد اسی بہتر مستقبل کی تعمیر میں مدد کرنے کے لیے رکھی گئی تھی۔ یہ تصور اس پر مبنی تھا کہ متنوع قومیں اپنی حاکمیت کا تحفظ کرنے، اپنی سلامتی کو برقرار رکھنے اور اپنی خوشحالی کو فروغ دینے کی خاطر تعاون کریں گی۔

70 سال قبل یہ بالکل وہی وقت تھا جب امریکہ نے یورپ کی بحالی میں مدد کرنے کے لیے مارشل پلان ترتیب دیا تھا۔ وہ تین خوبصورت ستون – یعنی وہ امن، حاکمیت، سلامتی اور خوشحالی کے ستون ہیں۔

مارشل پلان اس اعلٰی نظریے کے مطابق ترتیب دیا گیا تھا کہ پوری دنیا اُس وقت محفوظ ہوتی ہے جب قومیں مضبوط، آزاد اور خودمختار ہوتی ہیں۔ جیسا کہ اُس وقت کے صدر ٹرومین نے کانگرس کے نام اپنے پیغام میں کہا تھا، "یورپی بحالی کی ہماری حمایت، اقوام متحدہ کے لیے ہماری حمایت کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ کی کامیابی اس کے ممبران کی آزاد قوت پر منحصر ہے۔”

آج کے خطرات پر قابو پانے اور مستقبل کی امیدوں کو پورا کرنے کے لیے ہم پر ماضی کی دانائی سے آغاز کرنا لازم ہے۔ ہماری کامیابی کا انحصار ایسی مضبوط اور آزاد اقوام کے اتحاد پر ہے جو اپنی سلامتی، خوشحالی اور اپنے اور دنیا کے امن کو فروغ دینے کے لیے اپنی حاکمیت کو گلے لگاتی ہیں۔

متنوع ممالک سے ہم یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ ہماری ثقافتوں، روایات، حتٰی کہ ہمارے حکومتی نظاموں کو اپنائیں۔ مگر ہم یقیناً تمام اقوام سے سالمیت کے اِن دو بنیادی فرائض کو سربلند رکھنے کی توقع رکھتے ہیں: یعنی وہ اپنے عوام کے مفادات اور دوسری تمام خود مختار اقوام کے حقوق کا احترام کریں۔ یہ اِس ادارے کا ایک خوبصورت تصور ہے اور یہ تعاون اور کامیابی کی بنیاد ہے۔

مختلف اقدار، مختلف ثقافتوں اور مختف خوابوں کے حامل متنوع ممالک کو، مضبوط اور خود مختار اقوام نہ صرف بقائے باہمی کی اجازت دیتی ہیں بلکہ باہمی احترام کی بنیادوں پر اکٹھے مل کر کام بھی کرتی ہیں۔

مضبوط اور خود مختار اقوام اپنے لوگوں کو مستقبل کی ملکیت لینے اور اپنی تقدیر پر اختیار رکھنے کی اجازت دیتی ہیں۔ اور مضبوط اور خود مختار اقوام لوگوں کو خدا کی طرف سے دی گئی زندگی میں مکمل طور پر پھلنے پھولنے کی اجازت دیتی ہیں۔

امریکہ میں، ہم دوسروں پر اپنا طرز زندگی مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس کے برعکس ہم اسے ایک مثال کی طرح چمکنے دیتے ہیں تا کہ ہر کوئی اسے دیکھ سکے۔ یہ ہفتہ ہمیں اُس مثال پر فخر کرنے کی ایک خاص وجہ فراہم کرتا ہے۔ ہم اپنے محبوب آئین کی 230ویں سالگرہ منا رہے ہیں – یہ سب سے پرانا آئین ہے جو دنیا میں ابھی تک نافذ العمل ہے۔

وقت کی قید سے آزاد یہ دستاویز، امریکیوں اور دنیا کے ایسے کروڑوں انگنت لوگوں کے امن، خوشحالی اور آزادی کی بنیاد چلی آ رہی ہے جن کے اپنے ممالک اس [آئین] کے انسانی فطرت،انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی کے احترام سے متاثر ہوئے ہیں۔

امریکی آئین کا عظیم ترین حصہ اس کے ابتدائی تین الفاظ ہیں۔ وہ الفاظ یہ ہیں: ” وی دا پیپل۔” [ہم عوام]

ان الفاظ کے وعدوں، ہمارے ملک کے وعدوں، اور ہماری عظیم تاریخ کے وعدوں کو برقرار رکھنے کے لیے امریکیوں نے نسل در نسل قربانیاں دی ہیں۔ امریکہ میں عوام حکومت کرتے ہیں، عوام کی حکمرانی ہوتی ہے اور عوام کی حاکمیت ہوتی ہے۔ مجھے اقتدار لینے کے لیے منتخب نہیں کیا گیا تھا بلکہ اُن امریکی عوام کو اقتدار دینے کے لیے منتخب کیا گیا تھا جو اس اقتدار کے مالک ہیں۔

غیرملکی معاملات میں ہم حاکمیت کے اس بنیادی اصول کی تجدید کر رہے ہیں۔ ہماری حکومت پر اولین فرض ہمارے عوام، ہمارے شہریوں کی طرف سے عائد ہوتا ہے یعنی اُن کی ضروریات پوری کرنا، اُن کی سلامتی کو یقینی بنانا، اُن کے حقوق کو برقرار رکھنا اور اُن کی اقدار کا دفاع کرنا۔

امریکی صدر کی حیثیت سے میں ہمیشہ امریکہ کو پہلے نمبر پر رکھوں گا، بالکل آپ کی طرح، آپ کے ملک کے لیڈر ہمیشہ، اور اُنہیں ہمیشہ ایسا کرنا چاہیے، اپنے اپنے ملکوں کو پہلے نمبر پر رکھیں گے۔ (تالیاں)

تمام ذمہ دار لیڈروں پر اپنے شہریوں کی خدمت کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور قوموں کی بنیاد پر تشکیل پانے والے ممالک انسانی حالات کو بہتر بنانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

لیکن اپنے عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں مکمل ہم آہنگی اور اتحاد کے ساتھ، تمام لوگوں کے لیے ایک محفوظ اور پرامن مستقبل کی تعمیر کے لیے اکٹھے کام کرنے کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

امریکہ دنیا کا اور بالخصوص اپنے اتحادیوں کا ہمیشہ ایک عظیم دوست بنا رہے گا۔ مگر اب ہمارا مزید فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا یا کوئی ایسا یکطرفہ معاملہ نہیں طے کیا جا سکتا جس کے بدلے میں امریکہ کو کچھ بھی حاصل نہ ہو۔ جب تک میں اِس عہدے پر فائز ہوں، میرے لیے دوسری تمام چیزوں کے مقابلے میں امریکہ کے مفادات کا دفاع مقدم رہے گا۔

تاہم اپنی اقوام کی طرف سے ہم پر عائد ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی احساس ہے کہ ایک ایسے مستقبل کی کوشش کرنا ہر ایک کے مفاد میں ہے جس میں تمام اقوام خود مختار، خوشحال اور محفوظ ہوں۔

امریکہ اقوام متحدہ کے منشور میں بیان کردہ اقدار کے لیے آواز بلند کرنے سے بڑھکر کہیں زیادہ کام کرتا ہے۔ ہمارے شہریوں نے اپنی آزادی اور اس عظیم ہال میں نمائندگی رکھنے والی بہت سی اقوام کی آزادی کا دفاع کرنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ امریکہ کا ایثار جنگی میدانوں میں جانچا جا سکتا ہے جہاں ہمارے جوان مردوں اور عورتوں نے یورپ کے ساحلوں سے لے کر مشرق وسطٰی کے صحراؤں اور ایشیا کے جنگلوں تک اپنے اتحادیوں کے شانہ بشانہ جنگیں لڑی ہیں اور قربانیاں دی ہیں۔

امریکی کردار کو یہ ایک دائمی اعزاز حاصل ہے کہ تاریخ کی سب سے خونی جنگ میں ہمارے اور ہمارے اتحادیوں کی فتح کے باوجود ہم نے علاقائی توسیع کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی دوسروں کے طرز زندگی کی مخالفت یا اپنا طرز زندگی دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی بجائے ہم نے، سب کی حاکمیت، سلامتی اور خوشحالی کا دفاع کرنے کے لیے اِس [اقوام متحدہ] جیسے اداروں کی تعمیر میں مدد کی۔

دنیا کی متنوع قوموں کے لیے ہماری یہی امید ہے۔ ہم، ہم آہنگی اور دوستی چاہتے ہیں نہ کہ تنازعات اور جھگڑے۔ ہم نتائج سے راہنمائی لیتے ہیں نہ کہ نظریے سے۔ ہماری پالیسی ایک ایسی اصولی حقیقت پسندی ہے جس کی جڑیں مشترکہ مقاصد، مفادات اور اقدار میں گڑی ہوئی ہیں۔

حقیقت پسندی ہمیں اُس سوال کا سامنا کرنے پر مجبور کرتی ہے جس کا سامنا اس کمرے میں موجود ہر لیڈر اور [دنیا کی] ہر قوم کو کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس سے ہم راہِ فرار نہیں اختیار کر سکتے یا بچ نہیں سکتے۔  ہم خوش فہمی کی ڈھلوان پر پھسلتے چلے جائیں گے، چیلنجوں، خطرات اور حتٰی کے ہم اُس جنگ کے بارے میں بھی بے حس ہو جائیں گے جس کا ہمیں سامنا ہے۔ یا کیا ہمیں کافی مقدار میں آج اِن خطرات کا سامنا کرنے کے لیے وہ قوت اور تفاخر حاصل ہے جس کی وجہ سے ہمارے شہری آنے والے کل کو امن اور خوشحالی سے لطف اندوز ہو سکیں گے؟

اگر ہم اپنے شہریوں کو اوپر اٹھانا چاہتے ہیں، اگر ہم تاریخ کی منظوری کے خواہاں ہیں تو پھر ہم پر یہ لازم ہے کہ ہم اپنے اُن عوام کی طرف سے عائد ہونے والے سب سے اہم فرائض ادا کریں جن کی نمائندگی ہم وفاداری سے کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی اقوام، اُن کے مفادات اور اُن کے مستقبلوں کو ہرگز محفوظ بنانا چاہیے۔ ہمیں یوکرین سے لے کر بحیرہ جنوبی چین تک خودمختاری کو لاحق خطرات کو مسترد کرنا چاہیے۔ ہمیں ہرصورت میں قانون کا احترام، سرحدوں کا احترام، اور ثقافت کا احترام اور اُس پُرامن میل جول کے احترام کو سربلند کرنا چاہیے جس کی یہ امور اجازت دیتے ہیں۔ اور بالکل اسی طرح جیسا کہ اس ادارے کے بانیوں نے ارادہ کیا تھا ہم پر لازم ہے کہ ہم مل کر کام کریں اور مل کر اُن کا  سامنا کریں جو ہمیں افراتفری، فساد اور دہشت گردی کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

ہمارے کرہ ارض کی آج کی لعنت بدمعاش حکومتوں کا ایک چھوٹا سا ایسا گروپ ہے جو اُن تمام اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے جن پر اقوام متحدہ کی بنیادیں کھڑی ہیں۔ وہ نہ تو اپنے شہریوں کی عزت کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے ملکوں کی خودمختاری کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔

اگر بہت سے نیک، چند ایک بدمعاشوں کا سامنا نہیں کریں گے تو پھر بدی جیت جائے گی۔ جب مہذب لوگ اور قومیں تاریخ کے تماشائی بن جاتے ہیں تو اس سے صرف تباہی کی قوتیں ہی طاقت اور قوت حاصل کرتی ہیں۔

دوسری اقوام اور اپنے عوام کی فلاح کی توہین، شمالی کوریا کی اخلاق باختہ حکومت سے بڑھکر کسی اور نے نہیں کی۔ یہ حکومت اپنے لاکھوں لوگوں کی بھوک سے ہلاکتوں اور اپنے بے شمار لوگوں کی  قید، تشدد، ہلاکتوں اور ظلم و ستم کی ذمہ دار ہے۔

ہم سب اس حکومت کی اُس ہلاکت خیز زیادتی کے گواہ ہیں جس میں کالج کے ایک بے گناہ امریکی طالب علم، اوٹو وارمبائر کو چند دنوں بعد مرنے کے لیے امریکہ واپس بھیجا گیا۔ ہم نے یہ [زیادتی] ڈکٹیٹر کے بھائی کے ایک بین الاقوامی ایئر پورٹ پر ممنوعہ اعصابی گیس کے ذریعے قتل میں دیکھی۔ ہمیں علم ہے کہ اس ملک نے ایک پیاری سی 13 سالہ جاپانی لڑکی کو اس کے اپنے ملک کے ایک ساحل سے اغوا کیا تاکہ اُسے شمالی کوریا کے جاسوسوں کو زبان سکھانے والی ایک استاد کی حیثیت سے غلام بنایا جا سکے۔

اگر یہ زیادتیاں ہی کافی نہیں تھیں تو اب شمالی کوریا کی جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کی اندھا دھند تیاری سے پوری دنیا کو ایسے خطرات لاحق ہو گئے ہیں جن میں انسانی زندگیوں کے ہونے والے نقصان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ کچھ ممالک نہ صرف اس حکومت کے ساتھ تجارت کرتے ہیں بلکہ اُسے مسلح بھی کرتے ہیں، اشیا مہیا کرتے ہیں اور ایک ایسے ملک کی مالی مدد کرتے ہیں جس نے دنیا کو جوہری تصادم کے خطرے سے دوچار کر رکھا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی حکومت مجرموں کے اس گروہ کو اپنے آپ کو جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں سے مسلح کرتے ہوئے دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔

امریکہ کے پاس بہت بڑی طاقت اور صبر ہے۔ لیکن اگر اسے اپنا یا اس کے اتحادیوں کا دفاع کرنے پر مجبور کیا گیا تو ہمارے پاس شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔ راکٹ مین اپنی اور اپنی حکومت کی خودکشی کے مشن پر ہے۔ امریکہ اس کام کے لیے تیار، آمادہ اور اس کا اہل ہے، مگر امید ہے کہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اقوام متحدہ کا بعینہی یہی مقصد ہے؛ اقوام متحدہ اسی کی علمبردار ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح یہ کام کرتے ہیں۔

شمالی کوریا کے لیے یہ وقت اس بات کا احساس کرنے کا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ قابل قبول مستقبل کی واحد راہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں متفقہ رائے سے پندرہ – صفر کی اکثریت سے شمالی کوریا کے خلاف دو سخت قسم کی قراردادیں منظور کی ہیں۔ اس کے لیے میں چین اور روس کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل کے دیگر اراکین کا پابندیاں لگانے کے حق میں ووٹ دینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس میں شامل تمام لوگوں کا شکریہ۔

لیکن ہمیں زیادہ کچھ کرنا چاہیے۔ تمام قوموں کے لیے یہ وقت کِم حکومت کو اس وقت تک تنہا کرنے کے لیے اکٹھے ہوکر کام کرنے کا ہے جب تک یہ اپنا مخاصمانہ رویہ تبدیل نہیں کرتی۔

ہمیں شمالی کوریا میں ہی اس فیصلے کا سامنا نہیں ہے۔ دنیا کی اقوام کو ایک اور عاقبت نا اندیش حکومت کا سامنا کرنے کا بہت سا وقت پہلے ہی گزر چکا ہے – ایک ایسی حکومت جو کھلے عام اجتماعی قتل کی بات کرتی ہے، امریکہ کی موت، اسرائیل کی تباہی اور اس کمرے میں موجود بہت سے لیڈروں اور دنیا کی قوموں کی بربادی کا عہد کرتی ہے۔

ایرانی حکومت نے جمہوریت کے نقلی بھیس میں ایک بدعنوان آمریت کو چھپا رکھا ہے۔ اس حکومت نے شاندار تارِیخ اور ثقافت کے حامل ایک امیر ملک کو اقتصادی طور پر ایسی تنگدست بدمعاش ریاست میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے جس کی بڑی برآمدات تشدد، خونریزی اور افراتفری ہیں۔ ایرانی لیڈروں کے ہاتھوں طویل ترین عرصے تک تکالیف اٹھانے والے، در حقیقت اس کے اپنے لوگ ہیں۔

اپنے وسائل کو ایرانیوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی بجائے، تیل سے ملنے والے اس کے منافعے بے گناہ مسلمانوں کو ہلاک کرنے اور ایران کے پُرامن عرب اور اسرائیلی ہمسایوں پر حملوں کے لیے حزب اللہ اور دیگر دہشت گردوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں۔ وہ دولت جو درحقیقت ایرانی عوام کی ملکیت ہے، بشارالاسد کی آمریت کو سہارا دینے، یمن کی خانہ جنگی کو ہوا دینے اور پورے مشرق وسطٰی میں امن کو نقصان پہنچانے پر لگا دی جاتی ہے۔

ہم خطرناک میزائل تیار کرنے والی ایک قاتلانہ حکومت کو اِن عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اور ہم ایک ایسے سمجھوتے کا پاس نہیں کر سکتے جو کسی جوہری پروگرام کی تعمیر کو حتمی طور پر چھپاتا ہو۔ (تالیاں) ایرانی سمجھوتہ امریکہ کی طرف سے کیے جانے والے کسی بھی سمجھوتے کے مقابلے میں بدترین اور سب سے زیادہ یک رخا سمجھوتہ ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ یہ سمجھوتہ امریکہ کے لیے باعث شرمندگی ہے اور میرا خیال نہیں کہ آپ نے اس کے بارے میں آخری بار کبھی کچھ سنا ہو – میرا یقین کریں۔

یہ وقت پوری دنیا کا ہمارے اس مطالبے میں شامل ہونے کا ہے کہ ایرانی حکومت موت اور تباہی کے پروگراموں کو ختم کرے۔ حکومت کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ امریکہ اور دیگر ممالک کے غیرقانونی طور پر قید کیے گئے تمام شہریوں کو آزاد کرے۔ اور سب سے بڑھکر، ایران حکومت کو دہشت گردوں کی حمایت بند کرنا چاہیے، اپنےعوام کی خدمت کرنے کا آغاز کرنا چاہیے اور اپنے ہمسایوں کی خودمختاری کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔

پوری دنیا سمجھتی ہے کہ ایران کے اچھے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں اور امریکہ کی بھرپور فوجی قوت کے علاوہ، ایرانی لیڈر اپنے لوگوں سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔ یہی وہ کچھ ہے جس کے باعث حکومت انٹرنیٹ تک رسائی کو محدود کرتی ہے، سیٹلائٹ ڈشوں کو اکھاڑ پھینکتی ہے، مظاہرہ کرنے والے غیر مسلح طلبا پر گولیاں چلاتی ہے اور سیاسی اصلاح پسندوں کو قید میں ڈالتی ہے۔

غاصب حکومتیں ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتیں اور وہ دن آئے گا جب ایرانی لوگوں کے سامنے انتخاب کی راہ ہوگی۔ کیا وہ غربت، خونریزی اور دہشت کی راہ پر گامزن رہیں گے؟ یا کیا ایرانی لوگ اپنی قوم کی تہذیب، ثقافت اور دولت کے اُس مایہ ناز مرکز کی جانب لوٹیں گے جہاں ایک بار پھر لوگ خوش اور خوشحال رہ سکتے ہوں؟

ایرانی حکومت کی دہشت گردی کی حمایت اس کے بہت سے ہمسایوں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس کی مالی مدد روکنے کے حالیہ وعدوں کے بالکل برعکس ہے۔

اس سال کے اوائل میں سعودی عرب میں مجھے 50 سے زیادہ عرب اور مسلم ممالک کے لیڈروں سے خطاب کرنے کا عظیم اعزاز حاصل ہوا۔ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام ذمہ دار اقوام پر لازم ہے کہ وہ دہشت گردوں اور اُنہیں نقصان پہنچانے والی انتہا پسندی کا سامنا کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔

ہم بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی کو روکیں گے کیونکہ ہم اسے اپنی قوم کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے سکتے اور پوری دنیا کو نقصان پہنچانے کی بھی یقیناً اجازت نہیں دے سکتے۔

ہمیں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، راہداری، مالی مدد اور اس غلیظ اور منحوس نظریے کی کسی بھی شکل میں کی جانے والی حمایت کو روکنا چاہیے۔ ہمیں اُنہیں اپنے ممالک سے ماربھگانا چاہیے۔ یہ وقت اُن ممالک کو بےنقاب کرنے اور ذمہ دار ٹھہرانے کا ہے جو القاعدہ، حزب اللہ، طالبان جیسے دہشت گرد گروپوں اور اُن دیگر لوگوں کی حمایت اور مالی مدد کرتے ہیں جو بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔

امریکہ اور ہمارے اتحادی پورے مشرق وسطٰی میں ہارنے والے دہشت گردوں کو کچلنے اور ہمارے تمام لوگوں پر حملے کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی محفوظ پناہ گاہوں کے دوبارہ وجود میں آنے کو روکنے پر اکٹھے مل کر کام کر رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ، میں نے اس برائی کے خلاف افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ میں فتح کے لیے ایک نئی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا۔ آج کے بعد ہماری فوجی کاروائیوں کی مدت اور اُن کے دائرہ کار کا فیصلہ، ہمارے سکیورٹی کے مفادات کریں گے نہ کہ سیاستدانوں کی طرف سے مقرر کیے جانے والے من مانے معیارات اور نظام الاوقات۔

میں نے طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہماری جنگ میں لڑائی کے ضابطوں کو بھی مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ شام اور عراق میں ہمیں داعش کی مستقل شکست کے سلسلے میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ درحقیقت داعش کے خلاف ہمارے ملک نے کئی برسوں کی مجموعی کامیابیوں کے مقابلے میں، گزشتہ آٹھ ماہ میں زیادہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ہم شام کی لڑائی کی شدت میں کمی لانے اور ایک ایسے سیاسی حل کی کوشش کر رہے ہیں جو شامی عوام کی مرضی کا احترام کرتا ہو۔ اپنے شہریوں – حتی کہ معصوم بچوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سمیت، بشار الاسد کی مجرمانہ حکومت کی کاروائیوں نے ہر مہذب انسان کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اگر ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے پھیلاؤ کی اجازت دیدی جاتی ہے تو کوئی معاشرہ بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے امریکہ نے اُس ہوائی اڈے پر میزائل داغے تھے جہاں سے یہ [کیمیائی حملہ] کیا گیا تھا۔

ہم اقوام متحدہ کے اُن اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہیں جو داعش سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں انسانی بنیادوں پر انتہائی اہم امداد مہیا کر رہے ہیں۔ اور ہم خاص طور پر اردن، ترکی اور لبنان کا بھی شامی لڑائی کی وجہ سے آنے والے پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے میں اُن کے کردار پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

امریکی قوم ایک رحمدل قوم ہے اور یہ اس کوشش میں مدد کرنے پر کئی ارب ڈالر خرچ کر چکی ہے۔ ہم پناہ گزینوں کی آبادکاری کے ایک ایسے طریقے کے لیے کوشاں ہیں جو ان لوگوں کی مدد کے لیے اختیار کیا جائے گا جن کے ساتھ خوفناک سلوک روا رکھا گیا ہے۔ اس طریقے کے تحت پناہ گزین بالآخر اپنے وطن ممالک لوٹنے کے قابل ہو جائیں گے اور تعمیرِنو کے عمل کا حصہ بن سکیں گے۔

امریکہ میں ایک پناہ گزین کو دوبارہ آباد کرنے کی لاگت میں ہم اُن کے اپنے علاقوں میں 10 سے زیادہ لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ ہمارے دلوں میں موجود بھلائی کی بدولت ہم میزبانی کرنے والے خطے کے ممالک کی مالی اعانت کرتے ہیں۔ ہم جی 20 ممالک کے اُن حالیہ سمجھوتوں کی حمایت کرتے ہیں جن کے تحت اُن [پناہ گزینوں] کے اپنے وطنوں کے  جتنا قریب ممکن ہو سکے اتنے قریب اُن کی میزبانی کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ ایک محفوظ، ذمہ دار اور انسانی ہمدردی پر مبنی سوچ ہے۔

کئی عشروں تک امریکہ نے مغربی کرہ ارض میں ہجرت کی مشکلات سے نمٹا ہے۔ ہم نے سیکھا ہے کہ طویل عرصے کے دوران بےقابو ہجرت، بھیجنے والے اور وصول کرنے والے دونوں ممالک کے لیے غیرمنصفانہ ہے۔

اس سے بھیجنے والے ممالک پر اُن سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کے لیے اندرونِ ملک دباؤ میں کمی آتی ہے جن کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اصلاحات کے نفاذ کی حوصلہ افزائی کے لیے درکار انسانی سرمائے سے محروم ہو جاتے ہیں۔

وصول کرنے والے ممالک میں بے قابو ہجرت کی زیادہ تر قیمت کم آمدنی والے اُن شہریوں کو برداشت کرنا پڑتی ہے جن کے خدشات میڈیا اور حکومت عموماً نظر انداز کر دیتے ہیں۔

میں اقوام متحدہ کے اُس کام کو سلام پیش کرتا ہوں جس میں اُن مسائل سے نمٹنے کی کوشش کی گئی ہے جو لوگوں کے اپنے گھروں سے بھاگنے کی وجہ بنتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور افریقی یونین نے امن کے قیام کے مشنوں کی قیادت کر کے افریقہ میں ہونے والے تصادموں میں استحکام لانے کے لیے بیش قیمت خدمات انجام دیں ہیں۔ قحط کی روک تھام اور جنوبی سوڈان، صومالیہ، شمالی نائیجیریا اور یمن میں امدادی سامان سمیت، امریکہ دنیا بھر میں انسانی بنیادوں پر مہیا کی جانے والے امداد دینے والے ممالک میں سرِ فہرست ہے۔

ہم نے دنیا بھر میں بہتر صحت اور مواقعوں کے لیے پیپ فار، جس کے تحت ایڈز کے علاج کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے؛ صدر کے ملیریا پروگرام؛ صحت کی سلامتی کا عالمی ایجنڈا؛ جدید غلامی کو ختم کرنے کے لیے عالمی فنڈ؛ اور خواتین کاروباری نظامت کاروں کے اُس پروگرام جیسے پروگراموں میں پیسہ لگایا ہے جو خوااتین کو دنیا بھر میں با اختیار بناتا ہے۔

ہم شکریہ ادا کرتے ہیں  — (تالیاں) –ہم سیکرٹری جنرل کا بھی یہ تسلیم کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اگر اقوام متحدہ کو حاکمیت، سلامتی اور خوشحالی کو درپیش خطرات کا سامنا کرنے کے لیے ایک موثر شراکت دار بننا ہے تو اسے لازمی طور پر اصلاحات لانا ہوں گی۔ اکثر و بیشتر اس تنظیم کی توجہ نتائج پر نہیں بلکہ افسرشاہی اور لائحہ عمل پر مرکوز رہی ہے۔

بعض معاملات میں ایسی ریاستوں نے جو اس ادارے کے اعلٰی مقاصد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں انہی نظاموں کو یرغمال بنا لیا ہے جن کا کام اِن مقاصد کو فروغ دینا ہے۔ مثال کے طور پر، یہ اقوام متحدہ کے لیے ایک بہت بڑی شرمساری کی بات ہے کہ انتہائی ناپسندیدہ انسانی حقوق کے ریکارڈ کی حامل بعض حکومتیں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی ممبر ہیں۔

امریکہ اقوام متحدہ میں 193 ممالک میں سے ایک ملک ہے۔ مگر اس کے باوجود ہم اس [ادارے] کے بجٹ کا 22 فیصد بلکہ اس سے زیادہ ادا کرتے ہیں۔ درحقیقت لوگ جتنا سمجھتے ہیں ہم اس سے کہیں زیادہ ادا کرتے ہیں۔ امریکہ غیرمنصفانہ مالی بوجھ اٹھاتا ہے، مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ اگر یہ [اقوام متحدہ] حقیقی معنوں میں اپنے بیان کردہ تمام مقاصد بالخصوص امن کا مقصد حاصل کر لے تویہ سرمایہ کاری آسانی سے اس کی ایک اچھی قیمت ثابت کی جا سکتی ہے۔

دنیا کے بڑے بڑے حصوں میں اس وقت تصادم چل رہے ہیں اور درحقیقت کچھ تو جہنم کی جانب جا رہے ہیں۔ مگر اس کمرے میں موجود طاقتور لوگ، اقوام متحدہ کی راہنمائی اور سرپرستی میں بہت سے ظالم اور پیچیدہ مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔

امریکی عوام امید کرتے ہیں کہ عنقریب ہی ایک دن اقوام متحدہ دنیا بھر میں انسانی وقار اور آزادی کے سلسلے میں اور زیادہ جواب دہ اور اور موثر حامی بن سکتی ہے۔ اسی اثنا میں، کسی قوم پرغیر متناسب، فوجی اور مالی بوجھ نہیں پڑنا چاہیے۔ دنیا بھر کی اقوام کو اپنے اپنے خطوں میں محفوظ اور خوشحال معاشروں کے فروغ کے لیے زیادہ بڑے کردار ادا کرنا چاہیئیں۔

اسی لیے مغربی کرہ ارض میں امریکہ، کیوبا کی بدعنوان اور عدم استحکام پیدا کرنے والی حکومت کے خلاف کھڑا ہوا ہے اور کیوبا کے عوام کی آزادی میں رہنے کے پائیدار خواب کو قبول کیا ہے۔ میری انتظامیہ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ہم کیوبا پر عائد پابندیاں اس وقت تک نہیں اٹھائیں گے جب تک یہ حکومت بنیادی اصلاحات متعارف نہیں کراتی۔

ہم نے وینیزویلا میں مادورو کی سوشلسٹ حکومت پر سخت اور نپی تلی پابندیاں لگائی ہیں۔ یہ حکومت کسی زمانے میں پھلتی پھولتی اس قوم کو مکمل تباہی کے دہانے پر لے آئی ہے۔

نکولس مادورو کی سوشلسٹ حکومت نے اُس ملک کے اچھے لوگوں کو خوفناک درد اور مصائب سے دوچار کر دیا ہے۔ اس بدعنوان حکومت نے ایک خوشحال قوم پر ایک ایسا ناکام نظریہ مسلط کرکے اسے تباہ کرکے رکھ دیا ہے جس کو جہاں کہیں بھی آزمایا گیا ہے اس نے وہاں غربت اور مصائب پیدا کیے ہیں۔ معاملات کو مزید خراب کرتے ہوئے، مادورو نے اپنی تباہ کن حکمرانی کو برقرار رکھنے کی خاطر، منتخب شدہ نمائندوں سے اقتدار چرا کر اپنے لوگوں کی مخالفت کی ہے۔

وینیزویلا کے لوگ فاقوں کا شکار ہیں اور اُن کا ملک ٹوٹ رہا ہے۔ اُن کے جمہوری ادارے تباہ کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورت بالکل ناقابل قبول ہے اور ہم خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔

ایک ذمہ دار ہمسائے اور دوست کی حیثیت سے، ہمارا اور دوسرے تمام لوگوں کا ایک ہی مقصد ہے۔ یہ مقصد اُن کی آزادی دوبارہ حاصل کرنے میں، اُن کو اپنا ملک واپس لینے میں اور اُن کی جمہوریت کو بحال کرنے میں مدد کرنا ہے۔ میں اس کمرے میں موجود لیڈروں کا اِس حکومت کی مذمت کرنے اور وینیزویلا کے عوام کے لیے انتہائی اہم حمایت کرنے پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

امریکہ نے حکومت کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ اگر وینیزویلا کی حکومت وینیزویلا کے عوام پر اپنی مطلق العنان حکمرانی مسلط کرنے کے اپنے راستے پر گامزن رہتی ہے تو ہم مزید اقدامات اٹھانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

ہم خوش قسمت ہیں کہ آج یہاں پر جمع بہت سے لاطینی ممالک کے ساتھ ہمارے ناقابل یقین سطح کے مضبوط اور تعمیری تجارتی رشتے قائم ہیں۔ ہمارا اقتصادی بندھن ہماری سب قوموں اور ہمارے سب ہمسایوں کے لیے امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک انتہائی اہم بنیاد فراہم کرتا ہے۔

میں اُن سب ممالک سے جن کی آج یہاں نمائندگی ہے کہتا ہوں کہ اِس حقیقی بحران سے نمٹنے کے لیے اور زیادہ کام کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ہم وینیزویلا میں جمہوری آزادیوں کی مکمل بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ (تالیاں)

وینیزویلا میں یہ مسئلہ نہیں ہے کہ سوشلزم خراب طریقے سے نافذ کیا گیا ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ سوشلزم سچے دل سے نافذ کیا گیا ہے۔ (تالیاں) سوویت یونین سے لے کر وینیزویلا اور کیوبا تک جہاں کہیں بھی حقیقی سوشلزم یا کمیونزم اختیار کیا گیا وہاں یہ نظام دکھ اور تباہی اور ناکامی دے کر گیا ہے۔ وہ جو ان ناکام نظریات کے اصولوں کی تبلیغ کرتے ہیں وہ اِن ظالم نظاموں میں رہنے والے لوگوں کے مصائب کو جاری رکھنے کا باعث بنتے ہیں۔

امریکہ ہر اُس شخص کے ساتھ کھڑا ہے جو کسی بھی جابر حکومت میں رہ رہا ہے۔ حاکمیت کے لیے ہمارا احترام عمل کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ سب لوگ ایک ایسی حکومت کے مستحق ہیں جو اُن کی خوشحالی سمیت اُن کی سلامتی، اُن کے مفادات، اور اُن کی فلاح کے بارے میں فکرمند رہتی ہو۔

امریکہ میں، ہم خیر سگالی کی حامل تمام اقوام کے ساتھ مضبوط کاروباری اور تجارتی رشتوں کے لیے کوشاں رہتے ہیں مگر تجارت کے لیے لازم ہے کہ ایسا منصفانہ اور دوطرفہ بنیادوں پر ہو۔

ایک طویل عرصے تک، امریکی عوام کو بتایا گیا کہ بڑے بڑے کثیرملکی تجارتی معاہدے، ناقابل احتساب بین الاقوامی ٹربیونل اور طاقتور عالمی افسر شاہی اُن کی کامیابی کے فروغ کے بہترین ذرائع ہیں۔ مگر جب یہ وعدے وفا ہوئے تو لاکھوں ملازمتیں ختم اور ہزاروں فیکٹریاں غائب ہو گئیں۔ دوسروں نے نظام کے ساتھ کھیلا اور ضابطوں کو توڑا۔ امریکہ کی خوشحالی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے ہمارے عظیم درمیانے طبقے کو بھلا دیا گیا اور وہ پیچھے رہ گیا۔ مگر اب وہ بھلائے نہیں گئے اور نہ ہی انہیں کبھی بھی دوبارہ بھلایا جائے گا۔

گو کہ امریکہ دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون اور تجارت کے لیے کام کرتا رہے گا مگر ہم ہر حکومت کے اولین فرض کے ساتھ اپنے عزم کی تجدید کر رہے ہیں: یعنی اپنے شہریوں کی جانب سے عائد ہونے والا فرض۔ یہ بندھن امریکہ  اور ہر اُس ذمہ دار قوم کی طاقت کا منبع ہے جس کی آج یہاں نمائندگی کی جا رہی ہے۔

اگر ہمیں اس تنظیم کو درپیش مشکلات کا کامیابی کے ساتھ سامنا کرنے کی کوئی امید رکھنا ہے تو اس کا انحصار، جیسا کہ صدر ٹرومین نے 70 سال پہلے کہا تھا "اس کے ممبران کی آزاد طاقت پر ہے۔” اگر ہمیں مستقبل کے مواقعوں سے فائدہ اٹھانا ہے اور موجودہ خطرات پر مل کر قابو پانا ہے تو پھر طاقتور، خودمختار اور آزاد قوموں کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا – ایسی قومیں جن کی جڑیں اپنی تاریخوں میں پیوست اور نظریں اپنی منزلوں پر گڑی ہوں؛ ایسی قومیں جو دوست بنانے کے لیے اتحادیوں کی تلاش میں ہوں نہ کہ دشمنوں کو فتح کرنے کے چکر میں پڑی ہوں؛ اور اہم ترین بات یہ ہے کہ وہ محب وطنوں کے ملک ہوں، ایسے مردوں اور عورتوں کے وطن ہوں جو اپنے اپنے ملکوں، اپنے ہموطن شہریوں اور انسانی روح میں پائی جانے والی ہر بہترین چیز کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔

اُس عظیم فتح کی یاد تازہ کرتے ہوئے جس کے نتیجے میں اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی، ہمیں اُن ہیروز کو کبھی بھی نہیں بھولنا چاہیے جنہوں نے اس برائی کے خلاف جنگ لڑی اور اُن اقوام کے لیے بھی جنگ لڑی جن سے وہ محبت کرتے تھے۔

حب الوطنی کے نتیجے میں پولش لوگوں نے پولینڈ کو بچانے کے لیے اپنی جانیں دیں، فرانسیسیوں نے آزاد فرانس کے لیے جنگ کی اور برطانوی، برطانیہ کے لیے سینہ تان کر کھڑے رہے۔

اگر آج ہم اپنے آپ کو، اپنے دلوں کو، اور اپنے ذہنوں کو اپنی قوموں میں نہیں لگائیں گے، اگر ہم اپنے آپ کے لیے مضبوط خاندان، محفوظ کمیونٹیاں اور صحت مند معاشرے تعمیر نہیں کریں گے، تو ہمارے لیے [یہ کام] کوئی اور نہیں کرسکتا۔

ہم کسی اور کا انتظار نہیں کر سکتے یعنی دور دراز ممالک یا بہت دور بیٹھی ہوئی افسرشاہی – ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنی خوشحالی کی تعمیر کرنے، اپنے مستقبلوں کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے مسائل حل کرنے چاہیئیں۔ ورنہ ہم انحطاط، غلبے اور شکست کا شکار ہو جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے سامنے اور دنیا بھر کے اُن سب لوگوں کے سامنے جو اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے بہتر زندگیوں کی امید لیے ہوئے ہیں، آج حقیقی سوال یہ ہے: کیا ہم ابھی بھی محب وطن ہیں؟ کیا ہم اپنی اپنی قوموں کی خودمختاری کو تحفظ  دینے  اور اُن کے مستقبل کی ملکیت لینے کے لیے اُن سے کافی محبت کرتے ہیں؟ کیا ہم اُن کے مفادات کا دفاع کرنے، اُن کی ثقافتوں کو محفوظ  بنانے اور اُن کے لیے دنیا کے پُرامن ہونے کو یقینی بنانے کے لیے اُن کی کافی تکریم کرتے ہیں؟

امریکہ کے عظیم ترین محب وطنوں میں سے ایک، جان ایڈمز نے لکھا کہ امریکی انقلاب "جنگ کے آغاز سے پہلے ہی آ چکا تھا۔ انقلاب لوگوں کے ذہنوں اور دِلوں میں تھا۔”

یہی وہ لمحہ تھا جب امریکہ جاگ اٹھا، جب ہم نے اردگرد نظر دوڑائی اور جان لیا کہ ہم ایک قوم ہیں۔ ہمیں احساس ہوگیا کہ ہم کون ہیں، ہمیں کیا چیز عزیز ہے، اور ہم کس کا دفاع کرنے کے لیے اپنی جانیں دے دیں گے۔ امریکی کہانی اپنے اولین لمحات سے اس بات کی کہانی ہے کہ جب لوگ اپنے مستقبل کی ملکیت لے لیتے ہیں تو کیا کچھ ممکن ہو جاتا ہے۔

امریکہ دنیا کی تاریخ میں بھلائی کی عظیم ترین قوتوں میں سے ایک قوت چلا آ رہا ہے اور  حاکمیت، سلامتی اور سب کے لیے خوشحالی کا بدستورعظیم ترین دفاع کرنے والا ملک بھی ہے۔

اب ہم قوموں کی ایک عظیم بیداری، اُن کی روحوں، اُن کے تفاخر، اُن کے لوگوں اور اُن کی حب الوطنی کے احیاء کا کہہ رہے ہیں۔

تاریخ ہم سے پوچھ رہی ہے کہ آیا ہم اس کام کے اہل ہیں؟ ہمارا جواب ارادے کی تجدید، عزم کی دریافتِ نو، اور ایثار کی دوبارہ پیدائش ہوگا۔ ہمیں انسانیت کے دشمنوں کو شکست دینے اور زندگی کی صلاحیتوں کو استعمال میں لانے کی ضرورت ہے۔

ہماری امید ایک دنیا ہے اور وہ مایہ ناز دنیا ہے، ایسی آزاد اقوام جو اپنے فرائض کو پورا کرتی ہیں، دوستی کی تلاش میں رہتی ہیں، دوسروں کا احترام کرتی ہیں اور سب کے عظیم مفاد میں ایک مشترکہ مقصد تشکیل دیتی ہیں: یعنی اس حیرت انگیز کرہ ارض کے لوگوں کے لیے ایک باوقار اور پُرامن مستقبل۔

یہ اقوام متحدہ کا حقیقی تصور ہے جو کہ ہر قوم کی دیرینہ خواہش ہے اور وہ شدید ترین تڑپ ہے جو ہر مقدس روح میں بستی ہے۔

لہذا آئیں اسے اپنا مشن بنائیں، اور یہی دنیا کے نام ہمارا پیغام ہو: امن کے لیے، آزادی کے لیے، انصاف کے لیے، خاندان کے لیے، انسانیت کے لیے اور ہم سب کو بنانے والے قادر مطلق خدا کے لیے، ہم اکٹھے لڑیں گے، ہم اکٹھے قربانیاں دیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

شکریہ۔ خدا آپ پر فضل فرمائے۔ خدا دنیا کی تمام قوموں پر فضل فرمائے۔ اور خدا ریاستہائے متحدہ امریکہ پر فضل فرمائے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ (تالیاں)

ای ڈی ٹی کے مطابق صبح کے 10 بجکر 46 منٹ         اختتام

# #  #


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں