rss

وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کا فاکس نیوز کے بریٹ بیئر کو انٹرویو

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ

دفتر برائے ترجمان

برائے فوری اجرا

19 ستمبر 2017

نیویارک سٹی، نیویارک

سوال: آج رات ایک خصوصی رپورٹ کے لیے وائٹ ہاؤس سے براہ راست۔ اس ہفتے ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ کا مرکز: عالمی تعلقات۔ صدر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں۔ جیسا کہ آج صبح ہم بات کرتے رہے ہیں، وہ اس موقع پر اپنی ‘پہلے امریکہ’ کی پالیسی اور شمالی کوریا و ایران جنہیں انہوں نے بدی کی حکومتیں قرار دیا ہے نیز وینزویلا کا تذکرہ بھی کریں گے۔ آئیے اب ملک کے سب سے بڑے سفارت کار سے بات کرتے ہیں۔ نیویارک سے وزیرخارجہ ٹلرسن ہمارے ساتھ ہیں۔ جناب وزیر، یہاں آنے کا شکریہ۔

وزیر خارجہ ٹلرسن: بریٹ، آپ سے بات کر کے خوشی ہوئی۔

سوال: میں گفتگو کا آغاز روسیوں سے آپ کی ملاقات کے حوالے سے کرنا چاہوں گا۔ ان تعلقات کی کیا صورتحال ہے؟ آپ کی ملاقات کیسی رہی؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: بریٹ، میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے روسیوں کے ساتھ کئی سطحوں پر رابطے میں متعدد نکات تشکیل دیے ہیں۔ یقیناً ہمارے مابین اپنے سفارتخانوں کے حوالے سے چند اختلافات رہے ہیں اور اب ہم نے حالات کو بہتر بنا لیا ہے۔ تاہم میرے خیال میں اہم بات یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں بڑے مسائل کیا ہیں۔ ہم باہمی مفاد اور شام میں تعاون کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی توجہ شام میں داعش کو شکست دینے، خانہ جنگی سے بچنے کے لیے ملک کو مستحکم بنانے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے مطابق جنیوا مذاکرات پر مرکوز ہے۔

لہٰذا ہمارے بہت سے مشترکہ مقاصد ہیں۔ بعض اوقات ان مقاصد کے حصول کے لیے ہماری تدابیر ایک دوسرے سے مخٹلف ہوتی ہیں اور یقیناً ہمارے مفادات بھی مختلف ہیں۔ تاہم شام میں یہ دیکھنے کے لیے سنجیدہ نوعیت کا بہت سا کام جاری ہے کہ آیا ہم ان اختلافات کا حل نہیں ڈھونڈ سکتے۔ ہم نے یوکرائن کی صورتحال پر بات چیت کی جہاں ہم یہ دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس عمل کو آگے بڑھانا ممکن ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ عمل کئی سال سے ٹھہرا ہوا ہے۔ ہم آج بھی منسک معاہدے کے مقاصد کے حصول کے لیے پرعزم ہیں اور اس حوالے سے ہماری بات چیت جاری ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے مابین تزویراتی مسائل پر بھی بات چیت ہو رہی ہے اور ہم نے ابتدائی گفت و شنید ‘نیو سٹارٹ ٹریٹی’ اور ‘آئی این ایف’ کے حوالے سے شروع کی ہے۔ لہٰذا ہمارے مابین بہت سی بات چیت ہو رہی ہے۔

سوال: میں آپ سے جنرل اسمبلی میں آج صدر کی تقریر کے حوالے سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ اس تقریر پر بہت سا ردعمل آیا ہے، پارٹی میں بھی اس پر بہت کچھ کہا گیا ہے۔ بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ دلیرانہ اور براہ راست تقریر تھی اور دنیا کو یہ باتیں بتانے کی ضرورت تھی۔ ڈائن فائنسٹائن جیسے نمایاں ڈیموکریٹس نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘صدر ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کو تباہ کرنے کے حوالے سے بڑھک ماری گئی اور ہمیں درپیش بہت سے عالمگیر مسائل کے حل کے لیے ان کی جانب سے کوئی مثبت راہ عمل پیش نہ کیا جانا شدید طور سے مایوس کن ہے۔ وہ ڈرا دھمکا کر دنیا کو متحد کرنا چاہتے ہیں مگر حقیقت میں وہ امریکہ کو مزید تنہا کر رہے ہیں’آپ اس کے جواب میں کیا کہیں گے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میری رائے میں صدر کی تقریر غیرمعمولی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ اس تقریر کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی بات کا آغاز خودمختار ممالک کی ذمہ داری، خودمختار ملکوں کی جوابدہی سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کو اپنے عوام کی خودمختاری اور ذمہ داری کا خیال رکھنا چاہیے اور اپنے عوام کو پہلی ترجیح دینی چاہیے۔ یہ بات ان کی ‘پہلے امریکہ’ والی سوچ سے ہم آہنگ ہے اور وہ واقعتاً یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکی عوام پہلی ترجیح ہیں۔ تاہم وہ دنیا بھر کے دیگر ممالک کے لیے یہ بات کر رہے تھے کہ وہ بھی حکمرانی کا یہی طریقہ اختیار کریں جو کہ امن و استحکام کی جانب لے جاتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بہت سے اتحادیوں اور دوستوں نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ کامیاب حکمرانی کے لیے واقعتاً ایک پرجوش بات کر رہے تھے۔

انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام ایک مضبوط چیلنج پر کیا اور سبھی سے کہا کہ انہیں اقوام متحدہ میں بہت کچھ کرنے کی صلاحیت دکھائی دیتی ہے تاہم ایسا نہیں لگتا کہ کبھی اس نے اپنی صلاحیتوں سے پورا کام لیا ہو اور یہی وہ جگہ ہے جہاں دنیا کے بعض انتہائی مشکل اور پریشان کن مسائل باہم مل جل کر حل کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم میں سمجھتا ہوں کہ تقریر کے وسطی حصے میں وہ جمہوریتوں اور دنیا بھر کی حکومتوں کو شمالی کوریا کے خطرناک طرز عمل سے لے کر ایران کی تخریبی سرگرمیوں اور وینزویلا میں زوال پذیر جمہوریت تک سے لاحق خطرات کی بات کر رہے تھے، یہ افسوسناک انسانی المیہ ہم سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ہمارے اپنے کرے میں اس قدر کامیاب جمہوریت کا یوں زوال افسوس کی بات ہے۔ چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ صدر نے بہت اچھا کام کیا اور جیسا کہ میں نے کہا ہے انہوں نے ابتدا میں بنیادی تصورات بیان کیے اور آخر میں پھر یہی بات کی۔ درمیان میں انہوں نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر حقیقی مسائل کی نشاندہی کی۔

سوال: شمالی کوریا کے خلاف اقوام متحدہ کی پہلی پابندیوں کے بعد کی گئی تمام باتوں کے باوجود مختصر فاصلے پر مار کرنے والے تین، درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ایک اور 14 ستمبر کو بھی درمیانے درجے تک مار کرنے والے ایک میزائل کا تجربہ کیا گیا اور پھر ایک جوہری تجربہ ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کم جانگ ان تک نہیں پہنچ رہا۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: بریٹ، یہ نہایت پریشان کن صورتحال ہے۔ یہ صرف ہمارے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہے کہ ہمارے سامنے کم جانگ ان اپنی ٹیکنالوجی اور اپنی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ صدر نے کم جانگ ان کے نام پیغام میں اپنے ساتھ پوری عالمی برادری کو شامل کر کے بہت اچھا کام کیا۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ ہم اسے صرف عالمگیر مفاد کے منافی ہی نہیں سمجھتے بلکہ یہ تمام سرگرمیاں طویل مدتی تناظر میں ان کے اپنے مفاد میں بھی نہیں ہیں۔ وہ جس راستے پر چل رہے ہیں وہ انہیں مزید تنہائی کی جانب لے جائے گا۔

ہم نے کڑی ترین پابندیاں عائد کی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے اثرات کی بابت ابتدائی نوعیت کے اشارے سامنے آ گئے ہیں۔ تاہم حتمی طور پر ہمیں خطے میں شمالی کوریا کے ہمسایوں کی معاونت درکار ہو گی۔ ہمیں جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ اپنے سہ طرفی سکیورٹی اہتمام کی بھرپور مدد حاصل ہے مگر ہم چین اور روس کے ساتھ بھی مسلسل بات چیت کر رہے ہیں کیونکہ وہ عالمی برادری کا پیغام پہنچانے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ شمالی کوریا کو یہ باور کرانے میں مدد دے سکتے ہیں کہ ہتھیاروں کے اس پروگرام کو واقعتاً بند ہونا ہے اور ہمیں شمالی کوریا کے مستقبل اور جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا موقع حاصل کرنا ہے۔

سوال: جناب وزیر، تقریر میں ایران کو دق کیا گیا اور یہ امکان دکھائی دیا کہ ایرانی جوہری معاہدے کی تجدید نہیں ہو سکتی یا اس میں کوئی تبدیلی آ سکتی ہے۔ آپ کی حتمی تاریخ 15 اکتوبر ہے۔ کیا آپ اس پر روشنی ڈال سکتے ہیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: بریٹ، میں سمجھتا ہوں کہ ایرانی جوہری معاہدے میں موجود خامیوں سے ہم سب آگاہ ہیں اور سب سے نمایاں خامی یہ ہے کہ مقررہ مدت کے بعد یہ معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ ہم نے ابھی شمالی کوریا کے بارے میں بات کی اور بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے شمالی کوریا کے حوالے سے بھی یہی کچھ کیا تھا۔ انہوں نے بس مختصرمدتی معاہدے کیے اور جواباً باآسانی دھوکہ کھایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے صدر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ خاطرخواہ حد تک سخت معاہدہ نہیں ہے۔ اس معاہدے سے ایرانی جوہری پروگرام کی رفتار سست کرنے میں مدد نہیں ملتی اور اس معاہدے کے تحت ان سے جوابدہی بہت مشکل ہے۔ مگر اہم ترین بات یہ ہے کہ ایک دن اس معاہدے نے ختم ہو جانا ہے چنانچہ صورتحال یہ ہے کہ ہم ابھی سے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ دوبارہ کب جوہری ہتھیار بنانا شروع کر دیں گے۔

صدر واقعتاً اس معاہدے میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ وہ اس پر دوبارہ گفت وشنید کے خواہش مند ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے ہمیں اپنے یورپی اور دوسرے اتحادیوں کی معاونت درکار ہے تاکہ ایران بھی یہ سمجھ جائے کہ اس معاہدے پر نظرثانی ہونا ہے۔

سوال: مگر آپ جانتے ہیں کہ ان ممالک کی جانب سے کچھ ایسے پیغامات سامنے آئے ہیں کہ وہ اس معاہدے پر دوبارہ بات چیت میں دلچسپی نہیں رکھتے اور ایران کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ اگر اس معاہدے پر دوبارہ بات چیت یا اس میں تبدیلی کی کوئی کوشش ہوئی تو پھر وہ اسے پھاڑ ڈالیں گے اور معاہدہ نہیں رہے گا۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: اگر ایران اسے پھاڑ ڈالتا ہے اور معاہدے سے نکل جاتا ہے تو پھر معاہدے کی شرائط کی رو سے امریکی ویورپی تمام پابندیاں دوبارہ لاگو ہو جائیں گی۔ چنانچہ ہم دیکھیں گے کہ وہ کون سی راہ اختیار کرتے ہیں۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ صدر آج ایک اور معاملے پر روشنی ڈال رہے تھے اور وہ یہ کہ ہم نے ماضی میں بھی اس پر بات کی ہے کہ خطے کو لاحق ایرانی خطرہ کہیں بڑا ہے اور محض جوہری معاہدے سے اس کا سدباب ممکن نہیں۔ سلامتی اور خطرے کے زاویہ نظر سے ایران کے ساتھ ہمارا معاملہ اس سے کہیں وسیع تر ہے۔ ہم یمن اور شام میں ایران کی تخریبی سرگرمیوں کا سدباب شروع کر رہے ہیں۔

صدر نے آج واضح کیا کہ اس معاہدے کے تحت، اگر آپ کہنا چاہیں کہ اس معاہدے کی روح کے تحت دیکھا جائے اور معاہدے کے تمہیدی الفاظ پر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ایران سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ ازسرنو یکجا ہو جائے گا۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ درحقیقت ایران نے خطے میں اپنی تخریبی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے اور ہمیں اس صورتحال سے نمٹنا ہے خواہ ہم اس سے جوہری معاہدے پر ازسرنو گفت وشنید کے ذریعے نمٹیں یا کوئی اور راہ اختیار کریں۔

سوال: جلدی سے دو باتیں کہنا چاہوں گا۔ میں اپنی وضاحت کے لیے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کہا آج شب اختتام پر ہمارا ایک مقصد ہے، کیا وہ مقصد ایرانی جوہری معاہدے پر ازسرنو بات چیت ہو گا؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: دیکھیے، اگر ہم ایرانی جوہری معاہدے پر کاربند رہتے ہیں تو اس میں تبدیلیاں درکار ہوں گی۔ اس معاہدے کی مقررہ مدت مستقبل کے حوالےسے کوئی معقول راہ قرار نہیں دی جا سکتی۔ یہ وقت گزاری اور مستقبل کی ذمہ داری کسی اور پر ڈالنے کے مترادف ہے۔ صدر نے سنجیدگی سے یہ ذمہ داری اٹھائی ہے اور وہ اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے لیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اس مسئلے کا بہترین حل نکالنے کے لیے نہایت احتیاط سے غوروخوض کر رہے ہیں۔

سوال: جناب وزیر، آپ نے نیویارک میں اپنی مصروفیات سے ہمارے لیے وقت نکالا جس پر ہم آپ کے شکرگزار ہیں۔ آپ جب بھی یہاں تشریف لائیں آپ کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: شکریہ بریٹ۔

# # #


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں