rss

برائن ہوک، سیاسی منصوبہ بندی کا ڈائریکٹر، وزارت خارجہ

Français Français, English English, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ

دفتر برائے ترجمان

برائے فوری اجرا

21 ستمبر 2017

ریکارڈ پر ہونے والی بریفنگ

شہرِ نیویارک، نیویارک ریاست

مسٹر ہوک: میرے خیال میں سیکریٹری کی مشترکہ کمیشن میں ہونےوالی شرکت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک ہائی لائٹ تھی کیونکہ پہلی بار وزارتی سطح پر سیکریٹری کو ایران جوہری معاہدہ کے دستخط کنندگان کے ساتھ ملاقات کرنے اور ایرانی حکومت کی طرف سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کے خلاف پیش آنے والے جملہ خطرے کو واضح طور پر بیان کرنے کا موقع ملا۔

انہوں نے ایرانی حکومت کی غیر معمولی سرگرمیوں کی مکمل سپیکٹرم کو بیان کیا، کیونکہ وہ جوہری دھماکے سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ وزارتی سطح پر اس عمل کا ہونا اہم تھا کیونکہ گزشتہ کئی سالوں میں ہم نے ایران کے لئے کوئی مربوط حکمت عملی نہیں رکھی اور ایران کا جوہری معاہدہ ایران کی حکمت عملی کا ایک متبادل بن گیا کیونکہ اگر آپ ایران کی سرگرمیوں کی تمام رینج کو دیکھ لیں جو امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہیں تو آپ کو نظر آٗٴئے گا کہ جوہری پہلو اس کا محض ایک حصہ ہے۔  اس کا ایک پہلو میزائل ہے۔  دہشت گردی کے لئے ان کی مادی اور مالی امداد بھی ہے، انتہا پسندی کے لئے ان کی حمایت، انہوں نے جو اسد کی حکومت کی حمایت اور شام کے عوام کے خلاف ظلم و بربریت کیا تھا وہ بھی ہے، ان کی اسرائیل کے خلاف مسلسل اور دائمی دشمنی، ان کی طرف سے نیویگیشن کی آزادی کو لاحق مسلسل خطرہ، سائبر حملے، ان کا انسانی حقوق کا انتہائی المناک ریکارڈ، اور غیر ملکیوں کی صوابدیدی گرفتاریاں ۔  سیکرٹیری مشترکہ کمیشن کے ارکان کے ساتھ ان کی سرگرمیوں کی مکمل سپیکٹرم کے بارے میں بات چیت کرنا چاہتے تھے، اور ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ ایران کے جوہری معاہدے کی روح کے عین مطابق ہے۔

سوال: کیا میں اس کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کر سکتا ہوں؟

مسٹر گرینن: میشیل کیلیمن، ان پی آر سے۔

سوال: کیا انہوں نے خاص طور پر گرفتاریوں کا مسئلہ اٹھایا، یعنی نمازیوں کا ؟ اور کیا دوسروں نے ان میں سے کسی بات کو اٹھایا؟ کیونکہ کچھ برطانوی افراد بھی ہیں، ہے نا؟

مسٹر ہُک: صدر کی تقریر میں انہوں نے غیر ملکیوں کی حراست کے بارے میں بات کی۔ مگر مشترکہ کمیشن کو سیکرٹیری نے کیا بتایا اس کا ٹرانسکرپٹ میرے سامنے نہیں۔ انہوں نے مشترکہ کمشنر کے ارکان کو وضاحت کی کہ ہم ایران کی سرگرمیوں کے مکمل سپیکٹرم کو نظر انداز نہیں سکتے، اور انہوں نے ارکان کی توجہ اس وسیع خطرے کی طرف دلائی جو ایرانی حکومت کی جانب سے امن و سلامتی کو درپیش ہے۔

مسٹر گرینن: الیس لابو، سی ان ان۔

سوال: مجھے لگتا ہے۔۔۔میری تصیح کیجئے گا اگر میں غلطی پر ہوں، لیکن جس طرف یہ معاملہ جاتا ہوا نظر آ رہا ہے ان کی وزراء کے ساتھ کی گئی گفتگو سے اور سفیر ہیلی نے آج جو کہا، کمیشن کی توجہ اسی بات پر فوکس کرانے کی ایک ایسی کوشش کی جارہی ہے، جیسا کہ آپ نے بھی بتایا، جسے کہ شاید ۔۔۔ معاہدے سے باہر نکلنے کے لئے باہمی تعلق کی ضرورت نہیں۔ اس وقت مجھے پتہ ہے کہ آپ اس معاہدے کی روح کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔  اس معاہدے کا مقصد ان میں سے کچھ بھی ایسا کرنا نہیں تھا میں جانتا ہوں کہ آپ چاہتے ہیں۔۔۔ پرانی انتظامیہ ان چیزوں کو اس معاہدے میں شامل کرن چاہتی تھی  لیکن ان معاملات کو معاہدے میں شامل نہیں کر سکی۔  امید یہ تھی کہ وقت کے ساتھ ساتھ ایران کا رویہ بہتر ہوگا۔ لیکن سب نے ان محدود ایٹمی چیزوں پر دستخط کیے ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ اتحادی ۔۔۔ اور آپ کے ساتھی ان  چیزوں میں پڑنا چاہتے ہیں ، مگر یہ معاہدہ بھی رکھنا چاہتے ہیں۔  لہذا آپ اس موضوع کے بارے میں بات کر سکتے ہیں کہ یہ کیسے وسیع پیمانے پر بات چیت میں تبدیل ہو رہا ہے، لیکن ان حدود میں رہتے ہوئے کہ « ایٹمی معاہدے کو ختم نہ کریں، لیکن ان دوسری پیرایوں میں ایران پر دباؤ بھی بڑھائیں» ؟

مسٹر ہُک: JCPOA کا مبینہ مقصد «علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی» میں حصہ دینا ہے۔ اور جب آپ معاہدے پر دستخط کئے جانے کے بعد ایران کے رویے کو دیکھتے ہیں تو وہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی میں حصہ نہیں دے رہے ہیں. اور یہ وہ پیغام ہے جسے سیکریٹری نے مشترکہ کمیشن کی ملاقات میں پیش کیا- اور پچھلی انتظامیہ نے ان سرگرمیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا اور معاہدے کو خطرے میں نہ ڈالنے کی خاطر ان کی سرگرمیوں کو ڈاؤن پلے کر دیا ۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ ایک غلطی تھی جس نے امریکی مفادات اور ہمارے شراکت داروں اور اتحادیوں کے مفادات کو بھی خطرے میں ڈال دیا-  اور اسی لئے اب ہم اتحادیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں تا کہ ہماری نظر میں JCPOA کی جو کمزوریاں ہیں ان کے لئے ایک حل تلاش کیا جا سکے اور اس کے علاوہ ان تمام بقیہ کارروائیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا ہے جن کا امن و سلامتی میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

سوال: لیکن آپ بھی۔۔۔ صرف اس بات پر ایک چھوٹی سا فالو اپ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ یہ بھی نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں کہ خود سیکرٹیری ٹیلرسن، IAEA، اور تمام شراکت داروں نے بھی کہا ہے کہ وہ معاہدے کے ایٹمی پہلوؤں کی تعمیل کر رہے ہیں، آپ اسے مکمل طور پہ نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔

مسٹر ہُک: ایران ٹاکٹیکل طور پر تعمیل میں ہے۔

سوال: ٹاکٹیکل طور پر تعمیل؟

مسٹر ہُک: ٹاکٹیکل طور پر۔ ٹاکٹیکل طور پر JCPOA کے تعمیل میں ہے۔

سوال: کیا یہ۔۔۔ یہ بظاہر نیا «بز ورڈ» ہے، ایسا لگتا ہے۔

مسٹر گرینن: نیک وادھامس، جو بلوم برگ خبر ایجنسی کے ساتھ ہے۔

سوال: کیا میں۔۔۔ میرے پاس صرف دو سوال ہیں۔ ایک اس بارے میں ہے کہ۔۔میرا مطلب ہے کہ ۔۔۔۔واضح نظر آتا ہے ۔۔۔اس کے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ لوگ اس معاہدے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس سے باہر نکلنے کی کوشش ایک بے وقوفی ہو گی کیونکہ آپ ان تمام سائٹس کی نگرانی سے محروم ہوجائیں گے جہاں IAEA کی رسائی ہے۔ تو ایسی صورتحال میں اچانک ایران کی سرگرمیوں پر ایک پردہ ڈالنے والی بات ہو گی –  لہذا ان دیگر غیر فعال سرگرمیوں کے باوجود، آپ ایک بہت خطرناک سرگرمی پر اپنی نگرانی کھو بیٹھیں گے ، جو کم از کم اسی وقت پھر بھی کنٹرول میں ہے۔ باہر سے دیکھنے سے لگتا ہے کہ جوہری معاہدے سے باہر نکلنے سے کوئی اور فائدہ نہیں ملے گا جو اس کے اندر رہنے سے ملے گا  تو کیا آپ جوہری معاہدے کے خلاف ایسا سخت رویہ برتنے وضاحت کر سکتے ہیں؟

اور پھر دوسرا سوال، صرف شمالی کوریا پر: کیا آپ اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ صدر نے اس صبح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین سے اس اقدام کے بارے میں بات کی ہے؟ کیا یہ حوالہ تھا جو انہوں نے بینکوں کو نافذ کرنے کے بارے میں بیان کیا تھا۔۔۔؟  یعنی آج ہم سب ایک طرح سے ایک بھاگ دوڑ میں لگے ہوئے تھے اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ جب انہوں نے کہا کہ انہوں نے چین کی طرف یہ مثبت قدم دیکھا ہے۔  اس کا مطلب واضح نہیں تھا.

مسٹر ہُک: پہلا سوال، نک، ہم JCPOA کو نافذ کرنے کے لئے IAEA کے کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ اعتراف کرتے ہیں کہ معائنے کا نظام اور مضبوط ہو سکتا تھا۔  اور یہ معاہدہ اصل میں ہمیں کچھ کم دیتا ہے۔۔۔ ہمیں یقیناً کچھ علم دیتا ہے، لیکن ہمارے خیال میں ہمیں انسپکشن اور تصدیق کے سلسلے میں مزید  آگاہی دے سکتا تھا۔

سوال: پھر۔۔۔ لیکن پھر کیا کریں گے آپ؟ یعنی شاباش کہیں، ٹھیک ہے، ہاں معاہدہ برا ہے ہمیں پتا ہے، لیکن ہمیں ایک بہتر چیز کیسے مل سکتی ہے؟

مسٹر ہُک: دراصل مذاکرات اسی بارے میں ہیں۔ ہم یقین نہیں رکھتے۔۔۔ ہم نہیں لگتا یہ معاہدہ اچھی طرح سے بات چیت کے تحت طے کیا گیا ہے۔  ہم سوچتے ہیں کہ معاہدے کے معاملات کے دوران ہمارے بہت سے یورپی اتحادیوں نے یہ اشارہ کیا کہ وہ سوچتے ہیں کہ اس میں کمزوریاں تھیں. اور جیسا کہ ہم اس ہفتے کے دوران دوسرے ممالک کے ساتھ ایران کے معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہیں، ایسے حصوں کے بارے میں آگاہی ہے جنہیں مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کے بہت سے طریقے ہیں.

سوال: [غیر واضح]

سوال: پھر شمالی کوریا کا مسئلہ؟

مسٹر گرینن: ماٹ لی، اے پی سے۔

سوال: میں ایک کے بارے میں جانتا ہوں۔

سوال: آپ صرف شمالی کوریا کے مسائل پر جواب دے سکتے ہیں؟

مسٹر گرینن: چین کے متعلق [غیر واضح]

سوال: جو چین سے متعلق ہے ۔۔۔ جس کا حوالہ صدر نے دیا تھا

مسٹر ہُک: وہ بیان میں نے نہیں دیکھا۔

سوال: کیا آپ ؟

مسٹر ہُک: ابھی تک میں نے اس کو نہیں دیکھا۔

سوال: کیا میں اس بات پر فالو اپ کر سکتا ہوں؟

سوال: کیا یہ اس سے زیادہ ہے۔۔۔ آپ کہتے ہیں، بہت سے یورپی اتحادیوں نے۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ داستان ہے جو پیش آٗئی ہے … انتظامیہ میں عام گفتگو میں آیا ہے، کہ بعض یورپیوں کی یہ بڑی مخالفت تھی. مجھے فرانس سے شکایات سے آگاہی ہے، اور اس سے زیادہ کچھ اور نہیں. اور کون سی شکایتیں آ رہی ہیں؟

مسٹر ہُک: میں نے کبھی کسی بھی نہیں سنا جو کہتا ہے کہ JCPOA پرفیکٹ ہے۔

سوال: نہیں، کبھی بھی کسی نے ایسا نہیں کہا۔

سوال: امریکہ نے بھی نہیں؟

سوال: سیکرٹیری کیری نے بھی ایسا کبھی نہیں کہا۔

مسٹر ہُک: اور اسی طرح۔۔۔ جس کے دوران۔۔۔ مجھے یاد ہے، مذاکرات کے دوران ہونے والی بحث کے بعد، یہ بات ہوئی… ہم نے سنا تھا، میرا مطلب ہے، مجھے لگتا ہے کہ ان میں سے کچھ مختلف ممالک کی طرف سے رپورٹ کیا گیا تھا جو معاہدے میں شامل میں جماعتیں تھے۔۔۔ ان چیزوں کے بارے میں جو وہ اس معاہدے سے باہر نکلنے کے لئے دیکھ رہے تھے جو انہیں نہیں مل سکیں ۔ اور اسی طرح وہ کچھ حقائق ہیں، جو وہ حاصل کرنے کے قابل نہ تھے. اور اس بات میں کچھ تبدیلی نہیں ہوئی ہے. ہمیں لگتا ہے کہ وہاں طریقے ہیں، بہت سے طریقے ہیں، جس کے ذریعے کمزوریوں پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔  یا میں یہ کہوں گا کہ بہت سے طریقے ہیں، مجھے لگتا ہے، جس سے یقین دہانی ہو سکے کہ ایران ایک ایٹمی ریاست کبھی نہ بنے.

سوال: پھر بھی صرف۔۔۔

مسٹر ہُک: JCPOA ایک تجویز ہے، ایک وسیلہ ہے، اس کو حاصل کرنے کی کوشش ہے. JCPOA سے پہلے، ہمارے پاس پابندیوں کا ایک نظام تھا. اور اقوام متحدہ سے پہلے، ہمارے پاس IAEA تھا. اور جب آپ اسی لائف سائکل کو دیکھتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ IAEA نے معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو تجویز کیا ہے. مجھے لگتا ہے کہ یہ بات 2005 یا 2006 میں ہوئی. اور انہوں نے کہا کہ ہم اس کو ممکنہ کارروائی کے لئے سیکورٹی کونسل کوریفیر کر رہے ہیں، کیونکہ ہم اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ وہ این پی ٹی کے ایک رکن کے طور پر تعمیل میں ہیں. اور اس کے بعد بش اور اوباما کے انتظامیہ کے دوران پابندیوں کی ایک قراردادوں کا سلسلہ شروع ہوا. اور یہ اس بات کا یقین کرنے کا ایک طریقہ تھا کہ ایران ایک ایٹمی ریاست نہ بن جائے. مگر اس کو حاصل کرنے کے دوسرے طریقے ہیں. JCPOA اس میں سے ایک طریقہ ہے. میرے کہنے کا مطلب صرف یہ ہے.

مسٹر گرینن: مارگریٹ برینان سے سنیں اس بات پر۔

سوال: شکریہ۔

مسٹر گرینن: سی بی اس۔

سوال: ٹھیک ہے۔ کس کے بارے میں … ظریف سے کیا بات چیت کی تھی؟ یہ پہلی مرتبہ تھا جب دونوں آدمی، کم از کم جہاں تک ہمیں معلوم ہے، ایک دوسرے کے ساتھ اسی کمرے میں موجود تھے۔ وہاں کوئی براہ راست بات چیت ہو ئی؟ اور سیکرٹیری نے کیا۔۔۔ میرا مطلب ہے، سیکریٹری نے کیا کیا۔۔۔ آپ نے کہا کہ وہ اظہار کرنا چاہ رہے تھے، لیکن کیا وہ واقعی کسی ایسے شخص کو قائل کرنے کی کوشش میں واک آوٹ کر گئے جو اس معاہدے میں اس بات کے حامی تھے کہ دوسری بار مذاکرات کرنا ممکن ہے؟ کیونکہ اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اور یہ سب کے سب علی الاعلان کافی  سختی سے اس بات مُصر تھے کہ جو کچھ بھی موجود ہے ہمیں اس کی موجودگی کو برقرار رکھنا ہے، اور ہم باقی تمام دیگر باتوں کے بارے میں الگ سے مذاکرہ کر سکتے ہیں۔ کیا آپ نے کسی کو قائل کیا؟

سوال: مغرینی نے بتایا کہ آپ نے اس کو ڈسکس تک نہیں کیا۔

مسٹر ہُک: ڈسکس نہیں کیا ۔۔۔ کیا ڈسکس نہیں کیا؟

سوال: معاہدے کو دو بارہ کھولنا، مذاکرے کے لئے۔

مسٹر ہُک: مجھے میٹنگ کے بارے میں تھوڑا سا کہنا ہے۔ یہ … مشترکہ کمیشن کے تمام ارکان بیانات دیئے یہ سب ایک ترتیب میں گئے اور سب بیانات کے ساتھ تیار ہو کر آئے تھے۔ یہ ملاقات بہت حد تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی طرح چل رہی تھی، یہاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس نہیں تھا۔  یہ مشترکہ کمیشن کا اجلاس تھا. لیکن یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی طرح چل رہا تھا۔

سوال: پھر ظریف کے ساتھ کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی اسی موقع پر؟

مسٹر ہُک: نہیں۔

سوال: ۔۔۔ اور ٹیلرسن؟

مسٹر ہُک: نہیں۔

سوال: لیکن آپ اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ کیا کیا ہوا؟ کیا یہ صرف شکایات کا سامنا کرنا تھا، یا کیا یہ کہتے ہوئے وہ لوگ نکل گئے کہ وہ ایک دوسری ملاقات کریں گے؟ کیا فرانس نے کہا، «اوہ، میرا ارادہ بدل گیا»؟  کیا اس کمرے سے نکلنے کے بعد کسی کے نظریے میں کوئی تبدیلی آئی؟ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ کسی کی نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

مسٹر ہُک: مشترکہ کمیشن نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے مارجن پر ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا. اور سیکرٹیری ٹیلرسن وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرنے پر بہت خوش تھے، تاکہ وہ ایرانی ایٹمی معاہدے کے ارکان کے ساتھ ملاقات کرکے بہت سے سوالات کر سکیں  اور تحفظات ظاہر کرسکیں جو ایرانی حکومت کی جانب سے خطرات کے بارے میں ہیں اور وہ تحفظات بھی جو JCPOA کے بارے میں ہمارے پاس ہیں، ان پر بات کر سکیں۔

مسٹر گرینن: جان ہڈسن، بز فیڈ سے۔

سوال: ہائی. کیا آپ کو سیکرٹیری ٹیلرسن کے دوطرفہ اجلاس کے بارے میں تھوڑی سی بات کر سکتے ہیں، یا صرف ان کی لاوروف کے ساتھ ملاقات کے بارے میں؟ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ دو طرفہ معاملات، اسٹریٹجک استحکام کے مسائل، اور سخت مشکلات کے حل کے بارے میں کسی بھی قسم کی پیش رفت کی گئی ہے؟ اور لاوروف نے اس ہفتے ایک انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے اس تجویز کا اظہار کیا کہ اس ہاتھ دو اس ہاتھ لو کا خراب سلسلہ اب شاید اپنی آخری گھڑیوں پر ہے ۔ کیا آپ کی یہ توقع ہے یا آپ کو یہ لگتا ہے کہ رد عمل کا ایک اور دور چلے گا؟

مسٹر ہُک: سب سے پہلے۔۔۔ ہفتے کے آغاز میں ہونے والی دوطرفہ ملاقات کا مقصد شام میں ہونے والے تنازعات کی سطح میں کمی کے بارے میں تبادلہ خیال کرنا تھا۔  یہ اجلاس کا مرکز تھا: تنازعے کے حل کے لئے استعمال کیے جانے والے چینل کو کام کرنے والی حالت میں رکھنا۔  یہ اس میٹنگ کا فوکس تھا۔

مسٹر گرینن: ٹھیک ہے۔  فلیشیا، وال اسٹریٹ جرنل سے۔

سوال: لیکن سوری، دوسرا ایک۔۔۔ اس کے پاس ٤٥ منٹ کا وقت تھا۔ اور جن مسائل پر تبادلہ خیال کیا تھا اس بارے میں کچھ؟ کیونکہ انہوں نے کچھ وقت تنازعے کے حل کے عمل کے علاوہ دوسری چیزوں پر بات چیت میں بھی صرف کیا.

مسٹر ہُک: میں اس اجلاس کے پہلے حصے میں نہیں تھا، پہلے حصے کے کافی دورانیئے تک۔ اس لئے مجھے نہیں معلوم۔۔۔ اس ملاقات کی مکمل معلومات میرے پاس نہیں ہیں۔

مسٹر ہیمنڈ: میں سمجھتا ہوں کہ سیکرٹیری سے کل شام پریس کانفرنس میں پوچھا گیا کہ انہیں کیا لگتا ہے کہ یہ تعلقات کہاں جا رہے ہیں تو میں اسی موضوع کا حوالہ دوں گا آپ کو۔

مسٹر گرینن: ہم وال اسٹریٹ جرنل کے فلیشیا کی طرف جائیں گے، پھر سی این این کی نیکول کی طرف ۔

مسٹر ہُک: ہائی، فلیشیا۔

سوال: شکریہ، برائین۔ JCPOA کے موضوع پر ذرا واپس آنا چاہتا ہوں۔ سیکرٹیری نے فاکس ٹی وی پر کہا کہ اگر امریکہ معاہدے میں رہنا چاہے تو معاہدے میں کچھ تبدیلیوں کی ضرورت ہوگی۔ فرانس کم از کم سامنے تو آیا ہے  اور کہا ہے کہ وہ یہ تجویز دے رہے ہیں کہ امریکہ اور JCPOA کی دیگر جماعتیں ایران کے ساتھ بیلسٹک میزائل پر بات چیت شروع کریں۔ میں صرف یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ کیا یہ تجویز معاہدے میں تبدیلی کے مترادف ہو گی؟ جب سیکریٹری تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو کیا وہ اصل میں خود معاہدے کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں بات کر رہے ہیں؟ یا اصل معاہدے سے ہٹ کر اضافی انتظامات کو تبدیلی سمجھا جائے گا؟

مسٹر ہُک: JCPOA کارروائی کا ایک منصوبہ ہے۔ اس کو معاہدہ نہیں کہا جاتا ہے۔ یہ عمل کی منصوبہ بندی ہے، اور منصوبوں میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔

سوال: ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک سیمینٹیک ایشو ہے۔ اگر آپ یہاں یورپ اور ممکنہ طور پر روس اور چین کو معاہدے کو اور مضبوط بنانے کے لئے آن بورڈ لانے کی کوشش کر رہے ہیں تو کیوں معاہدے میں تبدیلی کرنے یا نہ کرنے پر اتنی زیادہ توجہ دے رہے ہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ امریکی لوگوں کے لئے ایک معمہ ہے ، مطلب آپ یہاں کیا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور آپ اس کو کس طرح شروع کریں گے؟

مسٹر ہُک: انتظامیہ کی ایران کی پالیسی پر ابھی نظر ثانی کی جا رہی ہے، اور اس دوران ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ ان ہی مسائل پرجو ہم نے JCPOA میں خامیوں کی صورت میں شناخت کئے ہیں کا حل تلاش کرنے کے لئے مہیا آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ ان خامیوں میں سن سیٹ، حالیہ پابندیوں کا ناکافی نفاذ جو پچھلے انتظامیہ کے دوران ہو رہا تھا، اور یہ بھی کہ ہم کس طرح حکومت کے خطرناک غیر ایٹمی رویے سے نبرد آزما ہوں گے ۔ ہم اتحادیوں کے ساتھ  اپنی مشاورت کے ابتدائی مراحل میں ہیں، اور یہ پہلا وزارتی اجلاس تھا جس میں سیکرٹیری عمل کی منصوبہ بندی کے دستخط کنندگان کے ساتھ حاضر تھے. اور اس معاملے میں اپنی موجودہ حیثیت کی روشنی میں، ہمیں کارروائی کی منصوبہ بندی کے ارکان کے ابتدائی وزیر خارجہ کے اجلاس سے کسی بھی طرح کی کامیابی کی توقع نہیں کرنی چاہئے۔

مسٹر گرینن: نیکول، سی این این سے۔

سوال: ہیلو. میں نکول گاویٹ ہوں۔ یہ تھوڑا فلیشیا کے سوال سے متعلق ہے۔  یقینی طور پر یورپ، روس، اور دیگر اراکین کی طرف سے ہم نے سنا، جو عوامی بیانات پر مبنی ہے، یہ یقینی طور پر ایسا نہیں لگتا ہے کہ کسی کو بھی قائل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں. میں سوچ رہا ہوں کہ کمرے میں آپ نے دوسری پارٹیوں سے ایسا کچھ سنا جو آپ کے نقطہ نظر پر اثر انداز ہو گا، یا ایک ایسا خیال کہ جو آپ کی نظر میں قابل غور ہو سکتا ہے، جب آپ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح وہ تبدیلی نظر آئے جو آپ بذات خود دیکھنا چاہتے ہیں؟

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ ایسا لگتا ہے۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیسے آپ کے اس بیان میں کہ نظر ثانی جاری ہے  اورصدر ٹرمپ کے بیان میں کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے ، تعلق قائم کروں؟  وہ کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں اگر آپ لوگ ابھی بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا کرنا چاہیئے؟

مسٹر ہُک: یہ ایسا ہے کیونکہ یہ فیصلہ جس کا صدر نے حوالہ دیا وہ INARA کی تصدیق سے متعلق ہے۔ یہ ہماری ایران کی پالیسی کا ایک حصہ ہے۔  یہ وہی ہے جو ہم لوگوں کو سمجھنے میں مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: ہم ایرانی حکومت کی بہت سی بد نیت سرگرمیوں کو نظر انداز کر کے صرف جوہری پروگرام پر میوپک طور پر فوکس نہیں کر سکتے ہیں۔  لہذا صدر نے INARA کے سلسلے میں فیصلہ کیا ہے۔ ہم ابھی بھی کام کر رہے ہیں۔۔۔ ایران کے رویے کے غیر ایٹمی پہلوؤں کو حل کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ پر.

سوال: کانر فینیگن۔۔۔

مسٹر گرینن: کانر فینیگن، اے بی سی نیوز سے۔

سوال: ۔۔۔ اے بی سی نیوز۔

مسٹر ہُک: اوہ، کیا میں ایک اور چیز کا ذکر کر سکتا ہوں؟ مشترکہ کمیشن کی میٹنگ۔۔۔ وہاں کوئی پیشکش نہیں کی گئی تھی۔ اور آپ نے کہا کہ۔۔۔

سوال: میں صرف اس بات پر غور کر رہا تھا کہ۔۔۔

مسٹر ہُک: نہیں، آپ نے جواب دیا کہ کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ کوئی نہیں تھی۔۔۔ امریکہ ایک پیشکش کے ساتھ اس ملاقات میں شریک نہیں ہوا تھا ۔  ہم JCPOA کی کمزوریوں کے بارے میں اپنے خدشات کا اشتراک کرنے کے ارادے کے ساتھ ملاقات کے لئے آئے تھے۔۔۔ اور امن و سلامتی کو درپیش وسیع ایرانی خطرات کے بارے میں۔

مسٹر گرینن: اوکے۔ کانت فینیگان، آے بی سی۔

سوال: اور صرف ان ہی کمزوریوں کے بارے میں، اگر آپ اس معاہدے کو مسترد کرتے ہیں کہ یا تو یہ ختم ہو جائے، اور امریکہ پر اس کے خاتمے کا الزام آ جائے، یا پھر امریکہ اس سے خارج کر دیا جائے، آپ کو ان کمزوریوں کو حل کرنے کا کتنا اختیار ہوگا؟

مسٹر ہُک: کیا اس کو دو بارہ کہہ سکتے ہیں۔۔۔ کیا۔۔۔؟

شرکت کنندہ: [مائیکروفون سے دور]

مسٹر ہُک: کیا آپ دو بارہ سوال بتا سکتے ہیں؟

سوال: اگر آپ اس معاہدے کی تصدیق نہیں کرتے ہیں اور پھر اس کے نتیجے میں امریکہ پر الزام لگایا جاتا ہے یا امریکہ اس معاہدے کا حصہ ہیں رہتا اور اسے اس [معاہدے] تک ویسی ہی رسائی نہیں رہتی، پھر آپ ان تمام دیگر ڈفیشنسیز کو اڈریس کرنے کے لئے جو آپ نے ابھی ایران اور دیگر سرگرمیوں کے بارے میں ذکر کیا تھا کیا لیویرج ہوگا آپ کے ہاتھ میں؟

مسٹر ہُک: مجھے لگتا ہے کہ۔۔۔ میں نے اس سوال میں تین شرائط گنی ہیں اس کا ایک جملے میں جواب دینا مشکل ہے۔ . INARA سرٹیفیکیشن ، JCPOA سے متعلق ہے مگر اس سے الگ ہے۔۔۔  میں پیشگی فیصلہ نہیں کروں گا جو صدر، یا … صدر نے جو فیصلہ کیا ہے۔  یہ وقت آنے پر ہم جان لیں گے۔ اس فیصلے کے باوجود، امریکہ نے ایک راستہ اختیار کیا ہے جو ایران کی نقصان دہ ایٹمی اور غیر ایٹمی سرگرمیوں کو حل کرنے سے متعلق ہے۔  اور ان میں شامل ہیں ۔۔۔عام طورپر آپ نے ایسی پابندیوں کو دیکھا ہے جو ہم نے اختیار کیں جب سے صدر منتخب ہوئے۔  اور ہمارے پاس، میں سوچتا ہوں کہ۔۔۔ ہم نے اپریل میں اپنی ایرانی پالیسی پر نظر ثانی شروع کیا اور ہم نے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کر دی ہیں ہے جبکہ ہم اس پالیسی کا جائزہ لے رہے ہیں۔  اس بات سے قطع نظر کہ تصدیق  ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، اس سے امن و سلامتی کے لئے خطرات کو حل کرنے کی ہماری صلاحیتیں متاثر نہیں ہوتیں۔

سوال: میں جلدی سے اس بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ۔۔۔ اگر وہ فیصلہ کریں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ خود بخود اس معاہدے سے باہر نکل رہے ہیں۔

سوال: یہاں دو باتیں ہیں۔ ایسا ہے کہ۔۔۔

سوال: نہیں، میں جانتا ہوں۔ یہ تو ایک پوری تصویر ہے۔  لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہی آپ کہہ رہے ہیں، کہ وہ INARA کو ڈیسرٹیفائی کر سکتے ہیں، لیکن جس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ۔۔۔ مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ معاہدے سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔

مسٹر ہُک: INARA کو ایک سرٹیفیکیشن کی ضرورت ہے، یا نہیں۔۔۔

سوال: درست ہے۔

مسٹر ہُک: ہر نوے دن پر

سوال: درست؟

مسٹر ہُک: جو کہ۔۔۔۔۔

سوال: جو کہ معاہدے سے ایک علیحدہ بات ہے۔

مسٹر ہُک: جو کہ ایران معاہدے سے ایک علیحدہ بات ہے۔

سوال: ہاں، درست۔

سوال: آپ جانتے ہیں کہ فیصلہ کیا ہے؟   اور اگر نہیں ، کیا آپ کو اندازہ نہیں لگا لینا چاہیئے؟

مسٹر ہیمنڈ: جواب دیتے وقت نظریں نہ ملائیے۔ [قہقہ]

سوال: کیا آپ کو علم نہیں ہونا چاہئے۔۔۔ ایک ایسی چیز کا علم جس کے تیار ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا؟ کیونکہ آپ کے پاس صرف تقریباً۔۔۔

سوال: کوئی فرق نہیں پڑتا۔ واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

مسٹر ہُک: کس بات سے فرق نہیں پڑتا؟

سوال: تصدیق کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سوال: بالکل۔۔۔۔ کیا؟ نہیں۔ میں آپ سے پوچھ رہا ہوں۔ کیا آپ کو پتہ ہے فیصلہ کیا ہوگا؟

مسٹر ہُک: میرا کوئی کامنٹ نہیں۔

سوال: کیا؟

مسٹر ہُک: میرا کوئی کامنٹ نہیں۔

مسٹر ہیمنڈ: ٹھیک۔ دو اور سوالات۔

مسٹر گرینن: ابیگیل۔ ابیگیل، این بی سی سے، اور کائیلی آٹوووڈ، سی بی ایس سے۔

مسٹر گرینن: ٹھیک ہے ہم ایبی سے شروع کریں گے اور پھر سی بی ایس کی کائیلی ۔  ایبی، این بی سی سے۔

سوال: اس طرح کے بہت سے سوالات موجود ہیں جن کا JCPOA کی دیگر جماعتوں نے جواب دیا۔ لیکن خاص طور پر ایران کے بارے میں، سوچ رہی تھی کہ اگر آپ کوئی اندازہ لگاتے ہیں ظریف کے جواب کے بارے میں جو انہوں نے سیکریٹری کے بیان کے بارے میں دیا؟  اور خاص طور پر، سیکرٹیری نے ایران کے معاہدے سے ہٹ کر پابندیوں کے نفاذ کے بارے میں بات کی، نقصان دہ سرگرمیوں کو حل کرنے اور یورپی شرکاء کو اس بارے میں ہم خیال بنانے کی۔  میں سوچ رہی تھی کہ کیا ایران کا اس تجویز کے بارے میں کوئی جواب تھا؟

مسٹر ہُک: کیا آپ اپنے پہلے سوال کو دو بارہ پوچھ سکتی ہیں ایبی؟

سوال: ٹھیک ہے۔  پہلا سوال یہ تھا کہ۔۔۔

مسٹر ہیمنڈ: ہم پہلا والا لیں گے پھر دوسرے کی طرف جائیں گے۔ ہم۔۔۔ ایبی، اس کے بعد لیں گے۔  یہ۔۔۔

سوال: اچھا۔  دونوں سوالات؟۔۔۔

مسٹر ہیمنڈ: صرف اپنا دوسرا سوال بتائیں۔ دوسرا سوال بعد میں اڈریس کریں گے۔

سوال: اچھا۔

مسٹر ہیمنڈ: ۔۔۔ میٹ کا کون سا ہے؟

سوال: اچھا۔  پھر۔۔۔

سوال: ایران نے کس طرح کا جواب دیا؟

سوال: ۔۔۔ ایران نے کیسا جواب دیا، سیکرٹیری کے بیان پر؟ سیکریٹری یورپی شراکت داروں کی حمایت کے ساتھ نقصان دہ سرگرمیوں کے حل کے لئے ، جن پر امریکہ نے یک طرفہ اقدامات اٹھائے تھے ، اضافی پابندیوں  کے بارے میں بات کر رہے تھے جو کہ معاہدے کا حصہ نہیں ۔ میں سوچ رہا تھا کہ ظریف نے اس تجویز کا کس طرح سے جواب دیا؟

مسٹر ہُک: مشترکہ کمیشن کی میٹنگ میں کوئی مخصوص پیشکش سامنے نہیں رکھی گئی ۔ یہ سیکرٹیری کے لئے ایک موقع تھا کہ اس معاہدے پر اور ایران کی عدم استحکام پھیلانے والی سرگرمیوں پر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ کیونکہ ملاقات میں نہ تو کوئی مخصوص پیشکش سامنے رکھی گئی اور اور نہ کسی سے اس بات کی کوئی توقع تھی کوئی بھی کسی خاص تجویز کے ساتھ اس اجلاس میں نہیں آیا تھا۔ لہذا کسی بھی پیشکش پر ملاقات کے اختتام میں کوئی ووٹ نہیں تھا، کیونکہ کوئی پیشکش سامنے رکھی ہی نہیں گئی۔

لہذا یہ ہے نئی انتظامیہ کی شرکت اپنی پہلی وزارتی سطح کی ملاقات میں منصوبے کے تمام  دستخط کنندگان کے ساتھ  ۔  اور سیکریٹری اپنے خیالات کا اظہار چاہتے تھے اس پر جس کا میں نے ابھی ذکر کیا۔

مسٹر ہیمنڈ: آخری سوال۔

مسٹر گرینن: ٹھیک ہے۔ کائیلی۔

سوال: اچھا۔ تو؟

 مسٹر ہُک: ہیلو، کائیلی۔

سوال: میں سوچتا ہوں کہ یہاں پر موجود ہر ایک سمجھتا ہے جو آپ کہہ رہے ہیں کہ تصدیق JCPOA سے مختلف ہے ۔ آپ امریکی لوگوں کو یہ فرق کیسے بتائیں گے؟  اور اگر آپ معاہدے میں شامل رہتے ہیں تو پھر  ڈی سرٹیفیکیشن کا کیا مقصد ہے؟

مسٹر ہُک: INARA اوبامہ انتظامیہ کے دوران پاس کی گئی تھی اور یہ اوبامہ انتظامیہ کے لئے موزوں تھی۔ یہ ایک نئی انتظامیہ ہے جو ایران سے درپیش خطرات پر ایک وسیع نظر ڈال رہی ہے اور سرٹیفیکیشن یا ڈی سرٹیفیکیشن صدر اور کانگریس کے درمیان ایک بات چیت ہے۔ اس کا JCPOA پر خود بخود کوئی اطلاق نہیں ہوتا۔

سوال: کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ صرف علامتی ہے، سیاسی لحاظ سے؟

سوال: اچھا تو، سوائے اس کے کہ پابندیوں کے لئے وہ دوبارہ ووٹ کر سکتے تھے، جو کہ آپ کو ایک خلاف ورزی کی پوزیشن میں ڈال دے گا۔

مسٹر ہوک: لیکن ایسا خود بخود نہیں ہوتا۔

###


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں