rss

تسلسل سے کیے جانے والے سوالات: دہشت گردوں کی جانب سے امریکہ داخلے کی کوشش یا تحفظ عامہ کو لاحق خطرات کا کھوج لگانے کے لیے جانچ پڑتال کی اہلیتوں اور طریق کار میں اضافے کا اعلان

English English

وائٹ ہاؤس

دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات

برائے فوری اجرا

19 ستمبر2016

سوال: شرائط کی بنیاد کیا تھی؟

جواب: الف: سیکشن 2 (بی) کے تحت وزیر داخلی سلامتی نے وزیر خارجہ اور قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کی مشاورت سے رپورٹ پیش کی جو 1) شناختی اہتمام کے عمل، 2) قومی سلامتی اور تحفظ عامہ کو لاحق خطرات بارے معلومات کے تبادلے کی غرض سے بنیادی شرائط کا تعین کرتی ہے۔ معلومات کے تبادلے کی یہ ضروریات امریکی حکومت کے طویل مدتی اہداف اور اقوام متحدہ (یو این) شہری ہوابازی کی عالمی تنظیم (آئی سی اے او) اور انٹرپول کے طے شدہ معیارات کے مجموعے کا اظہار  ہیں۔ جانچ پڑتال کی نئی ضروریات سکیورٹی کے حوالے سے ثابت شدہ اور موثر شراکتوں سے اخذ کردہ بہترین طریقہ ہائے کار کی نشاندہی کرتی  ہیں۔ ان میں ویزا میں چھوٹ کے پروگرام اور نفاذ قانون کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ طریقے اور قومی سلامتی کے اقدامات شامل ہیں۔ ای پاسپورٹ اس کی اہم مثال ہے جس کے ذریعے دھوکہ دہی اور جعلسازی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

سوال: درکار معلومات کی فراہمی کے لیے غیرملکی حکومتوں کے اقدامات کے جائزے کا طریقہ کار کیا تھا؟

جواب: امریکی حکومت کے جائزے میں سیکشن 2 (بی) کے حوالے سے رپورٹ میں متعین شرائط کے مطابق غیرملکی حکومتوں کی جانب سے معلومات کی فراہمی کا تجزیہ شامل تھا۔ اس تجزیے کی بنیاد موجودہ طریقہ ہائے کار کے جائزے اور غیرملکی حکومتوں اور ان ممالک میں موجود امریکی لوگوں کے ساتھ 50 روزہ رابطے سے حاصل شدہ اضافی معلومات پر تھی۔

سوال: مختلف ممالک کے حوالے سے پابندیوں میں فرق کیوں ہے؟

جواب: یہ پابندیاں ہر ملک کے منفرد حالات اور اس کی کمزوریوں اور اس کے حوالے سے مخصوص غوروفکر کے بعد عائد کی گئی ہیں۔

سوال: کون سے ممالک پر پابندیاں عائد کی گئیں اور کیوں؟

جواب: چاڈ، ایران، لیبیا، شمالی کوریا، شام، وینزویلا، یمن اور صومالیہ پابندیوں کی زد میں آئے ہیں۔ اگرچہ صومالیہ نے عمومی طور پر معلومات کی فراہمی کی کم از کم شرائط پوری کی ہیں تاہم بنیادی خطوط سے متعلق دیگر درجوں میں اس کی کارکردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے موجودہ حالات امریکی شہریوں کے تحفظ کی خاطر مخصوص پابندیوں اور سکیورٹی کے اضافی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے براہ مہربانی صدارتی اعلان ملاحظہ کیجیے۔

سوال: نئی پابندیوں کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟

جواب: یہ یہ پابندیاں ہر ملک کے منفرد حالات اور اس کی کمزوریوں اور اس کے حوالے سے مخصوص غوروفکر کے بعد عائد کی گئی ہیں۔ عمومی طور پر ان کا فوری اطلاق متعلقہ ممالک سے امریکی ویزے کے لیے درخواست دینے والے ایسے شہریوں پر ہو گا جن کا کسی امریکی شہری یا ادارے سے تعلق نہ ہو۔ انتظامی حکم 13780 پابندی کی زد میں آنے والے تمام دیگر افراد کے لیے اجرا سے 21 روز بعد موثر ہو گا۔ پابندی کی زد میں آنے والے ممالک سے ویزا کے متوقع درخواست گزاروں کو اپنے ویزے کی قسم کا بغور جائزہ لینا چاہیے کیونکہ بعض حالات میں صدر نے مخصوص اقسام کے ویزوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

مزید براں سیکشن 2 کے تحت امریکہ داخلے پر پابندی درج ذیل افراد پر لاگو نہیں ہو گی۔

(1) امریکی میں قانونی طور پر مستقل مقیم افراد

(2) اس اعلان کے موثر ہونے کی تاریخ سے پہلے یا بعد میں امریکہ آنے جانے والے غیرملکی۔

(3) ایسے غیرملکی جن کے پاس ویزے کے علاوہ ایسی دستاویز ات ہوں جو اس اعلان کے موثر ہونے کی تاریخ پر یا اس سے بعد کسی بھی وقت جاری کی گئی ہوں  اور جس کی رو سے وہ امریکہ کا سفر کرنے اور داخلے کے مجاز ہوں۔

(4) اس اعلان کے سیکشن 2 کی زد میں آنے والے کسی ملک کے دہری شہریت والے ایسے افراد جو پابندی کی زد میں نہ آنے والے ملک کے پاسپورٹ پر سفر کر رہے ہوں۔

(5) سفارتی ویزے، شمالی اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم کے ویزے، اقوام متحدہ آنے کے لیے سی 2 ویزے کے حامل یا جی1، جی2، جی3 یا جی4 ویزے کے حامل غیرملکی

(6) ایسے غیرملکی جنہیں پناہ دی گئی ہو، ایسے مہاجرین جو پہلے ہی امریکہ آ گئے ہوں یا ایسے افراد جن کی واپسی کا عمل، پیشگی پیرول یا تحفظ، دہشت گردی کے خلاف کنونشن کے تحت روک لیا گیا ہو۔

سوال: کیا ویزے منسوخ کیے جائیں گے؟

جواب: نہیں، یہ اعلان صراحتاً ایسے افراد کے لیے محدود ہے جن کے پاس اس اعلان کے موثر ہونے کی تاریخ تک قانونی ویزے نہ ہوں۔

سوال: ممالک پر سفری پابندیوں کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

جواب: انتظامی حکم 13780 کے تحت وزیر داخلی سلامتی کسی بھی وقت صدر کو کسی ملک پر پابندی ہٹانے یا اس کے شہریوں پر سفری پابندیوں میں صورتحال کے مطابق تبدیلی کی سفارش کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ صدر کے اعلان میں کہا گیا ہے ان پابندیوں کو اس وقت تک برقرار رہنا چاہیے جب تک وزیر داخلی سلامتی وزیرخارجہ اور اٹارنی جنرل کی مشاورت سے یہ اطمینان نہ کر لیں کہ کسی ملک کی جانب سے اس کے شہریوں کے جائزے اور جانچ پڑتال بارے دی گئی خاطرخواہ معلومات دستیاب ہیں اور اس پر پابندی ہٹانے سے امریکی سلامتی اور بہبودی مفادات پر زد نہیں پڑتی۔ ہم ان شرائط پر عملدرآمد ممکن بنانے کے لیے دوسرے ملکوں کے ساتھ قریبی تعاون سے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سوال: کیا صدر کے پاس یہ اختیار موجود ہے؟

جواب: جی ہاں، صدر کو آئینی اور قانونی اختیار حاصل ہے جس میں امیگریشن اور شہریت دینے کا قانون 212 (ایف) بھی شامل ہے جو کچھ یوں ہے:

(ایف) صدر کی جانب سے داخلے کی معطلی یا پابندیوں کا نفاذ

جب صدر یہ دیکھیں کہ کسی غیرملکی یا کسی مخصوص قسم کے غیرملکیوں کا امریکہ میں داخلہ امریکی مفادات کے کے لیے نقصان دہ ہو گا تو وہ اعلان کے ذریعے جتنا عرصہ کے لیے چاہیں تمام غیرملکیوں یا مخصوص غیرملکیوں کا امریکہ میں مستقل و غیرمستقل داخلہ بند کر سکتے ہیں یا غیرملکیوں پر ایسی کوئی بھی پابندیاں عائد کر سکتے ہیں جو ان کی دانست میں ضروری ہوں۔ جب اٹارنی جنرل یہ دیکھیں کہ کوئی کمرشل فضائی کمپنی امریکہ آنے والے مسافروں کی جانب سے دستاویزات میں دھوکہ دہی کی نشاندہی (بشمول ایسی نشاندہی کے لیے اہلکاروں کی تربیت) کے لیے اٹارنی جنرل کے ضوابط پر عمل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے تو اٹارنی جنرل اس فضائی کمپنی کی چند یا تمام پروازوں کا امریکہ میں داخلہ معطل کر سکتے ہیں۔

سوال: یہ پابندیاں اور محدودات کب موثر ہوں گے؟

جواب: انتظامی حکم 13780 کی رو سے امریکہ داخلے پر پابندی کی زد میں آنے والے اور امریکہ میں کسی فرد یا ادارے سے قابل اعتبار سے محروم غیرملکیوں یہ پابندیاں اور محدودات 24 ستمبر 2017 کو سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر موثر ہوں گے۔ انتظامی حکم 13780 کے سیکشن 2 کے تحت پابندیوں کی زد میں آنے والے دیگر تمام غیرملکیوں اور چاڈ، شمالی کوریا اور وینزویلا کے شہریوں پر پابندیاں اور محدودات 18 اکتوبر 2017 سے رات کے وقت 12 بج کر ایک منٹ پر نافذ العمل ہوں گے۔

# # #


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں