rss

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کا مہاجرین کے مسئلے پر ذمہ دارانہ و ہمدردانہ انداز

Русский Русский, English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी

وائٹ ہاؤس

دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات

برائے فوری اجرا

29 ستمبر 2017

‘سرحدوں کی کڑی حفاظت ملکی سلامتی کے حوالے سے کسی بھی حکمت عملی کا اہم جزو ہوتا ہے اور مہاجرین کے معاملے میں ذمہ دارانہ طریقہ وہ ہے جس میں بالاآخر ان کی اپنے گھروں کو واپسی ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنے ممالک کی تعمیر نو میں مدد دے سکیں’ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ

‘پہلے امریکہ’ مہاجرین پروگرام: صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے امریکہ آنے والے مہاجرین کی سالانہ حد مقرر کی ہے اور اس حوالے سے امریکی عوام کے تحفظ کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

  • صدر ٹرمپ نے تعین کیا ہے کہ مالی سال 2018 میں 45 ہزار تک مہاجرین کو امریکہ میں داخلہ دیا جا سکتا ہے۔
  • یہ سالانہ فیصلہ وزیرخارجہ، وزیر برائے داخلی سلامتی اور قومی سلامتی کی ٹیم سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔
  • اس نئے معیار کے تحت امریکہ کسی بھی ملک سے زیادہ مہاجرین کو اپنے ہاں بسانے کا عمل جاری رکھے گا اور نسل، علاقائیت، سیاسی رائے، قومیت، مذہب یا کسی خاص سماجی گروہ سے وابستگی کی بنا پر مظالم کا سامنا کرنے والے انتہائی کمزور لوگوں کو تحفظ کی پیشکش جاری رکھی جائے گی۔
  • مہاجرین کے امریکہ میں داخلے کی نئی حد جانچ پڑتال کے اضافی طریقہ کار کی موافقت سے مقرر کی گئی ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس کی بدولت محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس)، وفاقی تحقیقاتی ادارے ، مرکزی انٹیلی جنسی ایجنسی، محکمہ دفاع، انسداد دہشت گردی کے قومی مرکز اور دوسرے ادارے عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات کے حوالے سے پناہ کے درخواست گزاروں کا تفصیلی اور بحفاظت جائزہ لے سکیں گے۔
  • یہ فیصلہ ان دو لاکھ 70 ہزار غیرملکیوں پر محدود وسائل مرتکز کرنے کی ضرورت کا اظہار ہے جنہوں نے امریکہ میں پناہ کے لیے درخواستیں دے رکھی ہے مگر تاحال ان کا خاطرخواہ جائزہ نہیں لیا جا سکا جبکہ وہ پہلے ہی امریکہ میں موجود ہیں۔
  • انتظامی حکم 13780 کے سیکشن 6 یعنی ‘قوم کو غیرملکی دہشت گردوں کے امریکہ داخلے سے تحفظ دینے’ پر عملدرآمد کے لے امریکی حکومت مہاجرین کی حیثیت سے ملک میں داخلے کے خواہش مند افراد کی چھان بین کا معیار مزید بہتر بنانے کے لیے اضافی اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ امریکہ کے تحفظ اور سلامتی کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔ اگرچہ انتظامی حکم 13780 کے سیکشن 6 کی رو سے درکار جائزہ تاحال جاری ہے، تاہم متعلقہ اداروں نے مہاجرین کے امریکہ میں داخلے کے پروگرام میں استعمال ہونے والے جانچ پڑتال کے عمل کو پہلے ہی مضبوط بنانا شروع کر دیا ہے۔

قومی سلامتی کا استحکام: صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ امریکی عوام کے تحفظ کو فروغ دینے کے لیے ذمہ دارانہ طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں۔

  • امریکہ آنے والے بعض مہاجرین قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے لیے خطرات کا باعث بنے ہیں۔
  • فروری 2017 میں 300 ایسے افراد مشتبہ دہشت گردوں سے ممکنہ روابط کے باعث ایف بی آئی کے زیرتفتیش تھے جنہیں مہاجر کی حیثیت سے امریکہ میں داخلہ دیا گیا تھا۔
  • 2011 سے اب تک کم از کم 20 مہاجرین کو دہشت گردی سے متعلق تفتیش کے نتیجے میں گرفتار یا امریکہ بدر کیا جا چکا ہے۔
  • 2016 میں ایک صومالی مہاجر نے ریاست اوہائیو کے شہر کولمبس میں اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی میں 11 امریکیوں پر حملہ کیا۔
  • 11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے بعد امریکہ میں مہاجر کی حیثیت سے آنے والے قریباً دو درجن افراد کو دہشت گردی سے متعلقہ جرائم میں امریکہ بدر کیا جا چکا ہے یا گرفتار کر کے سزا دی گئی ہے۔ فروری میں صدر نے وائٹ ہاؤس میں پولیس کے مقامی سربراہان سے ملاقات کی اور ان کے خدشات سنے جن میں ایسے مہاجرین کا تذکرہ بھی شامل تھا جو مقامی سطح پر کسی مشاورت اور فیصلے کے بغیر ہی ان کے علاقوں میں آباد ہو گئے تھے۔
  • صدر ٹرمپ ریاستی و مقامی رہنماؤں کے قریبی تعاون سے کام کی کوششوں کو بہتر بنانے اور مہاجرین کی آبادی کاری کے ضمن میں کوششوں کے لیے مقامی لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے اور مہاجرین کی آبادکاری کے لیے بہتر جگہوں کے تعین پر یقین رکھتے ہیں۔

مالیاتی ملاحظات: مہاجرین کی آبادکاری میں اضافے سے امریکیوں پر مالی بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ مہاجرین کو ہر ممکن طور سے ان کے اپنے علاقوں میں ہی رکھا جائے۔

  • امریکہ کی مہاجرین بارے حکمت عملی کا ایک بنیادی مقصد بالاآخر ان کی اپنے گھروں کو واپسی ممکن بنانا ہے جہاں وہ اپنے دوستوں اور اہلخانہ سے دوبارہ مل سکیں اور اپنی معاشروں کی تعمیرنو میں حصہ لے سکیں۔
  • ‘مرکز برائے مطالعہ مہاجرت’ کے مطابق ایک مہاجر کو مستقل طور پر امریکہ میں آباد کرنے پر اٹھنے والے اخراجات سے 12 مہاجرین کو ان کے اپنے ممالک کے قریب محفوظ علاقوں میں آباد کیا جا سکتا ہے۔
  • محکمہ صحت و انسانی خدمات (ایچ ایچ ایس) نے 2005 سے 2014 کے درمیانی عرصہ میں مہاجرین کی امداد یا ان کے لیے مفید پروگراموں پر 96 ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی۔
  • اوبامہ انتظامیہ میں ‘ایچ ایچ ایس’ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2011 سے 2015 کے درمیان امریکہ آنے والے 45 فیصد مہاجرین کو نقد امداد دی جا رہی تھی، 49 فیصد کو صحت کے حوالے سے مدد مل رہی تھی اور قریباً 75 فیصد ‘ضمنی غذائی مدد کے پروگرام’ (ایس این اے پی) سے فوائد حاصل کر رہے تھے۔
  • موجودہ قانون کے تحت جب کوئی فرد مہاجر کے طور پر امریکہ میں آ جائے تو اسے یہاں فوری طور پر کام کی اجازت مل جاتی ہے۔

امدادی کوششوں میں عالمی راہبر: امریکہ مہاجرین کی مالی امداد اور آبادکاری کے ضمن میں عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں میں بدستور سب سے آگے ہے۔

  • جیسا کہ جی 20 رہنماؤں کے اعلامیے میں کہا گیا ہے ‘ہم پناہ گزینوں اور مہاجرین خصوصاً اپنے علاقوں کے قریب پناہ لینے والوں کی واضح ضروریات پوری کرنے اور جب ممکن ہو ان کی اپنے گھروں کو بحفاظت واپسی ممکن بنانے کا عہد کرتے ہیں۔
  • امریکہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے دفتر کی مالی معاونت میں تمام ممالک سے آگے ہے اور اسے سالانہ 1.2 ارب ڈالر دیتا ہے۔ ہم مہاجرین اور جنگ سے متاثرہ لوگوں کو زندگی کے تحفظ میں مدد دینے والے دوسرے اداروں کے لیے بدستور سب سے زیادہ عطیہ دیتے رہے گے جن میں خوراک کا عالمی پروگرام، ریڈ کراس اور یونیسف شامل ہیں۔
  • 1975 سے امریکہ نے دنیا بھر سے 30 لاکھ مہاجرین کو اپنے ہاں جگہ دی ہے اور ہر سال کسی تیسرے ملک میں آباد ہونے والے دنیا کے مجموعی مہاجرین میں قریباً دو تہائی کو پناہ دیتا ہے۔ یہ تعداد دنیا بھر کے ممالک میں پناہ لینے والے ایسے تمام مہاجرین کے مجموعے سے زیادہ ہے۔
  • امریکہ ہر سال 150 سے زیادہ ممالک کے 10 لاکھ سے زیادہ تارکین وطن کو مستقل رہائش اور قریباً پانچ لاکھ افراد کو شہریت دیتا ہے۔
  • امریکہ کی مہاجرین سے متعلق حکمت عملی کا بنیادی مقصد مہاجرین کے تحفظ میں مدد دینا اور ان کی بحفاظت گھروں کو واپسی سمیت مسئلے کے پائیدار حل میں معاونت کرنا ہے۔

# # #


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں