rss

ایران کے بارے میں حکمت عملی پر صدر ٹرمپ کا بیان

Français Français, English English, العربية العربية, Português Português, Русский Русский, Español Español

وائٹ ہاؤس
دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
13 اکتوبر 2017
ڈپلومیٹک ریسپشن روم

12:53 دوپہر

صدر: آپ کا بے حد شکریہ۔ میرے ساتھی امریکیو، امریکہ کے صدر کی حیثیت سے میرا اہم ترین فرض امریکی عوام کی حفاظت اور سلامتی یقینی بنانا ہے۔

تاریخ سے ثابت ہے کہ ہم کسی خطرے کو جتنی دیر نظر انداز کرتے ہیں وہ اتنا ہی شدید ہو جاتا ہے۔ اسی لیے عہدہ سنبھالنے کےبعد میں نے ایران میں سرکش حکومت کے حوالے سے ہماری پالیسی کے مکمل سٹریٹجک جائزے کا حکم دیا۔ اب یہ جائزہ مکمل ہو چکا ہے۔

آج میں اپنی حکمت عملی کا اعلان کر رہا ہوں جس کے ساتھ چند ایسے بڑے اقدامات کی بابت بھی بتاؤں گا جو ہم ایرانی حکومت کے معاندانہ اقدامات سے نمٹنے کے لیے اٹھائیں گے اور یہ بات یقینی بنائیں گے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ بنا پائے۔

ہماری حکمت عملی کی بنیاد ایرانی آمریت ، اس کی جانب سے دہشت گردی کی معاونت اور مشرق وسطیٰ و دنیا بھر میں اس کی مسلسل جارحیت کے واضح جائزے پر ہے۔

ایران ایک جنونی حکومت کے زیراثر ہے جس نے 1979 میں اقتدار حاصل کیا اور عوام کو اپنی انتہاپسندانہ حکومت کی اطاعت پر مجبور کیا۔ اس بنیاد پرست حکومت نے دنیا کی ایک قدیم ترین اور انتہائی متحرک قوم کی دولت پر ڈاکہ ڈالا اور دنیا بھر میں موت، تباہی اور افراتفری پھیلائی۔

1979 میں اپنے آغاز پر ایرانی حکومت نے تہران میں امریکی سفارتخانے پر غیرقانونی قبضہ کیا اور 444 روزہ بحران میں 60 سے زیادہ امریکیوں کو یرغمال بنایا۔ ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ حزب اللہ نے لبنان میں دو مرتبہ ہمارے سفارتخانے پر حملہ کیا۔ ان میں ایک حملہ 1983 اور دوسرا 1984 میں ہوا۔ 1983 میں ایرانی اعانت سے بیروت میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں 241 امریکی فوجی اپنی بیرکوں میں مارے گئے۔ 1996 میں ایرانی حکومت نے سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر ایک اور بم حملہ کیا جس میں 19 امریکی ہلاک ہوئے۔

ایران کی پشت پناہی سے کام کرنےو الے گروہوں نے ایسے عناصر کو تربیت فراہم کی جو بعد میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارتخانوں پر القاعدہ کے بم دھماکوں میں ملوث نکلے اور دو برس بعد 224 لوگوں کو ہلاک اور چار ہزار سے زیادہ کو زخمی کیا۔

نائن الیون کے حملوں بعد ایرانی حکومت نے بڑے دہشت گردوں بشمول اسامہ بن لادن کے بیٹے کو پناہ دی۔ عراق اور افغانستان میں ایرانی حمایت یافتہ گروہوں نے سیکڑوں امریکی فوجی اہلکاروں کو ہلاک کیا۔

ایرانی آمریت کی جارحیت آج بھی جاری ہے۔ یہ حکومت ریاستی سطح پر دہشت گردی کی سب سے بڑی معاون ہے اور القاعدہ، طالبان، حزب اللہ، حماس اور دوسرے دہشت گرد گروہوں کی مدد کرتی ہے۔ اس نے ایسے میزائل بنائے، نصب کیے اور پھیلائے ہیں جن سے امریکی افواج اور ہمارے اتحادیوں کو خطرہ ہے۔ اس نے امریکی بحری جہازوں کو پریشان کیا اور خلیج عرب و بحیرہ قلزم میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے خطرات پیدا کیے۔ اس نے جھوٹے الزامات میں امریکیوں کو قید کیا اور ہمارے اہم انفراسٹرکچر، مالیاتی نظام اور فوج کے خلاف سائبر حملے کیے۔

ایرانی آمریت کی جانب سے کشت و خون کی طویل مہم کا واحد نشانہ امریکہ ہی نہیں ہے۔ اس حکومت نے اپنے ہی شہریوں کو مسلسل جبر کا نشانہ بنایا اور سبز انقلاب کے دوران سڑکوں غیرمسلح طلبہ مظاہرین پر گولی چلائی۔

اس حکومت نے عراق میں فرقہ وارانہ تشدد اور یمن و شام میں خانہ جنگی کو ہوا دی۔ شام میں ایرانی حکومت نے بشارالاسد حکومت کے مظالم کی حمایت کی اور بے بس شہریوں بشمول بچوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر چشم پوشی کی۔

اس حکومت کے قاتلانہ ماضی و حال کو دیکھتے ہوئے ہمیں مستقبل کے حوالے سے اس کی شرانگیز سوچ کو آسان نہیں لینا چاہیے۔ مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل اس حکومت کے دو مرغوب نعرے ہیں۔

صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے وہئے امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کئی سال تک ایران کو جوہری ہتھیاروں سے باز رکھنے کے لیے اس پر کئی طرز کی مضبوط معاشی پابندیاں عائد کی تھیں۔

مگر گزشتہ امریکی انتظامیہ نے ایرانی حکومت کے مکمل زوال سے قبل ہی 2015 میں ایک انتہائی متنازع جوہری معاہدے کے ذریعے یہ پابندیاں اٹھا لیں۔ اس معاہدے کو ‘مشترکہ جامع عملی منصوبہ’ یا ‘جے سی پی او اے’ بھی کہا جاتا ہے۔

جیسا کہ میں نے متعدد مرتبہ کہا ہے، ایرانی معاہدہ امریکی تاریخ کا بدترین اور انتہائی یکطرفہ قسم کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کو جنم دینے والی ذہنیت ہی سالہا سال تک بدترین تجارتی معاہدوں کی ذمہ دار ہے جن کے باعث ہمارے اپنے ملک میں لاکھوں نوکریوں کی قربانی دی گئی جبکہ دوسرے ممالک کو فائدہ پہنچا۔ ہمیں ایسے معاملہ کاروں کی ضرورت ہے جو مزید موثر طور سے امریکی مفادات کی نمائندگی کر سکتے ہوں۔

جوہری معاہدے سے ایرانی آمریت کو نئی سیاسی و معاشی زندگی ملی اور پابندیوں کے نتیجے میں وہاں جنم لینے والے شدید اندرونی دباؤ سے نمٹنے میں کامیاب رہی۔ اس سے حکومت کو 100 ارب ڈالر کا فوری معاشی فائدہ بھی ہوا جسے یہ دہشت گردی کی مالی معاونت میں استعمال کر سکتی ہے۔

ایرانی حکومت کو امریکہ کی جانب سے نقد تصفیے کی مد میں 1.7 ارب ڈالر بھی موصول ہوئے جس کا بڑا حصہ ایک جہاز میں لاد کر ایران پہنچایا گیا۔ ذرا اس بہت بڑی رقم کا تصور کیجیے جسے جہاز سے اتارنے کے لیے ایرانی ایئرپورٹ پر کھڑے ہوں گے۔ مجھے حیرت ہے کہ یہ تمام رقم کہاں خرچ ہوئی ہو گی۔

بدترین بات یہ ہے کہ اس معاہدے سے ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے مخصوص حصوں کو ترقی دینے کی اجازت مل گئی ہے۔ بنیادی رکاوٹیں ختم ہونے کے بعد چند ہی برسوں میں ایران تیزرفتاری سے جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔ باالفاظ دیگر ہم نے ایران کو انتہائی مختصر اور عارضی مدت کے لیے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے بدلے اس کی تنصیبات کے معمولی معائنے کا فائدہ لیا۔

ایسے معاہدے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے جس میں ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو مختصر دورانیے کے لیے روکا گیا ہو؟ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے یہ میرے لیے ناقابل قبول ہے۔ دوسرے ممالک میں چند برس کے لیے نہیں بلکہ مستقبل میں 100 سال کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔

امریکہ کے لیے اس معاہدے کا افسوسناک ترین پہلو یہ ہے کہ تمام رقم پیشگی ادا کی گئی حالانکہ اسے اس وقت ادا کیا جانا چاہیے تھا جب یہ طے ہو جاتا ہے کہ ایران نے معاہدے پر پوری طرح عمل کیا ہے۔ مگر جو ہو گیا سو ہو گیا اور اسی وجہ سے ہم یہاں کھڑے ہیں۔

ایرانی حکومت نے اس معاہدے کی متعدد خلاف ورزیاں کی ہیں۔ مثال کے طور پر دو مختلف مواقع پر انہوں نے بھاری پانی کی 130 میٹرک ٹن کی حد سے تجاوز کیا۔ حال ہی میں ایرانی حکومت ترقی یافتہ سینٹری فیوجز کے معاملے میں بھی ہماری توقعات پوری نہیں کر سکی۔

ایرانی حکومت نے عالمی معائنہ کاروں کو بھی ڈرایا دھمکایا اور انہیں اپنے مکمل اختیارات استعمال نہیں کرنے دیے۔ ایرانی حکام اور فوجی رہنما تواتر سے یہ کہتے ہیں کہ وہ معائنہ کاروں کو فوجی مقامات پر جانے کی اجازت نہیں دیں گے، حالانکہ عالمی برادری کو شبہ ہے کہ ان میں بعض مقامات پر خفیہ طور سے جوہری پروگرام پر عمل ہو رہا ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ایران شمالی کوریا کے ساتھ بھی لین دین کر رہا ہے۔ میں اپنے انٹیلی جنس اداروں کو ہدایت دے رہا ہوں کہ وہ اس حوالے سے تجزیہ کر کے رپورٹ دیں۔

ایرانی جوہری معاہدے کو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے مفید ثابت ہونا چاہیے تھا۔ اگرچہ امریکہ اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر کاربند ہے، مگر ایرانی حکومت مشرق وسطیٰ میں بدستور جنگ، دہشت اور افراتفری پھیلا رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایران اس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کر رہا۔

چنانچہ آج ایران کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھ کر اپنے اتحادیوں کی مشاورت سے میں ایرانی تباہ کن طرز عمل سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کر رہا ہوں۔

اس ضمن میں سب سے پہلے ہم ایران کی تخریبی سرگرمی اور اس کی جانب سے خطے میں دہشت گرد گروہوں کی مدد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنے اتحادیوں سے مل کر کام کریں گے۔ دوسری بات یہ کہ ہم ایران کی جانب سے دہشت گردی کی مالیات روکنے کے لیے اس پر اضافی پابندیاں عائد کریں گے۔ اس حوالے سے تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ہم ایرانی حکومت کی جانب سے میزائلوں اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے نمٹیں گے جس سے اس کے ہمسایوں، عالمگیر تجارت اور جہاز رانی کی آزادی کو خطرہ لاحق ہے۔

آخر میں ہم جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے اس کی تمام راہیں مسدود کر دیں گے۔

آج میں ایسے متعدد بڑے اقدامات کا اعلان بھی کر رہا ہوں جو میری انتظامیہ نے اس حکمت عملی پر عملدرآمد کے لیے اٹھا رہی ہے۔

ہماری حکمت عملی پر عملدرآمد ایران کے پاسداران انقلاب پر کڑی پابندیوں سے شروع ہوتا ہے جو بہت پہلے عائد کی جانا چاہئیں تھیں۔ پاسداران انقلاب ایرانی سپریم لیڈر کی بدعنوان ذاتی دہشت گردی قوت اور ملیشیا ہے۔ اس نے ایرانی معیشت کے بڑے حصوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور بیرون ملک جنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے بڑے پیمانے پر مذہبی چندہ اکٹھا کرتی ہے۔ ایسی کارروائیوں میں شامی آمر کو اسلحے کی فراہمی، خطے میں عام لوگوں پر حملے کے لیے دہشت گرد گروہوں اور اپنے اتحادیوں کو میزائلوں اور ہتھیاروں کی فراہمی اور یہاں واشنگٹن میں مقبول ریسٹورنٹ میں بم کی تنصیب جیسے اقدامات شامل ہیں۔

میں محکمہ خزانہ کو اختیار دے رہا ہوں کہ وہ دہشت گردی کی پاداش میں پاسداران انقلاب کی پوری تنظیم پر مزید پابندی عائد کرے اور اس سلسلے میں اس تنظیم کے حکام، آلہ کاروں اور ملحقہ لوگوں اور اداروں کو نامزد کرے۔ میں اپنے اتحادیوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ ایران کے مسلسل خطرناک اور تخریبی رویے کی روک تھام کے لیے کڑے اقدامات میں ہمارا ساتھ دیں جن میں ایرانی جوہری معاہدے سے ہٹ کر اس کے خلاف مفصل پابندیاں شامل ہیں جن سے اس کے بلسٹک میزائل پروگرام، دہشت گردی کی معاونت اور تمام تخریبی کارروائیوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

آخر میں مجھے ایرانی جوہری پروگرام کے سنگین معاملے پر بات کرنا ہے۔ جوہری معاہدے پر دستخط کے بعد اس حکومت کی خطرناک جارحیت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے بڑے پیمانے پر پابندیوں سے چھوٹ حاصل کی جبکہ اس کا میزائل پروگرام بدستور جاری ہے۔ ایران نے اس معاہدے پر دستخط کرنے والے دوسرے فریقین سے بھاری تجارتی معاہدے بھی کیے ہیں۔

2015 میں جب اس معاہدے نے حتمی صورت اختیار کی تو کانگریس نے ایرانی جوہری معاہدے کے جائزے کا قانون منظور کیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ اس معاہدے کے حوالے سے کانگریس کی آواز بھی سنی جائے۔ دوسری شرائط کے ساتھ ساتھ یہ قانون صدر یا اس کے نامزد نمائندے سے اس تصدیق کا تقاضا کرتا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران پر پابندیوں کا خاتمہ اس کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے مطابقت رکھتا ہے۔ حقائق کی بنیاد پر میں آج اعلان کر رہا ہوں کہ ہم یہ تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ ہی کریں گے۔

ہم اس راہ پر نہیں چلیں گے جس کا ممکنہ نتیجہ مزید تشدد، مزید دہشت اور ایران کی جانب سے جوہری طاقت حاصل کرنے کی صورت میں نکلتا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ میں اپنی انتظامیہ کو کانگریس اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس معاہدے میں موجود بہت سی سنگین خامیوں سے نمٹنے کا حکم دے رہا ہوں تاکہ ایرانی حکومت کبھی دنیا کو اپنے جوہری ہتھیاروں سے خوفزدہ نہ کرنے پائے۔ اس میں معاہدے کی مقررہ مدت کی شقوں کا خاتمہ بھی شامل ہے اور یہ مدت چند برس میں ختم ہو جائے گی اور یوں ایران اپنے جوہری پروگروام کو دوبارہ ترقی دینے کے لیے آزاد ہو گا۔

اس معاہدے میں پائی جانے والی خامیوں میں ناکافی اطلاق اور ایرانی میزائل پروگرام کے حوالے سے قریباً مکمل خاموشی بھی شامل ہیں۔ کانگریس اس مسئلے کے حل کے لیے پہلے ہی کارروائی شروع کر چکی ہے۔ ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے اہم رہنما ایسی قانون سازی کر رہے ہیں جو ایرانی جوہری معاہدے کے جائزے کے قانون میں ترمیم میں مدد دے گی تاکہ ایران کو بین البراعظمی بلسٹک میزائل تیار کرنے سے روکا جا سکے اور امریکی قانون کے تحت اس کی جوہری سرگرمی روکنے کے لیے تمام پابندیاں عائد کی جا سکیں۔ میں ان اقدامات کی حمایت کرتا ہوں۔

تاہم اگر ہم کانگریس اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس کا حل نہ نکال سکے تو یہ معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ اس کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور صدر کی حیثیت سے میں کسی بھی وقت اس میں امریکہ کی شرکت منسوخ کر سکتا ہوں۔

جیسا کہ ہم نے شمالی کوریا کے معاملے میں دیکھا ہے ہم خطرے کو جتنی دیر تک نظرانداز کریں گے یہ اتنا ہی مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس بارے میں پرعزم ہیں کہ دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا معاون کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پائے۔

اس کوشش میں ہم طویل عرصہ سے ایرانی حکومت کی جانب سے جبرومصائب کا سامنا کرنے والوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایران کے شہریوں نے اپنے رہنماؤں کے تشدد اور انتہاپسندی کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ ایرانی عوام اپنے ملک کی قابل فخر تاریخ، ثقافت، تہذیب اور اپنے ہمسایوں سے تعاون کی بحالی کے خواہش مند ہیں۔

ہمیں امید ہے کہ یہ نئے اقدامات ایرانی حکومت  کو اپنے عوام کی قیمت  پر دہشت کی راہ پر چلنے سے روکنے میں معاون ہوں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آج ہمارے اقدامات مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور خوشحالی لائیں گے اور ایسے مستقبل کی بنیا دبنیں گے جس میں خودمختار ممالک ایک دوسرے کا اور اپنے عوام کا احترام کریں گے۔

ہم ایک ایسے مستقبل کے لیے دعا کرتے ہیں جہاں چھوٹے بچے، امریکی اور ایرانی، مسلمان اور مسیحی اور یہودی بچے تشدد، نفرت اور دہشت سے پاک دنیا میں پرورش پا سکیں۔ اس دن کی آمد تک ہم امریکہ کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر وہ قدم اٹھائیں گے جو ہمیں اٹھانا چاہیے۔

آپ کا شکریہ، خدا آپ پر اور امریکہ پر رحمت کرے، شکریہ

اختتام

1:11 دوپہر


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں