rss

صدر کا ایران کے بارے میں حکمت عملی کا اعلان- انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کی بریفنگ

English English, العربية العربية, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
13 اکتوبر 2017
واشنگٹن فارن پریس سنٹر، واشنگٹن ڈی سی

 

 

نگران: سبھی کو صبح بخیر۔ یہاں آنے پر آپ کا اور یہاں فارن پریس سنٹر میں ہمارے ساتھیوں کا بے حد شکریہ۔ مجھے انتظامی حکام کا بھی شکریہ ادا کرنا ہے جو یہاں آئے ہیں اور صدر کی ایران کے بارے میں حکمت عملی پر بات چیت کریں گے جس کا اعلان آج دن کے اواخر پر ہو گا۔ یہ پس منظر بات چیت ہو گی جس میں بریفنگ دینے والوں کو اعلیٰ انتظامی افسر کہا جائے گا۔ اس بات چیت کی نشرواشاعت پر صبح 11:30 بجے تک پابندی رہے گی۔ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ تصاویر نہ اتاری جائیں۔ آپ وائس ریکارڈر استعمال کر سکتے ہیں، تاہم یہ استعمال نشریے کے بجائے حوالے کے طور پر ہو گا یعنی آپ ریکارڈ شدہ بات چیت کو ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ کے بجائے صرف اپنے حوالے اور رپورٹنگ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ صدر کے خطاب تک اس بریفنگ کی رپورٹنگ پر پابندی رہے گی۔

میرے تمام ساتھی کچھ ابتدائی کلمات کہیں گے جس کے بعد سوال و جواب کا دور ہو گا۔ براہ مہربانی اپنا اور اپنے ادارے کا نام بھی بتائیں۔ ہم (پہلے اعلیٰ انتظامی افسر) سے آغاز کرتے ہیں۔ (پہلے اعلیٰ انتظامی افسر) کیا آپ بات شروع کرنا چاہیں گے؟

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: جی، مجھے یہ واضح کرنا ہے کہ اس بات چیت کی نشرواشاعت پر 11:30 تک پابندی رہے گی۔ چونکہ اعلیٰ انتظامی حکام نے گزشتہ شب وائٹ ہاؤس کی پریس کور کو بریفنگ دی اور اس پر پابندی 11:30 تک ہے، اس لیے ہماری بریفنگ پر بھی پابندی 11:30 تک ہی رہے گی۔

نگران: ٹھیک ہے۔

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: میرا اندازہ ہے کہ میرے پاس چند نکات ہی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ آج شام صدر کے خطاب کو ‘جے سی پی او اے’ یا ایرانی جوہری معاہدے سے متعلق تقریر سمجھا گیا ہے جو کہ درست نہیں۔ اگرچہ وہ ‘جے سی پی او اے’ اور جوہری معاہدے پر بات چیت کریں گے مگر بنیادی طور پر یہ ایران کے بارے میں حکمت عملی کے حوالے سے تقریر ہو گی جس میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت تمام ضرررساں سرگرمیوں اور ان تمام سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے تمام اقدامات کا تذکرہ ہو گا۔

اس حوالے سے میرا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ‘جے سی پی او اے’ کی تصدیق یا عدم تصدیق کے حوالے سے اس فیصلے پر بہت سی قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں۔ آپ نے سنا ہو گا کہ بعض لوگ اس حوالے سے مسلسل ‘توثیق واپس لینے’ کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ہم اس کی تصدیق کے قابل نہیں ہیں۔ میں یہ یاد دہانی بھی کرانا چاہتا ہوں کہ ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے جائزے کا قانون ایک امریکی قانون ہے جس کا ‘جے سی پی او اے’ سے کوئی تعلق نہیں۔ توثیق صرف اسی قانون کا تقاضا ہے اور اس کا امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے پر کسی بھی انداز میں عملدرآمد کرنے یا نہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔

لہٰذا گر کسی نے ماضی میں یہ سنا ہو کہ صدر 90 روز میں اس کی توثیق کے پابند ہیں تو یہ درست نہیں، اگر صدر اس مدت میں ایران کی جانب سے معاہدے پر پوری طرح عملدرآمد ہونے کی تصدیق نہیں کرتے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکہ اس معاہدے سے نکل گیا ہے۔ یقیناً آپ نے صدر کی زبانی بھی یہ سنا ہو گا مگر اس حوالے سے بہت سا الجھاؤ پایا جاتا ہے جسے دور کرنا میں نے ضروری سمجھا۔

چنانچہ یہ ایران سے متعلق حکمت عملی کے حوالے سے کی جانے والی تقریر ہے۔ اس کا موضوع صرف ایرانی جوہری معاملہ نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر آپ انہیں یہ کہتا سنتے ہیں کہ وہ تصدیق سے انکار کرتے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکہ اس معاہدے سے نکل گیا ہے۔ درحقیقت 14 ستمبر کو ایران کے خلاف پابندیوں میں چھوٹ گزشتہ ماہ کا فیصلہ کن موقع تھا جس پر امریکہ نے دستخط کیے۔ اس کی رو سے امریکہ مزید 180 یوم کے لیے اس معاہدے پر کاربند ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم 180 روز کے لیے ہی اس پر کاربند رہنے کے پابند ہیں۔ چونکہ یہ ایک انتظامی معاہدہ ہے اس لیے صدر کسی بھی وقت یکطرفہ طور پر اسے منسوخ کر سکتے ہیں مگر توثیق سے انکار کا مطلب معاہدے سے پھرنا ہرگز نہ سمجھا جائے۔

نگران: (تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر) یا ۔۔۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: (دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر)

نگران: (دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر)

دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر: ٹھیک ہے، شکریہ۔ میں آپ کو اس حکمت عملی کے خاکے سے آگاہ کروں گا۔ یہ ایران کے حوالے سے ایک مربوط حکمت عملی ہے جسے صدر آج سامنے لا رہے ہیں۔ کئی ماہ تک صدر، وزیرخارجہ اور دوسرے حکام یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ ہم ایران کے حوالے سے حکمت عملی کا جامع جائزہ لے رہے ہیں۔ لہٰذا آج صدر جو کچھ کہیں گے وہ اسی جائزے کا نتیجہ ہو گا۔ اس جائزے کے لیے بہت سے اداروں کے ہزاروں لوگوں نے تحقیق و تجزیہ کیا ہے۔ لہٰذا اسے ایران کے حوالے سے امریکی حکمت عملی کا اول و آخر جائزہ بھی کہا جا سکتا ہے۔

آج وہ جس حکمت عملی کا اعلان کرنے والے ہیں اس کے چار بنیادی عناصر یا تزویراتی مقاصد ہیں۔ ان میں پہلا تزویراتی مقصد ایران کی تخریبی سرگرمیوں کا خاتمہ اور اس کی جارحیت کے سامنے روک لگانا ہے جس میں خاص طور پر اس کی جانب سے دہشت گردی اور شدت پسندی کی حمایت شامل ہے۔ اس سلسلے میں خاص طور پر مشرقی وسطیٰ اور افغانستان میں بھی اس کی تخریبی سرگرمیوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔ ان تخریبی سرگرمیوں میں شام میں ایرانی کارروائیاں، اس کی جانب سے حزب اللہ، حماس، طالبان اور عراقی شیعہ عسکریت پسند گروہوں کے ذریعے دہشت گردی کی معاونت، عراق میں علاقائی و نسلی تنازعات کو ہوا دینا، یمن میں خانہ جنگی پر تیل چھڑکنا اور حوثیوں کو اپنے عسکری آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا نیز بحرین اور سعودی عرب کے مشرقی صوبے جیسے علاقوں میں کی جانے والی کاروائیاں شامل ہیں۔

تزویراتی مقاصد کے دوسرے درجے میں ایران خصوصاً اس کے پاسداران انقلاب کو ضرررساں سرگرمیوں سے روکنا شامل ہے۔ میں نے ابھی جن تخریبی سرگرمیوں کا تذکرہ کیا ان کی انجام دہی میں پاسداران انقلاب کا اہم ترین کردار ہے۔ چنانچہ ہمیں اس کی مالیات کو روکنا ہے۔ اس سلسلے میں ایران کی جانب سے بیرون ملک اپنے عسکری آلہ کاروں کو دی جانے والی مالی مدد کی روک تھام کے ساتھ ساتھ اسے اندرون ملک مالی وسائل کے حصول سے بھی روکنا ہے جو یہ تنظیم ملکی معیشت کے بڑے حصے پر قبضے سے حاصل کرتی ہے۔ مثال کے طور پر اس سلسلے میں ہم پاسداران انقلاب کے لیے کام کرنے والے مالیاتی و کاروباری اداروں کے وسائل روکنے کی کوشش پر بات کر رہے ہیں۔ یہ ادارے ایران کے اندر کام کرتے ہیں اور ان کے ذریعے حاصل ہونے والے مالی وسائل دہشت گردی کی معاونت میں استعمال ہوتے ہیں۔

اس سلسلے میں ہماری تیسری کوشش امریکہ اور ہمارے اتحادیوں کو ایران کے بلسٹک میزائلوں اور دوسرے غیرمتشکل ہتھیاروں اور جدید حربی ٹیکنالوجی سے لاحق خطرات کا قلع قمع کرنا ہے۔ چنانچہ اس میں ناصرف بلسٹک میزائلوں جیسی چیزیں شامل ہیں بلکہ کروز میزائل بھی اس کا حصہ ہیں جنہیں یہ خطے بھر میں پھیلا رہا ہے۔ ہم نے جن چیزوں پر قابو پانا ہے اس میں ایران کی تیز رفتار کشتیاں بھی شامل ہیں جن سے عالمی سمندروں میں جہازرانی کو خطرہ ہے، علاوہ ازیں ایران کی جانب سے سائبر حملوں کی صلاحیت بھی ہمارے پیش نظر ہے جسے وہ مسلسل ترقی دے رہا ہے۔ چنانچہ ہم یہ کام اپنے اتحادیوں کی مدد اور ان کی رضامندی سے انجام دیں گے۔

ہمارا چوتھا تزویراتی مقصد ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی ہر راہ مسدود کرنا ہے اور یقیناً اس کا آج ہونے والی صدر کی تقریر میں ‘آئی این اے آر اے’ اور ‘جے سی پی او اے’ کے حوالے سے اعلان کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔

چند سرگرمیاں ایسی ہیں جو ان چاروں تزویراتی مقاصد کی معاونت کرتی ہیں اور ان میں پہلی یہ ہے کہ صدر امریکہ کے روایتی اتحادوں اور علاقائی شراکتوں کی بحالی چاہتے ہیں جو مشرق وسطیٰ میں ایرانی تخریب اور عدم استحکام کا باعث بننے والی سرگرمیوں کے آگے ڈھال کا کام دیں گے۔ علاوہ ازیں صدر خطے میں طاقت کا مزید مستحکم توازن بحال کرنے کے خواہش مند ہیں اور ہمارے روایتی اتحادیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ایرانی تخریبی سرگرمیوں کے سامنے بہتر رکاوٹ ثابت ہو سکیں۔

اس سلسلے میں دوسری سرگرمی کے بارے میں صدر پہلے ہی بات کا آغاز کر چکے ہیں۔ مثال کے طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے موقع پر انہوں نے عالمی برادری کو ایرانی حکومت کی مذمت خاص طور پر پاسداران انقلاب کی جانب سے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں، ایرانی شہریوں پر جبر اور امریکی شہریوں اور دوسرے غیرملکیوں کی مشکوک الزامات میں ناجائز گرفتار یوں پر اکٹھا کیا۔ لہٰذا اس طرح ایرانی حکومت کی جانب سے مضرت رساں طور سے اٹھائے جانے والے تخریبی اقدامات اور ایرانی عوام میں فرق واضح ہو جاتا ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب ایرانی عوام کی جائز خواہشات کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ میں اسی پر اپنی بات ختم کروں گا۔

نگران: ٹھیک ہے، (تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر) دفتر خارجہ سے۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: میں ایرانی حکمت عملی کے اس جائزے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ بہت سی سفارتکاری کی بابت مختصراً بتاؤں گا۔ (دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر) نے ایران کے حوالے سے ہمارے جامع طریق کار کی بابت بتایا ہے۔ ہم اس فیصلے پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ کئی ماہ سے رابطے میں تھے۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک نے بھی ایران کی جانب سے ناصرف خطے بلکہ پوری دنیا میں بہت سی ضرررساں سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے۔

ہم ان تمام سرگرمیوں کے حوالے سے مزید جامع طریق کار سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنی بات چیت میں یہ واضح کیا کہ عالمی برادری نے ایران کی جانب سے دہشت گردی، اس کے میزائل پروگرام، اس کی نقصان دہ سرگرمیوں، اس کی جانب سے متنازع علاقوں میں اپنے آلہ کاروں کے ذریعے کارروائیوں اور خطے میں عدم استحکام کا باعث بننے والی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے جامع طریق کار اختیار نہیں کیا۔ اپنے اتحادیوں سے ہماری بہت سی بات چیت کا مقصد ایران کے حوالے سے جامع طریق کار کی تلاش تھا۔ ایرانی جوہری معاہدے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہماری ابتدائی بات چیت ایران کے حوالے سے جامع طریق کار اختیار کرنے کے حوالے سے خاصی حوصلہ افزا تھی۔ میں اس سے قبل کی گئی بات کا اعادہ چاہوں گا۔ آج اٹھائے گئے اقدامات کا تعلق ہمارے مقامی قانون پر عملدرآمد سے ہے۔ ‘آئی این اے آر اے’ کا ‘جے سی پی او اے’ سے کوئی تعلق نہیں اور اس حوالے سے خاصا الجھاؤ پایا جاتا ہے۔ ہم ‘آئی این اے آر اے’ میں ترمیم کے لیے کانگریس کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہم ‘جے سی پی او اے’ میں خامیوں اور کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت کاروں کے ساتھ بھی کام میں مصروف ہیں۔ یہ دونوں کام ایک ساتھ ہونا ہیں۔ اس حوالے سے طریق کار کی بابت مشاورت پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔

چوتھے اعلیٰ انتظامی افسر: شکریہ، صبح بخیر، میں آپ کو محکمہ خزانہ کی جانب سے آج اٹھائے گئے مخصوص اقدامات کی بابت کچھ باتوں سے آگاہ کروں گا۔ یہ اقدامات ایرانی حکومت کی جانب سے بڑھتی ہوئی عاقبت نااندیشی اور خطرناک و تخریبی طرز عمل کے خلاف صدر کی وسیع تر کوششوں سے ہم آہنگ ہیں۔ چنانچہ آج ہم شام میں تشدد کی مہم میں پاسداران انقلاب کے کردار اور دیگر مخصوص اداروں کی جانب سے ایرانی میزائل پروگرام یا دفاعی صنعتوں کی معاونت کے حوالے سے سرگرمیوں پر بات کر رہے ہیں۔ خصوصی طور پر محکمہ خزانہ کا دفتر برائے انضباط غیرملکی اثاثہ جات انتظامی حکم 13224 کے تحت پاسداران انقلاب کو پابندیوں کے لیے نامزد کر رہا ہے۔ اس حکم میں کانگریس کی جانب سے موسم گرما میں منظور کردہ قانون کی مطابقت سے دہشت گردی کو ہدف بنایا گیا ہے۔ کانگریس کا یہ قانون امریکہ کے مخالفین پر پابندیوں سے متعلق ہے۔

مزید براں ‘او ایف اے سی’ ایران سے تعلق رکھنے والے تین اداروں اور ایک چینی کمپنی کو پاسداران انقلاب سے تعلق کی بنیاد پر پابندیوں کے لیے نامزد کر رہا ہے۔ میں آپ کو اس حوالے سے کچھ تفصیلات سے آگاہ کروں گا جبکہ دیگر تفصیلات آج ہماری جانب سے پریس ریلیز کے اجرا کے بعد دستیاب ہوں گی۔

چنانچہ جہاں تک پاسداران انقلاب کا تعلق ہے تو ایران کے اس ادارے کو قدس فورس کی معاونت پر پابندی کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ایرانی قدس فورس شامی صدر بشارالاسد کی جانب سے اپنے ہی عوام کے خلاف وحشیانہ مظالم میں معاونت کر رہی ہے جبکہ یہ حزب اللہ، حماس اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مہلک سرگرمیوں میں بھی مدد دیتی ہے۔ پاسداران انقلاب شام میں تعینات کیے جانے والے قدس فورس کے اہلکاروں کو تربیت بھی دیتی ہے۔ یہ شامی میدان جنگ میں قدس فورس کے شراکت دار ہیں۔ پاسداران انقلاب شام میں قدس فورس کو فوجی سازوسامان کی منتقلی، اسے تربیت دینے اور افغان و پاکستانیوں کو شام کے سفر میں سہولت دینے دینے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ لوگ شام جا کر قدس فورس میں شمولیت اختیار کر کے ظالم اسد حکومت کی حمایت میں لڑتے ہیں۔

‘او ایف اے سی’ نے دہشت گردی کے حوالے سے اکتوبر 2004 میں جاری ہونے والے عالمی انتظامی حکم نامے 13224 کے تحت قدس فورس پر حماس، حزب اللہ اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کی پاداش میں پابندی عائد کی ہے۔ آج یہ ایران کے ڈیفنس میزائل انڈسٹری گروپ یا ایس اے آئی جی اور پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والی تین اداروں پر بھی پابندی عائد کر رہا ہے۔ آخری بات یہ کہ او ایف اے سی چین سے تعلق رکھنے والے ایک ادارے کو شیراز الیکٹرانکس انڈسٹری سے تعلق کی پاداش میں پابندی کے لیے نامزد کر رہا ہے۔ شیراز انڈسٹری ایرانی وزارت دفاع کے ماتحت یا اس کی ملکیتی ہے جو ایرانی فوج کو بہت سے آلات فراہم کرتا ہے۔

اس اقدام کے نتیجے میں پابندی کا شکار ہونے والے کسی بھی ادارے یا فرد کے امریکی دائرہ اختیار میں آنے والے اثاثہ جات پر پابندی لگا دی گئی ہے اور امریکی شہریوں کو ایسے اداروں اور افراد کے ساتھ لین دین سے روک دیا گیا ہے۔ ان اداروں اور افراد کے ساتھ لین دین کرنے والے غیر امریکی افراد اور ادارے امریکہ کے ساتھ کاروباری تعلق نہیں رکھ سکیں گے۔ ایران کی ضرررساں سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لے اس طرح کی تزویراتی پابندیاں بے حد ہم ہیں۔ آپ نے ان کے بارے میں پہلے ہی سن لیا ہو گا اور یہ اقدامات صدر کی حکمت عملی سے ہم آہنگ ہیں۔

نگران: ٹھیک ہے، آُپ کا بے حد شکریہ۔ اب ہم آپ کے سوالات کی جانب آتے ہیں۔ پہلا سوال فلپ کروتھر کی جانب سے ہو گا۔ جی فلپ، بات کیجیے۔

سوال: آپ کا بے حد شکریہ۔

نگران: معذرت، براہ مہربانی اپنے ادارے کا نام بتائیے۔

سوال: یقیناً، میرا نام فلپ کروتھر ہے اور میں فرانس 24 کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ (تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر) نے کہا کہ آپ پہلے ہی ‘جے سی پی او اے’ میں خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ زیادہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے؟ کیا میں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ کون اس اس سوال کا جواب دینا چاہے گا کہ ایران کے بارے میں نئی حکمت عملی پر کام کرنے والے کتنے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ‘جے سی پی او اے’ اب تک کا بدترین معاہدہ تھا؟

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: صدر نے ‘آئی این اے آر اے’ کی تصدیق سے انکار کر دیا ہے اور اس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ‘جے سی پی او اے’ نے ایران کو ناجائز چھوٹ دی ہے۔ اس معاہدے سے ایران کو جو فوائد ہوئے وہ بدلے میں اس کے اقدامات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر جب وزیرخارجہ نے مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں شرکت کی تو انہوں نے ارکان کو اس معاہدے کی خامیوں اور کمزوریوں کی بابت بھی آگاہ کیا تھا۔ اسی طرح انہوں نے ایرانی سرگرمیوں کی تفصیل بھی پیش کی جو امن و سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ہم نے اپنی ابتدائی بات چیت میں دیکھا ہے کہ دوسرے ممالک بھی ایران کی ان سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ایرانی جوہری معاہدہ ایک ایسا طیف بن گیا ہے جس کے ذریعے لوگ مجموعی ایرانی پالیسی کا اندازہ لگاتے ہیں مگر حقیقت میں یہ اس کا محض ایک حصہ ہے۔ یہ اسلحے پر انضباط کا عملی منصوبہ ہے۔ یہ اسلحے پر کنٹرول کا معاہدہ بھی نہیں ہے جیسا کہ ظریف آپ کو بتائیں گے یہ عملی منصوبہ ہے۔ چنانچہ اگر یہ محض ایک عملی منصوبہ ہے تو منصوبے تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔ جے سی پی او اے میں مشہور زمانہ خامیوں اور کمزوریوں کو دیکھا جائے تو ہم اس منصوبے کو بہتر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام سے نمٹنے کے بہت سے طریقے ہیں اور اس جوہری پروگرام سے ہٹ کر دیگر معاملات سے نمٹنے کے بھی بہت سے طریقے ہیں۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جوہری فائل نمٹا دی ہے مگر اس نے یکطرفہ پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔ چنانچہ ہم نے اس معاہدے سے قبل کثیرطرفی اور یکطرفہ پابندیاں بھی لگائی تھیں۔ یہ پابندیاں دوبارہ نافذ ہو سکتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے کیسے باز رکھ سکتے ہیں؟ ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی اہلیت پانے سے روکا جائے اور اس کے بہت سے طریقے ہیں جن کے بارے میں ہم دوسرے ممالک سے بات کریں گے۔ ہم اپنی حکمت عملی کے ان اہداف کے حصول کے لیے کھل کر عمل کریں گے۔

نگران: شکریہ، این کسٹر والٹرز۔ ہیلو این، آپ کا تعلق جرمنی میں ڈی پی اے سے ہے؟

سوال: جی، میرا تعلق جرمن پریس ایجنسی ڈی پی اے سے ہے۔ میں امید کر رہی تھی کہ پینل میں کوئی فرد اپنے اتحادیوں سے آپ کی بات چیت کے بارے میں قدرے مزید تفصیلات بتائے۔ خاص طور پر میں یورپی اتحادیوں سے اس ضمن میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں جاننے کی خواہاں ہوں۔ آپ کو ان اتحادیوں سے کیسا ردعمل موصول ہوا ہے اور جے سی پی او اے میں خامیوں پر قابو پانے کے لیے آپ انہیں کیسے قائل کریں گے۔ شکریہ۔

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: میں دو چھوٹے سے تبصروں سے بات کا آغاز کروں گا۔ پہلی بات یہ کہ بہت سی بات چیت اس الجھاؤ کو دور کرنے پر مرتکز ہے جس کا تذکرہ میں نے اپنے افتتاحی کلمات میں کیا ہے۔ ہم اپنے یورپی اتحادیوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے معاہدے کی تصدیق سے انکار کا مطلب اس معاہدے سے نکل جانا ہرگز نہیں۔ ہم انہیں اپنے مقامی قانون اور عالمی معاہدے میں فرق بھی سمجھا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اور بات پر بھی توجہ مرتکز ہے۔ اس حوالے سے (تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر) اغلباً میری نسبت زیادہ تفصیل سے آگاہ ہوں گے۔ ہمارے بہت سے یورپی شراکت داروں نے اس معاہدے کے محدودات کے حوالے سے اسی مایوسی کا اظہار کیا ہے جو امریکہ نے ظاہر کی ہے اور جس کا اظہار ہمارے صدر نے کیا ہے۔ خاص طور پر اگر اس کا مقصد ایران کو مستقل طور پر جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے تو پھر اس معاہدے میں اختتامی تواریخ کا کیا مطلب ہے؟ اس کے علاوہ بلسٹک میزائلوں کا معاملہ بھی ہے جو جوہری ہتھیاروں کے معاملے سے وابستہ ہے۔ آپ ہتھیاروں کو ان کے ترسیلی نظام سے الگ نہیں کر سکتے۔ ان معاملات پر بات ہونا ہے۔ چنانچہ ہم اپنے یورپی شراکت داروں اسے ان معاملات پر بات چیت کر رہے ہیں۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: اس کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ ہم جوہری ایران کی پالیسی مسترد کرتے ہیں۔ اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی صلاحیت سے روکنا ہماری پالیسی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ کئی سال کے دوران ایران کے معاہدے پر اس قدر بات ہوئی ہے کہ لوگ اس سے ایران کو خاص طور پر اس خطے اور عمومی طور پر دنیا بھر میں ہونے والے فوائد کی بابت جانتے ہیں۔ اس معاہدے کے بعد اس سے ہٹ کر ایران کی تمام سرگرمیوں سے اغماض برتا گیاجبکہ ہم اس معاہدے میں بہتری لانے کے حوالے سے کانگریس اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ بیک وقت کام کر رہے ہیں۔

نگران: ٹھیک ہے، کیا مریم بورجیس فلوریز یہاں موجود ہیں؟

سوال: نہیں، مگر میں لوسیا لیئل ہوں، میرا تعلق ای ایف ای سے ہے، میں ان کی ساتھی ہوں۔

سوال: معذرت، وہ آج یہاں نہیں آ سکیں۔

نگران: خوش آمدید، شکریہ۔

سوال: وزیرخارجہ ٹلرسن نے گزشتہ روز اپنی بریفنگ میں کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ ‘جے سی پی او اے’ کے فریقین کے ساتھ غالباً ایک نیا معاہدہ پسند کرے گی تاکہ پہلے معاہدے میں سامنے آنے والی خامیوں کو دور کیا جا سکے۔ چنانچہ مجھے یہ کہنا ہے کہ کیا آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ آپ کو دوسرے معاہدے میں کیا کچھ درکار ہے۔ دوسری بات یہ کہ صدر کانگریس سے ‘آئی این اے آر اے’ میں کون سے اہداف شامل کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ شکریہ۔

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: اس حوالے سے تین بنیادی باتیں ہیں جن میں مقرر مدت کے بعد جوہری معاہدے کے خاتمے کی شرائط، بلسٹک میزائل اور نفاذ کی کمزور شرائط شامل ہیں۔ میں یہاں وضاحت کرتا چلوں اورجہاں کہیں مجھ سے غلطی ہو وہاں (تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر) مجھے درست کر سکتے ہیں۔ جہاں تک میں نے سنا وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس معاملے کو کیسے حل کیا جائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ‘کیا آپ موجودہ معاہدے پر دوبارہ گفت و شنید کرنا چاہتے ہیں؟’ اور ان کا کہنا ہے کہ ہمیں اس انداز میں یہ معاملہ حل نہیں کرنا۔ ہمیں اس حوالے سے شبہات ہیں اور دوسرا معاہدہ اس کا ممکنہ حل ہو سکتا ہے۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: ٹھیک ہے، میں اس بات پر زور دوں گا کہ اس معاہدے کی واحد سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ مقررہ مدت کے بعد اس نے ختم ہو جانا ہے اور یوں ایران مستقبل میں صنعتی پیمانے پر افزودگی کے لیے آزاد ہو گا جو کہ تیزی سے جوہری ہتھیار بنانے کے ضمن میں ایک اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔ وزیرخارجہ نے گزشتہ روز اس بارے میں بات کی تھی اور کہا تھا کہ معاہدے میں ٰیہی سب سے بڑی خامی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ اس معاہدے میں ایران پر عائد ہونے والی ذمہ داری اس قدر کم ہے کہ ہر 90 روز بعد ‘آئی این اے آر اے’ کی تصدیق کے موقع پر ان کے اقدامات معاہدے کی شرائط سے ہم آہنگ ہوں تو ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

ہم سمجھتے ہیں یہ یہ ایک بے توازن معاہدہ ہے اور کئی سال کی محنت کے نتیجے میں ایران پر لگائی گئی پابندیوں کے ذریعے اس سے بہترمعاہدے تک پہنچنا بھی ممکن تھا۔ تاہم جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہم یہ امر یقینی بنانے کے لیے ہر طریقہ اختیار کر سکتے ہیں کہ ایران کبھی جوہری صلاحیت حاصل نہ کرنے پائے۔ اس معاہدے سے قبل ہمارے پاس پابندیوں کا ایک نظام موجود تھا، ہم کئی انداز سے یہ کام کر سکتے ہیں۔

میں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ عملی منصوبہ ہتھیاروں پر کنٹرول کا معاہدہ نہیں ہے۔ یہ تصدیق کے لیے کانگریس کو نہیں بھیجا گیا تھا اور اسے امریکی عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ صدر نے اسے تبدیل کرنے اور اس میں بہتری لانے کے لیے کانگریس اور اپنے شریک کار ممالک سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ناصرف اس معاہدے بلکہ اس سے ہٹ کر ایران کی سرگرمیوں پر بھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: یہ ایک اہم نکتہ ہے، میں جانتا ہوں کہ غیرملکی میڈیا سے تعلق رکھنے والے آپ تمام لوگ امریکی سیاسی نظام کی خبریں دیتے ہیں، اسی لیے آپ اس بابت آگاہ ہیں تاہم میں اس بات پر زور دوں گا کہ اس معاہدے کو تصدیق کے لیے کانگریس کے پاس نہ بھیجنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ معاہدہ کرنے والوں کو علم تھا کہ کانگریس اس کی توثیق نہیں کرے گی۔ چنانچہ کانگریس نے سمجھا کہ اس کے پاس خود کو ایسے عمل میں شامل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں جس سے انتظامی شعبے نے خود کو الگ کر لیا تھا۔ موجودہ صدر متحرک طور سے کانگریس کے ساتھ رابطے میں ہیں جو کہ امریکی عوام کا متنخب ادارہ ہے اور جو آئینی طور پر عالمی معاہدوں کی نگرانی کا مجاز ہے۔

نگران: کیا جولین بورگر یہاں موجود ہیں؟ جولیان؟ جیمز مارٹون؟

سوال: جی میں یہیں ہوں۔

نگران: ہیلو

سوال: ہیلو

نگران: آپ کا کیا حال ہے؟

سوال: میرا ۔۔۔

نگران: آپ کا تعلق سکائی نیوز عریبیا سے ہے، ایسا ہی ہے؟

سوال: ہیلو، گزشتہ روز میری وزیرخارجہ ٹلرسن سے فون پر بات ہوئی، کسی نکتے پر انہوں نے ‘آئی این اے آر اے’ کے بارے میں بات کی کہ جب تک مستقبل کا صدر اس میں تبدیلی نہ لائے اس وقت تک یہ قانون برقرار رہے گا۔

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: ٹھیک، میرا خیال ہے کہ وہ ۔۔۔

سوال: لہٰذا ۔۔۔

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: اس نکتے کے حوالے سے وہ یہ کہہ رہے تھے کہ بنیادی قانون بڑا ہے، یہ لازمی طور سے مستقل نہیں ہوتا۔ ایسے قوانین کی جگہ نئے قوانین لائے جا سکتے ہیں تاہم امریکی قوانین محض انتظامی معاہدوں سے زیادہ مستقل ہوتے ہیں، درست؟ لہٰذا آپ کانگریس کے دونوں ایوانوں کے ذریعے ان میں ترامیم کر سکتے ہیں اور اس میں انتظامی معاہدے سے زیادہ طاقت ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسے قوانین کبھی تبدیل نہیں ہو سکتے۔ مستقبل کی کانگریس کسی بھی وقت قانون کو تبدیل کر سکتی ہے اور صدر اس پر دستخط کر سکتے ہیں۔ وہ یہ نکتہ بیان کر رہے تھے۔

سوال: جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اب یہ معاہدہ ہو چکا ہے جس کی مدت 13 برس ہے جو کہ امریکہ میں نئے صدر کے آنے کی زیادہ سے زیادہ مدت سے بھی زیادہ طویل ہے۔۔۔۔

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: میں وہی بات کہوں گا جو میں نے ابھی کہی کہ بہت کم امریکی قوانین تبدیل ہوتے ہیں۔ دونوں ایوانوں میں قانون سازی کے طویل عمل کے بعد ہی ایسا ہوتا ہے جس پر صدر دستخط کرتے ہیں۔ چنانچہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے بنائے گئے قوانین طویل مدتی ہوں گے۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: میں کہوں گا کہ موجودہ صدر کی دوسری مدت کے اختتام پر بھی ایرانی معاہدے کی مدت ختم نہیں ہو گی۔ لہٰذا یہ بات ہمارے ذہن میں ہے کہ اس کی ایک مدت ہے۔ اگر آپ اس حوالے سے کانگریس کے ساتھ مل کر کام کریں تو یہ انتظامیہ کی دوسری مدت کے بعد بھی جاری رہے گی۔ وزیرخارجہ نے مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں اس معاہدے پر دستخط کرنے والے فریقین کو بتایا کہ یہ کوئی معاہدہ نہیں ہے اس لیے اس کی کوئی ٹھوس بنیاد بھی نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہ ایک عملی منصوبہ ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے بہت تگ و دو کرنا پڑی ہے اور کانگریس نے بھی اسے منظور نہیں کیا۔

یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہمیں ورثے میں ملی۔ یہ ایک بہت برا معاہدہ ہے جس سے امن کی ضمانت نہیں ملتی جبکہ ایران ایسی بہت سی سرگرمیوں میں ملوث ہے جن سے ہمیں خطرہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ان سے امن اور سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں ہم کانگریس کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں اور ہمارا مقصد اس معاملے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ آپ اسے مکمل طور سے اس انداز میں تبدیل نہیں کر سکتے مگر کانگریس کو اس میں شریک کر کے آپ اس منصوبے کو اس سے کہیں زیادہ مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں جو ہمیں ورثے میں ملی تھی۔ ہمیں ورثے میں معاہدہ نہیں ملا بلکہ یہ ایک عملی منصوبہ ہے۔

نگران: لا سٹیمپا سے پاؤلو۔

سوال: بریفنگ کے لیے بے حد شکریہ، یرا نام پاؤلو میسٹروللی ہے اور میں اٹلی کے روزنامے لا سٹیمپا کے لیے امریکی بیورو چیف کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہا ہوں۔ ایرانی جوہری معاہدے کے بعد متعدد یورپی ممالک بشمول اٹلی نے ایران کے ساتھ معاشی تعلقات بحال کیے۔ کیا آپ آج کے اقدام میں اس بابت بھی غور کر رہے ہیں۔ کیا آپ نے یہ سوچا ہے کہ جب آپ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کریں گے تو یورپی ممالک کے ایران سے تجارتی تعلقات کا کیا ہو گا اور آپ اپنے اتحادیوں سے اس بارے میں کیسی مدد چاہیں گے۔ مثال کے طور پر اگر پاسداران انقلاب ان ممالک کے ایران سے تجارتی تعلقات کے نتیجے میں فائدہ حاصل کرتا ہے تو پھر کیا ہو گا؟

دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر: ہمیں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کی توقع ہے اور ہم پہلے ہی ان سے اس بابت بات چیت کر رہے ہیں کہ اپنی پابندیوں کو ہر ممکن حد تک پاسداران انقلاب کے خلاف کیسے استعمال کیا جائے۔

جہاں تک ایران کے ساتھ یورپی ممالک کے تجارتی تعلقات کا معاملہ ہے تو میرے خیال میں جیسا کہ چوتھے اعلیٰ انتظامی افسر نے بتایا ہے محکمہ خزانہ کی پابندیوں اور ہماری موجودی پابندیوں کے حوالے سے ہم اپنے یورپی شریک کاروں کو یہ بتا رہے ہیں کہ وہ اس بارے میں خاص احتیاط سے کام لیں کہ وہ ایران میں کس سے لین دین کر رہے ہیں اور اس تجارت سے کون مستفید ہو رہا ہے اور کہیں ایرانی حکومت اپنے مذموم مفادات کی تکمیل کے لیے فرضی کمپنیوں کے ذریعے یا مخصوص کاروباری اداروں کے ذریعے بالواسطہ طور پر آپ سے تجارت تو نہیں کر رہی۔ چنانچہ یورپی اداروں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہو گا کہ وہ انجانے میں ایرانی اداروں کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے پائیں۔ انہیں اس حوالے سے ہمیشہ ضروری ہوشیاری سے کام لینا ہو گا اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس بابت اپنے یورپی شریک کاروں سے بات کریں گے تاکہ وہ اس حوالے سے درکار معلومات حاصل کر سکیں۔

چوتھے اعلیٰ انتظامی افسر: جی اور مجھے اس میں یہ اضافہ کرنا ہے کہ ایرانی معیشت میں شفافیت کا عنصر بہت کم ہے۔

دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر: درست۔

چوتھے اعلیٰ انتظامی افسر: شاید آپ جانتے ہوں وہ ‘ایف اے ٹی ایف’ کے معیارات سے کوسوں دور ہیں جس کے باعث ضروری چوکسی مشکل ہو جاتی ہے خصوصاً جب پاسداران انقلاب کا معیشت پر اس قدر اثرورسوخ ہو تو یہ کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس پر بھی یورپی شراکت داروں سے ہماری بات چیت ہو گی۔

نگران: کیا چین سے سی سی ٹی وی کے لیگنان (پی ایچ) یہاں موجود ہیں؟ چنگ؟

سوال: جی، شکریہ

نگران: جی، کیا آپ شنگھائی سے وابستہ ہیں؟

سوال: جی، میرا تعلق شنگھائی میڈیا گروپ سے ہے۔ آپ (نگران) کا بے حد شکریہ۔ میرا (پہلے اعلیٰ انتظامی افسر) اور (تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر) سے سوال ہے۔ مجھے (پہلے اعلیٰ انتظامی افسر) سے یہ پوچھنا ہے کہ آیا ہم نے چین یا روس جیسے اتحادیوں سے اس بارے میں بات کی ہے۔ اس حوالے سے ساکھ کا مسئلہ ہے، میرا مطلب ہے کہ ناصرف شمالی کوریا مستقبل میں ایسے ممکنہ سفارتی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا بلکہ روس اور چین بھی ایسا کر سکتے ہیں جو کہ ناصرف اس معاہدے کے فریق ہیں بلکہ چھ فریقی بات چیت کے ارکان بھی ہیں اور اس کے علاوہ یہ دونوں ممالک سلامتی کونسل کے مستقبل ارکان بھی ہیں۔ چنانچہ امریکہ بڑی طاقتوں کو کیسے یقین دہانی کرا سکتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کاروبار کرنا بہتر ہو گا؟ مجھے (تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر) سے بھی پوچھنا ہے کہ کیا دفتر خارجہ نے اس تازہ ترین فیصلے کی بابت روس یا چین سے بھی بات کی تھی؟ شکریہ۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: وزیرخارجہ، معذرت، پہلے آپ بات کریں۔

پہلے آعلیٰ انتظامی افسر: نہیں، آپ بات کیجیے۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: نہیں، نہیں، نہیں، آپ بولیں۔

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: آپ پہلے بات کر سکتے ہیں، مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: وزیرخارجہ نے متعدد ممالک سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور صدر کی جانب سے اس حکمت عملی کے اعلان کے بعد ہم مزید رابطے کریں گے۔ میرے پاس فون پر ہونے والی اس گفت و شنید کا ریکارڈ موجود نہیں ہے تاہم انہوں نے رابطے کیے۔ یہ ۔۔۔۔

سوال: خاص طور پر چین اور روس سے بات ہوئی؟

سوال: چین اور روس سے؟

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: جی دونوں سے بات ہوئی۔

سوال: ٹھیک ہے۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: ہاں

سوال: اور کیا ۔۔۔

دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر: میرے پاس اس کا ریکارڈ نہیں ہے۔

سوال: ٹھیک ہے۔

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: دیکھیے، ہم نے گزشتہ چند روز سے یہ بات سنی ہے کہ صدر کے آج کے اقدامات سے شمالی کوریا کے حوالے سے معاملات کو نقصان پہنچے گا۔ تاہم یہ ایک مفروضہ ہے جس کے حق میں کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت کی جائے گی جبکہ یہ اس وقت امریکی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔ درحقیقت آپ نے بہت سے اعلیٰ حکام سے متعدد مرتبہ یہ بات سنی ہو گی کہ یہ شمالی کوریا سے بات چیت کا وقت نہیں ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مستقبل میں بھی کسی وقت شمالی کوریا سے بات چیت نہیں ہو سکتی۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ وقت کب آئے گا۔ بظاہر اس کا فوری امکان دکھائی نہیں دیتا اور ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اس نکتے تک پہنچنے سے قبل شمالی کوریا کے رویے میں بعض نمایاں تبدیلیاں درکار ہیں۔

کہا گیا ہے کہ اگر آپ اس معاہدے سے نکل جاتے ہیں تو ایسے میں کوئی کسی اور معاہدے کے لیے آپ پر اعتبار کیسے کرے گا اور یوں آپ گویا اپنے مستقبل کے امکانات کو خود ہی ختم کیے دیتے ہیں۔ میرا مطلب یہ ہے کہ موجودہ انتظامیہ کے تناظر میں اس سوال کا جواب یہ ہو گا کہ ہم برے معاہدے نہیں کرنا چاہتے۔ میرا مطلب ہے کہ امریکہ اس معاہدے کو ترک نہیں کر رہا۔ پہلی بات یہ کہ ہم اس معاہدے کو ترک نہیں کر رہے اور شاید کبھی نہ کریں۔ دوسری بات یہ کہ ہم اس معاہدے میں خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہمارے خیال میں اس معاہدے کے مقصد کو کمزور کیے دیتی ہیں۔

اگر موجودہ انتظامیہ نے کسی اور ملک سے کوئی اور معاہدہ کیا تو یہ امریکی عوام کے مفاد میں ایک اچھا معاہدہ ہو گا اور امریکہ کو لازمی طور سے مستقبل میں اس پر نظرثانی نہیں کرنا پڑے گی۔

یہ صرف ‘جے سی پی او اے’ کا معاملہ ہی نہیں ہے۔ صدر گزشتہ دہائیوں میں اس ملک کی قیادت کی جانب سے کیے گئے بہت سے دوسرے معاہدوں پر بھی ایسی ہی تنقید کرتے ہیں جن میں بہت سے تجارتی معاہدے اور دوسرے معاملات شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ معاملہ کاروں نے امریکی عوام کے حق میں اچھے معاہدے نہیں کیے اور اس ضمن میں بہتری کے لیے عوام نے انہیں منتخب کیا اور وہ اس حوالے سے اپنا وعدہ پورا کریں گے۔

دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر: کیا میں جلدی سے اس میں ایک اضافہ کر سکتا ہوں؟ ہمارا خیال ہے کہ یہ ایسی بات نہیں کہ ایران کی صورتحال پر ہمارا فیصلہ مستقبل میں شمالی کوریا کے حوالے سے حالات پر اثرانداز ہو گا۔ اس کے بجائے ہم سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا کے حوالے سے ماضی کے حالات دیکھ کر ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہمیں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں موجود خامیاں دور کرنی چاہیں تاکہ صورتحال اس نہج پر نہ پہنچ جائے کہ ہمیں شمالی کوریا جیسی ایک اور صورتحال کا سامنا ہو۔ میرے خیال میں تجزیاتی طور پر ان دونوں معاملات میں یہی بنیادی تعلق ہے۔

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: مجھے یہ بات کہنا چاہیے تھی (قہقہہ) اس انداز میں ۔۔۔۔

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: اس انداز میں ۔۔۔۔

دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر: یہ سب، ہم سب پس منظر میں ہیں۔

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: اس انداز میں دیکھا جائے تو متفقہ فریم ورک اپنے وقت کا ‘جے سی پی او اے’ تھا، یہ ایک برا معاہدہ تھا جس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور دیکھیے آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔

نگران: شمبون سے بروس سٹیورٹ، یا سکاٹ؟

سوال: میرا نام سکاٹ ہے۔

نگران: اوہ، معذرت

سوال: اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

نگران: سکاٹ بروس

سوال: کیا شمالی کوریا اور ایران میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی بابت تعاون کا ایران کے حوالے سے حالیہ نئی حکمت عملی پر پیش رفت میں کوئی کردار ہے؟

پہلے اعلیٰ انتظامی افسر: سرکش ریاستوں اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی بابت برے ریکارڈ کے حامل ممالک میں باہمی روابط پر ہمیں ہمیشہ تشویش رہی ہے اور ہمارے سوچ میں اس کا اہم کردار ہے۔ اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے آپ (دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر) سے رجوع کر سکتے ہیں۔

دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر: ہمیں ان ممالک کی جانب سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی بابت تشویش ہے اور ماضی میں ان دونوں کے مابین اس حوالے سے تعلقات رہے ہیں۔ ہم اس کا بنظرغائر جائزہ لے رہے ہیں۔

نگران: اور ہمارا آخری سوال۔ جی بات کیجیے۔

سوال: شکریہ، میں نادیہ بلباسی ہوں، میرا تعلق العربیہ سے ہے۔ میں جلدی سے تین سوالات کروں گی۔ میرا پہلا سوال (دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر) سے ہے۔ آپ نے کہا کہ اس حکمت عملی کا ایک حصہ یہ ہے کہ ان کی مالیات پر روک لگائی جائے یا انہیں رقم کے حصول سے محروم کر دیا جائے۔ مگر آپ یہ سب کچھ کیسے کریں گے؟ آپ انہیں کیسے روکیں گے خاص طور پر جب وہ پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد اربوں ڈالر بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ایسی کوئی شق نہیں جو یہ کہتی ہو کہ یہ رقم غیرریاستی کرداروں یا دہشت گردی کی معاونت کے بجائے معیشت بہت بنانے پر خرچ ہونی چاہیے۔

(تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر) سے میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے کہا آپ معاہدے کو مضبوط بنانے کے خواہش مند ہیں اور (پہلے اعلیٰ انتظامی افسر) نے بھی یہی بات کہی۔ تاہم ایرانی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ دوبارہ گفت وشنید نہیں کریں گے۔ آج روس نے بھی اس معاہدے پر دوبارہ بات چیت کے حوالے سے خبردار کیا ہے خواہ آپ اسے مضبوط بنائیں یا یہ ایک اندرونی معاملہ ہو۔ وہ پہلے ہی اپنا نکتہ نظر واضح کر چکے ہیں کہ یہ ایک معاہدہ ہے اور ہمیں اس پر عمل کرنا ہے۔

آخر میں (چوتھے اعلیٰ انتظامی افسر) سے میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے ‘آر سی جی’ سے لین دین کرنے والے اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ جیسا کہ بہت سے لوگ کہیں گے آپ ‘آر سی جی’ کے خلاف اقدامات کیوں نہیں اٹھاتے؟ کیونکہ وہ دہشت گردی کے بڑے معاون ہیں اور حزب اللہ اور حوثیوں سمیت دنیا بھر میں ایسے عناصر کی مالی معاونت کرتے ہیں۔

چوتھے اعلیٰ انتظامی افسر: ہم نے ‘آئی آر جی سی’ کے خلاف آج انتظامی حکم 13224 کے تحت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

سوال: اوہ، میں گڈ مڈ کر گئی تھی، ٹھیک ہے، شکریہ۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: (دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر) کیا آپ آگے بات کرنا چاہیں گے؟

دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر: دراصل میں (چوتھے اعلیٰ انتظامی افسر) سے اختلاف کروں گا، دراصل، میرا مطلب ہے کہ جن اقدامات کی بابت (چوتھے اعلیٰ انتظامی افسر) نے آج بات کی وہ ایک ایسا طریق کار ہے جس سے ہم کام لیں گے مگر مجھے (چوتھے اعلیٰ انتظامی افسر) سے اختلاف ہے۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: (مائیک کے بغیر) (قہقہہ)

چوتھے اعلیٰ انتظامی افسر: آپ کا سوال کیا ہے؟

دوسرے اعلیٰ انتظامی افسر: سوال یہ تھا کہ پاسداران انقلاب کی مالیات تک کیسے رسائی پائی جائے گی؟

چوتھے اعلیٰ انتظامی افسر: کیسے روکا جائے ۔۔۔۔

سوال: آپ کے پاس یہ امر یقینی بنانے کا کیا طریقہ ہے کہ وہ اس رقم کو دہشت گردی یا کسی دوسرے منفی مقصد کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔

 چوتھے اعلیٰ انتظامی افسر: جیسا کہ آپ جانتے ہیں، موجودہ انتظامیہ کے آغاز سے ہی ہم نے پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے متعدد اداروں پر پابندیاں عائد کیں جو بلسٹک میزائل کے حصول، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دہشت گردی کی حمایت سے متعلق سرگرمیوں میں تعاون کرتے ہیں۔ ہم اس معاملے میں تسلسل سے پیغام دیتے رہے ہیں کہ ان اداروں سے تعلق رکھنے والوں کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔ اس حوالے سے ہم ایسے ہی اقدامات کے لیے اپنے شریک کار ممالک سے بھی بات چیت کرتے چلے آئے ہیں۔ اب بھی پابندیوں کے حوالے سے ہمارا دوسری طریق کار لاگو ہے، میرا خیال ہے کہ بینک بھی اس حوالے سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ انہیں بہرصورت اس معاملے میں تعاون کرنا ہے۔ چنانچہ ہم نے گزشتہ نو دس ماہ میں اس سمت میں بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں جو صدر کی حکمت عملی سے ہم آہنگ ہیں۔ ہم ان کی فنڈنگ ختم کرنے کے لیے اقدامات کرتے رہیں گے۔

نگران: ٹھیک ہے، آپ سبھی کا شکریہ۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: میں جواب دے سکتا ہوں ۔۔۔

چوتھے اعلیٰ انتظامی افسر: جی بات کیجیے، ٹھیک ہے، بات کریں۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: میرے پاس آپ کے دوسرے سوال کا جواب ہے۔

سوال: جیسا کہ آپ جانتے ہیں سبھی کے پاس سوالات بھیجنے کے لیے ای میل نہیں تھی، اسی لیے ہو سکتا ہے کہ چند فاضل لوگ ۔۔۔

نگران: مجھے اس کا علم ہے۔ ان سبھی کو آج اپنے دیگر کام بھی نمٹانا ہیں، اس لیے آپ کا بے حد شکریہ۔

تیسرے اعلیٰ انتظامی افسر: آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ ہمیں ایران کی جانب سے بہت سی باتوں کی توقع ہے اس لیے ہم ان ابتدائی مرحل پر اس کے کہے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ دیگر ممالک اس عملی منصوبے کو بہتر بنانے سے انکار کے ضمن میں سخت موقف بھی اختیار کر سکتے ہیں مگر یہ منصوبہ دراصل ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی اہلیت پانے سے روکنے کا صرف ایک طریقہ ہے۔

نگران: ٹھیک ہے، شکریہ۔ یہاں آنے پر سبھی کا شکریہ، آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔ اس بات چیت کو نشروشائع کرنے پر پابندی دن 11:30 تک برقرار رہے گی۔ آپ کا بے حد شکریہ۔


اصل مواد دیکھیں: https://fpc.state.gov/274797.htm
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں