rss

محکمہ خزانہ کی جانب سے ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کے عسکری معاونین کے خلاف پابندیاں

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی محکمہ خزانہ
13 اکتوبر 2017

واشنگٹن: آج امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے انضباط غیرملکی اثاثہ جات (او ایف اے سی) نے ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کو دہشت گردی سے متعلق عالمی انتظامی حکم (ای او) 13224 اور امریکہ کے مخالفین پر پابندیوں کے قانون کی مطابقت سےان پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ او ایف اے سی نے آج پاسداران انقلاب کو قدس فورس کی حمایت کے سلسلے میں اس کی سرگرمیوں کی بنا پر نامزد کیا ہے جس پر 25 اکتوبر 2007 کو جاری کردہ انتظامی حکم 13224 کی رو سے پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ قدس فورس پر یہ پابندیاں حزب اللہ، حماس اور طالبان جیسے متعدد دہشت گرد گروہوں کی معاونت کی پاداش میں عائد کی گئی تھیں۔ پاسداران انقلاب نے قدس فورس کو مادی معاونت فراہم کی جس میں تربیت، افرادی قوت اور عسکری سازوسامان شامل ہے۔

مزید براں آج ‘او ایف اے سی’ نے پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج کی مدد کرنے والے چار اداروں کو انتظامی حکم 13382 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ یہ انتظامی حکم وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانےو الےہتھیاروں کے پھیلاؤ اور ان کے حامیوں کو ہدف بناتا ہے۔

وزیرخزانہ سٹیون ٹی منوچن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ‘پاسداران انقلاب نے ایران کو ریاستی سطح پر دہشت گردی کے فروغ کا ذمہ دار بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ایران علاقائی استحکام کی قیمت پر طاقت کے حصول کی جدوجہد کر رہا ہے اور محکمہ خزانہ اپنے اختیارات کے تحت پاسداران انقلاب کی تباہ کن سرگرمیوں کے خاتمے کا عمل جاری رکھے گا’

ان کا کہنا تھا کہ ہم پاسداران انقلاب کو قدس فورس کی معاونت کی پاداش میں پابندیوں کے لیے نامزد کر رہے ہیں۔ قدس فورس ایران کا وہ اہم ترین ادارہ ہے جو شامی صدر بشارالاسد کو اپنے ہی عوام کے خلاف ظالمانہ تشدد کی مہم چلانے کے لیے مسلسل مدد دے رہا ہے جبکہ یہ حزب اللہ، حماس اور دیگر دہشت گروہوں کی مہلک سرگرمیوں کا بھی معاون ہے۔ ہم نجی شعبے پر زور دیتے ہیں کہ وہ یہ بات سمجھے کہ ایرانی معیشت کے بیشتر حصے میں پاسداران انقلاب کا اثرونفوذ موجود ہے اور اس کے زیراہتمام کمپنیوں سے لین دین کرنے والے شدید خطرات کے دہانے پر ہوں گے۔

پاسدران انقلاب

آج پاسداران انقلاب کو قدس فورس کی مدد، تعاون یا اسے مالی، مادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مدد دینے یا مالیاتی یا دوسری خدمات مہیا کرنے کی پاداش میں پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ پاسداران انقلاب قدس فورس کی کو جنم دینے والا ادارہ ہے جسے قبل ازیں 25 اکتوبر 2007 کو جاری کردہ انتظامی حکم 13382 کے تحت ایرانی بلسٹک میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد دینے اور 9 جون 2011 کو جاری کردہ انتظامی حکم 13553 اور  23 اپریل 2012 کو جاری ہونے والے انتظامی حکم 13606 کے مطابق ایران کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں معاونت فراہم کرنے پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

پاسداران انقلاب نے قدس فورس کو تربیت، افرادی قوت اور فوجی سازوسامان کی فراہمی سمیت مادی معاونت مہیا کی ہے۔ پاسداران انقلاب نے قدس فورس کے ارکان کو شام میں تعینات کرنے سے قبل اپنے ہاں تربیت دی اور اپنی روایتی بری افواج کے کم از کم سینکڑوں افراد کو شام میں قدس فورس کی کارروائیوں میں معاونت کے لیے تعینات کیا۔ شام میں پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے قدس فورس کو عسکری معاونت فراہم کی اور میدان جنگ میں اسے مدد دی جس میں اہم جنگی معاونت بشمول نشانہ بازوں اور مشین گن چلانے والوں کی اعانت شامل ہیں۔

مزید براں پاسداران انقلاب نے افغان اور پاکستانیوں کو بھرتی کر کے تربیت دی اور انہیں شام کے سفر کے لیے سہولت فراہم کی جہاں ان اہلکاروں کو قدس فورس کے ساتھ مل کر لڑنے کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔ پاسداران انقلاب نے قدس فورس کے ساتھ مل کر شام کو اسلحے کی فراہی میں بھی مدد دی۔ پاسداران انقلاب نے عراق اور شام میں قدس فورس کو فوجی سازوسامان کی منتقلی کے لیے اپنے اڈے اور عام ایئرپورٹس استعمال کیے۔

شاہد عالم الہدیٰ انڈسٹریز، رستافان اور فناموج

‘او ایف اے سی’ نے آج ایران سے تعلق رکھنے والے تین اداروں کو بھی ایرانی فوج کے دو مرکزی عناصر سے متعلق سرگرمیوں کی پاداش میں انتظامی حکم 13382 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ شاہد عالم الہدیٰ انڈسٹریز (ایس اے آئی) کو ایرانی بحری دفاع کی صنعت (ایس اے آئی جی) کی ملکیت ہونے یا اس کے زیراہتمام چلائے جانے کی پاداش میں نامزد کیاگیا ۔ ایس اے آئی جی کروز میزائلوں کی تیاری میں ملوث ہے اور 16 جون 2010 کو جاری کردہ انتظامی حکم 13382 کی رو سے اس پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ ایس اے آئی جی پر اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے بھی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ایس اے آئی جی کا براہ راست ماتحت ‘ایس اے آئی’ میزائلوں کے حصے تیار کرنے میں ملوث ہے۔

رستافان ارتباط انجینئرنگ کمپنی (رستافان) کو ایس اے آئی جی اور پاسداران انقلاب کو مالیاتی، مادی یا ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات یا دیگر اشیا اور خدمات فراہم کرنے یا ایسی کوششوں پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ رستافان نے ‘ایس اے آئی جی’ کو ریڈار نظام فراہم کیے اور پاسداران انقلاب کو مواصلاتی سازوسامان مہیا کیا۔

رستافان نے فناموج نامی کمپنی سے جنم لیا جسے پاسداران انقلاب کو مالیاتی، مادی یا ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات یا دیگر اشیا اور خدمات فراہم کرنے یا ایسی کوششوں پر پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ فناموج نے ایرانی فوج کے میزائل نظام کے حصے تیار کیے ہیں۔

ووہان سنجیانگ امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی لمیٹڈ

‘او ایف اے سی’ نے چین سے تعلق رکھنے والی ووہان سنجیانگ امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی لمیٹڈ (ووہان سنجیانگ) کو ایرانی فوج کے اہم معاون کے ساتھ اسلحے کے پھیلاؤ کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ ووہان سنجیانگ نے ایران کی شیراز الیکٹرانک انڈسٹریز (ایس ای آئی) کو مالیاتی، مادی یا ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات یا دیگر اشیا اور خدمات فراہم کی ہیں۔

‘ایس ای آئی’ پر ایرانی وزارت دفاع یا مسلح افواج کے انصرامی شعبے کی ملکیت ہونے یا اس کے زیراہتمام چلائے جانے پر 19 ستمبر 2008 کو جاری ہونے والے انتظامی حکم کے مطابق پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ ایس ای آئی ایرانی فوج کے لیے متعدد الیکٹرانک آلات کی تیاری میں ملوث ہے جن میں ریڈار، مائیکروویو الیکٹران ویکیوم ٹیوبز، بحری الیکٹرانکس، تربیتی سازوسامان، میزائلوں کی رہنمائی کرنےو الی ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک میزائل ٹیسٹ کا سازوسامان شامل ہے۔

ووہان سنجیانگ کم از کم 2014 سے’ ایس ای آئی ‘کو جہازرانی سے متعلق لاکھوں ڈالر مالیتی آلات فراہم کر رہی ہے۔ ووہان سنجیانگ نے ایس ای آئی کو قریباً 10 لاکھ ڈالر مالیتی متعدد اقسام کے انتہائی خصوصی سینسر بھی فروخت کیے اور یہ لین دین خفیہ رکھنے کی کوشش کی۔

مزید براں 2011 میں ووہاں سنجیانگ نے ناہموار سطح زمین پر چلنے والی چھ گاڑیاں بھی شمالی کوریا منتقل کیں جنہیں شمالی کوریا نے اپنے بلسٹک میزائل پروگرام میں استعمال کیا۔

آج ہم نے جن اداروں کا تذکرہ کیا ان کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

###


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں