rss

‘آئندہ صدی کے لیے انڈیا کے ساتھ امریکی تعلقات کی وضاحت’

हिन्दी हिन्दी, English English

امریکی دفتر خارجہ

دفتر برائے ترجمان

برائے فوری اجرا

18 اکتوبر 2017

وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کا اظہار خیال

سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز

واشنگٹن، ڈی سی

وزیر خارجہ ٹلرسن :جان، آپ کا بے حد شکریہ اور اس عمارت میں دوبارہ آنا واقعتاً خوشی کا باعث ہے۔ میں جان سے پوچھ رہا تھا کہ آیا یہ جگہ اس منصوبے کے آغاز کے وقت اس سے باندھی گئی تمام توقعات پوری کر رہی ہے۔ مجھے کمرے میں ایسے بہت سے چہرے دکھائی دیتے ہیں جو اسے حقیقت کا روپ دینے کے عمل کا اہم حصہ تھے۔ میرا خیال ہے انہوں نے مجھے بتایا کہ آج یہاں بیک وقت چار پروگرام ہو رہے ہیں اور میں نے کہا ‘زبردست’۔ دراصل ہم نے یہی کچھ سوچا تھا۔

میں یہاں موجود آپ میں بہت سے لوگوں کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے یہاں بورڈ آف ٹرسٹیز میں 11 سال، بہت شاندار ماہ وسال گزارے اور آپ کی رہنمائی سے مستفید ہوا۔ اس دوران میں نے یہاں بہت کچھ سیکھا اور میں جان سے دوستی پر ان کا شکرگزار ہوں۔ اس تمام عرصہ میں وہ عزیز دوست کے طور پر میرے ساتھ رہے۔ مجھ سے ملکی خدمت کے لیے جو تقاضا کیا گیا اس کی انجام دہی کی اہلیت کے حوالے سے یہ واقعی بے حد اہم رہا۔ چنانچہ میں ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ یہاں آ کر مجھے واقعتاً خوشی ہوئی اور میں اس جگہ واپسی کا موقع ملنے پر تشکر کا اظہار کرتا ہوں۔

لہٰذا سب سے پہلے میں امریکہ، انڈیا اور دنیا بھر میں اپنے ان تمام دوستوں کو دیوالی کی مبارک باد دینا چاہوں گا جو روشنیوں کا یہ تہوار منا رہے ہیں۔ عمومی طور پر دیکھا جائے تو اس موقع پر آتش بازی ہوتی ہے۔ مجھے کسی آتش بازی کی ضرورت نہیں۔ میرے اردگرد پہلے ہی بہت سی آتش بازی ہو رہی ہے۔ (قہقہہ) چنانچہ ہم آتش بازی سے دستبردار ہوتے ہیں۔

انڈیا کے ساتھ میرے تعلقات کا آغاز قریباً 1998 سے ہوتا ہے، اب انہیں 20 برس ہو چکے ہیں، اس وقت میں نے انڈیا میں توانائی کے تحفظ کی بابت امور پر کام شروع کیا تھا۔ ان بہت سے برسوں میں مجھے متعدد مرتبہ انڈٰیا جانے کا موقع ملا۔ اس وقت انڈیا والوں کے ساتھ کاروبار کرنا واقعتاً خاص بات تھی اور اس برس انڈین رہنماؤں کے ساتھ وزیرخارجہ کی حیثیت سے ملنا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میں اگلے ہفتے سرکاری حیثیت میں پہلی مرتبہ دہلی جانے کا منتظر ہوں امریکی انڈیا تعلقات اور امریکی انڈیا شراکت داری کے حوالے سے دیکھا جائے تو دورے کے لیے اس سے زیادہ امید افزا موقع کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

جیسا کہ آپ میں بہت سے لوگ جانتے ہیں اس سال دونوں ممالک میں تعلقات کے 70 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ صدر ٹرومین نے اس وقت کے انڈین وزیراعظم نہرو کو واشنگٹن میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا تھا کہ ‘مقدر نے چاہا کہ ہمارا ملک آپ کے ملک کی جانب نئے راستے کی تلاش میں دریافت ہو’۔ مجھے امید ہے کہ آپ کا دورہ بھی امریکہ کی دریافت جیسا ہو گا۔

بحرالکاہل اور بحڑ ہند نے صدیوں سے ہماری اقوام کو آپس میں جوڑ رکھا ہے۔ فرانسس سکاٹ کی نے ایچ ایم ایس منڈن پر بیٹھ کر جو کچھ لکھا وہ ہمارا قومی ترانہ بن گیا۔ یہ جہاز انڈیا میں بنا تھا۔

جب ہم اگلے 100 برس کو دیکھا جائے تو یہ بات نہایت اہم ہے کہ ہماری مشترکہ تاریخ کے حوالے سے اس قدر مرکزی حیثیت رکھنے والا ہندوالکاہل کا خطہ آزاد اور کھلا ہونا چاہیے اور آج صبح آپ سے میرے خطاب کا موضوع بھی یہی ہے۔

صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی ان سے پہلے آنے والے کسی بھی رہنما سے بڑھ کر دونوں ممالک میں ایک پرعزم شراکت قائم کرنے کا عہد کیے ہوئے ہیں جس سے ناصرف دونوں عظیم جمہوریتوں کو فائدہ ہو گا بلکہ عظیم تر امن اور استحکام کے لیے کام کرنے والے دیگر خودمختار ممالک بھی اس سے مستفید ہوں گے۔

جون میں وزیراعظم مودی کے دورہ امریکہ سے بہت سے شعبہ جات میں تعاون کی اہمیت نمایاں ہوئی جو ہمارے تزویراتی تعلقات کے نئے شعبے میں پہلے سے جاری ہے۔

ہمارے دفاعی تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم پہلے سے کہیں بڑھ کر انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون کر رہے ہیں۔ اسی ماہ کے آغاز میں امریکی خام تیل کی کھیپ انڈیا پہنچی ہے جو کہ توانائی کے شعبے میں ہمارے وسعت پذیر تعاون کا واضح اظہار ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ امریکہ اور انڈیا میں اس شراکت کو بڑھانے کے لیے موثر راہیں اختیار کرنے کا عزم رکھتی ہے۔

آج ہمارے لیے اس تعلق کی اہمیت واضح ہے۔ انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ ہمارے قریبی تعلقات کا محرک ہماری لوگوں، ہمارے شہریوں، کاروباری لوگوں اور ہمارے سائنس دانوں کے مابین تعلقات میں پوشیدہ ہے۔

گزشتہ برس قریباً 12 لاکھ امریکیوں نے انڈیا کا دورہ کیا۔ ایک لاکھ 66 ہزار سے زیادہ انڈٰان طلبہ امریکہ میں زیرتعلیم ہیں۔ قریباً 40 لاکھ انڈین امریکی اس ملک کو اپنا گھر کہتے ہیں جو ڈاکٹروں، انجینیئروں، اختراع سازوں اور فخریہ طور سے مسلح افواج کے ارکان کی حیثیت سے اپنے معاشروں اور اس ملک کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔

جوں جوں ہماری معیشتیں قریب آ رہی ہیں ہمیں اپنے لوگوں کی خوشحالی کے مزید مواقع دکھائی دینے لگے ہیں۔ 600 سے زیادہ امریکی کمپنیاں انڈیا میں کام کر رہی ہیں۔ محض دو برس میں ہی امریکہ کی غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری 500 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ گزشتہ برس ہماری باہمی تجارت قریباً 115 ارب ڈالر کی ریکارڈ بلندی کو پہنچی۔ ہم نے اس میں مزید اضافے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

باہمی تعلقات کو وسعت دینے کے مزید مواقع تلاش کرتے ہوئے ہم نے معاشی تعاون کی مضبوط بنیاد رکھی ہے۔ جنوبی ایشیا میں کاروباری نظامت سے متعلق پہلی عالمگیر کانفرنس آئندہ ماہ حیدرآباد میں ہو رہی ہے جو کہ اس امر کی واضح مثال ہے کہ کیسے صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی اختراع، نوکری کے مواقع میں وسعت لانے اور دونوں معیشتوں کو مضبوط بنانے کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔

جب ہماری افواج مشترکہ مشقیں کرتی ہیں تو ہم عالمگیر مشترکات کے تحفظ اور اپنے عوام کے دفاع سے متعلق اپنے عزم کی بابت طاقتور پیغام بھیجتے ہیں۔ اس برس ‘مالابار’ مشقیں ہماری اب تک کی سب سے پیچیدہ مشقیں تھیں۔ اس دوران امریکہ، انڈٰا اور جاپانی بحریہ کے سب سے بڑے جہازوں نے پہلی مرتبہ باہم ملک کر بحر ہند میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور ہندوالکاہل خطے کی تین جمہوریتوں کی مشترکہ طاقت کی واضح مثال قائم کی۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے برسوں میں ہم ان میں مزید ممالک کا اضافہ کر لیں گے۔

امریکی کانگریس نے گزشتہ برس غالب طور سے انڈیا کی امریکہ کے اہم دفاعی شراکت دار کے طور پر توثیق کی۔ انڈیا کے اسی درجے اور سمندری تعاون کو وسعت دینے کے حوالے سے ہمارے باہمی تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ نے انڈیا کے لیے دفاعی انتخاب کی فہرست پیش کی جس میں ‘گارڈین یو اے وی’ بھی شامل ہیں/۔

ہم عالمگیر سکیورٹی اور استحکام کے حوالے سے انڈیا کے کردار کی قدر کرتے ہیں اور یہ امر یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں کہ ان کے پاس اس سے بھی بڑی صلاحیتٰں ہو سکتی ہیں۔

گزشتہ دہائی میں ہمارے مابین انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہزاروں انڈین سکیورٹٰی اہلکاروں نے اپنی صلاحیت میں اضافے کے لیے امریکی اہلکاروں کے ساتھ تربیت پائی۔ امریکہ اور انڈیا معلوم مشتبہ دہشت گردوں کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں اور اس سال کے اواخر میں ہم دہشت گردوں کی نامزدگی کے حوالے سے نئی بات چیت شروع کریں گے۔

میں نے جولائی میں حزب المجاہدین کو کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرنے کے حکمنامے پر دستخط کیے کیونکہ امریکہ اور انڈیا دہشت گردی کے خلاف شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ دہشت کو پالیسی کے طور پر استعمال کرنے والی ریاستیں اپنی عالمی ساکھ اور درجہ بندی کو کمزور ہوتا دیکھیں گی۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہر مہذب قوم کا انتخاب نہیں بلکہ فرض ہے۔ امیرکہ اور انڈیا خطے میں اس کوشش کی قیادت کر رہے ہیں۔

تاہم مزید نئی جنم لینے والی ایک گہری تبدیلی ان تعلقات کے حوالے سے آئندہ 100 برس میں انتہائی دوررس اثرات کی حامل ہو گی۔ انڈٰیا اور امریکہ محض جمہوریت کے حوالے سے ہی ایک دوسرے سے مشابہ نہیں ۃیں بلکہ مستقبل کے بارے میں ہماری سوچ بھی ایک جیسی ہے۔

دہلی اور واشنگٹن میں ابھرتی ہوئی تزویراتی شراکت قانون کی حکمرانی، سمندری نقل وحمل کی آزادی، عالمگیر اقدار اور آزاد تجارت کے حوالے سے مشترکہ عزم پرقائم ہے۔ ہماری اقوام دنیا کی دونوں جانب استحکام کے دو مراکز کی حیثیت رکھتی ہیں جو ہمارے شہریوں اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے عظیم تر سلامتی اور خوشحالی کے لیے کوشاں ہیں۔

ہمیں ٹھوس مسائل اور خطرات کا سامنا ہے۔ سائبر حملوں کے ذریعے جنم لینے والی دہشت گردی اور بدنظمی نے ہر جگہ امن کو خظرے میں ڈال رکھا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اسلحے اور بلسٹک میزائل تجربات امریکہ، ہمارے ایشیائی اتحادیوں اور دیگر تمام ممالک کی سلامتی کے لیے واضح اور قریبی خطرہ ہیں۔ ایسے میں انڈیا اور دوسرے بہت سے ممالک کو فائدہ پہنچانے والا عالمی نظم تیزی سے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔

انڈیا کے ساتھ ہی ترقی پانے والے چین نے زیادہ ذمہ دارانہ کردار ادا نہیں کیا اور متعدد مرتبہ عالمی اور قوانین کی بنیاد پر ترتیب دیے گئے نظم کو کمزور کیا جبکہ انڈیا جیسے ممالک ایک ایسے ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے کام کرتے چلے آئے ہیں جس سے دوسری اقوام کی ‘خودمختاری’ محفوظ رہتی ہے۔

جنوبی چینی سمندر میں چین کے اشتعال انگیز اقدامات عالمی قانون اور رواج کے لیے براہ راست خطرہ ہیں جن پر امریکہ اور انڈیا دونوں عمل کرتے ہیں۔

امریکہ چین کے ساتھ تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے مگر ہم قوانین کی بنیاد پر ترتیب دیے گئے نظم کو چین کی جانب سے درپیش مسائل کے باعث کبھی نہیں کترائیں گے اور جہاں چین نے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری میں خلل پیدا کیا نیز امریکہ اور ہمارے دوستوں کے لیے نقصان کا باعث بنا تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔

غیریقینی اور کسی حد تک خوف کے دور میں انڈیا کو دنیا کے منظرنامے پر ایک قابل اعتبار شراکت دار کی ضرورت ہے۔ میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اپنی اقدار اور عالمگیر استحکام، امن اور خوشحالی کے لیے مشترکہ سوچ کے سبب امریکہ ہی وہ شراکت دار ہے۔

انڈیا کے نوجوانوں، اس کی امید پسندی اور طاقتور جمہوری مثال اور دنیا کے منظرنامے پر اس کی بڑھتی وہئی اہمیت کے باعث امریکہ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ اس وقت اسے انڈیا کے ساتھ مستقبل میں تعاون کے حوالے سے مضبو بنیاد قائم کرنا ہے۔ درحقیقت یہ وقت ہے ہے کہ ایک ابھرتے ہوئے جمہوری شراکت دار کے ساتھ اگلے 100 برس کے لیے تعاون کو فروغ دیا جائے۔

تاہم سب سے بڑھ کر دنیا اور خصوصاً بحرہندو الکاہل کے خطے کو امریکہ اور انڈیا کی مضبوط شراکت درکار ہے۔ امریکہ اور انڈیا کو انڈین کہاوت کے مطابق ‘جو ضروری ہو وہ کرنا چاہیے’ (قہقہہ)

امریکہ اور انڈیا خودمختار ممالک کی زمین، سمندر یا سائبر سپیس میں کرہ ارض کے مشترکہ مقامات تک بلاک روک و ٹوک رسائی کو فروغ دینے کے لیے قوانین کی بنیاد پر نظم کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہیں اور دنیا کے لیے وقت کی آواز بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر دیکھا جائے تو انڈیا اور امریکہ کو بہرصورت بحرہندو الکاہل کے آزاد اور کھلے خطے کے لیے عظیم تر خوشحالی اور سکیورٹٰی کو ترقی دینا ہو گی۔ بحرہند و الکاہل کے خطے میں پورا بحر ہند، مغربی الکاہل اور اس کے گرد ممالک آگے ہیں جو کہ 21ویں صدی میں انتہائی اہم خطہ ہو گا۔

تین ارب سے زیادہ آبادی کا یہ خطہ دنیا میں توانائی اور تجارتی راستوں کا مرکز ہے۔ دنیا میں روزانہ تیل کی چالیس فیصد ترسیل بحر ہند کے آر پار آبنائے ملاکا اور ہرمز کے اہم راستوں سے ہوتی ہے۔ افریقہ میں ابھرتی ہوئی معیشتوں اور انڈیا میں فروغ پاتی معیشت دنیا بھر پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ اس صدی کے وسط تک عالمگیر جی ڈی پی میں ایشیا کا حصۃ 50 فیصد سے متجاوز ہونے کی توقع ہے۔

ہمیں یہ امر یقینی بنانے کے لیے انڈیا کے ساتھ تعاون کی ضروری ہے کہ بحرہند والکاہل کا خظہ امن، استحکام اور خوشحالی کا مرکز ہو تاکہ یہ بدنظمی، تناعات اور غارتگر معیشت والا خطہ نہ بنے۔

دنیا کا مرکز ثقل بحرہندوالکاہل کے خطے میں منتقل ہو رہا ہے۔ امریکہ اور انڈیا کو امن، سلامتی، سمندری نقل و حمل کی آزادی اور آزاد و خودمختارانہ ساخت کی بدولت اس خطے کے مشرقی و مغربی مینارہ ہائے نور کی حیثیت سے کام کرنا چاہیے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے لوگوں اور بحر ہندو بحراہلکال کے لوگوں کی خوشحالی پر توجہ دینا چاہیے۔

2050 تک انڈیا دنیا کی دوسری سب سے بڑٰ معیشت بن سکتا ہے۔ آئندہ دہائی میں انڈیا کی 25 سال سے کم عمر آبادی چین سے بڑھ جانے کی توقع ہے۔

معاشی ترقی اختراعی خیالات سے جنم لیتی ہے۔ خوش قسمتی سے امریکہ اور انڈیا سے زیادہ کوئی اور ملک اختراع کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ بنگلور اور سلیکون ویلی میں ٹیکنالوجی کا تبادلہ پوری دنیا میں تبدیلی لا رہا ہے۔

21ویں صدی اور اس سے آگے خوشحالی کا دارومدار مسائل پر تیزی سے قابو پانے کی اہلیت پر ہو گا جو منڈیوں اور ہندو الکاہل کے خطے میں ابھرتی ہوئی اختراعات کی طاقت کو قابو میں رکھتی ہے۔ اسی میدان میں انڈیا ار امریکہ کو بے پایاں مسابقتی فائدہ حاصل ہے۔ ہمارے کھلے معاشرے اعلیٰ سطحی خیالات کو جنم دیتے ہیں جس سے علاقائی شراکت داروں کو ایسے ہی نظام قائم کرنے میں مدد ملتی ہے جو 21 ویں صدی کے مسائل کا حل پیش کریں گے۔ اس کے لیے عظیم تر علاقائی ربط بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

شاہراہ ریشم سے جی ٹی روڈز کئی ہزار سال سے جنوبی ایشیا میں اشیا، لوگوں اور خیالات کے تبادلے کا ذریعہ رہی ہیں۔ تاہم آج یہ دنیا میں معاشی اعتبار سے کمترین مربوط خطہ ہے جہاں بین العلاقائی تجارت کمزور پڑ چکی ہے اور مجموعی تجارت کا صرف چار سے پانچ فیصد ہے۔ آسیان سے موازنہ کیا جائے تو وہاں خطے کے ممالک میں تجارت مجموعی تجارت کا 25 فیصد بنتی ہے۔

عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ اگر رکاوٹٰں ختم کر دی جائیں اور کسٹم کے طریق کار کو باقاعدہ بنا لیا جائے تو جنوبی ایشیا میں بین العلاقائی تجارت 28 بلین سے بڑھ کر 100 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ جب پائیدار ترقی کی بات ہو تو عظیم تر رابطے کا ایک مقصد بحرہند و الکاہل کے خطے کے ممالک کو درست انتخاب مہیا کرنا ہے۔ اس حوالے سے میلینئم چیلنج کارپوریشن ایک مثالی نمونہ ہے۔ یہ پروگرام نجی سرمایہ کاری کے لیے درست ماحول کی ترویج کی غرض سے اعدادوشمار، جوابدہی اور شہادتی بنیاد پر فیصلہ سازی ممکن بناتا ہے۔

گزشتہ ماہ امریکہ اور نیپال نے 500 ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے۔ جنوبی ایشیا کے اس ملک کے ساتھ یہ پہلا معاہدہ ہے جس میں امریکہ نیپال میں بجلی اور نقل وحمل کے حوالے سے بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے گا تاکہ خطے میں انڈیا جیسے ممالک سے تجارتی روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔

امریکہ اور انڈیا کو اس ربط میں اضافے کے لیے مزید مواقع اور اپنے معاشی روابط پر نظر رکھنی چاہیے۔ تاہم بحرہندوالکاہل کے خطے میٰں خوشحالی کے لیے سلامتی اور استحکام کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس میدان میں بھی شراکت داری کرنا ہو گی۔

اس ارتقائی عمل کے ذریعے انڈیا عالمی سطح پر سکیورٹی کے حوالے سے ایک نمایاں کردار کے طور پر اپنی پوری صلاحیتوں سے کام لے سکے گا۔ اس حوالے سے سکیورٹی کی اہلیت پیدا کرنا پہلی بات ہے۔ میرے اچھے دوست اور ساتھی وزیر ماٹس اسی حوالے سے بات چیت کے لے گزشتہ مہینے دہلی میں موجود تھے۔ ہم دونوں دو جمع دو کا افتتاحٰی مکالمہ شروع کرنے کے لیے بے چینی سے منتظر ہیں جس کے داعی صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی ہیں۔

انڈٰین بحریہ سمندری نگرانی کا کام کرنے والا پی 8 جہاز استعمال کرنے والی پہلی غیرملکی فوج ہے جس سے سمندری حوالے سے ہمارے مشترکہ مفادات کا بھرپور اظہار ہوتا ہے۔ امریکہ نے گارڈین یو اے وی، طیارہ بردار بحری جہازوں سے متعلق ٹیکنالوجی، فیوچر ورٹیکل پروگرام اور ایف 18 و ایف 16 لڑاکا طیاروں کے حوالے سے جو تجاویز دی ہیں ان سے ہمارے تجارتی اور دفاعی تعاون میں نیا موڑ آئے گا۔ رفتار، ٹیکنالوجی اور شفافیت کے حوالے سے دیکھا جائے تو امیرکی فوج کا ریکارڈ اپنی مثال آپ ہے۔ سکیورٹی کے حوالے سے انڈیا کے خدشات امریکی خدشات ہیں۔ وزیر ماٹس نے کہا ہے کہ دنیا کی دو عظٰیم جمہوریتوں کے پاس دنیا کی دو عظیم افواج ہونا چاہیئں۔ میں اس سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں۔ جب ہم سکیورٹٰی کے حوالے سے مشترکہ خدشات پر کام کرتے ہیں تو ہم اپنے آپ کا ہی تحفظ نہیں کرتے بلکہ ایسا کرتے ہوئے دوسروں کا تحفظ بھی یقینی بناتے ہیں۔

رواں سال کے اوائل میں امریکہ اور انڈیا کی افواج کے انسٹرکٹر افریقن شراکت داروں میں قیام امن کے حوالے سے اہلیت پیدا کرنے کے لے اکٹھے ہوئے۔ ہمیں امید ہے کہ اقوام متحدہ کے زیرانتظام یہ پروگرام مزید وسعت پائے گا۔ یہ امریکہ اور انڈیا کی جانب سے سلامتی کے حوالے سے اہلیت میں اضافے اور تیسرے ممالک میں امن کے فروغ کی زبردست مثال ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا کے لیے پیش کردہ نئی حکمت عملی پر عمل کرتے وہئے ہم افغانستان اور پورے خطے میں استحکام یقینی بنانے کے لے اپنی شراکت داروں سے رجوع کریں گے۔ انڈیا افغانستان میں امن کے لیے ہمارا شراکت دار ہے اور اس سلسلے میں ہم اس کی معاونتی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

پاکستان بھی خطے میں ہمارا ایک اہم شراکت دار ہے۔ خطے میں ہمارے تعلقات اپنے اوصاف کی بنیاد پر قائم ہیں۔ ہم پاکستان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن قدم اٹھائے گا جو اس کی سرحدوں میں موجود ہیں اور جن سے پاکستانیوں اور پورے خطے کے لوگوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے پاکستان اپنے اور اپنے ہمسایوں کے لیے استحکام اور امن میں اضافہ کرے گا اور دنیا میں اپنا مقام بہتر بنائے گا۔

امریکہ اور انڈیا معاشی و دفاعی تعاون میں اضافہ کر رہے ہیں لیکن ہمیں دوسرے ممالک پر بھی نظر رکھنی ہے جو ہمارے جیسے مقاصد کے حامل ہیں۔ انڈٰیا اور امریکہ کو ان ممالک کو اپنی خودمختاری کے تحفظ، روابط میں اضافے اور علاقائی سطح پر اپنا موقف موثر طور سے پیش کرنے کا اہل بنانے میں مدد دینی چاہیے جس سے ان کے مفادات کا تحفظ ہو گا اور معیشت میں بہتری آئے گی۔ یہ انڈیا کی ‘مشرقی سمت میں عمل’ کی حکمت عملی کا فطری حصہ ہے۔ ہم ان ممالک کا خیرمقدم کرنا چاہتے ہیں جو قانون کی حکمرانی مضبوط بنانے اور خطے میں خوشحالی اور سلامتی کو فروغ دینے کے متمنی ہیں۔

خاص طور پر ہمارا نکتہ آغاز بحرہند و الکاہل کی جمہوریتوں کے ساتھ رابطہ اور تعاون ہونا چاہیے۔ ہم امریکہ، انڈٰیا اور جاپان کے مابین اہم سہ طرفی تعاون سے پہلے ہی فوائد اٹھا رہے ہیں۔ جب ہم آگے دیکھتے ہیں تو مشترکہ مقاصد اور اقدامات کے حوالے سے اس میں دوسرے ممالک بشمول آسٹریلیا کی شمولیت کی گنجائش بھی دکھائی دیتی ہے۔

انڈیا متنوع، متحرک اور تکثیری ملک کے طور پر دوسروں کے لیے واضح مثال بن سکتا ہے جو کہ عالمی دہشت گردی کے دور میں ایک پھلتی پھولتی جمہوریت ہے۔ برصغیر دنیا کے چار بڑے مذاہب کی جائے پیدائش ہے اور انڈیا کی متنوع آبادی میں 170 ملین سے زیادہ مسلمان ہیں اور یہ دنیا میں مسلم آبادی کے اعتبار سے تیسرا بڑا ملک ہے۔ اس کے باوجود داعش یا دوسرے دہشت گرد گروہوں کی صفوں میں انڈیا کے مسلمانوں کی زیادہ تعداد دکھائی نہیں دیتی جس سے اس معاشرے کی قوت کا اظہار ہوتا ہے۔ جمہوریت کا سفر کبھی آسان نہیں ہوتا مگر انڈیا کی جمہوری مثال کی طاقت ایسی ہے کہ جس سے دنیا بھر کے ممالک قوت اور تحرک پاتے رہیں گے۔

دیگر شعبہ جات طویل عرصہ سے موثر تعاون کے متقاضی ہیں۔ ہم جہازرانی، سائبر سکیورٹی اور امدادی شعبے و حادثات میں مدد کے حوالے سے اپنے تعاون کوجس قدر وسعت دیں گے بحرہند و الکاہل کے ممالک کو اتنا ہی زیادہ فائدہ ہو گا۔ ہمیں یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ بنیادی ڈحانچے میں سرمایہ کاری اور منصوبہ جات کی مالیات کا معاملہ ہو تو بحرہندوالکاہل کے متعدد ممالک کے پاس محدود متبادل ہوتے ہیں چنانچہ یہ ملک عموماً روزگار میں اضافے اور اپنے لوگوں کے لیے خوشحالی لانے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ وقت آ گیا ہے کہ قرضوں کا ایک شفاف اور اعلیٰ معیار کے حامل علاقائی طریق کار کو وسعت دی جائے جس سے ان ممالک کو قرض کے بار تلے دبنے کے بجائے واقعتاً ترقی میں مدد ملے گی۔ انڈیا اور امریکہ کو ان کثیر طرفی کوششوں کو فروغ دینے کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔

ہمیں مشترکہ مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنی مجموعی مہارتوں سے بہتر طور سے کام لینا ہو گا جبکہ آنے والی مشکلات پر قابو پانے کے لیے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنا ہوں گی۔ ضرورت موجود ہے اور ہمیں اسے پورا کرنا ہے۔ امریکی مفادات اور اقدار کا بڑھتا ہوا ارتکاز بحرہند والکاہل کے خطے کو قوانین کی بنیاد پر عالمی نظام کے تحفظ کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے جس سے گزشتہ کئی دہائیوں میں انسانیت کو بے حد فائدہ پہنچا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ آزاد، کھلے اور پھلتے پھولتے ہندو الکاہل خطے کے لیے ہر وہ اقدام کریں جس کی ضرورت ہے۔

امریکہ اس خطے اور دنیا بھر میں انڈین عوام کی بڑھتی ہوئی قوت اور رسوخ کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ہم انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات میں اضافے کے خواہاں ہیں جو کہ عالمی رہنما اور ایک طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ بحرہند والکاہل کے خطے کی طاقت ہمیشہ بہت س لوگوں، حکومتوں، معیشتوں اور ثقافتوں میں تعامل کا باعث رہی ہے۔ امریکہ جنوبی ایشیا اور اس سے آگے کسی بھی ایسے ملک کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے جو بحرہندوالکاہل کے خطے کے حوالے سے ہماری جیسی سوچ کا مالک ہو جہاں خودمختاری اور قوانین پر مبنی نظام کا احترام کیا جاتا ہو۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم آزاد اور کھلے خطہ ہند و الکاہل سے متعلق اپنی سوچ کی بنیاد پر عمل کریں جسے جمہوریت کے دو مضبوط ستونوں یعنی امریکہ اور انڈیا کی حمایت اور تحفظ حاصل ہے۔ توجہ سے بات سننے پر آپ کا بے حد شکریہ۔ (تالیاں)

مسٹر ہیمری: شکریہ جناب وزیر۔ ہم اسے نیچے کر رہے ہیں تاکہ لوگ یہاں دیکھ سکیں۔ اس سے رکاوٹ پیدا ہو گئی تھی۔

واقعتاً انتہائی جازب توجہ تقریر پر آپ کا شکریہ۔ اس میں ایک خاص فقرے نے واقعی میری توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی تھی۔ میں اس پر کچھ چاہوں گا، گزشتہ رات مجھے اسے دیکھنے کا موقع مل گیا اسی لیے میں نے اسے لکھ لیا (قہقہہ)

‘ہمیں بحرہند و الکاہل کے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی یقینی بنانے کے لیے انڈیا کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے تاکہ یہ بدنظمی، تنازعات اور غارتگر معیشت کا خطہ نہ بن پائے’ نہایت دلچسپ اظہار ہے۔ غارت گر معیشت سے آپ کی کیا مراد ہے کہ جس سے ہمیں خبردار رہنا چاہیے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک بحرہندوالکاہل کے خطے میں متعدد ابھرتی ہوئی معیشتوں اور متعدد نوخیز جمہوریتوں کی بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری کے حوالے سے ضروریات سے واقت ہے اور ان ابھرتی ہوئی جمہوریتوں اور میشتوں کے پاس اپنے بنیادی ڈھانچے ار معیشتوں کو ترقی دینے کے متبادل ذرائع ہونا ضروری ہے۔ ہم نے خطے میں دوسرے ممالک خصوصاً چین کی سرگرمیوں اور اقدامات نیز ایسے بہت سے ممالک میں اس کی جانب سے متعارف کرائے گئے مالیاتی طریق کار کو دیکھا ہے جس کے نتیجے میں یہ ممالک بے پایاں قرض تلے دب گئے ہیں۔ ان طریقہ ہائے کار سے روزگار کے مواقع بھی تخلیق نہیں ہوئے جبکہ ان معیشتوں میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبہ جات میں بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے بجائے عام طور پر ان منصوبہ جات پر کام کے لیے غیرملکی کارکنوں کو لایا گیا۔ مالیات اس انداز میں تربیت دی گئی ہے کہ ان ملکوں کے لیے مستقبل میں مالیات کا حصول بہت مشکل ہے اور اکثر اس کا نتیجہ دیوالیے اور قرض کی معدلت میں تبدیلی کی صورت میں نکلا ہے۔

چنانچہ اسے ایسا ڈھانچہ نہیں کہا جا سکتا جس سے ان ممالک میں مستقبل کی ترقی میں کوئی مدد ملتی ہو۔ ہمارے خیال میں یہ بات اہم ہے کہ ہم نے اس صورحال کا متبادل مالیاتی اقدامات اور ڈھانچوں کے ذریعے مقابلہ کرنے کے بعض ذرائع ترتیب دیے ہیں۔ مشرقی ایشیائی کانفرنس، اگست میں ہونے والی وزارتی کانفرنس میں ہم نے دوسروں سے ان کے تجربات اور ضروریات کی بابت ایک خاموش بات چیت شروع کی اور ہم کثیرطرفی طور سے ایک خاموش بات چیت شروع کر رہے ہیں کہ متبادل مالیاتی طریق کار کیسے تخلیق کیا جا سکتا ہے؟ ہم چین جیسی شرائط پیش نہیں کر پائیں گے مگر ممالک کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کے تحٖفظ اور مستقبل میں اپنی معیشتوں پر کنٹرول کے لیے کی اکچھ ادار کرنے پر رضامند ہیں۔ ہم نے اس موضوع پر بھی ان سے بات چیت کی۔

مسٹر ہیمری: جناب وزیر، اس سے واقعتاً نئی تفہیم میں مدد ملتی ہے جسے ہم سب کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر یہ سب کچھ قدرے بے جوڑ معلوم ہوتا ہے کیونکہ آپ نے ایک بڑا کاروباری ادارہ چلایا۔ آپ کو کسی بڑے منصوبے کے لیے سرمایہ اکٹھا کرنا ہو تو آپ پبلک مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں تاہم یہاں آپ ریاستی ملکیتی اداروں سے مقابلہ کر رہے تھے جو مرکزی بینک کا رخ کر سکتے ہیں اور جنہیں بلا سود قرضہ یا شاید امداد بھی مل سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ بہت ہی بے جوڑ بات ہے جس سے ہمیں نمٹنا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ معاملہ محض نئے مالیاتی ذرائع سے بھی آگے کا ہو۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں سمجھتا ہوں کہ کئی حوالوں سے یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ انفراسٹرکچر کی مد میں مالیات کے ضرورت مند ممالک کو سمجھانا ہو گا کہ انہیں طویل مدتی مستقبل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے ملک اور اس کی معیشت کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔ کئی حوالوں سے یہ ایسی ہی بات چیت اور دلائل ہیں جو ہم اس دور میں دیتے تھے جب میں نجی شعبے میں تھا کہ اگر آپ اس انداز میں سرمایہ کاری کے ڈالرز ک واپنے ہاں آنے کی اجازت دیں گے تو آپ کو فلاں فلاں فوائد حاصل ہوں گے۔ آپ کی خودمختاری بحال ہو جائے گی، آپ کو اپنی قوانین اور اندرون ملک ان پر درآمد کے معاملے میں مکمل کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔ مستقبل کی بابت ازسرنو غور کرتے ہوئے ان کے لیے اس بات کی نمایاں اہمیت ہونی چاہیے۔ اگرچہ یہ سب کچھ براہ راست مسابقتی بنیاد پر ہے تاہم کسی ایسے حریف سے مقابلہ کرنا مشکل ہوتا ہے جو مالیاتی اعتبار سے ایسی پیشکش کر رہا ہو جسے قرض دہندہ کی سمت میں چند نکات کی برتری حاصل ہو مگر ہمیں انہیں اسے اپنی معیشت کو کنٹرول کرنے کی طویل مدت صلاحیت کے تناظر میں مدد دینا ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی معیشت پر خوداختیاری حاصل کر سکیں اور قوانین پر مبنی نظام میں اپنی معیشت کی ترقی کو کنٹرول کر پائیں۔ ہم اسی کی ترویج کر رہے ہیں کہ اپنی خودمختاری واپس لیں، قوانین پر مبنی نظام سے دوبارہ وابستہ ہو جائیں، ہم آپ کے لیے مزید امکانات بھی لے کر آئیں گے۔

مسٹر ہیمرے: زبردست، شکریہ۔ معذرت چاہتا ہوں، سفیر سنگھ یہاں موجود ہیں۔ وہ نہایت متحرک سفارت خانہ چلا رہے ہیں۔ میں یہ یقین دہانی چاہتا ہوں کہ آپ ان کی یہاں موجودگی سے آگاہ تھے اور میں ایک ایسا سوال کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے کرنا تھا مگر نہیں کر رہے (قہقہہ) اور وہ یہ ہے کہ:

میں اگست میں انڈیا میں تھا اور وہاں امریکہ سے تعلقات کے ضمیں میں بے حد جوش وخروش پایا جاتا ہے مگر ٹیکنالوجی اور ایسی ہی دوسری چیزوں تک انڈیا کی رسائی محدود کیا جانا حقیقی پریشانی کا باعث ہے۔ یہ سفیر کا سوال ہے۔ آپ اس مسئلے کو کیسے حل کریں گے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: جیسا کہ آپ جانتے ہیں وہ شرمیلے نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال پوچھا ہے (قہقہہ) چنانچہ میرا مطلب ہے کہ ہم نے اس پر بات چیت کی تھی اور میری جانب سے انڈیا کو اہم دفاعی شراکت دار دینے کی تقریر اور کانگریس کی جانب سے اس کی توثیق ک موقع پر ایسا کیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں جیسا کہ ہر ایک اس کی تعریف کرتا ہے امریکہ دنیا میں بہترین فوجی قوت ہے۔ اس کی پہلی وجہ ہمارے فوجی حضرات و خواتین اور تمام رضاکار فورس کی شخصٰ خوبیاں ہیں بلکہ یہ لوگ سب سے اچھی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں سے مسلح ہیں جن کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں۔ لہٰذا ہماری فوجی قوت کو حاصل یہ بہت بڑا فائدہ ہے۔ لہٰذا اسی لیے جب ٹٰیکنالوجی کی منتقلی کا معاملہ ہو تو ہم نے جائزے کا کڑا طریق کار اختیار کر رکھا ہے۔

مگر ہمارے سب سے اہم اتحادی اور شراکت کاروں کو اس ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہے اور انڈیا بھی اسی درجے پر پہنچ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے چند ایسے نظام کا تذکرہ کیا جو ہر ایک کو نہیں دیے جاتے۔ گارڈین یو اے وی ٹیکنالوجی کا غیرمعمولی نمونہ ہے جسے اب ہم مہیا کر رہے ہیں اور دوسرے اعلیٰ سطحٰ ہتھیاروں کے نظام کے بارے میں انڈیا کے ساتھ ہماری بات چیت جاری ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا اس کا مقصد انہیں سکیورٹی کے حوالے سے اس خاص کردار کی ادائیگی کے قابل بنانا ہے جو وہ خطے میں ادا کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہم اس علاقے میں امریکہ کے مسابقتی فوائد کا تحفظ کرتے ہوئے ہم اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مسٹر ہیمری: میں نہیں جانتا کہ آپ کس قدر بغور سن رہے ہیں، تاہم وزیرخارجہ نے ایک قابل ذکر دعوت دی کہ انڈی اور امریکہ جنوبی ایشیا میں مشترکہ طور پر بڑا قائدانہ کردار ادا کریں۔ یہ ایک اہم بیان تھا۔ آپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اس سلسلے میں تعاون کا ایک ترقی پاتا نظام ہو گا۔ آپ نے اشارہ دیا کہ اس سلسلے میں امریکہ، جاپان اور انڈیا کے سہ طرفی تعاون کو وسعت دی جا سکتی ہے۔ آپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ممکنہ طور پر اس میں آسٹریلیا بھی شامل ہو سکت اہے۔ کیا اس نئی حکمت عملی میں امریکہ اسی انداز میں کام کرے گا؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں سمجھتا ہوں، جیسا کہ آپ نے مجھے یہ کہتے ہوئے سنا اور اگر آپ نقشے میں بحرہندوالکاہل کے خطے کا امریکہ کے مغربی ساحل تک جائزہ لیں جائزہ لیں تو نقشے کے ایک جانب انڈیا ہے جو نہایت نمایاں اور اہم جمہوریت ہے۔ نقشے کی دوسری جانب جاپان دکھائی دیتا ہے جو کہ نہایت اہم اور مضبوط جمہوریت ہے جس کے ساتھ سکیورٹی کے شعبے میں ہمارے نہایت مضبوط تعلقات قائم ہیں۔ تاہم اس یمں جنوبی بحرالکاہل کا ایک خاص حصۃ بھی ہے اور ہمارے خیال میں اسے بھی نشان زد کرنے کی ضرورت ہے۔ آسٹریلیا امریکہ کا ایک اور نہایت مضبوط اور اہم شراکت دار اور اتحادی ہے جس نے امریکہ کے ساتھ ہر جنگ لڑٰی ہے۔ ہم نے جو بھی جنگ لڑی آسٹریلیا والے اس میں ہمارے ساتھ کھڑے تھے۔

چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ انڈیا، جاپان اور امریکہ میں حالیہ سہ فریقی تعلقات کے حوالے سے مفید نوعیت کی کچھ بات چیت ہونا ہے اور یہ نہایت مضبوط اور موثر تعلق ہے۔ چنانچہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس عمل کو کیسے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بحرہند و الکاہل کے خطے یمں آزادانہ اور کھلی پالیسی کا معاملہ ہے جو ہم نے اختیار کر رکھی ہے اور ہم نے دیکھنا ہے کہ کثیر فریقی اہتمام میں کیسے ہم اسے مضبوط بنا سکتے ہیں، انڈیا اور آسٹریلیا کے تعلق کو کیسے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ یقیناً اس میں سبھی کا مفاد ہے۔ انڈیا نے اسے اپنے مفاد میں دیکھنا ہے اور جاپان اسے اپنے مفاد میں دیکھے گا۔

تاہم یہ ایک ارتقائی عمل ہو گا کہ کیسے ہم سکیورٹی کا ایسا آرکیٹکچر ترتیب دے سکتے ہیں جو بحرہند والکاہل کے اس خطے کو آزاد اور کھلا رکھے، ممالک کو اپنی خودمختاری اور بیرونی خطرے کے بغیر اپنے معاشی امور چلانے کی آزادی کا تحفظ کرے۔ ہمارا منصوبہ اسی ارادے کے پیش نظر ترتیب دیا گیا ہے۔

مسٹر ہیمرے: میں ایک مرتبہ پھر آپ کو توانائی کے امور سے وابستہ شخص کے طور پر دیکھ رہا ہوں۔ گزشتہ ہفتے، مجھے کہنا چاہیے کہ گزشتہ ماہ قابل تجدید توانائی کے انڈیان وزیر یہاں موجود تھے اور یہ انڈٰیا کے لیے آگے بڑھنے کا بڑا موقع ہے۔ آپ توانائی کے وزیر نہیں ہیں مگر آپ اس بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔ آپ کے خیال میں ہم انڈیا کے ساتھ توانائی کے امور پر کیسے تعاون کر سکتے ہیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں جانتا ہوں کہ انڈیا میں بہت سے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ توانائی انڈیا کی بہت بڑی ضرورت ہے، ناصرف اسے توانائی کی براہ راست ترسیل درکار ہے بلکہ اس توانائی کو تقسیم کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کی بھی ضرورت ہے تاکہ یہ انڈٰیا کے عوام تک پہنچ سکے جو ان کے معیار زندگی اور معاشی ترقی و نمو کو وسعت دینے کے لیے ضروری ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ‘سی ایس آئی ایس’ کے زیراہتمام بعض منصوبہ جات پر کام جاری ہے اور میرے خیال میں یہ تمام اہم راستے اور طریقہ ہائے کار ہیں۔

ٹیکنالوجی کے حوالے سے دیکھا جائے تو توانائی کے میدان میں امریکہ نمایاں اہمیت رکھتا ہے اور ہمارے ملک میں روایتی سے قابل تجدید اور دیگر اقسام کی توانائی کی تمام اقسام موجود ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم انڈیا کو اس کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں شراکت کے طور پر بہت سے مواقع مہیا کر سکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے تعلقات کی تخلیق کے ضمن میں ‘سی ایس آئی ایس’ کا کام قابل قدر ہے۔ امریکی کاروبار ک لیے یہ ایک اور موقع ہے۔

مسٹر ہیمری: جیسا کہ ہمارے انڈین دوست درست طور سے ٹیکنالوجی کے حوالے سے محدودات کی شکایت کرتے ہیں۔ اسی طرح امریکی کمپنیوں کو شکایت ہے کہ انڈیا میں کاروبار کرنا کس قدر مشکل ہے۔ آپ کی گفت و شنید میں اس حوالے سے کیا بات ہو رہی ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں۔ گزشتہ 20 برس میں انڈیا کے ساتھ کام کرتے ہوئے مجھے بھی ایسی ہی مایوسیوں کا سامنا رہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ انڈٰا نے بہت سی اہم اصلاحات کی ہیں اور ہم اس کا اعتراف کرنا چاہیں گے۔ میرے خیال میں ان کوششوں اور ان کی رفتار میں پائیداری اہم ہے۔ چند اقدامات اٹھانا آسان ہے، آپ چند اصلاحات کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے، ہم نے کر لیا، اب آرام سی بیٹھ جائیں۔ مگر اس طرح کام مکمل نہیں ہوتا۔ میرا انڈٰا کو یہی پیغام ہے کہ آپ کا کام مکمل نہیں ہوا۔ مگر آپ کے اردگرد دنیا ساکت و جامد نہیں بیٹھی ہوئی، آپ کو ایسے ضرورتی حالات تخلیق کرنا ہیں جو کاروبار کے لیے پرکشش ہوں۔ آپ نے ناصرف اپنے اندرونی کاروبار کو پرکشش بنانا ہے بلکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی پرکشش حالات پیدا کرنا ہیں تاکہ وہ انڈیا آئیں اور معیشت کو ترقی ملے۔

میں سمجھتا ہوں کہ انڈیا کے ساتھ میرا ایک ابتدائی دلچسپ تجربہ 1990 کی دہائی میں ہوا جب انڈیا نے بہت ہی کم مقدار میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کو قبو ل کرتا تھا۔ یہ بہت ہی بند نظام تھا۔ وہ کاروباری اداروں کو بیرون ملک جانے اور سمندر پار سرمایہ کاری کرنے کے لیے حوصلہ افزائی نہیں کرتے تھے۔ اس حوالے سے پہلے پہلے میرا ایک کام ‘او این جی سی ودیش لمیٹڈ’ کی خریداری میں سہولت دینا تھا جو کہ انڈیا کی نہایت اہم قومی تیل کمپنی تھی جس کے پاس روس میں سخالین ون منصوبے کا 20 فیصد تھا۔ بہت سی وجوہات کی بنا پر میں نے ان فریقین کو اکٹھے بٹھایا جس سے ان لوگوں کے مفاد کا تحفظ ہوا جن کی اسوقت میں نمائندگی کر رہا تھا۔ مگر یہ ایک دلچسپ بات چیت تھی۔ اس عمل میں میری انڈیا والوں کے ساتھ بہت سی بات چیت ہوئی کیونکہ وہ بیرون ملک سرمایہ کاری کے عادی نہیں تھے۔ نتیجتاًم یں گوا میں ہونے والی ایک کاروباری کانفرنس میں گیا۔

چند برس بعد انہوں نے مجھے اپنے ہاں آنے اور انڈین کاروباری شخصیات سے ملنے کی دعوت دی جنہیں بیرون ملک سرمایہ کاری کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ایک مرتبہ پھر یہ ان کے لیے نئی چیز تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اس موقع پر ہماری بات چیت ہوئی جس میں بہت سے سوالات کیے گئے۔ ان میں آخری سوال یہ تھا کہ بیرون ملک سرمایہ کاری کرتے ہوئے ہمیں کون سی ایک چیز ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے۔ میں ںے جواب دیا کہ یہ نہایت سادہ سی بات ہے کہ اپنے شراکت کاروں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیجیے۔ کیونکہ کسی بھی کاروباری مہم میں آپ کو کسی نہ کسی کے ساتھ شراکت داری کرنا ہو گی اور آپ جس کا انتخاب کریں گے وہی آپ کی کامیابی کا تعین کرے گا۔

میں نے کسی بھی تعلق میں انہی انتہائی اہم عناصر سے کو مدنظر رکھا ہے۔ میں نے ہیمشہ چیزوں کو اسی زاویے سے دیکھا ہے اور ہم انڈیا امریکہ تعلقات کو بھی اسی انداز میں دیکھتے ہیں۔ اپنے اتحادی کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیجیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تزویراتی تعلقات کے لیے ہم نے انڈیا کا بطور اتحادی انتخاب سوچ سمجھ کر کیا۔ تاہم میرا خیال ہے کہ میں نے گزشتہ 20 برس میں انڈیا کو بیرون ملک سرمایہ کرتے ہوئے جس طرح دیکھا ہے یہ تجربہ انڈیا کو اندرون ملک کامیابی کے لیے ضروری شرائط کو سمجھنے میں معاون ہو گا کیونکہ جب آپ کا سامنا غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری سے ہوتا ہے تو اچانک آپ سمجھ جاتے ہیں کہ کامیابی کے لیے کیا بات اہم ہے۔ آپ اس تجربے کو گھر واپس لے جاتے ہیں جس سے آپ کو اصلاحات میں مدد ملتی ہے۔ ہم اصلاحات کی راہ پر انڈیا کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انڈیا کی جانب سے بھرپور معاشی قدر میں واقعتاً اضافے کے لیے ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔

سوال: میرے پاس چار پانچ سوالات ہیں جو ایک ہی موضوع کے گرد گھومتے ہیں اور یہ خطے میں طاقت کی پیچیدہ اشکال سے متعلق ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائےتو انڈیا اور روس میں قریبی تعلقات رہے ہیں۔ چین کے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ ہم نے انڈیا اور پاکستان دونوں کے ساتھ تعلقات استوار کیے۔ اب یہ صورتحال پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔ کیا آپ خطے میں طاقت کی اس نئی شکل و صورت میں انڈیا کے بارے میں کچھ کہیں گے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میرے خیال میں امریکی حکومت اس صورتحال کو مجموعی طور سے دیکھتی ہے کہ گزشتہ 20 برس میں چین ترقی کرتے ہوئے دنیا میں اب معاشی طاقت کے طور پر اپنا جائز مقام حاصل کر چکا ہے۔ اس نے اپنے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکال کر متوسط طبقے میں شامل کیا ہے۔ اسی طرح انڈیا بھی معاشی ترقی کر رہا ہے۔ میں نے اپنے خطاب میں اس پر بھی تبصرہ کیا تھا۔ جب ہم ان دونوں بڑی اقوام کو ترقی کرتا اور عالمی معیشت میں اپنا مقام حاصل کرتا دیکھتے ہیں تو اس کے متعدد انداز ہیں جن پر میں نے بات کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب آئندہ سو سال کے لیے ہمارے تعلقات کے بارے میں سوچتے ہوئے اسے ایک اہم نکتہ گردانتا ہے۔ ہم چین کے ساتھ اہم تعلقات ترتیب دے رہے ہیں۔ چین جیسے غیرجمہوری معاشرے کے ساتھ ہمارے تعلقات کبھی اتنے اچھے نہیں تھے۔

چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ انڈین حکومت کو خود اس بارے میں بات کرنی چاہیے۔ انڈیا اس عمل سے گزرا ہے۔ اپنے حالات اور دوسرے ممالک سے تعلقات کی تاریخ اس کے سامنے ہیں اور اسے اندازہ ہے کہ ان تعلقات سے کیسے اسے ترقی میں مدد ملی اور اور کیسے اس میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ میں سمجھتا ہون کہ دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں سے ایک کی حیثیت سے انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کی دوسری بڑی جمہوریت سے شراکت چاہتا ہے۔ میں ایسے دوسرے ممالک سے شراکت کا خواہاں نہیں ہوں جو ہمارے جیسی اقدار کے حامل نہیں ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ آخر میں اس تعلقات کی بنیاد مشترکہ اقدار پر ہو گی۔ اسی چیز نے ہمیں اکٹھا کیا ہے۔ دو بہت بڑی اہم جمہوریتیں ایک جیسا مستقبل چاہتی ہیں اور مستقبل کے حوالے سے ہماری سوچ مشترکہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ تین دہائیوں میں یہی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ انڈین حکومت نے ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے حقیقی احتساب شروع کیا ہے اور ہم اسی سمت میں جانا چاہتے ہیں۔

مسٹر ہیمری: جناب وزیر، میں جانتا ہوں کہ آپ کے دورے کی یہ وجہ نہیں ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاس متعدد سوالات ہیں۔ مجھے آپ سے میانمار کے بارے میں پوچھنا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ وہاں روہنگیا آبادی کے حوالے سے ہولناک انسانی بحران پایا جاتا ہے۔ کیا آپ اس حوالے سے اپنا نکتہ نظر بیان کریں گے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: ہمیں برما میں روہنگیا آبادی کے حالات پر غیرمعمولی تشویش ہے۔ میں حکومت کی سویلین رہنما آنگ سان سو کی سے رابطے میں رہا ہوں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں برما میں ایسی حکومت ہے جس کے اختیارات فوجی قیادت کے ساتھ منقسم ہیں۔ ہم روہنگیا کے علاقوں میں ہونے والے واقعات پر برما کی فوجی قیادت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

ہمارے لیے اہم ترین بات یہ ہے کہ دنیا خاموش رہ کر مظالم ہوتا نہیں دیکھ سکتی۔ ہم نے برما کی فوج سے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں آپ کے ملک کے اس حصے میں باغیوں/ دہشت گردوں ک امسئلہ موجود ہے مگر آپ کو نظم و ضبط کے دائرے میں رہتے ہوئے ان سے نمٹنا ہے اور اس معاملے میں خاص احتیاط کرنا ہے۔ آپ کو اس علاقے میں رسائی ممکن بنانا ہو گی تاکہ ہم حالات کا مکمل طور سے جائزہ لے سکیں۔ میں سمجھتا ہوں خہ ہم میں سے جس نے بھی ‘نیویارک ٹائمز’ میں حالیہ رپورٹ پڑھی ہو گی اس کا کلیجہ منہ کو آیا ہو گا۔ اسے پڑھ کر دل بیٹھ جاتا ہے۔

چنانچہ ہم اس خطے میں رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہمارے سفارتخانے میں سے چند لوگ وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں چنانچہ ہم صورتحال کا آنکھوں دیکھا حال جان سکتے ہیں۔ ہم ان علاقوں میں امدادی اداروں کی رسائی ممکن بنانے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جن میں ریڈ کراس اور اقوام متحدہ کے ادارے شامل ہیں تاکہ چند اہم ترین امدادی ضروریات سے نمٹا جا سکے مگر اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہم وہاں کے حالات کا درست اندازہ لگانا چاہتے ہیں۔ اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو کسی کو اس کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا۔

اب یہ برما کی فوجی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ وہ مستقبل کے برما کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں کیونکہ ہم برما کو ابھرتی ہوئی اہم جمہوریت سمجھتے ہیں۔ تاہم اب اسے حقیقی امتحان درپیش ہے۔ یہ اس حکومت کے لیے حقیقی امتحان ہے کہ وہ کیسے اس مسئلے سے نمٹتی ہے۔ چنانچہ ہم اس معاملے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم دوسرے ممالک، اداروں اور اقوام متحدہ سے بھی رابطے میں ہیں۔

مسٹر ہیمری: میرے پاس متعدد سوالات ہیں۔ ہم افغانستان کی صورتحال سے نمٹ رہے ہیں اور افغانستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کا جغرافیہ بے حد پیچیدہ ہے، وہاں زمینی سیاسی حالات بے حد پیچیدہ ہیں۔ افغانستان کی صورتحال میں انڈیا کو بے حد دلچسپی ہے اور پاکستان کا بھی یہی معاملہ ہے۔ آپ افغانستان میں کیا کرنے جا رہے ہیں؟

آپ نے صدر کی جانب سے جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی حکمت عملی کی بابت سنا ہو گا۔ سبھی کی توجہ افغانستان پر ہے۔ مگر ایک فرق یہ ہے کہ ہم وہاں مسائل سے نمٹنے کے لیے کیا طریق کار اختیار کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں یہ پالیسی وضع کرنے میں تاخیر ہوئی۔ ہم اسے افغانستان تک ہی محدود نہیں سمجھتے بلکہ یہ ایک علاقائی معاملہ ہے۔ یہ صرف افغانستان کا مسئلہ نہیں ہے۔

آپ علاقائی مسائل حل کر کے افغانستان کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان ایک اہم عنصر ہے۔ افغانستان کے حوالے سے ہمارے مقاصد کی تکمیل کے لیے انڈٰیا بھی ایک اہم عنصر ہے اور ہمارا مقصد مستحکم افغانستان ہے جس میں دہشت گرد تنظیموں کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔ ہماری پالیسی بالکل سادہ ہے۔ جہاں تک دہشت گردوں کا معاملہ ہے تو ہم ان کے لیے مواقع، ذرائع، جگہ، مالیات، منظم ہونے کی اہلیت اور دنیا میں ہر جگہ امریکیوں کے خلاف حملوں پر روک لگانا ہے۔ واضح طور پر اس پالیسی کو درپیش خطرات کا تعلق افغانستان سے ہے۔ چنانچہ ہم دہشت گردوں کے لیے افغانستان میں مواقع کا خاتمہ کریں گے جس سے پاکستان اور افغانستان کو سب سے زیادہ فائدہ ہو گا۔ افغانستان میں ترقیاتی معاونت کے لیے انڈٰیا کا کردار بے حد اہم ہے کہ وہ بہتر معاشی حالات پیدا کرنے کے لے کام کر رہے ہیں جس سے افغانستان میں متنوع نسلی گروہوں کی ضروریات پوری ہوں گے۔ چنانچہ یہ طالبان اور دیگر عناصر کے لیے پیغام ہے کہ ہم کہیں نہیں جا رہے۔ جب تک ان کا ذہن تبدیل نہیں ہو جاتا اور وہ افغان حکومت کے ساتھ مفاہمتی عمل شروع نہیں کرتے اس وقت تک ہم افغانستان میں ہی رہیں گے۔

جہاں تک افغان حکومت کا تعلق ہے تو اسے ملک میں نسلی طور پر متنوع آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کھلے طور سے کام کرنا ہو گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مقصد قابل حصول ہے اور افغانستان کو مستحکم اور پرامن بنایا جا سکتا ہے۔ ایسا ہونے کی صورت میں مستقبل میں پاکستان کے استحکام کی بابت ایک بڑے خدشے کا خاتمہ ہو جائے گا اور نتیجتاً انڈیا اور پاکستان میں تعلقات کی بہتری کی راہ ہموار ہو گی۔ لہٰذا ہم اسے صرف ایک مسئلے کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ یہ پورے خطے کے استحکام کا معاملہ بھی ہے۔ ہم اس مقصد کے لیے انڈیا اور پاکستان کے ساتھ قریبی رابطہ چاہتے ہیں اور دونوں کی سرحدوں پر تناؤ کی کیفیت کے خاتمے کے خواہش مند ہیں۔ پاکستان کی دو سرحدوں پر بہت سے مسائل ہیں۔ ہم ان دونوں سرحدوں پر تناؤ میں کمی کے لیے ان کی مدد کرنا چاہیں گے اور مستقبل کے پاکستان میں مستحکم حکومتی چاہتے ہیں جو ہمارے خیال مٰں خطے میں باہمی تعلقات کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔

مسٹر ہیمری: جناب وزیر، میں جانتا ہوں کہ وقت ختم ہونے کو ہے مگر ترقی کے حوالے سے متعدد سوالات باقی ہیں اور مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ ہم نے یو ایس ایڈ کے لیے نہایت قابل نئی انتظامیہ کا تقرر کیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ ذاتی طور پر امداد اور ترقی سے متعلق امور پر سالہا سال سے کام کرتے رہے ہیں۔ آُپ دفتر خارجہ اور یو ایس ایڈ میں مستقبل کے تعلقات کو کیسے دیکھتے ہیں۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ادارے اپنا روایتی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دفتر خارجہ ملک کی خارجہ پالیسی تشکیل دیتا ہے اور اس حوالے سے حکمت عملی اور تدابیر اختیار کرتا ہے۔ خارجہ پالیسی پر عملدرآمد کا ایک اہم عنصر امداد اور معاونت ہے خواہ یہ براہ راست امداد ہو، لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خوراک کے پروگرام ہوں، حادثات و آفات میں مدد دینا ہو یا جمہوری اہلیت اور ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کرنے کا معاملہ ہو۔ چنانچہ یو ایس ایڈ خارجہ پالیسی پر عملدرآمد کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یو ایس ایڈ خارجہ پالیسی نہیں بناتا بلکہ ہماری خارجہ پالیسی پر عملدرآمد کے کام آتا ہے۔ چنانچہ ہم اس شعبے میں ماہر ترین لوگوں کی تعیناتی چاہتے ہیں اور وہاں ایسے ہی لوگ پائے جاتے ہیں۔ یہ کام ان سے بہتر کوئی اور انجام نہیں دے سکتا۔ ناصرف یہ براہ راست امدادی امور انجام دیتے ہیں بلکہ کثیرطرفی تنظیموں کے ذریعے کام لینے کے ب پایاں تنظٰیمی اہلیت کے حامل بھی ہیں۔ خواہ یہ اقوام متحدہ کے ادارے ہوں یا غیرسرکاری تنظیمیں یا کسی ملک میں براہ راست امداد دینا ہو، یہ لوگ اس کام کے لیے دنیا میں ماہر ترین ہیں۔ ان کے تعلقات اور روابط ہیں، ان کا اپنا طریق کار ہے اور یہ لوگ ہماری خارجہ پالیسی پر عملدرآمد میں نمایاں اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے یہ لوگ ہماری خارجہ پالیسی کا اہم جزو بن چکے ہیں۔

چنانچہ ہمارے مابین یہی تعلق ہے اور ہم ایک بات یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہر ایک کو اپنے کردار کا علم ہونا چاہیے اور اس امر سے بھی آگاہ ہونا ضروری ہے کہ کون سا کردار اس کا نہیں ہے۔ دفتر خارجہ میں اندازہ، تجزیہ، خارجہ پالیسی کی تشکیل اور سفارتی ربط ہی ہماری مہارت ہے۔ تاہم یو ایس ایڈ کے پاس جو مہارت ہے وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ ان کا اپنا کام ہے جس میں وہ ماہر ہیں۔

مسٹر ہیمری: ایک آخری سوال۔ حالیہ برسوں میں بہت سے وزرائے خارجہ کا تعلق پالیسی سے رہا ہے، انہوں نے اس شعبے میں پوری زندگی گزاری ہے۔ مگر اس محکمے کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو کاروباری دنیا سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ بھی یہاں رہے ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ امریکی سفارت کاری اور امریکی اقدار کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لیے نجی شعبے سے مل کر کیسے کام کیا جا سکتا ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں سمجھتا ہوں ہمارے لیے یہ بات یقینی بنانا نہایت اہم ہے کہ ہمیں اپنی پالیسیوں کے بارے میں مکمل وضاحت ہونی چاہیے، ہمیں اپنی حکمت عملی اور اپنی تدابیر کے بارے میں واضح ہونا چاہیے تاکہ سرمایہ کار، کاروباری طبقہ اپنے فیصلے لیتے ہوئے مکمل اندازہ قائم کر سکے خواہ یہ نجی کاروبار ہوں، سرمایہ کاری ہو، غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری ہو یا وہ یہاں امریکہ میں سرمایہ کاری کے لیے شراکت قائم کرنا چاہتے ہوں۔ میں اپنی پہلی بات کی جانب واپس جاؤں گا کہ ‘اپنے شراکت داروں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیجیے’

میں سمجھتا ہوں دفتر خارجہ میں ہمارے لیے ایک اہم بات یہ ہے کہ ہمیں کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں پر یہ واضح کرنے کے قابل ہونا چاہیے کہ کسی مخصوص ملک سے ہمارے تعلقات کیسے ہیں اور ہم اس حوالے سے کاروباری خدشات اور اس ملک کے استحکام کی بابت کیا رائے رکھتے ہیں۔ جب میں نجی شعبے میں تھا تو فیصلہ سازی میں میرے لیے یہی معاملات اہمیت رکھتے تھے۔ یہ خطرات سے نمٹنے کی فیصلہ سازی کہلائے گی۔ ہمیں ہر ایک کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ کسی ملک میں کیا خدشات ہو سکتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کون سے خطوط درست سمت میں جاتے ہیں اور کہاں معاملات غلط سمت اختیار کر سکتے ہیں اور پھر کاروباری رہنما ان میں اپنا راستہ خود چنتے ہیں۔

مسٹر ہیمری: میں سمجھتا ہوں کہ آپ سبھی دیکھ سکتے ہیں کہ ٹلرسن کی 11 برس تک بورڈ میں موجودگی میرے لیے کس قدر خوش قسمتی کا باعث تھی۔ وہ ایک دانا اور سوچنے سمجھنے والے آدمی ہیں۔ براہ مہربانی تالیاں بجا کر ان کا شکریہ ادا کیجیے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: شکریہ

(تالیاں)

# # #


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں