rss

رقہ کی داعش سے آزادی

Français Français, English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
وزیرخارجہ ٹلرسن کا بیان
20 اکتوبر 2017

 
 

ہم رقہ کی آزادی پر شامی عوام اور شامی جمہوری فورسز بشمول شامی عرب اتحاد کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ امریکہ کو اس کوشش میں مدد دینے والے 73 رکنی عالمی اتحاد کی قیادت پر فخر ہے۔ اس کوشش کے نتیجے میں عراق و شام میں داعش کی نام نہاد خلافت ریزہ ریزہ ہو گئی۔ ابھی ہمارا بہت سا کام باقی ہے مگر رقہ کی آزادی داعش کے خلاف عالمگیر جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل ہے جس سے ان دہشت گردوں کو شکست دینے کے لیے عالمی اور شامی کوششوں کی کامیابی نمایاں ہوتی ہے۔

جنوری میں داعش رقہ سے ہمارے اتحادیوں اور ہماری سرزمین کے خلاف متحرک طور سے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ اس سے محض نو مہینوں کے بعد یہ شہر ان اہم فیصلوں کے باعث داعش کے قبضے سے نکل گیا ہے جو صدر ٹرمپ نے اس مہم کو تیز کرنے کی غرض سے کیے تھے۔ گزشتہ سات ماہ میں لاکھوں لوگوں کو داعش کے ظالمانہ تسلط سے آزاد کرایا گیا اور ہم مقامی سطح پر اپنے شراکت کاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے بے گھر لوگوں کی واپسی کے لیے حالات سازگار بنا رہے ہیں۔

ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ اس کامیابی کی نمایاں قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ شامی جمہوری فورسز نے اس راہ میں بہت سا نقصان اٹھایا اور ہم جان دینے والوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہمیں امریکی افواج کے ارکان اور اتحاد میں شامل دیگر کے جانی نقصان کا بھی دکھ ہے جنہوں نے علاقے کو داعش سے چھڑانے اور اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے جان کی قربانی دی۔

داعش کے ظلم اور بربریت میں کوئی مبالغہ نہیں۔ ہم نے داعش کو تسلسل سے عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے دیکھا، اس نے علاقے میں بارودی سرنگیں چھوڑیں جن کی زد میں آ کر بچے اور عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے جو اپنے گھروں اور سکولوں کو واپس آنا چاہتے تھے۔ داعش کی وحشیانہ فطرت نے بہت سے زخم چھوڑے ہیں اور ہم آزاد کرائے گئے علاقوں میں لوگوں کے زخم بھرنے کے لیے استحکامی کوششوں میں مدد دے رہے ہیں۔

ہم عسکری اعتبار سے داعش کی شکست یقینی بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ امریکہ اور اتحاد کے دیگر ارکان داعش کی جانب سے چھوڑے گئے بارودی مواد کو ہٹانے اور وحشت وبربریت سہنے والی آبادی کو اہم نوعیت کی امداد پہنچانے کے لیے ہرممکن کوششوں میں مصروف ہیں۔ ہم بنیادی نوعیت کی سکیورٹی اور مستحکم مقامات پر ضروری خدمات کی ترسیل ممکن بنانے، سکولوں کی بحالی اور بے گھر لوگوں کی محفوظ ور رضاکارانہ واپسی کے لیے رقہ کی سول کونسل اور دیگر مقامی شامی لوگوں کی کوششوں میں بھی ہاتھ بٹا رہے ہیں۔

اس سے شامی تنازع میں ایک نئے دور کے آغاز کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ ہم اور ہمارے شراکت کار داعش کو زمین پر شکست دینے کے ساتھ شام بھر میں تشدد کے خاتمے کی کوشش بھی جاری رکھیں گے۔ شام میں تشدد میں کمی کی صورت میں امریکہ، ہمارے اتحادیوں اور شراکت کاروں کو سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے دائرہ کار میں اقوام متحدہ کے زیر قیادت سفارتی کوششیں مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے گی جن کا مقصد ایسی حقیقی سیاسی تبدیلی ممکن بنانا ہے جس میں شامی عوام کی خواہشات کا احترام ہو۔

داعش سے رقہ واپس لینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کے خلاف ہماری جنگ ختم ہو گئی ہے۔ عالمگیر اتحاد فوج، انٹیلی جنس، سفارت کاری، معیشت، نفاذ قانون اور مقامی لوگوں کی قوت سمیت قومی طاقت کے تمام عناصر سے کام لیتا رہے گا یہاں تک کہ تمام شامی لوگوں کو داعش کی بربریت سے آزاد نہ کرا لیا جائے اور ہمیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ اب یہ دنیا بھر میں دہشت نہیں پھیلا سکے گی۔ عالمی اتحاد دنیا میں ہر کہیں داعش کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے اور اسے نئی بھرتیوں، غیرملکی دہشت گرد جنگجوؤں سے کام لینے، رقومات کی منتقلی نیز انٹرنیٹ اور سماجی میڈیا پر اس کے جھوٹے پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے اپنی کڑی مہم جاری رکھے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم غالب آئیں گے اور اس ظالم دہشت گرد تنظیم کو شکست ہو گی۔

###


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں