rss

برما کی ریاست راخائن کے بحران میں امریکی امداد

हिन्दी हिन्दी, English English, العربية العربية

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
22 اکتوبر 2017
میڈیا بیان

 
 

امریکی حکومت نے برما کی ریاست راخائن میں 25 اگست سے شروع ہونے والے بحران کے بعد اب تک زندگیاں بچانے کے لیے ہنگامی امداد کی مد میں براہ راست قریباً 40 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔ اس سے مالی سال 2017 میں برما اور اس خطے میں بے گھر ہونے والوں کے لیے امریکی امداد کا مجموعی حجم 104 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

امریکی امداد مقامی سطح پر موجود ہمارے  شریک کار عالمی اداروں  کو دی جاتی ہے جن میں اقوام متحدہ کا ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر)، اقوام متحدہ کا چلڈرن فنڈ (یونیسف)، عالمی تنظیم برائے مہاجرت (آئی او ایم) اورخوراک کا عالمی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) شامل ہیں جو برما، بنگلہ دیش اور خطے کے دیگر علاقوں میں قریباً پانچ لاکھ بے گھر برمی آبادی کو تحفظ، ہنگامی پناہ، خوراک، غذائی معاونت، صحت عامہ اور نفسیاتی مدد فراہم کرتے ہیں۔

ہم اس سنگین انسانی بحران میں مدد کے لیے بنگلہ دیشی حکومت کی فراخ دلی کی تحسین کرتے ہیں اور ضرورت مندوں تک امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اس کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔

ہم شمالی راخائن ریاست میں تشدد فوری بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے برمی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ مہاجرین کی اپنے گھروں کو رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار واپسی ممکن بنائے۔ ہم عنان کمیشن کی سفارشات کے مطابق راخائن ریاست میں طویل مدتی امن اور استحکام لانے کے لیے برما کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

امریکہ برمی حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ ریاست راخائن میں لوگوں تک امداد کی بلا روک ٹوک رسائی ممکن بنائے تاکہ ہم شدید نوعیت کی انسانی ضروریات مزید اچھے انداز میں پوری کر سکیں۔ ہم دیگر عطیہ دہندگان پر بھی زور دیتے ہیں کہ وہ اس بحران سے متاثر لوگوں کے لیے اضافی امداد کی فراہمی میں ہمارا ساتھ دیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں