rss

امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کی پریس کانفرنس،، افغانستان

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ

دفتر برائے ترجمان

امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن

برائے فوری اجرا

23 اکتوبر 2017

بگرام ایئرفیلڈ، افغانستان

23 اکتوبر 2017

میں صدر غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ اور افغان قیادت کے شکریے سے بات کا آغاز کرنا چاہوں گا جن سے آج صبح میری ملاقات ہوئی۔ میرے خیال میں صدر ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا کے لیے حال ہی میں اعلان کردہ پالیسی اور حکمت عملی کے سلسلے میں جنوبی ایشیا کا دورہ کرتے ہوئے یہاں افغانستان میں ٹھہرنا ضروری تھا۔

میں سفیر لورنز اور جنرل نکلسن کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور مجھے یہاں ہماری سفارتی و عسکری خدمات انجام دینے والے مردوخواتین نیز امن کے لیے ان کی تمام کوششوں پر بھی اظہارتشکر کرنا ہے کہ امن ہی ہمارا حقیقی مقصد ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ واضح طور پر امریکہ نے خودمختار، متحدہ اور جمہوری افغانستان کی حمایت اور اس کے لیے امن، خوشحالی اور خودانحصاری کی راہ ترتیب دینے میں مدد دی ہے۔ آخر میں یہ لازم ہے کہ ہم دنیا کے کسی بھی حصے کو کسی بھی دہشت گرد تنظیم یا انتہاپسندوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دیں۔

(تفصیلی قطع کلامی)

وزیرخارجہ ٹلرسن: ٹھیک ہے۔

سوال: معذرت۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: ٹھیک ہے۔ ہم بھی علاقائی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ خطے کو خطرات سے پاک کیا جا سکے۔ جیسا کہ آپ نے ہماری حکمت عملی میں دیکھا، یہ بڑی حد تک ایک علاقائی کوشش ہے۔ چنانچہ ہم دوسروں سے بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ خطے میں کسی بھی جگہ دہشت گردوں کو محفوظ پناہ حاصل نہ کرنے دیں۔ ہم اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ بھی قریبی رابطے میں ہیں۔

صدر غنی نے مجھے افغانستان میں اصلاحات کا عمل جاری رکھنے کے حوالے سے اپنے مضبوط عزم کا یقین دلایا ہے جس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بدعنوانی کے خلاف اپنی نئی حکمت عملی اور پالیسیوں کی بابت بھی آگاہ کیا ہے جو ان کوششوں کا اہم حصہ ہیں۔ ہم نے آئندہ برس 2018 میں پارلیمانی انتخابات پر بھی بات چیت کی۔ ان انتخابات کا انعقاد بے حد اہم بات ہے۔

آخر میں ہم نے علاقائی پیش رفت پر بات کی اور تمام علاقائی سٹیک ہولڈرز کی ناصرف امریکہ بلکہ ہمارے دوسرے شراکت داروں، نیٹو کے شراکت دارں اور اس خطے میں دلچسپی رکھنے والے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اہمیت پر بھی اتفاق کیا تاکہ دہشت گردوں اور باغیوں کے خلاف لڑا جائے اور افغانستان میں امن و استحکام کو فروغ دیا جائے۔

ہمیں بہت سی کڑی محنت درکار ہے اور ہمارے سامنے بعض مسائل بھی ہیں۔ مگر امریکہ اور افغانستان میں ہمارے شریک کار اپنے مقصد کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مجھے آپ کے ایک دو سوالات کا جواب دے کر خوشی ہو گی۔

نگران: جان۔

سوال: جناب، کس طرح کا پیغام، آپ نے ماضی میں کہا تھا کہ اگر پاکستانی اپنے ہاں طالبان اور دوسرے شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتے تو انہیں امریکی امداد میں مزید کمی کا سامنا ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح پاکستان کو اقدامات کی فہرست اور ان پر عملدرآمد کے لیے مخصوص وقت دیا گیا۔ کیا آپ ان اقدامات اور ان پر عملدرآمد کے اوقات کی بابت کچھ بتا سکتے ہیں۔

میں پاکستانی قیادت سے بات چیت کے لیے کل اسلام آباد جاؤں گا۔ ہم نے طالبان اور پاکستان میں دیگر دہشت گرد تنظیموں کو ملنے والی مدد کی بیخ کنی کے لیے خصوصی درخواستیں کی ہیں۔ ہم نے اس تمام حکمت عملی میں واضح کیا ہے کہ یہ مشروط طریق کار ہے چنانچہ پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی مشروط ہی ہوں گے۔ ان تعلقات کی بنیاد اس بات پر ہو گی کہ آیا وہ ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں جو ہمارے خیال میں افغانستان میں مفاہمت اور امن نیز پاکستان کا مستحکم مستقبل یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

پاکستانی قیادت کے ساتھ ہماری بات چیت میں ہمیں افغانستان کی طرح پاکستان کے مستحکم مستقبل کی بھی فکر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اپنے ہاں محفوظ ٹھکانے بنانے والی دہشت گرد تنظیموں کی تعداد کے حوالے سے جس صورت حال کا سامنا ہے اس کا انہیں واضح ادراک ہونا چاہیے۔ چنانچہ ہم مزید مستحکم اور محفوظ پاکستان کے لیے بھی اس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

نگران: گارڈنر

سوال: جناب، یوں لگتا ہے جیسے یہ نہ ختم ہونے والی جنگ ہے۔ جیسا کہ آپ نے کہا اس کا انحصار حالات پر ہے مگر یوں لگتا ہے کہ حالات کا مطلب یہ ہے کہ امریکی عسکری موجودگی کہیں دور کی بات ہے۔ کیا یہ اس حکمت عملی کا حصہ ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: صدر یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ہم اس وقت تک یہاں موجود ہیں جب تک مفاہمت اور امن کا عمل واضح نہیں ہو جاتا۔ یہ لامحدود ذمہ داری نہیں ہے، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہم لامحدود مدت کے لیے افغانستان کی معاونت کا وعدہ نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے مشروط عہد کہنا مناسب ہو گا۔

تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ افغانستان کی موجودہ صورتحال پر غور کریں، ہم چند منٹ پہلے اسی پر بات کر رہے تھے، اور اگر آپ ماضی کے چند برس کا جائزہ لیں کہ اس وقت کیا حالات تھے تو اب افغانستان میں پہلے سے زیادہ پرجوش لوگ، پرجوش حکومت، تعلیمی نظام اور بہتر معیشت دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ اب یہاں خوشحال افغان معاشرے کی بنیادی مضبوط کرنے کے مواقع بھی موجود ہیں۔

ہمیں طالبان اور ایسے دوسرے عناصر کے خلاف جنگ جاری رکھنا ہے یہاں تک کہ وہ سمجھ جائیں گے کہ عسکری محاذ پر انہیں کبھی فتح حاصل نہیں ہو گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان میں بھی معتدل عناصر موجود ہیں جو ہمیشہ کے لیے جنگ نہیں چاہتے۔ وہ اپنے بچوں کو ہمیشہ کے لیے لڑتا دیکھنا نہیں چاہتے۔ چنانچہ ہم ایسے عناصر سے رابطہ چاہتے ہیں اور ہم نے انہیں مفاہمتی عمل میں شامل کیا ہے جو امن عمل اور حکومت میں ان کی مکمل شمولیت اور شرکت کی جانب لے کر جاتا ہے۔ اگر وہ دہشت گردی اور تشدد سے دستبردار ہو جائیں اور ایک مستحکم و خوشحال افغانستان کا عزم کریں تو ان کے لیے حکومت میں جگہ موجود ہے۔

نگران: مشیل

سوال: کیا آپ نے انڈیا پر اپنی بڑی تقریر کے بعد پاکستانیوں سے بات کی ہے؟ کیا آپ انہیں یہاں انڈیا کی موجودگی کے حوالے سے کوئی یقین دہانی کرانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں نے انڈیا کے حوالے سے تقریر کے بعد پاکستانی قیادت میں کسی سے بھی بات نہیں کی۔ یقیناً کل کے دورے میں ہم اس پر بھی بات کریں گے۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ہمارا نکتہ نظر اس مخصوص خطے کے حوالے سے ہی تزویراتی اہمیت کا حامل نہیں ہے بلکہ اس تقریر کے تناظر میں اس کا تعلق ایک آزاد اور کھلے خطہ ہندوالکاہل سے ہے جو جاپان سے انڈیا تک پھیلا ہے۔

لہٰذا یہ ایک وسع تعلق ہے۔ تاہم ہمارا یقین ہے کہ انڈیا افغانستان کو پرامن اور مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وہ پہلے ہی اہم معاشی سرگرمیوں میں مدد دے رہے ہیں اور روزگار کے مواقع پید اکر رہے ہیں جو کہ افغانستان کے مستقبل کے لیے بے حد اہم ہے۔ ہم اس حوالے سے ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے مستقبل کے لیے درست ماحول تخلیق کرنے میں وہ انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

نگران: ٹھیک ہے۔ آپ کا بہت شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں