rss

برما کی ریاست راخائن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتساب

Français Français, English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ

دفتر برائے ترجمان

برائے فوری اجر

ترجمان دفتر خارجہ ہیدا نوئرٹ کا بیان

23 اکتوبر 2017

برما نے حالیہ برسوں میں نصف صدی پر مشتمل آمریت سے نکل کر ایک کھلے اور جمہوری معاشرے کی جانب مراجعت کی ہے۔ امریکی انتظامیہ اس تبدیلی اور منتخب سویلین حکومت کی حمایت کرتی ہے جو کہ برما کے عوام اور امریکہ برما شراکت کے مفاد میں امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول میں کلیدی کردار کی حامل ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم ریاست راخائن میں پیش آنے والے حالیہ واقعات اور روہنگیا سمیت دیگر لوگوں کو درپیش متشدد اور پریشان کن سلوک پر سنگین تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے مظالم کے مرتکب افراد یا ادارے بشمول غیرریاستی کرداروں اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کا احتساب لازم ہے۔امریکا برما کی مسلح افواج کے ساتھ ہمارے پہلے سے محدود تعلقات پر موجودہ پابندیوں اور انہیں ہر قسم کے عسکری سازوسامان کی فروخت پر پابندی کے علاوہ احتساب ممکن بنانے اور تشدد کے خاتمے کے لیے درج ذیل اقدامات اٹھا رہا ہے:

  • 25 اگست کے بعد ہم نے برمی فوج کی موجودہ اور سابقہ اعلیٰ قیادت کے لیے ‘جے ای ڈی ای’ سفری قانون میں چھوٹ ختم کر دی ہے۔
  • ہم ‘جے اے ڈی ای’ قانون کے تحت ایسے لوگوں کے خلاف معاشی اقدامات پر غور کر رہے ہیں جو ان مظالم میں ملوث ہیں ۔
  • لیہی قانون کی رو سے شمالی راخائن میں کارروائیاں کرنے والے تمام فوجی یونٹ اور افسر کسی بھی امریکی معاونتی پروگرام میں شرکت کے اہل نہیں ہیں۔
  • ہم نے برمی سکیورٹی فورسز کے اعلیٰ افسروں کے لیے امریکی معاونت سے منعقدہ پروگرامز میں شرکت کی پیشکش منسوخ کر دی ہیں۔
  • ہم اپنے عالمی شراکت داروں کے تعاون سے برما پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کے حقائق سے آگاہی کے مشن، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور میڈیا کو متعلقہ علاقوں میں بلا روک و ٹوک رسائی دے۔
  • ہم برما میں مظالم کا ارتکاب کرنے والوں کا اقوام متحدہ، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور دوسری مناسب جگہوں پر احتساب ممکن بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں سے مشاورت کر رہے ہیں۔
  • ہم امریکی قانون کے تحت احتساب کے طریقہ ہائے کار کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں میگنٹسکی قانون کے تحت عالمی پابندیاں بھی شامل ہیں۔

ہم جمہوریت کی جانب برما کی مراجعت اور ریاست راخائن میں حالیہ بحران کے حل کی کوششوں میں اس کی مدد جاری رکھیں گے۔ برما کی حکومت اور اس کی مسلح افواج کو امن و سلامتی کی بحالی کے لیے فوری اقدام کرنا ہو گا۔ انہیں شدید ضرورت مند لوگوں کو امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے وعدوں پر عملدرآمد اور راخائن ریاست سے نقل مکانی کرنے والوں اور بے گھروں کی محفوظ اور رضاکارانہ واپسی میں سہولت فراہم کرنا ہو گی۔ انہیں راخائن مشاورتی کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کرتے ہوئے روہنگیا کے خلاف باقاعدہ امتیازی سلوک کی بنیادی وجوہ پر کام کرنا ہو گا۔ کمیشن کی ان سفارشات میں روہنگیا کے لیے شہریت کی فراہمی کا قابل اعتبار طریقہ کار بھی شامل ہے۔ ہم ان کوششوں میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں