rss

پناہ گزینوں کے امریکہ داخلے کے پروگرام کی صورتحال

Português Português, English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
اکتوبر24   2017
حقائق نامہ

 
 

قوم کو غیرملکی دہشت گردوں کے امریکہ داخلے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے انتظامی حکم 13780 کے سیکشن 6 (اے) کی بنیاد پر امریکی حکومت نے پناہ گزینوں کے امریکہ داخلے کے پروگرام (یوایس آر اے پی) کا 120 روزہ جائزہ لیا تاکہ امریکی عوام کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی کی غرض سے اضافی جانچ پڑتال کے طریقہ ہائے کار کی نشاندہی اور ان پر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔

نتیجتاً صدر نے ‘یوایس آر اے پی’ کی عمومی بحالی کے لیے ایک نیا انتظامی حکم جاری کیا۔

دفتر خارجہ، محکمہ داخلی سلامتی اور ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر نے مشترکہ طور پر یہ تعین کیا کہ ‘یوایس آر اے پی’ کے حوالے سے چھان بین اور جائزے کے اقدامات میں اضافہ امریکہ کی سلامتی اور بہبود یقینی بنانے کے لیے عمومی طور پر کافی ہے۔ اسی لیے وزیرخارجہ اور وزیر برائے داخلی سلامتی اس پروگرام کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ 11 ایسی قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے بنظر غائر جائزے کی ضروری ہے جنہیں قبل ازیں امریکہ کے لیے انتہائی خطرے کا باعث قرار دیا گیا تھا۔ ان 11 ممالک سے تعلق رکھنے والے درخواست گزاروں کو 90 روزہ جانچ پڑتال کے دوران فرداً فرداً جائزے کی بنیاد پر امریکہ میں داخلہ دیا جائے گا۔
پہلے سے امریکہ میں آباد مہاجرین کے جو رشتہ دار امریکہ آنا چاہتے ہیں ان کے لیے بھی اضافی سکیورٹی اقدامات پر بہرصورت عمل ہونا ہے اور اس کا اطلاق تمام ممالک کے شہریوں پر ہو گا۔ جانچ پڑتال اور جائزے کے اضافی اقدامات پر عملدرآمدکے بعد مہاجرین کے رشتہ داروں کو امریکہ میں داخلہ دینے کا عمل بحال ہو جائے گا۔
امریکہ دنیا میں کسی بھی ملک سے زیادہ تعداد میں مہاجرین کو اپنے ہاں داخلہ دینے کا عمل جاری رکھے گا اور ہم امریکی عوام کا تحفظ اور سلامتی برقرار رکھتے ہوئے انتہائی برے حالات کا شکار مہاجرین کو تحفظ کی پیشکش قائم رکھیں گے۔ امریکہ بدستور مہاجرین اور بے گھر افراد کی مدد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جس نے مالی سال 2017 میں انہیں 8 ارب ڈالر سے زیادہ امداد دی ہے۔

مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجیے: [email protected]<mailto:[email protected]


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں