rss

وزیرخارجہ ٹلرسن اور انڈین وزیر برائے امور خارجہ سشما سوارج کی پریس کانفرنس

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
بیان
وزارت خارجہ امور، جواہر لال نہرو بھون
نئی دہلی، انڈیا
25 اکتوبر 2017

 

 

وزیرخارجہ ٹلرسن: آغاز میں مجھے انڈیا میں اپنے گرم جوش خیرمقدم پر وزیراعظم مودی اور وزیر سوارج کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ انڈیا ایک پرجوش جمہوریت اور امریکہ کے ساتھ بہت سی مشترکہ اقدار کا حامل ہے جہاں دوبارہ آنا میرے لیے واقعتاً خوشی کی بات ہے۔

انڈیا اور امریکہ کے قریبی تعلقات کو اب 70 برس سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے اور وزیراعظم مودی کے الفاظ میں ہم فطری اتحادی ہیں۔ ہم ان کی دوستی اور دونوں ملکوں میں قریبی تعلقات کے حوالے سے سوچ پر ان کے شکرگزار ہیں۔ یقیناً یہ ہماری مشترکہ سوچ ہے۔ امریکہ ایک اہم طاقت کے طور پر انڈیا کے ظہور کی حمایت کرتا ہے اور خطے بھر میں تحفظ کی فراہمی کے ضمن میں انڈیا کی صلاحیتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اس حوالے سے ہم انڈیا کی فوج کو جدید بنانے کی کوششوں کے ضمن میں ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی فراہمی کے لیے تیار ہیں۔ اس میں امریکی صنعت کی جانب سے انڈیا کو ایف 16 اور ایف 18 جہازوں کی پیشکش بھی شامل ہے۔ میں اپنے دوست اور وزیردفاع ماٹس کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے گزشتہ ماہ انڈیا کا دورہ کیا۔ وہ اور میں دونوں آئندہ برس کے آغاز میں 2+2 ڈائیلاگ شروع ہونے کے منتظر ہیں ۔

اگست میں صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کیا جو افغانستان اور اس کے ساتھ پورے جنوبی ایشیائی خطے کے لیے امن و استحکام کے سلسلے میں ہمارے عزم کو دوچند کرتی ہے۔ اس کوشش میں انڈیا کا اہم کردار ہے۔ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انڈیا کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔

ہم افغانستان میں ترقی کے لیے فیاضانہ کوششوں بشمول سلما ڈیم اور افغان پارلیمنٹ کی عمارت کی تعمیر پر انڈیا کے مشکور اور معترف ہیں جبکہ اس نے ترقیاتی معاونت کی مد میں پہلے ہی افغانستان کو 3 ارب ڈالر دیے ہیں۔ ہم ہندوالکاہل کے وسیع تر خطے میں اپنے تعاون کو مزید وسعت دینے کے بھی متمنی ہیں کہ دونوں ممالک معاشی ترقی کے لیے اصولوں کی بنیاد پر شفاف اور پائیدار طریقہ ہائے کار کو فروغ دیتے ہیں۔ ہمیں اس کوشش میں اپنے قریبی باہمی شریک کار جاپان کی شمولیت پر خوشی ہے اور مجھے ان موضوعات پر اپنے دوستوں وزیر سوارج اور وزیر کونو سے گزشتہ ماہ نیویارک میں سہ طرفی گفتگو میں شرکت کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

علاقائی اور عالمی استحکام کے حوالے سے ہماری شراکت کے علاوہ انڈیا اور امریکہ اپنے مضبوط معاشی تعلقات سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک میں تجارتی تعلقات کی تاریخ 18ویں صدی میں دونوں ممالک کی آزادی سے بھی پہلے شروع ہوتی ہے۔ ہمیں حال ہی میں اپنے گہرے ہوتے معاشی تعلقات کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل عبور ہونے پر خوشی ہے۔ امریکی خام تیل کی پہلی کھیپ اس ماہ کے آغاز میں انڈیا پہنچی جو کہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ میں انڈیا کو امریکی تیل کی پہلی برآمد ہے۔ تیل کی فروخت جاری رہنے سے دونوں ممالک میں باہمی تجارت کا حجم 2 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتا ہے۔

درحقیقت گزشتہ برس قریباً 115 ارب تک پہنچنے والے امریکہ انڈیا باہمی تجارتی تعلقات سے دونوں ممالک میں ہمارے شہریوں کی زندگی کو کئی اعتبار سے فائدہ پہنچا۔ امریکی کمپنیوں اور پیداوار کا انڈیا کے لوگوں کی روزمرہ زندگیوں میں اہم کردار ہے اور ہم انڈین کمپنیوں کی جانب سے امریکہ میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کا مشاہدہ کر رہے ہیں جن میں ‘مہندرا وہیکل پلانٹ’ بھی شامل ہے جو اس ماہ ڈیٹرائٹ میں کھولا جائے گا۔ یہ امریکہ میں گاڑیاں بنانے والا پہلا انڈین کارخانہ ہو گا۔ انڈیا اور امریکہ میں کاروباری نظامت اور اختراع کا جذبہ بھی مشترک ہے جس میں متحرک انڈین امریکن کمیونٹی بھی شامل ہے۔ ہمیں آئندہ ماہ حیدرآباد میں عالمی کانفرنس کی مشترکہ میزبانی پر بھی فخر ہے جہاں نجی کاروبار کے حوالے سے جوش و جذبہ عروج پر دکھائی دے گا۔ جنوبی ایشیا میں پہلی مرتبہ ہونے والی یہ کانفرنس انڈیا اور امریکہ کے لیے اپنے لوگوں کی کاروباری نظامت کے اظہار اور خواتین کے معاشی اختیار نیز دونوں ممالک میں نوجوان اختراع سازوں کی قوت سے کام لینے کا اہم موقع ہو گی۔

تاہم ہماری مشترکہ اقدار ہی ہمارے مضبوط تعلق کی بنیاد ہیں۔ ہماری جمہوریتیں انفرادی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے عہد پر وجود میں آئی تھیں۔ یہی بنیاد دہشت گردی کے مقابلے سے لے کر آزاد اور منصفانہ تجارت کے لیے قوانین کی بنیاد پر بحرہندوالکاہل کے خطے کی حفاظت سمیت ہمارے تمام مشترکہ اقدامات کی بنیاد ہے۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے جون میں وزیراعظم مودی کے دورہ امریکہ کے موقع پر کہا تھا ‘ہماری شراکت کا مستقبل کبھی اس قدر روشن دکھائی نہیں دیا’ انڈیا اور امریکہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ دوستی اور احترام کے بندھن میں بندھے رہیں گے۔ ہم اس سے بھی زیادہ روشن مستقبل کے منتظر ہیں۔ جناب عالی، میری میزبانی اور انتہائی ثمرآور اور مفید بات چیت پر آپ کابے حد شکریہ۔

سوال: رائٹرز سے جوناتھن لینڈے۔ جناب وزیر 2016 میں انڈیا اور افغانستان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کی رو سے انڈیا جنوبی ایرانی بندرگاہ چاہ بہار اور جنوبی افغانستان میں ایک ریلوے لائن تعمیر کرے گا اور اس سے ایسا تجارتی راستہ کھلے گا جس کی بدولت افغانستان کا تجارت کے لیے پاکستان کی کراچی بندرگاہ پر انحصار ختم ہو جائے گا جس تک انڈیا کی رسائی نہیں ہے۔ انڈیا اس منصوبے پر کروڑوں خرچ کر رہا ہے جس سے اسے تجارت اور معاونت کو افغانستان تک وسعت دینے میں مدد ملے گی جو کہ جنوبی ایشیا کے حوالے سے آپ کی انتظامیہ کی نئی حکمت عملی کا اہم ستون ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ایران کے حوالے سے جارحانہ موقف پر مبنی نئی حکمت عملی کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں اس کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے آگے بند باندھا جا سکے۔ کیا چاہ بہار میں امریکہ کی دو حکمت عملیوں کے ٹکراؤ کا بہت بڑا امکان نہیں ہے کہ ایران اس منصوبے پر کام روک سکتا ہے جس سے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افغانستان کے استحکام میں انڈیا کے کردار کی تکمیل کا امکان کمزور پڑ جائے گا۔ امریکہ اور ایران کے مابین سنگین تناؤ کے پیش نظر آپ ایسی صورتحال وقوع پذیر ہونے سے کیسے روکیں گے۔ شکریہ۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: جہاں تک امریکہ کی جانب سے ایران کے حوالے سے اعلان کردہ حالیہ پالیسی کا تعلق ہے تو میرے خیال میں اس حوالے سے چند باتیں ذہن میں رکھنا ضروری ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس پالیسی کے تین اہم ستون ہیں۔ ایک میں ایک ایران کے جوہری پروگرام سے نمٹنا ہے۔ اس پالیسی کا دوسرا اہم ستون ایران کی دیگر تخریبی سرگرمیوں سے نمٹنا ہے جن میں میزائل پروگرام، دہشت گرد تنظیموں کو ہتھیاروں کی برآمد، بیرون ملک جنگجو بھیجنا نیز یمن، شام اور دیگر جگہوں پر بغاوت میں اس کا کردار شامل ہیں۔ اس حکمت عملی کے تیسرے ستون پر زیادہ بات نہیں ہوئی جو کہ ایران میں معتدل عناصر کی حمایت سے متعلق ہے۔ ہم ایران میں ان موثر محسوسات اور اقدار کو فروغ دینا چاہتے ہیں کہ ان کی بدولت ایک دن ایرانی لوگ اپنی حکومت پر اختیار واپس لینے کے قابل ہو سکیں۔ ایرانی عوام جابر انقلابی حکومت کے تحت رہ رہے ہیں اور ہم ایرانی عوام کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ ہماری جنگ ایرانی عوام کے خلاف نہیں ہے۔ ہمارے اختلافات انقلابی حکومت سے ہیں۔

چنانچہ اس تناظر میں جبکہ ہم ایران کے خلاف اور خصوصی طور سے اس کے پاسداران انقلاب کے خلاف پابندیاں عائد کر رہے ہیں تو ہمارا مقصد اس کے ضرر رساں طرز عمل میں معاون مالیاتی اہلیت اور سرگرمیوں کا خاتمہ ہے۔ ایرانی عوام کو نقصان پہنچانا یا اس کی جائز کاروباری سرگرمیوں کو سبوتاژ کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے خواہ ان کا تعلق یورپ سے ہو یا انڈیا سے، ہمیں ایران سے متعلق ایسے معاہدوں کو بھی نقصان نہیں پہنچانا جن سے ہمارے دوستوں اور اتحادیوں کو فائدہ پہنچتا ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس پالیسی میں کوئی تضاد نہیں ہے اور درحقیقت ہم ان میں بعض ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ایران کی سرگرمیوں پر پابندی کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ ان میں خاص طور پر ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کے آلہ کاروں کی سرگرمیاں شامل ہیں، ان پابندیوں کا مقصد خطے میں ایران کی تخریبی کارروائیوں پر اسے سزا دینا ہے۔

چنانچہ ہم نہیں سمجھتے کہ اس میں کوئی تضادہے اور اس پالیسی کی وضاحت یقینی بنانے کے لیے ہم اپنے تمام دوستوں اور اتحادیوں سے کھل کر بات چیت کر رہے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ اگر ضروری ہوا تو ہم اپنے دوستوں اور شراکت کاروں سے رابطہ کریں گے تاکہ ان سے مل کر ایران پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اپنی تخریبی سرگرمیوں سے باز آ جائے جن پر دنیا کے بہت سے ممالک کو تشویش ہے۔

سوال: شکریہ (ناقابل سماعت) صبح بخیر۔ میرا نام اشیش ہے اور میں انڈیا ٹی وی کی نمائندگی کرتا ہوں۔ جناب وزیر، آپ سے میرا سوال یہ ہے کہ ابھی آپ نے کہا کہ  دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں برداشت نہیں کی جائیں گی، مگر ہم نے اکثروبیشتر دیکھا ہے کہ پاکستانی ریاست دہشت گردوں کو ٹھکانے فراہم کرتی ہے اور سرحد پار دہشت گردی کی معاون ہے۔ چنانچہ جب بھی ان کی سازش سامنے لائی جائے تو وہ باآسانی کسی تزویراتی صورتحال  یا کسی جھوٹی یقین دہانی کے ذریعے دامن بچا لیتے ہیں۔ ابھی آپ پاکستان سے انڈیا آ رہے ہیں، اس مسئلے کے حل کی بابت آپ کیا کہتے ہیں جو کہ ہمارے لیے بے حد اہم معاملہ ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستانی قیادت سے بات چیت میں ہم نے اپنے خدشات کا کھل کر اظہار کیا۔ خطے میں ناصرف انڈیا بلکہ افغانستان کے بھی اس حوالے سے یہی خدشات ہیں کہ بہت سی دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان میں محفوط پناہ گاہیں میسر ہیں جہاں سے یہ دوسرے ممالک کے خلاف کارروائیاں کرتی ہیں۔ ہم نے پاکستان کو بتایا کہ ہمیں ان کی حکومت سے کیا توقعات ہیں، ہم معلومات کے تبادلے کے طریق کار سے کام لینے کی کوشش کر رہے ہیں، یہی نہیں بلکہ ان تنظیموں کو دوسرے ممالک کے خلاف کارروائیوں سے روکنے کے اقدامات میں تعاون کا طریقہ کار وضع کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

میں نے یہ بات پاکستانی قیادت سے کہی اور یہ بھی کہا کہ ہمیں پاکستانی حکومت کے استحکام اور تحفظ پر بھی تشویش ہے۔ ان دہشت گرد تنظیموں نے اپنا حجم اور پاکستانی حدود میں اپنی قوت کو بڑھا لیا ہے جس سے پاکستان کے اپنے استحکام کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ حکومت پاکستان کا غیرمستحکم ہونا کسی کے مفاد میں نہیں۔ چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ ناصرف ان تنظیموں کا مقابلہ کرنے بلکہ ان کے خاتمے کے لیے بھی ہمارے مفادات مشترک ہیں۔ میرے خیال میں ہم سب کو ہر طرح کی دہشت گردی کے خاتمے کا عزم کرنا ہو گا۔ اس کے لیے عالمی اور عالمگیر کوششیں اور مشترکہ نکتہ نظر اور مقصد درکار ہے۔ ہم نے پاکستانی قیادت سے اپنی انہی توقعات کا اظہار کیا۔ ہم پاکستان کے ساتھ مثبت طور سے کام کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا طویل مدتی مفاد بھی اسی سے وابستہ ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں