rss

افیون کے مسئلے سے نمٹنے میں دفتر خارجہ کا کردار

Русский Русский, English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
26 اکتوبر 2017
نائب معاون وزیرخارجہ برائے انسداد بین الاقوامی منشیات و نفاذ قانون جم ویلش کی پریس بریفنگ
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی سی

ہیدا نوئرٹ: آپ کو یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہاں آنے پر سبھی کا شکریہ۔ آج میں چند فاضل مہمانوں کو ساتھ لائی ہوں جس کا مقصد آپ کو موجودہ مسائل پر اپنے مزید ماہرین کے ذریعے معلومات فراہم کرنا ہے۔ میں یہاں اپنی جانب سے یہ بات کہنا چاہوں گی کہ ہمارے یہ ساتھی دفتر خارجہ میں بالترتیب 15 اور 17 برس سے کام کر رہے ہیں۔ ان دونوں کا تعلق سرکاری ملازمت سے ہے جنہوں نے دفتر خارجہ اور امریکی عوام کے لیے بے پایاں کام کیا ہے۔

ہم اپنے باضابطہ اور علاقائی دفاتر، خارجہ ملازمت کے حکام اور سرکاری افسروں کا بے حد احترام کرتے ہیں اور میں ان کے کچھ شاندار کام پر روشنی ڈالنا چاہوں گی۔ یہ لوگ بے حد محب وطن ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر میں خدمات انجام دی ہیں، ان میں بہت سے لوگ دفتر خارجہ کے بہترین اور روشن دماغ لوگوں کی واضح مثال ہیں۔

آج میں آغاز میں آپ کو جم ویلش سے متعارف کرانا چاہوں گی۔ وہ ‘آئی این ایل بیورو’ سے متعلق نائب معاون وزیرخارجہ ہیں۔ شاید آپ نے کچھ ہی دیر قبل صدر کو امریکہ میں افیون سے متعلق مسائل پر بات کرتے سنا ہو گا۔ صدر نے بتایا کہ کیسے ہم پوری حکومتی طاقت سے امریکہ میں نشہ کی لت کے خلاف جارحانہ طور سے کام کریں گے۔

صدر کا کہنا تھا کہ ہماری نسل اس بیماری کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ دفتر خارجہ بھی نشے کی لت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس مہلک بیماری کے خلاف ہمارا کلیدی کردار ہے۔ انسداد منشیات اور نفاذ قانون سے متعلق ہمارا بیورو ‘آئی این ایل’ دنیا بھر میں افیون کے مسئلے سے نمٹنے کی کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ اس حوالے سے کچھ تفصیلات کی فراہمی اور آپ کے سوالوں کا جواب دینے کے لیے میں ‘آئی این ایل بیورو’ کے نائب معاون وزیر جم ویلش کو مائیک پر آنے  کی دعوت دوں گی۔ آئی این ایل کا مطلب ‘بین الاقوامی منشیات اور نفاذ قانون’ ہے۔ ہم چند سوالات لیں گے اور پھر میں آپ کو ہمارے ایک اور نائب معاون وزیر سے متعارف کراؤں گی۔

جم ویلش: شکریہ ہیدا، سبھی کو سہ پہر بخیر۔ صدر اور خاتون اول نے کچھ ہی دیر قبل ہماری قوم کو درپیش منشیات کے مسائل پر بات کی ہے۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ دفتر خارجہ افیون کی اس وبا سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہا ہے۔ سمندر پار ہیروئن اور مصنوعی طور پر تیار کی جانے والی افیون کے باعث اس بحران میں اضافے اور بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں کی جانب سے اس مہلک پیداوار کی نقل و حمل کے باعث اس مسئلے سے نمٹنے کی ہماری حکمت عملی میں ایک عالمی عنصر بھی شامل ہے۔ اس بحران سے نمٹنا انتظامیہ اور دفتر خارجہ کی اولین ترجیح ہے اور ہم اس جان لیوا منشیات کی ملک میں آمد روکنے کے لیے دنیا بھر میں اپنے شراکتوں سے کام لے رہے ہیں۔ ہم امریکیوں کو اس سے محفوظ رکھنے کے لیے ناصرف باہمی بلکہ کثیرطرفی سفارتی ذرائع سے کام لے رہے ہیں اور اس ضمن میں غیرملکی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے۔

18 اکتوبر کے بعد اب جرائم پیشہ عناصر کے لیے ‘فینٹانل’ کی پیداوار مشکل ہو گئی ہے کیونکہ اس خطرناک نشہ آور دوا کی تیاری میں استعمال ہونے والے دونوں بڑے اجزا کی دستیابی اب عالمی سطح پر کنٹرول میں ہے۔ اس مقصد کے لیے دفتر خارجہ کے زیرقیادت ایک موثر سفارتی مہم چلائی گئی جو اس پر نئی پابندیاں لگانے کے لیے متفقہ عالمی رائے پر منتج ہوئی۔ یہ مہلک مصنوعی افیون کی ترسیل محدود کرنے کے لیے ہماری کوششوں میں محض ایک اہم قدم ہے اور بالاآخر اس سے امریکیوں کی زندگی کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

کرہ ارض کی دوسری جانب ہم چین کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہم مصنوعی  افیون کی غیرقانونی تیاری اور سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے چین کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ اب تک ہم نے اس محاذ پر قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔ رواں برس مارچ اور جولائی میں امریکی درخواستوں کے جواب میں چین نے پانچ خطرناک مصنوعی دواؤں پر نئے کنٹرول کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی جن میں کارفینٹانل بھی شامل ہے جس کے بارے میں شاید آپ جانتے ہوں کہ یہ فینٹانل سے سو گنا زیادہ مہلک اور طاقتور ہے۔ آئندہ ہفتے دفتر خارجہ محکمہ انصاف میں ہمارے بین الاداری شریک کاروں کے ساتھ چین میں انسداد منشیات سے متعلق ماہرین کی سطح پر ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کرے گا تاکہ اس تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔

ہم غیرقانونی ادویہ کی اپنی سرحدوں تک رسائی روکنے کے لیے غیرملکی معاونت سے میکسیکو کی صلاحیت بہتر بنانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے آئی این ایل بیورو کی کوششوں میں غیرقانونی  ادویہ کی روک تھام کے لیے میکسیکو کی صلاحیت میں اضافہ، ہماری جنوب مغربی سرحد پر سکیورٹی میں بہتری لانا اور ہیروئن و مصنوعی ادویہ کی پیداوار میں کمی کے اقدامات شامل ہیں۔ ہم منشیات بنانے والی خفیہ لیبارٹریوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ یکم دسمبر کو ہم ناصرف میکسیکو بلکہ اپنے شمالی شریک کار کینیڈا کے ساتھ بھی جمع ہوں گے جسے خود بھی فینٹانل کے مسئلے کا سامنا ہے۔ یہ کام منشیات سے متعلق شمالی امریکہ کی آئندہ بات چیت کے موقع پر ہو گا۔

منشیات کی ترسیل روکنے کے حوالے سے اس اقدام سے بڑھ کر نشہ آور ادویہ کی طلب میں کمی کے ہمارے عالمی پروگراموں کے تحت ایسے نئے طریقہ ہائے کار وضع کیے جا رہے ہیں جنہیں مقامی سطح پر روک تھام اور علاج کے ماہرین نے اختیار کیا ہے۔ آئی این ایل نے سائنسی اور شہادتی بنیاد پر منشیات کے حوالے سے علاج اور روک تھام  کا عالمگیر نصاب تیار کیا ہے۔ اس سے منشیات کی لت پر مزید موثر انداز میں قابو پانے میں مدد ملے گی۔ منشیات کی طلب میں کمی کے لیے ہمارے سمندر پار ذرائع اور عالمگیر تحقیق سے بھی اندرون ملک افیون کے بحران سے نمٹنا ممکن ہو گا۔

بنیادی بات یہ ہے کہ دفتر خارجہ اس بحران کی گھمبیرتا سے پوری طرح آگاہ اور اس پر قابو پانے کے لیے مصروف عمل ہے۔ 2016 میں 64 ہزار سے زیادہ امریکیوں نے نشہ آور ادویہ کی زیادہ مقدار استعمال کرنے سے جان گنوائی۔ منشیات کی سمگلنگ کے نئے طریقے سامنے آ گئے ہیں جن میں ایسی ادویہ کی خریدوفروخت کا تاریک جال بھی شامل ہے۔ دھوکے باز ادویہ ساز خطرناک رفتار سے نئی مصنوعی دوائیں بنا رہے ہیں۔ ہمیں ان نئی اور مہلک حقیقتوں کا سامنا کرنے کے لیے اپنے طریقہ ہائے کار کو تسلسل سے بہتر بنانا ہو گا۔

یہ ایک ہولناک مسئلہ ہے جو بدستور دفتر خارجہ کی اول ترجیح رہے گا۔ شکریہ، اب میں آپ کے چند سوالات لوں گا۔

ہیدا نوئرٹ: کون آغاز کرنا چاہے گا؟ جی، کیا یہاں کوئی کچھ نہیں جاننا چاہتا؟ آپ لوگ رپورٹر ہیں۔

سوال: مجھے پوچھنا ہے۔

ہیدا نوئرٹ: جی۔

سوال: مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آپ اپنی کوششوں کو مصر جیسے اتحادیوں سے کیسے مربوط کر رہے ہیں جہاں بعینہ یہی مسائل موجود ہیں؟

جم ویلش: جیسا کہ میں نے  کہا ہم کثیرطرفی اور دوطرفہ طور پر کام کرتے ہیں۔ عالمگیر کثیرطرفی طور سے ہم انسداد منشیات کے عالمی بورڈ میں باقاعدگی سے ملتے ہیں اور اپنے سفارتخانے  کے ذریعے دوطرفہ طور سے بھی کام کرتے ہیں۔ منشیات کی طلب میں کمی کے اپنے پروگرام کے ذریعے ہم بہت سی ایسی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں جن سے یہ اندازہ ہو کہ فینٹانل دنیا بھر میں کس قدر خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ ہماری پاس اعدادوشمار نہیں ہیں مگر ہم یہ شہادت حاصل کر رہے ہیں کہ یہ بہت سے دوسرے ممالک میں بھی پھیل رہی ہے۔ لہٰذا معلومات جمع کر کے اور منشیات کی طلب میں کمی کے حوالے سے اپنے طریقہ ہائے کار کے تبادلے کے ذریعے ہم ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

سوال: کیا یہ باہمی تعاون سکیورٹی اداروں کی سطح پر ہے یا سفارتی سطح پر؟ کیسے ۔۔۔۔

جم ویلش: زیادہ تر سفارتی سطح پر، خصوصاً مصر کے ساتھ ایسا ہی ہے۔

ہیدا نوئرٹ: ہم ایک اور سوال لیں گے۔ جی بات کیجیے۔

سوال: بہت شکریہ، میرا نام کارمن ریا راڈریگز ہے اور میں ریڈیو مارٹی کے لیے کام کرتی ہوں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ نشہ آور ادویہ بیرون ملک سے آ رہی ہیں یا اس کی پیداوار اندرون ملک جاری ہے۔ اس کی زیادہ مقدار کہاں سے آ رہی ہے؟

جم ویلش: جیسا کہ آپ نے ہمارے صدر کی زبانی سنا ہو گا، ہیروئن کی بیشتر ترسیل میکسیکو سے ہو رہی ہے۔ ڈی ای اے کے اندازے کے مطابق 90 فیصد ترسیل وہیں سے ہو رہی ہے۔ جہاں تک فینٹانل کا تعلق ہے تو اس کی بڑی تعداد چین سے آتی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ یا تو یہ ہیروئن کے ساتھ میکسیکو سے سمگل ہو رہی ہے یا ڈاک کے ذریعے براہ راست امریکہ بھیجی جا رہی ہے۔

ہیدا نوئرٹ: آپ کا بے حد شکریہ

جم ویلش: شکریہ

ہیدا نوئرٹ: جناب آپ کا شکریہ، اپنی مہارت اور وقت دینے کے لیے ہم آپ کے قدردارن ہیں۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں