rss

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی پریس کانفرنس

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
26 اکتوبر 2017
جنیوا، سوئزرلینڈ

 
 

وزیرخارجہ ٹلرسن: اگرچہ اس میں بہت سے دن صرف ہوئے، یہ طویل دورہ نہیں تھا، مگر اس دوران پڑاؤ کی تعداد کو دیکھا جائے تو یہ خاصی طوالت کا حامل تھا۔ چنانچہ میرے پاس آپ کو بتانے کے لیے بہت سی باتیں ہیں۔ میں نے انہیں کاغذ پر لکھ رکھا ہے تاکہ کوئی بات رہ نہ جائے۔ چنانچہ پہلے میں اپنی بات کہوں گا اور پھر آپ کے سوالات کا جواب دوں گا۔

جیسا کہ آپ آگاہ ہیں اب ہم خطے میں اہم دارالحکومتوں کے ایک ہفتے پر مشتمل اس دورے کے آخری مرحلے پر ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جو تاحال وسیع اور اہم نوعیت کے تنازعات میں گھرے ہیں۔ ہر مقام پر ہم نے امریکہ کی جانب سے توثیق کی کہ وہ عالمگیر قیادت مہیا کرنے اور تمام لوگوں کے لیے سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے ضمن میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ یقیناً ہم امریکی عوام کے لیے بھی یہی کچھ کریں گے۔

ریاض میں یہ بات عیاں تھی جہاں سے ہم نے اپنا دورہ شروع کیا۔ فضلیت مآب شاہ سلمان اور وزیراعظم عبادی کے ساتھ مشترکہ رابطہ کمیٹی کے افتتاحی اجلاس میں شرکت میرے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ اس اجلاس سے امریکہ کے سعودی عرب اور عراق سے باہمی تعلقات کی طاقت کا اندازہ اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ کیسے ہم ان دونوں ممالک میں وسیع تر تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب اور عراق میں مضبوط تعلق نا صرف عراق بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

رواں سال کے آغاز میں ہونے والی ریاض کانفرنس کی روح کے مطابق امریکہ دہشت گردوں اور انہیں مالی وسائل مہیا کرنے والوں کے خلاف قطر اور ہمارے خلیجی شراکت داروں کے تعاون سے کام کر رہا ہے۔ ہمارے تمام خلیجی شریک کار دہشت گردی کے خلاف تجدید شدہ کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں وسیع تر تعاون، رابطہ کاری اور تمام ممالک میں معلومات کے تبادلے کے ذریعے ان کوششوں کو وسعت دینا ہے۔

امریکہ کو خلیجی تنازع کے دوررس نتائج پر پریشانی اور تشویش ہے۔ اس حوالے سے ہمارا پیغام واضح ہے کہ خلیج تعاون کونسل متحدہ حالت میں ہی مضبوط تر ہے۔ ہم ان ممالک میں باہمی اتحاد کے لیے روابط سازی کی کوششیں جاری رکھیں گے اور صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم ثالثی کی کوششوں میں مدد دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

عراق میں امریکی قیادت بدستور اہم کردار ادا کرتی رہے گی اور میں مشترکہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم عبادی سے علیحدہ ملاقات کے موقع کی بھی قدر کرتا ہوں۔ وزیراعظم کی قیادت میں داعش کو پسپا کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے الفاظ میں ‘داعش کی خلافت کا اختتام نوشتہ دیوار ہے’ اتحاد کی معاونت سے عراقی سکیورٹی فورسز نے داعش کے زیر تسط 90 فیصد سے زیادہ علاقہ واگزار کرا لیا ہے جس سے 20 لاکھ سے زیادہ عراقی گھروں کو واپس آ رہے ہیں۔ آج عراقی اپنے معاشروں کی تعمیرنو میں مصروف ہیں۔ عراق کے زیرقیادت اور اقوام متحدہ کے زیراہتمام 360 سے زیادہ استحکامی منصوبہ جات  روبہ عمل ہیں جن کے لیے اتحاد نے مالی معاونت کی ہے۔ یہ منصوبے جاری رہیں گے۔

ہم جانتے ہیں کہ میدان جنگ میں حاصل ہونے والی یہ کامیابیاں ایک مستحکم اور خوشحال عراق کی تعمیر کے لیے کافی نہیں ہیں اس لیے ہم عراق میں معاشی فروغ اور امدادی و استحکامی کوششوں کو بڑھانے کے لیے عالمی برادری سے مزید  معاونت کے طلب گار رہیں گے۔ ہمیں عراق اور اس کے ہمسایوں میں وسعت پاتے روابط دیکھ کر خوشی ہے اور ریاض میں رابطہ کونسل کے اجلاس سے اس حقیقت کا واضح اظہار ہوتا ہے۔

گزشتہ ماہ شمالی عراق میں جنم لینے والا تناؤ باعث تشویش ہے۔ امریکہ تمام عراقیوں بشمول بغداد اور عراقی کرد خطے میں رہنے والوں کا دوست ہے۔ ہمیں یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ تاحال فریقین حالیہ تناؤ دور کرنے کا کوئی پرامن راستہ نہیں ڈھونڈ سکے۔

وزیراعظم عبادی سے ملاقات کے بعد کردستان کے صدر بارزانی سے میری ٹیلی فون پر طویل بات چیت ہوئی۔ امریکہ پرامن اور سیاسی ذرائع سے متحدہ، وفاقی اور جمہوری عراق کے لیے مثبت راہ تشکیل دینے کی غرض سے بغداد اور اربیل کی معاونت کے لیے تیار ہے۔ میں تمام فریقین پر زور دیتا ہوں کہ وہ عراق اور پیشمرگہ فورسز میں ہر طرح کی لڑائی سے اجتناب برتیں اور میں نے عراقی آئین کی بنیاد پر اربیل کی جانب سے بات چیت کی پیش کش قبول کرنے کے لیے وزیراعظم عبادی کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

دورے کے بقیہ حصے میں جنوبی ایشیا اور خطے نیز افغانستان کے مستقبل کی بابت صدر کی نئی حکمت عملی ہمارے پیش نظر تھی۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کا حصول علاقائی شراکت داروں خصوصاً پاکستان اور انڈیا کی شمولیت کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمارا مقصد اپنے علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ ہے تاکہ جنوبی ایشیا امن و خوشحالی کے دور میں داخل ہو سکے۔ مستحکم، خودمختار، متحدہ اور جمہوری افغانستان کے لیے افغان حکومت کو اصلاحات پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔ صدر غنی نے مجھے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اور ان کی حکومت اصلاحات خصوصاً انسداد بدعنوانی پر کام کر رہے ہیں تاکہ افغان عوام کے لیے حقیقی ترقی کا حصول ممکن ہو سکے۔

خطے میں استحکام کے لیے پاکستان ہمارا اہم شریک کار ہے۔ پاکستان کے ساتھ مثبت تعلقات کی ہماری تاریخ خاصی طویل ہے مگر پاکستان کو اپنے ہاں شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ مستحکم اور پرامن افغانستان نیز دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے پاک خطہ پاکستانی عوام کے لیے بے حد فائدہ مند ہو گا۔ وزیراعظم عباسی، چیف آف آرمی سٹاف باجوہ اور پاکستانی قیادت کے لیے یہی میرا اہم پیغام تھا۔ 

دورہ انڈیا کے دوران میں نے وہاں کی قیادت کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی برائے جنوبی ایشیا اور اس میں انڈیا کے کردار کے حوالے سے اپنا پیغام دیا۔ہم افغانستان کی ترقی میں انڈیا کے فراخدلانہ کردار پر شکر گزار اور پر امید ہیں کہ وہ اس کردار کو مزید بڑھائے گا۔جیسا کہ میں نے گزشتہ ماہ واشنگٹن میں کہا تھا ہم بحرہندو الکاہل کے خطے میں امریکا انڈیا تزویراتی شراکت کو وسیع تر امن، استحکام اور نمو کی بنیاد بنانے کے لیے کام کریں گے۔ہم انڈیا کی ذمہ دارانہ ترقی کی حمایت کرتے ہیں اور ایشیامیں انڈیا سمیت تمام ہم خیال ملکوں کے ساتھ شراکت کے نئے طریقے دریافت کرنا چاہتے ہیں۔میری وزیر اعظم مودی، قومی سلامتی کے مشیر ڈوول اور وزیر خارجہ سشما سوارج کے ساتھ معیشت اور سلامتی کے روابط پر بہت جامع گفتگو ہوئی۔یہ بہت ضروری ہے کہ دونوں جمہوری ممالک اپنے عوام کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔

علاوہ ازیں میری امریکہ کے خصوصی نمائندے ڈی مسٹوراسے شام میں جاری تبدیلیوں کے حوالے سے بھی بہت مفید گفتگو ہوئی ہے۔ اب جبکہ آئی ایس آئی ایس شکست کے دہانے پر پہنچ چکی ہے تو شام میں شورش کم کرنے کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد2254کے تحت شروع ہونے والے جنیوا عمل کی حمایت کرتے ہیں جس کے تحت شام کے عوام کو اپنے لیے ایک نئے سیاسی راستے کا انتخاب کرنا ہے ۔جیسا کہ ہم پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں امریکہ ایک مکمل اور متحدہ  شام کا حامی ہے جس میں بشار الاسد کے لیے حکومت میں کوئی کردار نہ ہو۔

امریکادنیا کے ہر خطے میں قیادت فراہم کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ اور جب یہ قیادت کرے گا تو دوسروں سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کہتا رہے گا تاکہ وہ اپنے عوام کے لیے کام کرتے رہیں اور اپنی خودمختاری برقرار رکھیں۔ہم یہ پہلے بھی کر رہے ہیں اور آئندہ بھی اپنے عوام کو بہتر تحفظ اور خوشحالی مہیا کریں گے۔

سوال:اسد کے حوالے سے آپ کا موجودہ بیان اس بیان سے مختلف معلوم ہوتا ہے جو آپ نے رواں سال ترکی میں دیا تھا۔ یعنی اب واضح طو رپر انہیں ہٹانے کی بات کی جا رہی ہے جبکہ پہلے آپ نے اشارہ دیا تھا کہ اس بات کا فیصلہ شام کے عوام ہی کریں گے کہ انہیں کس کو منتخب کرنا ہے تو کیا اب آپ کا موقف تبدیل ہو گیاہے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن:دیکھیں ہم ایسا سمجھتے ہیں اور میں پہلے بھی کئی مواقع پر اس کا اظہار کر چکا ہوں کہ اسد حکومت یا اسد خاندان کا اب کوئی مستقبل نہیں۔ان کا دور اب اپنے اختتام کے قریب ہے تاہم اب سوال یہ ہے کہ یہ اختتام کیسے ہو۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ اختتام کیا جا سکتا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔ یعنی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2254کو نافذ کر کےایسا ممکن ہے  کیونکہ اس میں انتخابات اور نئے آئین کی تشکیل کے بار ے میں ایک مخصوص طریقہ کار دیا گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ واحد چیز جو موجودہ امریکی انتظامیہ کے برسرا قتدار آنے کے بعد تبدیل ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا نقطہ نظر یہ تھا کہ یہ عمل شروع ہونے سے پہلے اسد کا ہٹایا جانا کوئی بنیادی شرط نہیں تھی بلکہ وہ طریقہ کار جس سے اسد نے رخصت ہونا تھا وہ اسی عمل میں سے سامنے آئے گا۔

سوال :یورپی سفارت کار کہتے ہیں کہ شام کا معاملہ ایران کی کامیابی ہے کیونکہ ایران اسد حکومت کے لیے بہت ناگزیر رہا ہے توکیا آپ کے خیال میں ایسا نہیں ہے اور کیا آپ نے نمائندہ خصوصی ڈی مسٹورا سے کوئی یقین دہانی حاصل کی ہے کہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے وقت کا تعین ہو۔

وزیرخارجہ ٹلرسن:میں شام کو ایران کی کامیابی نہیں سمجھتا۔ میں ایران کو دست نگر کے طور پر دیکھتا ہوں۔ ایران اپنے علاقوں کو آزاد کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔البتہ روسی حکومت شامی افواج کو فضائی مدد فراہم کر کے کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے اپنے حصے کی کامیابیاں ضرور سمیٹی ہیں۔ ہماری اپنی کامیابیاں ہیں اور بیش بہا کامیابیاں ہیں جو ہم نے اپنی اتحادی افواج کے ذریعے حاصل کی ہیں۔اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ ایران کے سر پر شام میں داعش کے خلاف کامیابی کا کوئی سہرا باندھنا چاہیے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اپنی وہاں موجودگی کی بدولت صورت حال کاکچھ نہ کچھ فائدہ ہی اٹھایا ہے۔ جہاں تک ایران کے شام میں آئندہ اثر و رسوخ کا تعلق ہے تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ سکیورٹی کی قرار داد نمبر 2254کے نفاذ، نئے آئین اور انتخابات سے خود بخود نکل آئے گا۔

سوال:ہمیں پاکستانیوں کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں کچھ بتائیے۔ ان کے سرکاری میڈیا سے پتا چلا کہ کیسے امریکانے انہیں 75دہشت گردوں کی فہرست مہیا کی ہے جس کے بارے میں پاکستانی حکام نے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی پاکستانی نہیں اور یہ کہ لشکر جھنگوی کا سربراہ اس فہرست میں شامل نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے آپ کو بھی 100دہشت گردوں کی فہرست دی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ انہیں گرفتار کرے۔ کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ نے انہیں کیا جواب دیا۔

وزیرخارجہ ٹلرسن:میں سمجھتا ہوں کہ دہشت گردوں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ بہت مثبت چیز ہے اور یہی وہ طرز عمل ہے جو ہم پاکستان کی طرف سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے انہیں لوگوں کے ناموں کے ساتھ ساتھ انہیں کچھ خاص کام بھی دیے ہیں ،انہیں بھی دعوت دی ہے کہ وہ بھی اپنے مطالبات پیش کریں، اس لیے ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی ہمیں ایسی معلومات مہیا کریں گے جو مفید ہوں گی۔ مثال کے طور پر کوئی خاص مقام یا وقت جب ان افرادپر گرفت کرنا باآسانی ممکن ہو۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد جگہ جگہ سے کھلی ہے بلکہ بعض جگہوں پر تو اس کا واضح تعین بھی نہیں کیا گیا، اس لیے ہمیں اس بات پر بھی کوئی تشویش نہیں کہ وہ پاکستانی علاقے میں موجود ہیں یا افغانستان میں ، ہم اس لیے یہ  معلومات حاصل کر رہے ہیں تاکہ دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

سوال: ہمیں پاکستان کی طرف سے جو رد عمل نظر آ رہا ہے اس سے تو ظاہر ہو تا ہے کہ آپ کا پاکستان کا دورہ اس قدر کامیاب  نہیں رہا اور اس بات کا احساس نمایاں نظر آیا کہ آپ دہلی اور کابل کی زبان میں بات کر رہے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ آپ نے عملی طور پر وہاں کیا حاصل کیاجو آپ وہاں نہ جانے کی صورت میں حاصل نہ کرپاتے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن:میں نہیں سمجھتا کہ پاکستانی حکام سے میری گفتگو دوسروں کی زبان میں تھی۔یہ خیالات کا ایک کھلا تبادلہ تھا ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں نے شاید 80فی صد وقت انہیں سننے پر صرف کیا اور 20فی صد میں بات کی۔ میرے لیے یہ دورہ بہت اہم تھا کیونکہ میری اس سے قبل پاکستانی انتظامیہ سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے میرا مقصد یہ تھا کہ انہیں زیادہ سے زیادہ سنوں اور ان کے نقطہ نظر کو سمجھوں۔ ہم نے اپنے نکات ایک دوسرے کے سامنے رکھے۔ بے جھجھک ہو کر اپنی توقعات ایک دوسرے کے سامنے پیش کیں۔میرے دورے سے پہلے بھی دونوں ملکوں کے درمیان خاصا تعلق رہا ہے جو مستقبل میں بھی جاری رہے گا اور ہم مل کر اس پر کام کرتے رہیں گے کہ کس طرح دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کرنا ہے چاہے وہ جہاں بھی ہوں۔ ہماری یہ گفتگو بہت بے تکلف اور خوش گوار ماحول میں ہوئی۔ ہم نے وزیر اعظم عباسی اور ان کی پوری قیادت کے ساتھ مشترکہ ملاقات کی اور پھر اس کے بعد میں نے جنرل باجوہ اور ان کے قریبی مشیروں کے ساتھ علیحدہ ملاقات کی تاکہ بعض مخصوص معاملات پر زیادہ کھل کرگفتگو ہو سکے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ بہت خوشگوار اور بے تکلف ماحول میں ہوا ،مگر ہمیں اپنی توقعات کے حوالے سے بالکل واضح ہونا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا لوگ ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ نہیں۔ ہم ایک ایسا لائحہ عمل بنانا چاہتے ہیں جو ناصرف پاکستان کی طرف سے کہی گئی باتوں سے مطابقت رکھتا بلکہ اس سے بھی مطابقت رکھتا ہو جو پاکستان کرے گا۔

سوال:سعودی عرب اور عراق کے درمیان مفاہمت کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ۔ اس حوالے سے فروری اور مارچ میں خاصی مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی تھی اور دونوں ایک دوسرے کے قریب آ گئے تھے لیکن یہ بات اب بھی قابل غور ہے کہ ان دونوں کو اتنا قریب لانا کس قدر آسان ہو گا کہ سعودی عرب نا صرف عراق کی تعمیر نو میں مدد کرے بلکہ ایرانی اثر و رسوخ کو بھی کم کرے جبکہ آپ کے دورہ ریاض اور بغداد جانے کے صرف دو دن کے بعد عراقی وزیر اعظم عبادی تہران پہنچ گئے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن:میں سمجھتا ہوں اس حوالے سے وزیر اعظم عبادی نے بات بھی کی ہے یا کم از کم میں نے ان کے دورہ ایران کے حوالے سے بیانات دیکھے  ہیں۔ ہمیں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ عراق کی ایران کے ساتھ بہت طویل سرحد ہے۔ ان کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں جو دہائیوں نہیں صدیوں پر محیط ہیں اور ہم ان دونوں ملکوں کے درمیان وہ سارے روابط ختم نہیں کر سکتے۔ان کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور اس قسم کے دیگر معاملات جیسے جائز تعلقات ہیں جو برقرار رہنے چاہئیں۔ہم عراق سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے تاکہ وہ خود بخود ایران کے اثر سے نکل جائے۔ ہم عراق کی ایسا کرنے میں اس طرح مدد کر سکتے ہیں کہ عراقی عوام کو بھی یہ بات سمجھنے کے قابل بنائیں۔ عراق اور خلیجی ممالک کے درمیان تین دہائیوں کی لاتعلقی رہی ہے جس کا اظہار وزیر خارجہ عادل الجبیر نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کیا ہے اور انہوں نے وضاحت بھی کی ہے کہ ایسا کیوں تھا،تاہم تاریخی طور پر وہ عراقیوں کے قبائلی بھائی ہیں اور ان کے درمیان رشتہ صدیوں پر محیط ہے۔ عرب اور عراقی ایک ہی چیز ہیں۔عراقی نسلا ًفارسی نہیں ہیں۔ اس لیے خواہ عراقی سنی ہوں یا شیعہ، یہ عراقی عرب ہیں، ایرانی نہیں۔اور ایک چیز جو میں سمجھتا ہوں کہ سعودی حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے قبائلی بھائیوں سے ٹوٹے ہوئے رشتے کا دوبارہ استوار ہونا ہے۔ جب ہم نے فروری میں مذاکرات کیے تھے اور میری وزیر خارجہ جبیر سے ہیمبر گ میں پہلی ملاقات ہوئی تھی تو ہم نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا تھا کہ سعودی عرب کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے عراقی عرب بھائیوں کے ساتھ رابطہ استوار کرنے میں پہل کرے اور انہوں نے مارچ میں بغداد کا اپنا پہلا دورہ کرنے کا جرات مندانہ اقدام بھی کیا تھاجس کے نتیجے میں ہمیں وزیر اعظم عبادی کوسعودی عرب کے دورے پر  قائل کرنے میں مدد ملی۔اس کے بعد دروازے کھلنا شروع ہوئے اور ہم نے اس میں سہولت اور حوصلہ افزائی کے لیے بہت محنت کی۔اب وہ اپنے تعلقات کو خود آگے بڑھائیں گے ، ہم ان کی حوصلہ افزائی کریں گے اور جس حد تک ممکن ہوا سہولت کاری بھی کریں گے۔ یہ تعلقات مختصر وقت میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں۔ سعودی عرب انہیں مزید مضبوط کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ سعودی ولی عہد کے ساتھ میری ملاقاتوں میں مجھے وہ مفاہمت کے لیے بہت پر عزم نظر آئے۔ کویتی حکومت نے بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ آئندہ سال کویت میں عراق کے ساتھ ایک مشترکہ تعمیر نو کانفرنس بھی کریں گے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ عراق کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دینی چاہیے تاکہ اسے مشرق کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔جنوب میں اس کے اہم اتحادی ہیں جو سلامتی کے علاوہ  اقتصادی شعبے میں بھی اتحادی ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم عراق کو اسی طرح ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے مضبوط کر سکتے ہیں اور وہ اپنے فیصلے خود کر سکتا ہے۔

سوال:ایک بارپھر پاکستان کی بات کریں تو کیا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان سے آپ کو جو پیغام ملا ہے وہ یہ ہے کہ ہم سے زبردستی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے امریکہ کی طرف سے پڑنے والے دباؤ کے جواب میں آپ کو مزاحمت کا پیغام دیا ہے۔ اور دوسرا سوال یہ کہ کیا انہوں نے امریکا کی انڈیا کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے کی حکمت عملی پر رد عمل ظاہر کیا ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: ایسا کہنا کہ پاکستان نے مزاحمتی پیغام دیا ہے ، اس معاملے کی بالکل غلط تفہیم ہے۔ہمارے درمیان بہت کھلی گفتگو ہوئی جس کا آغاز پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ سے ہواجو بلاشبہ ایک نہایت وسیع اور مثبت تاریخ ہے۔ ان تعلقات میں گزشتہ 10برسوں کے دوران کچھ تنزل آیالیکن اس سے پہلے ہمارے پاکستان کے ساتھ بہت مضبوط تعلقات تھے۔سرد جنگ سے مابعداور پھر نائن الیون کے بعد تمام عرصہ یہ تعلقات بہت مضبوط رہے اور ہم نے مل کر ایسے افراد کو پکڑا جو نائن الیون حملوں میں ملوث تھے۔ اس لیے ان تعلقات میں جو بھی کمی آئی ہے حال ہی میں آئی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ میرے لیے جو بات اہم ہے وہ یہ کہ ہم دوبارہ اپنے روابط بہتر بنائیں اور یاد کریں کہ یہ ہمیشہ ایسے نہیں تھے۔ اس لیے ہم نے ایک دوسرے کو کوئی لیکچر نہیں دیا۔ میں اسے ایک باعزت تعلق سمجھتا ہوں۔ہم نے ایک دوسرے سے بہت سے جائز سوالات کیے اور بہت سے معاملات اٹھائے جن سے ہمیں نمٹنے کی ضرورت ہے۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ ہاں کر سکتے ہیں یا ناں کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔اور اگر آپ ناں میں فیصلہ کر لیں تو ہمیں اس سے آگاہ کر دیں ۔ ہم اپنے منصوبے اس کے مطابق ترتیب دے لیں گے اور نئی صورت حال سے خود نمٹ لیں گے۔

یہ کوئی دھمکی نہیں تھی ،محض ایک حقیقت پسندانہ بات تھی۔ ہمیں زمینی صورت حال کے مطابق اپنا لائحہ عمل بنانا ہو گا۔اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں جنوبی ایشیا کی پوری حکمت عملی ہی مشروط ہے اور یہی پیغام پاکستان کے لیے تھا۔ ہم پاکستان سے جو چاہتے ہیں وہ کچھ یوں ہے کہ ہم آپ سے ایک کام کرنے کو کہہ رہے ہیں، ہم کوئی مطالبہ نہیں کر رہے۔ آپ ایک خود مختار ملک ہیں ۔ آپ فیصلہ کریں کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں لیکن اس بات کو سمجھیں کہ جو ہم کہہ رہے ہیں وہ ہمارے لیے ضروری ہے۔ اگر آپ نہیں کرنا چاہتے تو پھر یہ نہ کہیں کہ آپ کر سکتے ہیں ۔ ہم اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خود اپنے حربے اور حکمت عملی ترتیب دے لیں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ دہشت گردی کی موجودگی کے حوالے سے ان کے بھی وہی تحفظات ہیں جو ہمارے ہیں۔وہ دہشت گری کا شکار تھے اور ہیں۔پاکستانیوں نے دہشت گردی سے لڑتے ہوئے خود بہت نقصانات اٹھائے ہیں۔میری ان سے گفتگو اس موضوع پر تھی کہ ہم مستقبل میں پاکستان کے استحکام کے لیے کس چیز کو اہم سمجھتے ہیں۔یقیناپاکستان جو کر سکتاہے اس کا افغانستان میں مفاہمت اور امن مذاکرات کے لیے ساز گار حالات پیدا کرنے میں اہم کردار ہو گا۔ لیکن بات صرف افغانستان کی نہیں، ہمیں پاکستان کے طویل المدت استحکام کی بھی اتنی ہی فکر ہے۔

سوال: کیا انڈیا کے ساتھ گہرے تعلقات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا؟

وزیرخارجہ ٹلرسن :اس حوالے سے زیادہ گفتگو نہیں ہوئی،سوائے اس کے کہ ان کے انڈیا کے ساتھ گہرے اختلافات ہیں۔پاکستان کے انڈیا کے ساتھ بہت سے سرحدی مسائل ہیں۔میں نے اس مرتبہ انہیں کہا تھا کہ آپ کی دو سرحدیں شورش زدہ ہیں جن میں سے ایک افغانستان اور دوسری انڈیا کے ساتھ ہے اور یہ کہ ہم دونوں سرحدوں پر آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور ہم یہاں صرف افغان سرحدی صورت حال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اکٹھے نہیں ہوئے ۔ ہم یہاں یہ بات کرنے کے لیے بھی جمع ہوئے ہیں کہ انڈیا کے ساتھ آپ کا سرحدی تناؤ کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے دونوں طرف جائز تحفظات ہیں۔

سوال:آپ کی طاقت کا سرچشمہ یہ ہے کہ آپ صدر کی کس قدر کامیاب نمائندگی کر سکتے ہیں۔ جن ملکوں کے آپ نے دورے کیے ہیں ہم نے وہاں کے سفارت کاروں سے بھی بات کی ہے اور وہ اس بات پر تشویش میں مبتلا ہیں کہ واشنگٹن میں کچھ انتشار پایا جاتا ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں اور اپنے مذاکرات کاروں کو کیسے یقین دلاتے ہیں کہ آپ جو کہہ رہے ہیں وہ صدر امریکہ کی ایما پر ہی کہہ رہے ہیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن:میں نے اس دورے پر روانگی سے قبل صدر کے ساتھ بیٹھ کر اس کا جائزہ لیا تھا۔ دورے میں شامل تمام ملکوں کے حوالے سے انہیں بتایا تھا کہ میں کون سی جگہ جا رہا ہوں، یہ مقاصد ہیں، یہ اہداف ہیں اور اگر وہ اس حوالے سے کوئی رہنمائی فراہم کرنا چاہیں تو کردیں۔ یہ میرا عمومی طریقہ کار ہے کہ کہیں بھی جانے سے پہلے میں ان سے تفصیلی بات چیت کرتا ہوں چنانچہ اگر کوئی چیز سفر کے دوران سامنے آتی ہے تو ہم اس پر بھی بات کر سکتے ہیں۔

میں اس ہفتے کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ میری ملاقاتوں کے بارے میں پوری آگاہی حاصل کرتے رہے ہیں۔کوئی نئی چیز سامنے نہیں آئی کیونکہ سب چیزیں ہماری توقع کے مطابق چلتی رہیں۔سو میں اس خارجہ پالیسی کو نافذ کرتا جا رہا ہو جو صدر ٹرمپ نے نیشنل سکیورٹی کونسل کی مدد سے اختیار کی تھی۔ ہم ایک پالیسی بناتے ہیں، صدر اس کی منظوری دیتے ہیں اور پھر اس کا انحصار مجھ پر ہے کہ میں اس پر کیسے عمل درآمد کرتا ہوں۔ اس پالیسی کو عملی جامہ پہنانا میری ذمہ داری ہے اور میرا حالیہ دورہ جنوبی ایشیا اس پالیسی نیز  تازہ ترین اور آزاد خطہ ہندو الکاہل بارے  حکمت عملی  پر عمل درآمد کے لیے تھا۔

سوال:تو آپ کی نئی پالیسی کی قبولیت کیسی رہی ، کیا لوگوں کو یہ پالیسی سمجھ میں آئی کیونکہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ آئی ایس آئی ایس زوال پذیر ہے لیکن امریکا کی کوئی جامع حکمت عملی نہیں ہے سو ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن:نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان، پاکستان اور انڈیا سے متعلق جنوبی ایشیائی پالیسی جب منظر عام پر آئی تھی تو ہم نے لوگوں پر بالکل واضح کر دیا تھا کہ یہ صرف افغانستان سے متعلق نہیں ہے۔در اصل جب ہم نے افغانستان کے حوالے سے ماضی کے فیصلوں کو دیکھا اور ان کا مطالعہ کیا تو پھر میں نے اس نئی پالیسی کے خد و خال وضع کرنا شروع کیے۔ میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ ہم نے ہمیشہ افغانستان کو تنہا کر کے ہی دیکھا ہے اور افغانستان کے مسئلے کو افغانستان میں حل کرنے کی کوشش کی ہے اور میرے نزدیک یہ بالکل بے معنی تھا۔ چنانچہ ہم نے دفتر خارجہ میں اس پر غور کرنا شروع کیا ۔ ہم نے پالیسی کا دائرہ کار وسیع کیااور دیکھا کہ اس پر کون سے دیگر عوامل اثر انداز ہو رہے ہیں تو سب سے پہلے پاکستان کا نام سامنے آیا، پھر اچانک ہمیں احساس ہوا کہ انڈیا بھی اس معاملے پر اثر انداز ہو رہا ہے، اور حقیقت میں اس پر جنوبی ایشیا اثر انداز ہو رہا ہے جس میں سی فائیو ملک شامل ہیں ، ہم ان سے پہلے ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ملاقات کر چکے ہیں۔

اب آپ اس دائرے کو مزید پھیلائیں تو چین بھی اپنا کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔اس لیے ہم نے یہ کیا کہ ان عناصر کو پھیلا دیا جو افغانستان میں کامیابی پر منتج ہو سکتے ہیں اور اپنی پالیسیاں اور حکمت عملی اسی لحاظ سے ترتیب دینا شروع کی کہ دوسرے اس میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ پالیسی کا صرف ایک حصہ ہو لیکن یہ  ایک ایسا حصہ ہے جو حتمی کامیابی کے حصول میں بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے ہم نے یہ کیا کہ ہر ایک کو اس کا کردار سمجھایااور اس کے نتیجے میں ہمیں جنوبی ایشیابارے  پالیسی کے حوالے سے پورے خطے سے بہت حوصلہ افزا رد عمل ملا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم نے پہلی بار ایسی حکمت عملی دیکھی ہے۔ میرا خیال ہے بہت سوں نے کہا ہے کہ ہم 16سال سے افغانستان میں جنگ لڑتے رہے ہیں تاہم جب ہم لڑ رہے تھے تو ہم سولہ برس سالہ پالیسیوں کے مطابق لڑتے رہے۔ کبھی کسی کے ذہن میں نہیں آیا کہ یہ سب ختم کیسے ہو گا۔ ہم نے اس حوالے سے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دی ہے جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے اس مقصد کے حصول میں مدد گار ثابت ہو گی۔ اب اس پر صرف عمل درآمد کرناہی  باقی ہے۔

سوال:جب آپ کہتے ہیں کہ یہ کب ختم ہو گا تو پھر آپ اس کے لیے کتنا وقت مقرر کرتے ہیں، کیا مزید سولہ سال؟

وزیرخارجہ ٹلرسن:نہیں سولہ سال نہیں، جیسا کہ صدر نے واضح طور پر کہا ہے کہ اب لامحدود وقت نہیں دیا جا سکتا،ہم یہاں کوئی تاریخ نہیں دیں گے۔ پہلے لوگ یہی غلطی کرتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے سولہ ایک سالہ پالیسیاں بنائی گئیں۔ ہماری حکمت عملی شرائط کی بنیاد پر ہے۔ہم نے خطے کے تمام ملکوں کے لیے مخصوص کردار اور ذمہ داریاں مقرر کر دی ہیں اور ہم ان سب کو مسئلے کے حل کے لیے یہ کردار ادا کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ تمام  حکمت عملی شرائط کی بنیاد پر تشکیل دی گئی ہے جس میں طالبان اور ان کی قیادت کے لیے شرط ہے کہ وہ یہ کہنے پر آمادہ ہو جائیں کہ بس اب بہت ہو گیا ۔ ہم طالبان پر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ کبھی جنگ کے ذریعے فتح حاصل نہیں کر سکتے۔ہم نے ان سے یہ گفتگو پس پردہ ذرائع اور دوحہ  دفتر کے ذریعے کی ہے۔ہم نے ان سے کہا ہے کہ کیا آپ چاہتے ہیں آپ کی اولاد اور پھر ان کی اولاد بھی یہ جنگ لڑتی رہے کیونکہ اگر ہم نے کوئی متبادل حل تلاش نہ کیا تو یہ  جنگ اسی طرح چلتی رہے گی۔

افغان حکومت کی خاص ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرے جن کے ذریعے طالبان مذاکرات کی میز تک آجائیں۔ جیسا کہ میں نے کہا افغانستان میں طالبان کا بھی حکومت میں اہم کردار ہے، وہ آئیں اور اپنا یہ کردار ادا کریں تاہم اس کے لیے شرط ہے کہ وہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کو ترک کریں اور دوبارہ کبھی اسے اختیار نہ کریں۔چنانچہ یہ ایک بہت خاص حکمت عملی ہے اور ایسی حکمت عملی اس سے پہلے کبھی ہمارے پاس نہیں تھی۔

سوال:آپ نے سنٹرفار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں اپنے خطاب میں برصغیر پاک و ہند اور چار بڑے ملکوں امریکہ، آسٹریلیا، جاپان اور انڈیا کا ذکر کیا تھا۔

سوال:شایدانڈیا نے آپ کی تقریر کے ذریعے ایسا پہلی مرتبہ  سنا تو کیا وہ بھی اس حوالے سے پر جوش ہیں؟

سوال:یا وہ اس حوالے سے قدرے پریشان ہیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن:جی ہاں،  لیکن سب سے پہلے میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ ایک نئی سوچ ہے۔ امریکا اور انڈیا کے درمیان 70سال سے بہت اچھے تعلقات ہیں لیکن یہ کبھی ایک سطح سے آگے نہیں بڑھے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حوالے سے دونوں میں سے کسی نے بھی کوئی پیش رفت نہیں کی بلکہ وقتا فوقتا دوسرے فریق نے اپنی وجوہات کی بنا پر اس تعلق میں ایک قدم پیچھے ہٹایا۔ ہم اب یہ کر رہے ہیں  کہ ان تعلقات کو ایک نئی سطح تک لے کر جا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اب کسی کے قدم پیچھے نہ ہٹیں، اسی لیے میں نے کہا کہ یہ تعلقات آئندہ سو سال کے لیے ہیں۔

ہمارے جاپان اور انڈیا کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات چل رہے ہیں۔ہم نے آسٹریلیا سے بھی بات کی ہے کہ وہ بھی ان میں حصہ لے۔ ہر کسی کو یہ فیصلہ کرنا ہو گاکہ  یہ ایک درست کام ہے اور اس پر عمل درآمد کا یہ پہلا ہفتہ ہے


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں