rss

شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سنسرشپ سے متعلق رپورٹ کا اجرا نائب معاون وزیرخارجہ برائے جمہوریت، انسانی حقوق و محنت سکاٹ بسبی کی آن ریکارڈ بریفنگ

Русский Русский, English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español

امریکی دفتر خارجہ

دفتر برائے ترجمان

برائے فوری اجرا

26 اکتوبر 2017

پریس بریفنگ روم

واشنگٹن، ڈی سی

ہیدا نوئرٹ: اس کے بعد میں آپ کو ہمارے ایک اور نائب وزیر سے متعارف کرانا چاہوں گی۔ جی یہاں آئیے۔ یہ سکاٹ بسبی ہیں۔ سکاٹ ہمارے ‘ڈی آر ایل بیورو’ کے لیے کام کرتے ہیں جس سے مراد جمہوریت، انسانی حقوق اور محنت ہے۔ یہاں وہ شمالی کوریا کے بارے میں بات کریں گے۔ دفتر خارجہ نے آج شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں اور پالیسی کے نفاذ کے ایکٹ 2016 کی مطابقت سے شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سنسرشپ کے بارے میں تیسری رپورٹ جاری کی ہے۔ محکمہ خزانہ نے اس رپورٹ کی روشنی میں افراد اور اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں۔ ہمارے نائب معاون وزیر جناب بسبی اس بارے میں کچھ بات چیت کے بعد آپ کے چند سوالات کے جواب دیں گے جس کے بعد میں باقاعدہ بریفنگ کا آغاز کروں گی۔ جی جناب، بات کیجیے۔

سکاٹ بسبی: شکریہ ہیدا، سبھی کو سہ پہر بخیر۔ جیسا کہ ہیدا نے تذکرہ کیا، شمالی کوریا کے حکام کو احتساب کے دائرے میں لانے کے لیے اپنی کوششوں کو آگے بڑھانے کی غرض سے ہم شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف تیسری رپورٹ جاری کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں سات افراد اور تین اداروں کو شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں یا سنسرشپ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

اس رپورٹ کی روشنی میں محکمہ خزانہ نے شمالی کوریا کے ان 10 افراد اور اداروں کو پابندیوں کا نشانہ بننے والوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ یہ دونوں اقدامات شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں اور پالیسی کے نفاذ کے قانون 2016 سے مطابقت رکھتے ہیں۔ قبل ازیں جاری ہونے والی دونوں رپورٹس کی طرح یہ رپورٹ بھی شاملی کوریا کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ارتکاب بشمول ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری مشقت، تشدد، طویل من مانی قید، جنسی زیادتی، جبری اسقاد حمل اور دیگر اقسام کے جنسی تشدد پر روشنی ڈالتی ہے۔

خاص طور پر یہ رپورٹ انسانی حقوق کی ایسی بہت سی خلاف ورزیوں کو سامنے لاتی ہے جو شمالی کورین حکومت کے ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے کی جاتی ہیں۔ ان میں جبری مشقت، لیبر کیمپوں میں ازسر نو تعلیم اور سمندر پار مزدوری کے معاہدے شامل ہیں۔ شمالی کوریا کے ہزاروں شہری ہر سال غلاموں جیسی حالت میں کام کے لیے بیرون ملک بھیجے جاتے ہیں جن کی محنت سے حکومت پیسہ بناتی ہے۔ شمالی کوریا کی حکومت بیرون ملک اپنے شہریوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے سکیورٹی حکام کو بھی تعینات کرتی ہے اور پناہ کے خواہشمندوں کو جبراً وطن واپس لایا جاتا ہے۔ اس رپورٹ میں حقوق کی ایسی خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد اور اداروں کے نام بھی شامل ہیں۔

ان کوششوں کے ذریعے ہم شمالی کوریا کے سرکاری حکام خصوصاً قید خانوں کے منتظمین اور درمیانے درجے کے افسروں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو سامنے لا سکتے ہیں اور لائیں گے اور ان لوگوں کو ایسے افعال پر نتائج کا سامنا ہو گا۔ آپ کا بے حد شکریہ۔

ہیدا نوئرٹ: کوئی سوال؟

سکاٹ بسبی: جی محترمہ۔

ہیدا نوئرٹ: جی، کائلی بات کیجیے۔

سوال: اس فہرست میں ایک فرد ایسا ہے جو شن یانگ میں چینی قونصل خانے میں تعینات ہے۔ مجھے اس کے درست تلفظ کا اندازہ نہیں۔ تاہم آپ اس شخص کے حوالے سے چین سے کیا توقع رکھتے ہیں۔ کیا آپ کو توقع ہے کہ وہ اس کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے؟ اس حوالے سے کیا توقعات ہیں؟

سکاٹ بسبی: اس شخص کا نام پناہ کے خواہش مند شمالی کورین شہریوں کو واپس لوٹانے میں سہولت دینے کے باعث اس رپورٹ میں شامل کیا گیا۔ اس کے بارے میں چین سے بھی بات کی گئی تھی۔ میں اس معاملے پر چین کے ممکنہ ردعمل بارے کچھ نہیں کہنا چاہتا مگر ہم نے اس طرف ان کی توجہ ضرور دلائی ہے۔

سوال: اس حوالے سے وہ ممکنہ طور پر کیا کر سکتے ہیں؟

سکاٹ بسبی: اس ضمن میں بہت سے اقدامات ہو سکتے ہیں جن میں اس شخص کی ملک بدری بھی شامل ہے۔

ہیدا نوئرٹ: جین

سوال: آپ کا بے حد شکریہ۔ شمالی کوریا کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے کیا آپ ان کے رہنما کم جانگ ان کے خلاف ان خلاف ورزیوں کی پاداش میں جرائم کی عالمی عدالت میں کارروائی کی توقع رکھتے ہیں؟

سکاٹ بسبی: ایسا فیصلہ صرف امریکی حکومت نے نہیں کرنا۔ اس میں متعدد دوسرے ممالک اور ادارے بھی شامل ہوں گے۔ لہٰذا میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا کہ آیا دوسرے ممالک یا ادارے ایسا کرتے ہیں یا نہیں۔

سوال: کیا آپ ہمیں اس حوالے سے کچھ بتا سکتے ہیں کہ آج محکمہ خزانہ کی جانب سے اعلان کردہ پابندیوں میں کون سے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں؟ کیا کوئی ایسے نمایاں اثاثے امریکی دائرہ کار میں بھی آتے ہیں جنہیں ان پابندیوں کے نتیجے میں منجمد کیا گیا ہو۔

سکاٹ بسبی: اس سوال کا جواب لینے کے لیے میں آپ کو محکمہ خزانہ سے رجوع کرنے کو کہوں گا۔ میرے پاس اس بارے میں تفصیلات موجود نہیں ہیں۔

سوال: ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے ایک اور سوال۔ اگر آپ نہیں جانتے یا نہیں بتا سکتے کہ چین کیسے اقدامات اٹھا سکتا ہے اور یہ بھی آپ کے علم میں نہیں کہ آیا چین کوئی قدم اٹھائے گا یا نہیں تو پھر یہ یقین کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ آپ نے جن افراد یا اداروں کی نشاندہی کی ان کا احتساب ہو گا یا انہیں کسی قسم کے نتائج بھگتنا پڑیں گے؟

سکاٹ بسبی: یہ رپورٹ آج ہی جاری ہوئی ہے۔ ہم نے اس رپورٹ کے نتائج اور اس میں موجود مواد کے بارے میں چین اور خطے میں دیگر حکومتوں سے بات کی ہے۔ اب یہ چین پر منحصر ہے کہ وہ اس بارے میں کیا فیصلہ کرتا ہے۔

سوال: کیا انہوں نے اس سے قبل شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے افسر کے خلاف کوئی کارروائی کی تھی جسے ایسے ہی الزام میں نامزد کیا گیا تھا؟

سکاٹ بسبی: ایسی رپورٹ میں نامزد کردہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا فرد ہے مگر ۔۔۔۔

سوال: مگر یقیناً آپ نے ماضی میں ان سے دیگر مسائل اور دیگر افراد پر بات کی ہے۔

 سکاٹ بسبی: جی، میں اس بارے میں سوچ بچار اور دیکھ بھال کے بعد ہی کچھ کہہ سکتا ہوں۔ میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔

سوال: کیا آپ نہیں جانتے ۔۔۔۔

سکاٹ بسبی: میں اس بارے میں سوچ بچار اور چھان بین کیے بغیر آپ کو نہیں بتا سکتا، البتہ ہم بعد میں آپ کو ضرور اس سے آگاہ کریں گے۔

سوال: بہت اچھے، یہ جاننا دلچسپ ہو گا کہ آیا انہوں نے کبھی کوئی کارروائی کی یا نہیں۔

ہیدا نوئرٹ: این بی سی نیوز سے ایبی، آخری سوال۔

سوال: میرا خیال ہے یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ آپ نے شمالی کوریا کی حکومت میں درمیانے درجے کے حکام کو ہدف بنایا ہو۔ اس خیال کے پیچھے یہ فلسفہ کارفرما ہے کہ ایسے اقدامات سے درمیانے درجے پر کام کرنے والے لوگوں میں مختلف سطح پر ذمہ داری کا احساس پیدا ہو گا۔ کیا آپ کو شمالی کوریا کی حکومت میں اس مخصوص درجے پر لوگوں کو ہدف بنانے کے کوئی اثرات دکھائی دیے؟

سکاٹ بسبی: شمالی کوریا سے اطلاعات کا حصول بے حد مشکل ہے مگر ہم نے وہاں کے منحرفین سے سنا ہے کہ پالیسی میں تبدیلیاں بھی دیکھی گئی ہیں اور ایسی پابندیوں کے نتیجے میں بعض معاملات میں ان سے ہونے والی بدسلوکی میں کمی آئی ہے۔ ہم نے یہ بات وہاں سے منحرف ہو کر آنے والوں کی زبانی سنی۔

ہیدا نوئرٹ: آپ کا بے حد شکریہ۔ نائب معاون وزیر سکاٹ بسبی، یہاں آمد پر آپ کا شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں