rss

عالمی میلے (نمائش) کی میزبانی کے لیے امریکی پیشکش کے بارے میں نائب وزیر دفاع جان سلوین کا بیان

English English, Français Français, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ

دفتر برائے ترجمان

برائے فوری اجرا

26 اکتوبر 2017

شکریہ ہیدا، اس مشفقانہ تعارف اور یہاں آنے پر میں آپ کا مشکور ہوں۔ یہاں بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی جنہوں نے ‘ایکسپو 2023’ کے لیے امریکی پیشکش کے حوالے سے مفید کردار ادا کیا۔

میں اس سہ پہر یہاں موجود غیرملکی سفارتی عملے اور بہت سے غیرملکی سفیروں کا قدردان ہوں۔ یہاں آنے اور اس اہم مقصد کے لیے ساتھ دینے پر آپ سب کا شکریہ۔

چار ماہ قبل اسی جگہ نائب وزیرخارجہ کی حیثیت سے میری آپ میں بہت سے لوگوں کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی۔ اس موقع پرمیں نے عالمی میلے کو امریکہ واپس لانے کی ابتدائی کوششوں کے بارے میں بات کی تھی۔

مجھے یہ بتاتے ہوئے بے حد خوشی ہے کہ اب امریکی تجویز حتمی مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ ہمارے لوگوں نے تندہی سے یہ امر نمایاں کیا کہ امریکہ خصوصاً منیسوٹا ‘صحت و تندرستی’ کے مثالی تصور کے ساتھ عالمی میلے یا 2023 میں ہونے والی ‘نمائش’ کی میزبانی کے لیے بہترین جگہ کیوں ہے۔

جیسا کہ ہیدا نے بتایا ہے یہ نمائش سرکاری و نجی شراکت سے منعقد ہونا ہے جس کے لیے منیسوٹا میں عالمی میلے کی پیشکش کرنے والی کمیٹی کی جانب سے بنیادی نوعیت کی کوششوں اور کمیٹی کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک رچی کا اہم کردار رہا ہے۔

آپ میں بہت سے لوگ مارک کو جانتے ہیں جو منیسوٹا کے سابق وزیرخارجہ ہیں اور چند ہی لمحوں میں ہمیں اس پیشکش بشمول منیسوٹا میں اس میلے کی مجوزہ جگہ بارے حالیہ اعلان کی بابت تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کریں گے۔

مارک کی جانب سے اس ولولہ خیز اقدام پر پیش رفت بارے آگاہ کرنے سے قبل میں اس اہم تجارتی و سفارتی اقدام کے لیے موثر طور سے عالمی حمایت منظم کرنے کے لیے اب تک کیے گئے متاثر کن کام پر روشنی ڈالنا چاہوں گا۔

میں منیسوٹا سے تعلق رکھنے والے نائب وزیر برائے سیاسی امور ٹام شینن اور علاقائی دفاتر سے متعلق ان کے ساتھیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے نمائش کے لیے حمایت کے حصول کی غرض سے سفارتی کوششیں انجام دیں۔

بہت سے لوگوں نے ہمیں اس مقام تک پہنچانے کے لیے بڑی رکاوٹیں راستے سے ہٹائیں۔

مئی میں کانگریس نے متفقہ طور پر ایک قانون منظور کیا جس میں امریکہ کو عالمی نمائشوں کے بیور و (بی آئی ای) میں دوبارہ شمولیت کا اختیار دیا گیا تھا۔ پیرس میں قائم یہ تنظیم عالمی میلے کی نگرانی کرتی ہے۔

بعدازاں وزیرخارجہ ٹلرسن نے پیرس میں اس تنظیم کو پیش کی گئی معاہداتی رضامندی کی دستاویز پر دستخط کیے۔ میں منیسوٹا سے کانگریس کے وفد اور اس قانون کی منظوری کے لیے کانگریس کی خارجہ امور اور سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کا شکر گزار ہوں۔ بعدازاں آپ آج ہمارے ساتھ موجود منیسوٹا سے کانگریس کے وفد کے دو ارکان کی باتیں سنیں گے۔ ان میں امریکی سینیٹر ایمی کلوبوشر اور امریکی نمائندے ٹام ایمیر شامل ہیں۔

جون میں عالمی نمائشوں کے بیورو کی جنرل اسمبلی نے امریکی پیشکش کو حتمی مرحلے میں پہنچانے کے لیے رائے شماری کی جو کہ15 نومبر کو پیرس میں ہو گا۔

رواں ماہ کے اوائل میں امریکہ ایک مرتبہ پھر عالمگیر نمائشوں کے بیورو میں ووٹ دینے کا حق دار رکن بن گیا۔

امریکہ اور دنیا بھر میں میرے ساتھی بشمول محکمہ تجارت میں موجود ہمارے دوستوں نے منیسوٹا کے لیے امریکی پیشکش کے حوالے سے آپ کے ساتھ اور آپ کے دارالحکومتوں میں نمائندوں سے بات کی ہے۔ سرکاری و نجی شعبے کی شراکت سے اٹھائے گئے اس اقدام کو بھرپور وفاقی حمایت حاصل ہے اور یہ 40 برس میں امریکہ میں منعقد ہونے والا پہلا میلہ ہو گا۔

‘بی آئی ای’ کے وفود نے امریکی میزبانی میں پیرس، برسلز اور لندن میں اس نمائش کے حوالے سے منعقدہ پروگرامز میں شرکت کی اور امریکہ میں آپ کے بہت سے قونصل جنرل منیاپولس اور شکاگو میں اس نمائش کے حوالے سے پروگرامز میں بھی شریک ہوئے۔

میں جانتا ہوں کہ آپ میں متعدد لوگ مستقبل قریب میں نائب چیف آف پروٹوکول کیم ہینڈرسن اور چیف پروٹوکول کے دفتر کے زیراہتمام منیسوٹا میں ‘امریکی تجربہ’ نامی دورے کا حصہ ہوں گے۔

جن سفیروں اور سفارتی حکام نے تاحال اس دورے میں شرکت کی تصدیق نہیں کی وہ براہ مہربانی رخصتی سے قبل پروٹوکول سے رابطہ کریں کہ ابھی اس میں دیر نہیں ہوئی۔ ہم آپ کو منیسوٹا سے روشناس کرانا چاہتے ہیں جہاں ہم 2023 میں عالمی میلے کی میزبانی کے خواہش مند ہیں۔

ایسے وقت میں جبکہ دنیا نئی ٹیکنالوجی اور شراکتوں بارے معاہدوں اور مواقع کی تلاش کے لیے عالمی میلے میں جمع ہو تو صحت و تندرستی جیسے اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کرنا اس میلے کے حوالے سے ایک متاثرکن امر ہو گا۔

منیسوٹا طبی ٹیکنالوجی سے متعلق حیران کن کام کرنے والی بعض کمپنیوں کا مرکز اور ملک میں صحت مند ترین شہری علاقوں میں شمار ہوتا ہے جو کہ ایسی نمائش کے لیے بہترین جگہ ہے۔ سمتھسونین امریکی ہسٹری میوزم نے منیسوٹا کے علاقے کو اپنی حالیہ نمائش ‘اختراعی مقامات’ میں نمایاں کی گئی جگہوں میں ‘طبی علاقے’ کے طور پر شامل کیا ہے۔

میں اب بھی 1964 میں نیویارک میں ہونے والے عالمی میلے کے دورے کو شوق سے یاد کرتا ہوں۔ جن لوگوں نے ابھی تک نیویارک سٹی کا کوئینز میوزیم نہیں دیکھا ان کے لیے یہ دیکھنے کی جگہ ہے جہاں عالمی میلے سے متعلق نمائش میں شہر کے ایک شاندار ماڈل کے ذریعے اس وقت اور تجربے کا احوال ملتا ہے۔

اگر آپ تاحال کسی عالمی میلے میں نہیں گئے، میرا ‘ابھی تک’ پر زور ہے، تو مجھے امید ہے کہ ہمیں 2023 میں ‘صحت مند لوگ، صحت مند زمین’ کے موضوع پر منیسوٹا میں عالمی نمائش میں اکٹھے ہونے کا موقع میسر آئے گا۔ تاہم اس مقصد کے لیے ہمیں آپ کی حمایت درکار ہے اور ہمیں 15 نومبر کو پیرس میں ‘بی آئی ای’ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر آپ کے ووٹ کی ضرورت ہو گی۔

میں آج سہ پہر یہاں آنے پر ایک مرتبہ پھر آپ سبھی کا مشکور ہوں اور 2023 میں عالمی نمائش کو منیسوٹا میں حقیقت کا روپ دینے کے لیے آپ کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔

اب مجھے مارک رچی کو بات کا موقع دیتے ہوئے خوشی ہو گی جو آپ کو امریکہ کی جانب سے منیسوٹا کے لیے پیشکش بارے تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کر سکتے ہیں۔


اصل مواد دیکھیں: https://www.state.gov/s/d/17/275128.htm
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں