rss

قائمقام معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور اور قائمقام خصوصی نمائندہ برائے افغانستان و پاکستان ایلس جی ویلز کی پریس بریفنگ

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
27 اکتوبر 2017
واشنگٹن، ڈی سی
غیرمدون/ مسودہ

ہیدانوئرٹ:صبح بخیر، آ پ سب کیسے ہیں؟

سوال:بہت اچھے

ہیدا نوئرٹ:میں کچھ نئے چہرے بھی دیکھ رہی ہوں۔ میں آپ کا تعارف سفیر ویلز سے کرانا چاہتی ہوں جو ہماری قائم مقام معاون وزیر برائے جنوبی و وسطی ایشیا ہیں۔ سفیر ویلز ابھی سفر سے واپس آئی ہیں ، اس لیے وہ آج قدرے تھکاوٹ کا شکار ہیں، اس لیے انہیں زیادہ پریشان مت کیجیے۔سفیر ویلز وزیر خارجہ کے دورہ افغانستان، پاکستان اور بھارت سے واپس آئی ہیں اور اپنے دورے کی تفصیلات آپ لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیں گی۔یہ تمام گفتگو آن ریکارڈ ہو گی۔ ہمیں تیس منٹ میں اس بات چیت کو سمیٹنا ہے۔چونکہ آپ میں سے بہت سے لوگ نئے ہیں اور آپ کے لیے بھی یہ نئی شخصیت ہیں، اس لیے آپ کو اپنے ساتھ اپنے ادارے کا تعارف بھی کرانا ہوگا۔

سفیر ویلز:میں ہر ملک کے بارے میں کچھ اہم باتیں بتاؤں گی اور پھر ہم سوال و جواب کا سلسلہ شروع کریں گے۔ افغانستان میں وزیر خارجہ نے صدر غنی اور ڈاکٹر عبداللہ دونوں سے جنوبی ایشیا کی حکمت عملی کے حوالے سے بات چیت کی اور انہیں کچھ بنیادی نکات بتائے۔پہلے انہوں نے افغانستان کی سلامتی ، دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور عسکریت پسندی کوتقویت دینے والی بیرونی امداد کے خاتمے کے اپنے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے صدر غنی سے مشاورت کی کہ کس طرح افغان حکومت مفاہمتی عمل کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکتی ہے کیونکہ خطے کی سلامتی کا انحصار مستحکم افغانستان ہی پر ہے۔

افغانستان کی حکومت کے اقدامات کے ضمن میں صدر غنی نے حکومتی کردار کو مزید مضبوط بنانے اوربروقت انتخابات کرانے کی اہمیت پر بات کی۔ اس طرح یہ امریکہ کی طرف سے افغانستان کی معاونت اور اس کے خود کو سیاسی مذاکرات کے لیے تیار کرنے کے حوالے سے بہت بھر پور بات چیت تھی۔

وزیر خارجہ نے کابل معاہدے کاخیرمقدم کیا جس میں اصلاحات، معاشیات، حکمرانی، مفاہمت اور سکیورٹی شامل ہیں۔یہ افغانستان ہی کا شروع کیا گیا کام ہے جس کا ہم نے خیر مقدم کیا ہے ۔ ہم افغان حکومت کے ساتھ مل کر اس پرکام کر رہے ہیں اور صدر غنی اس پر تیز ی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

آخر میں وزیر خارجہ نے مسئلے کے حل کیلئے خطے کے دوسرے ممالک کے کردار پر زور دیا جو افغانستان میں امن لانے کے لیے بہت ضروری ہے۔فغانستان کوخطے کے مرکزی دھارے کا حصہ بنانے کے لیے پڑوسی ملکوں کو اپنااپنا کردار ادا کرنا ہے ۔ یہ کردار باہمی تجارت کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے اور توانائی یا انفراسٹر کچر کی صورت میں بھی۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس دورے میں پاکستان کے وزیر اعظم اور سول و فوجی قیادت کے ساتھ نہایت بے تکلفانہ گفتگو ہوئی۔وزیر خارجہ نے پاکستانی قیادت کو باورکرایا کہ امریکی حکمت عملی ان کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک پرامن ہمسائے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہو گا۔ وزیر خارجہ نے اس موقع پر یاد دہانی کرائی کہ گزشتہ 70سال کے دوران متعدد مشکل مواقع پر امریکہ نے پاکستان کا ساتھ دیا۔

اس موقع پر وزیر خاجہ نے پاکستانی قیادت سے وابستہ چند توقعات بھی پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسے حالات پیدا کر سکتا ہے جوطالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد گار ہوں گے۔

پاکستان میں عسکریت پسند اور جہادی تنظیمیں ایک عرصہ سے موجود رہی ہیں اور وہ خود پاکستان کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ان کی وجہ سے پاکستان کے اندر پہلے ہی بہت زیادہ فرقہ پرستی ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے پنپ رہی ہے۔ طالبان قیادت اور حقانی نیٹ ورک کے لوگ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان میں موجود ہیں اور وہیں سے اپنی منصوبہ بندی کرتے ہیں ۔طالبان کی کوئٹہ اور پشاور کی قیادت اس حوالے سے اپنی علیحدہ شناخت رکھتی ہے۔ اور ہم نے دیکھا کہ 2014میں پاکستان نے ایک تزویراتی فیصلہ کیا کہ ان دہشت گرد تنظیموں کو شکست دینی ہے جو حکومت پاکستان کو ہدف بنا رہے ہیں۔پاکستان نے بہت سی جانوں کی قربانی دے کر، بہت زیادہ جرات اور بصیرت کے ساتھ اس جنگ کو لڑا ہے اور اب فاٹا کے علاقوں پر اپنا کنٹرول اور بالادستی قائم کر لی ہے۔ہم پاکستان کی طرف سے یہی عزم دوسری دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بھی دیکھنا چاہتے ہیں،چاہے وہ پاکستان میں رہ کر کام کر رہی ہیں یا انہوں نے پاکستان کی سرزمین کو استعمال کیا ہے۔چاہے وہ بھارت کے خلاف کام کر رہی ہیں یا افغانستان کے خلاف روبہ عمل ہیں۔ آخر میں وزیر خارجہ نے جنرل باجوہ کے دورہ کابل کا خیر مقدم کیا اوران کے اس عزم کو سراہاکہ وہ پاکستان کی سرزمین کو افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان وعدوں پر عملدرآمد کے شدت سے منتظر ہیں جو افغان اور پاکستان کی قیادت کے درمیان ہوئے ہیں۔

یہ تمام تر گفتگوان سب ممالک کی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے کی گئی، امریکہ نے کسی کو بھی ڈکٹیشن نہیں دی صرف اپنی حکمت عملی بیان کی ہے ،انہوں نے پاکستان کے لیے ایک بہت اہم کردار پر بات کی کیونکہ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان خطے کاایک بہت اہم ملک ہے تاہم یہ اسی پر منحصر ہے کہ وہ اس حکمت عملی کے تحت امریکہ کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے یا نہیں ۔ اگر پاکستان ایسا کرنے پر آمادہ نہ ہوا تو امریکہ اپنی حکمت عملی نئے سرے سے ترتیب دے لے گا۔

جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو وہاں کا دورہ بہت دوستانہ رہاجس میں مختلف النوع موضوعات پر گفتگو ہوئی اور اس بات پر غورکیا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایسی تزویراتی شراکت کس طرح قائم ہوجس کی بنیاد پر باقی ماندہ اکیسویں صدی کا نقشہ ترتیب دیا جا سکے۔

اگر آپ نے سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں وزیرخارجہ ٹلرسن کی تقریر سنی ہے تو اس میں بھی بھارت کے ساتھ اگلے سو سال کے تعلق کی بات ہوئی۔یہ دورہ اگرچہ دو طرفہ نوعیت کا تھا تاہم اس پراس حوالے سے بھی غور ہوا کہ دونوں ملک جو اپنی کئی اقدار کے حوالے سے مشترک ہیں کس طرح اپنی جمہوریت، شفافیت، آزادی جیسی اعلی اقدار کو جاپان اور آسٹریلیا جیسے اہم ملکوں کے ساتھ مل کر ہندو الکاہل کے خطے میں پھیلا سکتے ہیں۔یہاں میں یہ کہنا چاہوں گی کہ میری بھی گاندھی سمرتی سے ملاقات بہت خوش آئند رہی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارامضبوط تعلق مشترکہ اقدار کا مرہون منت ہے۔

وزیر خارجہ نے اس تعلق کے لیے بہت گرم جوشی کا اظہار کیا۔ جون میں جب وزیر اعظم مودی اور صدرٹرمپ کی ملاقات ہوئی تھی تو ہم سوچ رہے تھے کہ اس تعلق کو ایک قدم اور آگے کیسے لے جایاجائے۔یقیناًہم افواج میں باہمی تعلق کوبھی فروغ دینا چاہتے ہیں جو پہلے سے بہت بہتر ہوا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہم بھارت کو دفاعی ساز و سامان کی فروخت صفر سے پندرہ ملین تک لے گئے ہیں۔ ہمارے درمیان اہم دفاعی معاہدے طے پا چکے ہیں جبکہ ہمارے لیے اب کلاسیفائیڈ ڈیٹا شیئر کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ ہم بھارت کو ایف سولہ اور ایف اٹھارہ جیسے جنگی جہازبھی فروخت کرسکیں گے۔ یہ وہ چیز ہے جس میں بھارت کا مفاد ہے لیکن اس سے امریکہ میں بھی روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

ہم بھارت کے ساتھ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی بڑھانا چاہیں گے۔ ہمارے درمیان تقریبا 115ارب ڈالر کی تجارت اور 40ارب کی باہمی سرمایہ کاری ہے۔ رواں ہفتے ہمارے دو اہم اجلاس جاری ہیں جن میں ٹریڈ پالیسی فورم اور کمرشل ڈائیلاگ شامل ہیں۔رواں ماہ بھارتی کمپنی مہندرا بھی مشی گن میں ایک آٹو پلانٹ کا افتتاح کر رہی ہے۔ بھارت نے ہم سے بوئنگ جہاز بھی خریدے ہیں جس کے نتیجے میں امریکی شہریوں کے لیے روز گار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوئے ہیں۔نومبر میں ہم ایوانکا ٹرمپ کی سربراہی میں کاروباری نظامت کی عالمی کانفرنس منعقد کرائیں گے جس میں 1300کاروباری افراد اور سرمایہ کار شرکت کریں گے جس سے بھارت کے ساتھ تجارتی سطح پر ہمارا تعلق مزید مضبوط ہو گا۔

آخر میں وزیر خارجہ نے اپنی توجہ اس بات پر مرکوز کی کہ علاقائی استحکام کومزید بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔جنوبی ایشیائی حکمت عملی میں ہم نے افغانستان کو اقتصادی طور پر مستحکم کرنے اور اس کے انسانی وسائل کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بھارت کو ایک اہم کردار دیا ہے۔2001کے بعد سے بھارت نے افغانستان میں 2ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ 2020تک مزید ایک ارب خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اور اگر آپ ان کے منصوبوں کی طرف دیکھیں جو 31 صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں تو یہ ڈیموں، پینے کے پانی کے منصوبوں، انفراسٹرکچر، حکومتی عہدیداروں اور طلبا کی تربیت پر مشتمل ہیں اور افغانستان میں ان منصوبوں کو بہت پذیرائی ملی ہے۔ یہ بہت تعمیری منصوبے ہیں اور ان سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت ایک اہم اور قابل قدر شراکت دار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے سب پر واضح کر دیا ہے کہ کسی کی سرزمین کا کسی دوسرے کے خلاف استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آخر میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ہم نے وزیر اعظم مودی کے دورے میں حرکت المجاہدین کے بارے میں بات کی تھی اور ہم اس حوالے سے بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور انہیں کہا ہے کہ وہ ہمیں ایسی مزید تنظیموں کے بارے میں بھی آگاہ کریں تاکہ ہم مل کر ان کا پیچھا کریں۔

اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ دورہ بہت جامع اور گہرا ئی کا حامل تھا۔ وزیر خارجہ کو کلیدی تجارتی رہنماؤں اور امریکی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملنے کا بھی موقع ملا ۔ یہ ایک متحرک تعلق ہے جو کہ اس سے پہلے ہم نے نہیں دیکھا ۔

ہیدا نوئرٹ:ٹھیک ہے، اب آپ سفیر ویلز کو اپنے اور اپنے اداروں کے نام جائیں اور سوالات پوچھتے جائیں۔

سوال:میں للت جھا ہوں اور میرا تعلق پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے ہے۔ جاپانی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ انہوں نے بھارت، امریکہ ، جاپان اور آسٹریلیا کے درمیان ایک تزویراتی مکالمے کی تجویز دی ہے۔ اس بارے میں امریکی موقف کیا ہے اور کیا انہوں نے آپ سے بھی کوئی رابطہ کیا ہے ۔

اس کے علاوہ بھارت میں روہنگیا کا معاملہ بھی تھا ، کیا بھارتی حکام سے بات چیت کے دوران وہ بھی زیر بحث آیا۔

سفیر ویلز:جی ہاں چار فریقی اتحاد جس کا جاپانی وزیر خارجہ نے ذکر کیا وہ جاپان اور بھارت کے ساتھ ہمارے سہ فریقی مکالمے کی بنیاد پر ہی شروع ہو گا اور اگر آپ دنیا کی سب سے بڑی فوجی مشق مالابار کو دیکھیں تو جاپان اس کا حصہ ہے۔ جب ہم اپنی سمندری سکیورٹی ، انسانی امداد، آفات کا مقابلہ اور شفافیت جیسی اقدار کو دیکھیں تو اس کوشش میں آسٹریلیا بھی ایک فطری حلیف ہے۔ ہم جلد اس حوالے سے ایک چار فریقی اجلاس کر رہے ہیں لیکن ہماری اصل فکر یہ ہے کہ ہم ان ملکوں کو کیسے قریب لائیں جن میں یہ اقدار مشترک ہیں تاکہ ان اقدار کو عالمی نقشے میں شامل کیا جا سکے۔

سوال:رائٹرز سے ڈیوڈ برنسٹرام ۔ میں بھی اسی سوال کو آگے بڑھاؤں گا۔

سفیر ویلز:میں نے روہنگیا کے معاملے پر بات نہیں کی۔روہنگیا مسئلہ بھی دورے میں اٹھایا گیا تھا۔ ہمیں بھی یقیناًروہنگیا کے معاملے پر اتنی ہی تشویش ہے جتنی بھارت کو روہنگیا کی بڑے پیمانے پر بنگلہ دیش ہجرت پر ہے، تاہم اس بات کویقینی بنانے کی بھی ضرورت ہے کہ برما کی حکومت ریاست راخائن کے شہریوں کے تحفظ کے وعدے کو نبھائے۔

سوال:ڈیوڈ برنسٹرام ، رائٹرز سے ۔میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ چار فریقی اتحاد کے بارے میں کیا کہہ رہی تھیں۔ اس وقت ا س کی کیا حیثیت ہے۔

سفیر ویلز:کس بارے میں۔

سوال:چار فریقی اتحاد کے بارے میں، اس وقت وہ کس مرحلے میں ہے۔ کیا دہلی میں اس حوالے سے کوئی گفتگو ہوئی، اور ظاہر ہے ماضی میں چین نے اس قسم کی سوچ پر خاصا منفی رد عمل ظاہر کیا تھا۔ وہ اسے خود کو گھیرے میں لیے جانے کے کسی منصوبے کا حصہ سمجھتا ہے۔اور آپ اس قسم کے باہمی تعاون کے حوالے سے چین کی تشویش کوکیسے لیتے ہیں۔

سفیر ویلز:میرا خیال ہے کہ چار ملکوں کے سفیروں کے اجلاس کو چین کو گھیرنے کا منصوبہ سمجھنا مناسب نہیں۔یہ تو ہندو الکاہل خطے کے جمہوری ممالک کامشترکہ مفادات کی بنیاد ملاپ ہے اورایک مفید سہ فریقی اتحاد اور تعاون کا اگلا قدم ہے جو ہم نے بھارت، جاپان اور امریکہ کے درمیان دیکھا ہے۔ میرا خیال ہے کہ جو ممالک ایک جیسی اقدار رکھتے ہوں ان کے پاس موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے انفراسٹرکچر اوراقتصادی ترقی میں مددکے متلاشی اپنے قریبی ملکوں کو بھی نت نئے متبادل مہیا کریں ۔ اس طرح ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارے اقدامات مربوط ہیں اور ہم ان ملکوں کو ایسے متبادل مہیا کرتے ہیں جن میں خونخوار قسم کی سرمایہ کاری یا غیر مستحکم کرنے والے قرضے شامل نہ ہوں۔

لگتا ہے کہ وہ صاحب کافی دیر سے اپنا ہاتھ کھڑا کیے ہوئے ہیں۔

سوال :ڈائن نسن بام ، وال سٹریٹ جرنل سے ۔ میں آپ سے دورہ پاکستان کے متعلق جاننا چاہتا ہوں۔میرا سوال یہ نہیں کہ آپ نے پاکستان سے کیا مطالبات کیے ، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ جو مطالبات آپ نے کیے ان کے لیے کیا وقت کی کوئی حد مقرر کی ہے کہ وہ اس وقت تک ٹھوس اقدامات کرلیں ورنہ امریکہ خود راست اقدام کرے۔دوسرا یہ کہ دوحہ رابطے کے خاتمے اور وہاں طالبان کے دفتر کی بندش کے حوالے سے پاکستان کا کیا نقطہ نظر ہے۔

سفیر ویلز:میں سمجھتی ہوں کہ یہ اہم بات ہے اور وزیر خارجہ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کوجلد از جلد مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔کچھ چیزیں دیکھی اور محسوس کی جا سکتی ہیں۔ سو آنے والے دنوں میں ہمیں نظر آ جائے گا کہ پاکستان اپنے ذاتی مفاد میں کون کون سے عملی اقدامات کرتا ہے تاکہ ان تنظیموں کی کارروائیوں سے اس کا استحکام متاثر نہ ہو۔

جہاں تک طالبان کے سیاسی کمیشن کا تعلق ہے تو اس کا مقصد مذاکرات کرنا ہے سو ہم چاہیں گے کہ کمیشن کو مذاکرات کے لیے اختیار دیا جائے۔صدر کی جنوبی ایشیائی پالیسی کی پیش گوئی ایسی سیاسی بنیاد پر کی جاتی ہے جو مستحکم ہو۔ظاہری سی بات ہے کہ اس کے لیے طالبان میں ایک ساتھی چاہیے اور ہم طالبان میں ایسے ہی معتدل عناصر کو تلاش کر رہے ہیں تاکہ ان سے مکالمہ شروع کیا جا سکے۔ ابھی تک تو طالبان کے کمیشن کے پاس کوئی اختیار نہیں، اس لیے ہم ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ ان کی سرگرمیاں اس حد سے تو نہیں بڑھ رہیں جس کی ان سے دوحہ میں توقع کی جا رہی ہے۔

سوال: پاکستان کو کتنے مہینوں میں ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے؟

سفیر ویلز: میں اس حوالے سے آپ کو واضح اوقات نہیں بتا سکتی، تاہم میرا خیال ہے کہ ہم تیز رفتاری سے اپنی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں اور عسکری محاذ پر اپنی صلاحیت کے ذریعے طالبان پر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔ اس کے ساتھ ہم سفارتی محاذ پر بھی اسی تیز رفتاری سے پیش رفت کر رہے ہیں۔

سوال: معذرت، میرا نام کائلی ہے اور میں سی بی ایس کے لیے کام کرتی ہوں۔ بریفنگ کا شکریہ۔ دوحہ دفتر کے حوالے سے آپ نے کہا تھا کہ امریکہ اس دفتر کو بند کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ٹلرسن نے بھی اس ہفتے کے اوائل میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس دفتر کا تذکرہ کیا۔ کیا اس وقت امریکہ اس دفتر کے ساتھ کسی طرح کے رابطے میں ہے؟

سفیر ویلز: میں سمجھتی ہوں کہ طالبان کے سیاسی دفتر کو اصولی طور پر افغان حکومت سے بات چیت کرنی چاہیے۔ میرا مطلب ہے کہ ان کے وہاں ہونے کا یہی مقصد ہے اور اسی لیے انہیں دوحہ میں جگہ دی گئی کہ وہ افغان حکومت سے بات چیت کر سکیں۔ مگر ہمیں ان کی جانب سے ویسی پیش رفت دکھائی نہیں دی جس کی توقع تھی۔

پہلی بات یہ کہ کوئی بھی امن معاہدہ افغانستان کے لوگوں میں ہونا ہے۔ اس خطے کے ممالک کا بھی اس میں اہم کردار ہے۔ تاہم سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ افغان افغانوں سے بات چیت کریں اور خطے میں پاکستان کی تاریخی اہمیت کو دیکھتے ہوئے میں سمجھتی ہوں کہ افغانستان اور پاکستان میں تعلقات بھی بہتر ہونا چاہئیں کیونکہ پاکستان ہی ایسی جگہ ہے جہاں طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ارکان پسپائی اختیار کر سکتے ہیں۔

سوال: کیا آپ امریکہ اور طالبان کے دفتر میں روابط کی موجودگی یا عدم موجودگی پر بات نہیں کرنا چاہتیں؟

سفیر ویلز: میرے خیال میں طالبان کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ ہماری حکمت عملی کیا ہے۔ گزشتہ سات برس میں اس حوالے سے بہت سی غیررسمی اور غیرسرکاری کوششیں ہو رہی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ طالبان کے ذہن میں امریکی حکمت عملی کے حوالے سے کوئی کنفیوژن نہیں پائی جاتی، زور اس بات پر ہے کہ طالبان افغان حکومت سے بات چیت کریں۔

سوال: میرا نام نائیکے چنگ ہے اور میرا تعلق وائس آف امریکہ سے ہے۔ جب وزیرخارجہ جنوبی ایشیا میں متبادل مالیاتی طریق کار کی بات کر رہے تھے تو کیا ان کے ذہن میں چین کے ‘ایشیا انفراسٹرکچر اینڈ انویسٹمنٹ بینک’ کا تصورتھا؟

سفیر ویلز: جیسا کہ وزیر دفاع ماٹس نے غالباً دو ہفتے قبل کہا تھا کہ خطے میں بہت سی بیلٹس اور بہت سی سڑکیں ہیں۔ ایسے میں امریکہ کو کیا پیشکش کرنی چاہئیے۔ امریکہ، جاپان، آسٹریلیا، انڈیا اور دوسرے ممالک جو شفافیت، پائیدار قرضوں اور ذمہ دارانہ ترقی کے حوالے سے ہماری جیسی اقدار کے حامل ہیں، انہیں کیا پیشکش کی جانا چاہیے۔ اس کا مقصد کسی کا مقابلہ کرنا نہیں۔ یہ ایک مثبت سوچ ہے کہ بحرہندو الکاہل کے خطے میں اہم جمہوریتوں کو کیا کرنا چاہیے اور ہم باہم مل کر کیسے بہتر کام کر سکتے ہیں۔

اس حوالے سے میں ہمیشہ نیپال میں میلینئم چیلنج کارپوریشن کے 680 ملین ڈالر مالیتی منصوبے کی مثال دینا پسند کرتی ہوں۔ اس میں 130 ملین نیپالی حکومت نے دیے جبکہ بقیہ ایم سی سی نے فراہم کیے جو انڈیا کی جانب سڑکوں کے ساتھ ساتھ بجلی کی ٹرانسمیشن لائن تعمیر کر رہی ہے۔ اس منصوبے کی بدولت آئندہ سات برس میں نیپال بجلی برآمد کرنے والا ملک بن جائے گا۔ انڈیا اور نیپال میں انتہائی ذمہ دارانہ طور سے ربط پیدا کرنے سے علاقائی روابط میں اضافہ ہو گا۔دیکھنا یہ ہے کہ خطے کے ممالک ہمارے ترقیاتی منصوبوں کو باہم مفید بنانے کے لیےایک دوسرے کے ساتھ کیسے کام کر سکتے ہیں اور ہم ممالک میں مواصلاتی راوبط کے ذریعے متبادل اور پائیدار اقدام کیسے یقینی بنا سکتے ہیں جس سے ان ممالک کی جائز ترقیاتی ضروریات پوری ہو سکیں۔

سوال: میرا نام جوش لیڈرمین ہے اور میں اے پی سے وابستہ ہوں۔ کیا آپ طالبان میں جدید عناصر کی وضاحت کر سکتی ہیں، میرے خیال میں لوگوں کے لیے یہ انتہائی ناخوشگوار بات ہے کہ ہم 16 سال پہلے طالبان سے چھٹکارا پانے کے لیے افغانستان گئے تھے۔ لہٰذا کیا ہم ایسے عناصر کے حوالے سے بات کر رہے ہیں جو بظاہر امریکیوں اور دیگر کے خلاف تشدد اور بم دھماکے بند کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم ایسے لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں جوخواتین سے اچھے سلوک پر رضامند ہیں اور ہم اس بارے میں کیا جانتے ہیں؟

سفیر ویلز: ہم نے اس حوالے اپنی پیشگی شرائط پہلے ہی بتا دی ہیں۔ چنانچہ جو طالبان تشدد اور دہشت گردی چھوڑ کر آئین کی توثیق کریں گے انہی سے بات ہو گی۔ چنانچہ ہمیں ایسے طالبان کی ضرورت ہے جو افغان حکومت اور خطے کے ساتھ کام کے لیے تیار ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ امریکہ نے طالبان کو تواتر سے پیغامات بھیجے ہیں کہ وہ ان سے کیا توقع رکھتا ہے اور افغانستان میں بھی پرکشش اور تکثیری حکومت ہونی چاہیے تاکہ بغاوت کو جنم دینے والی جائز شکایات کا وقت کے ساتھ ازالہ ہو سکے۔

سوال: میرا نام ڈیو کلارک سے ہے اور میں اے ایف پی کے لیے کام کرتا ہوں۔ اس امر سے طالبان اور افغانستان کو کیا پیغام جاتا ہے کہ افغانستان کے صدر کو امریکی وزیرخارجہ سے ملنے کے لیے بگرام جانا پڑا۔ اگر وزیرخارجہ کابل جا کر صدارتی محل میں ان سے ملاقات کرتے تو کیا یہ افغان حکومت کے لیے زیادہ بہتر نہ ہوتا؟

سفیر ویلز: میں سمجھتی ہوں کہ یہ بڑھا چڑھا کر کی گئی بات ہے۔ یہ ملاقات افغانستان کے فوجی اڈے پر ہوئی۔ یہی انہی کا اڈہ ہے۔ آپ نے دیکھا کہ اس دن وزیرخارجہ افغانستان کے علاوہ بغداد بھی گئے تھے۔ چنانچہ اس طویل دورے کے مشکل شیڈول میں ان کے لیے افغان قیادت سے بگرام میں ملاقات کرنا موثر اور آسان تھا۔ لہٰذا ہم وزیرخارجہ سے بگرام میں ملنے پر افغان قیادت کے مشکور ہیں۔ یہ ملاقات جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے لیے انتہائی مثبت رہی۔

سوال: مگر افغان رہنما کو تصویر میں تبدیلی کی ضرورت پیش آئی تاکہ یہ فوجی اڈہ دکھائی نہ دے۔

سفیر ویلز: میں اسے بڑی بات نہیں سمجھتی۔ افغان عوام نے ہماری حکمت عملی کا خیرمقدم کیا ہے۔ جائزوں اور اخباری مضامین سے اس کا بخوبی اظہار ہوتا ہے۔ افغان عوام امریکی حکمت عملی اورطالبان کی جانب سے مذاکراتی سیاسی سمجھوتے پر رضامند ہونے تک اپنا ساتھ دینے پر امریکہ کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔ چنانچہ میں کہوں گی کہ افغانستان میں اس حکمت عملی کے حوالے سے ردعمل بے حد مثبت رہا۔

سوال: اے بی سی نیوز سے کونر فنیگن۔ میں پاکستان کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے تعاون نہ کیا تو پھر ہم خود نمٹ لیں گے۔ کیا آپ اس کی وضاحت کر سکتی ہیں؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ یکطرفہ طور پر ڈرون حملے کرے گا یا اس سے یہ مراد لی جائے کہ پاکستان پر مزید معاشی پابندیوں جیسا دباؤ ڈالا جائے گا؟

سفیر ویلز: میں خصوصی طور سے وضاحت نہیں کر سکتی کہ ہمارے ممکنہ ردعمل کیا ہوں گے مگر میں سمجھتی ہوں کہ ہم نے انتہائی واضح طور سے بتا دیا ہے کہ ہمارے مقاصد کیا ہیں اور ہم امریکہ اور پاکستان میں کیسی شراکت چاہتے ہیں۔ تاریخی طور سے دیکھا جائے تو ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔ ہم باہم مل کر بہت بڑے کام انجام دے سکتے ہیں جیسا کہ حال ہی میں ہم نے پاکستانی حکام کے تعاون سے وہاں موجود القاعدہ کی بیشتر قیادت کو گرفتار کیا۔ مگر ہم نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ طالبان کو بات چیت پر آمادہ کرنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔ یہاں آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان کا کتنا اثرورسوخ ہے تاہم ان کا اثر حقیقت ہے۔

ہم اکٹھے کام کر سکتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ گزشتہ پانچ برس میں پاکستانی حکام اور طالبان دونوں نے یہ سوچا کہ امریکہ افغانستان سے دستبردار ہو رہا ہے۔ اپنے تئیں وہ ایک منتشر اور بے ترتیب واپسی سے جنم لینے والے مسائل کا حل ڈھونڈ رہے تھے۔ وہ سلامتی کے حوالے سے غیریقینی ماحول کے خلاف اقدامات چاہتے تھے۔ جنوبی ایشیا سے متعلق ہماری حکمت عملی سے ان کے لیے غیریقینی صورتحال کا خاتمہ ہو جائے گا اور انہیں یقین ہو گا کہ ہم طالبان کو جیتنے نہیں دیں گے۔ چنانچہ وہ اپنے آلہ کاروں یا دوسرے عناصر کے بجائے امریکہ کی افغانستان میں موجودگی سے حاصل ہونے والے اس فائدے کو اپنی جائز ضروریات کی تکمیل کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ چنانچہ میں سمجھتی ہوں کہ یہ پاکستان کے لیے ہمارے ساتھ کام کر کے اپنے تزویراتی مفادات کی تکمیل کا حقیقی موقع ہے۔

ہیدا نوئرٹ: چونکہ سفیر نے جانا ہے اس لیے ہمارے پاس مزید ایک سوال کا موقع ہے، بلکہ ہم دو سوالات کر سکتے ہیں۔ ہم گارڈینر اور لیزا کے سوالات لیں گے۔

سوال: ایلس، وزیرخارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ بلینک چیک نہیں بلکہ مشروط معاملہ ہو گا۔ آپ نے اور انہوں نے بھی کہا کہ ہم یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم وہیں رہیں گے۔ دوسری جانب وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر حالات موافق نہ ہوئے تو لازمی نہیں کہ ایسا ہی ہو اور ہم نے معاملے کے دوسرے پہلو کی بابت کبھی نہیں سنا کہ وہ کون سے حالات ہیں جن کی بدولت وہاں نہیں رہا جا سکتا اور کس صورت میں یہ بلینک چیک نہیں ہے؟

سفیر ویلز: وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ دونوں اطراف میں شرائط عائد کی گئی ہیں۔ ہم نے پاکستانیوں سے مخصوص اقدامات اٹھانے کو کہا ہے اور افغانستان سے بھی یہی بات کی ہے۔ اس حکمت عملی میں افغان حکومت ہماری حقیقی شریک کار ہے۔ افغان صدر غنی اور ان کی ٹیم نے اصلاحات کے حوالے سے مخصوص اقدامات کا وعدہ کیا ہے۔ ہم ان اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدگی سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

جب صدر یہ کہتے ہیں کہ امریکہ قومی تعمیر کے عمل میں شامل نہیں ہونا چاہتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم افغانستان میں عطیے پر چلنے والی معیشت نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان نجی شعبے کی معیشت کو ترقی دے، قدرتی پیداوار کے شعبے میں آگے بڑھے جس کی مالیت ٹریلن ڈالر ہے اور اس کا تعلق ملک میں سلامتی کی صوتحال سے بھی ہے۔ چنانچہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہماری افغانستان میں موجودگی مشروط ہے تو یہ امر واضح ہوتا ہے کہ افغانستان ہمارا شراکت دار ہے اور دونوں ممالک باہم مل کر ان شرائط پر عمل کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں کامیابی کے ابتدائی اشارے بھی ملے ہیں۔ آپ نے 150 سینئر جرنیلوں کی برخاستگی یا ریٹائرمنٹ دیکھی ہے جنہیں معیاری کارکردگی نہ دکھانے پر فارغ کیا گیا۔ آپ نے بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں دیکھی ہیں۔ ان اقدامات سے ہمیں بے حد اعتماد ہے کہ صدر غنی اصلاحاتی عمل آگے بڑھانے میں ہمارے ساتھ ہیں۔

ہیدا نوئرٹ: اب آخری سوال

سوال: میرا نام کینیشی ہے اور میرا تعلق این ایچ کے سے ہے۔ آپ نے امریکہ، جاپان، انڈیا اور آسٹریلیا کے چار رکنی اجلاس کے بارے میں بتایا کہ یہ مستقبل قریب میں ہو گا۔ کیا اس حوالے سے کوئی تاریخ بھی مقرر کی گئی ہے۔ مجھے یہ بھی پوچھنا ہے کہ یہ کس سطح کا اجلاس ہو گا۔

سفیر ویلز: میں نہیں سمجھتی کہ ابھی اس اجلاس کی مخصوص تاریخ اور وقت مقرر کیاگیا ہے مگر یقیناً توقعات یہی ہیں کہ ہم اس سمت میں آگے بڑھیں گے اور یہ بات چیت میرے عہدے کی سطح پر ہو گی۔

ہیدا نوئرٹ: شکریہ

سوال: کیا اس سلسلے میں دہلی میں کوئی اجلاس ہوا؟

سفیر ویلز: معذرت، میں آپ کی بات نہیں سمجھی۔

سوال: کیا دہلی میں بھی کوئی چار فریقی اجلاس ہوا؟

سفیر ویلز: نہیں۔

ہیدا نوئرٹ: کیا دہلی میں بھی کوئی چار فریقی اجلاس ہوا؟

سفیر ویلز: جی، نہیں

ہیدا نوئرٹ: ٹھیک، سبھی کا بے حد شکریہ، امید ہے کہ یہ بریفنگ مفید ثابت ہوئی ہو گی۔

سوال: شکریہ، بریفنگ کے لیے شکریہ

سوال: شکریہ

ہیدا نوئرٹ: ہم نے اس ہفتے آپ کو ہرممکن حد تک زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی۔

سوال: شکریہ

سفیر ویلز: شکریہ


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں