rss

صدر ٹرمپ کا دورہ جاپان

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी

وائٹ ہاؤس
دفتر سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
5 نومبر 2017
5:15 سہ پہر

 

 

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر: شکریہ، سبھی کو شام بخیر۔ اچھا ہوا کہ وفد کے ہمراہ آپ میں بھی بعض لوگ میری طرح ہی جیٹ لیگ کا شکار ہیں۔
میں نے سوچا کہ صدر کے دورہ ایشیا میں پہلے پڑاؤ کی بابت کچھ باتیں ہو جائیں۔ اس حوالے سے میں آج اور کل جاپان میں صدر کی مصروفیات نیز اس دورے کے وسیع تر مقاصد کی بابت کچھ بتاؤں گا۔
اس پورے دورے میں صدر کے تین اہم مقاصد ہیں اور یہ 25 سال سے زیادہ عرصہ میں کسی امریکی صدر کی جانب سے ایشیا کا طویل ترین دورہ ہے۔ اس دورے کا پہلا مقصد شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے لیے عالمی ارادوں میں مضبوطی لانا، دوسرا مقصد آزاد اور کھلے خطہ ہندوالکاہل کا فروغ اور تیسرا مقصد امریکہ کی خوشحالی ہے جو کہ صدر کو بے حد عزیز ہے۔
اسی لیے وہ یہاں پہنچے ہیں۔ صدر کی حیثیت سے ایشیا کے دورے میں ان کا پہلا پڑاؤ جاپان میں ہونا اتفاقی نہیں۔ جاپان خطے میں سلامتی و استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور امریکہ کا دیرینہ اتحادی ہے۔ صدر کو یوکوٹا ہوائی اڈے پر امریکی اورجاپانی مردوخواتین فوجی اہلکاروں سے بات کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے تقریر کی پھر دوپہر کا وقت وزیراعظم ایبے کے ساتھ بتانے چلے گئے۔ انہوں نے انتہائی غیر رسمی طور سے وزیراعظم اور خصوصی طور پرمدعو کیے گئے مہمان مٹسویاما کے ساتھ نو ہولز پرمشتمل گالف میچ کھیلا۔ مجھے بتایا گیا کہ تینوں نے سکور کرنے کے بجائے وہاں اچھا وقت گزارا۔ انہوں نے اس ملاقات اور کھیل سے لطف اٹھایا اور کل رسمی ملاقات میں زیربحث آنے والے امور پر کچھ بات چیت کی۔
اب میں جلدی سے کل کی مصروفیات کی بابت بتانا چاہوں گا۔ صدر سفیر ہیگرٹے کی رہائش گاہ پر جائیں گے۔ کل صبح وہ امریکہ و جاپانی کاروباری شخصیات سے خطاب کریں گے۔ بعدازاں وہ یہاں ٹوکیو میں امریکی سفارت خانے میں عملے سے ملیں گے اور پھر ان کا قافلہ شاہی محل جائے گا جہاں وہ عالی جناب شہنشاہ اکی ہیٹو سے ملاقات کریں گے۔ شہنشاہ کے ساتھ ملاقات میں خاتون اول بھی ان کے ساتھ ہوں گی۔
بعدازاں وہ آنر گارڈ کی تقریب میں شریک ہوں گے جس کے بعد وزیراعظم ایبے کے ساتھ کھانے پر بات چیت کا دور ہو گا۔ بعدازاں وہ شمالی کوریا کی جانب سے اغوا کیے گئے جاپانی شہریوں کے اہلخانہ سے ملیں گے۔ ان ملاقاتوں میں خاتون اول بھی ان کے ساتھ ہوں گی۔
اس کے بعد وزیراعظم ایبے اور صدر مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے۔ صدر کے ساتھ یہاں آنے والا بڑا امریکی وفد بھی جاپانی حکام سے ملاقاتیں کرے گا جس کے بعد کل رات ضیافت کا اہتمام ہو گا۔ اگلی صبح صدر دو روزہ سرکاری دورے پر سیئول روانہ ہو جائیں گے۔
چنانچہ ۔۔۔۔
سوال: معذرت ۔۔۔ کل رات سیئول، اگلی صبح نہیں؟
انتظامیہ کے اعلیٰ افسر: میں معذرت چاہتا ہوں، یہ اگلی صبح ہو گی، جی ہاں بالکل، صبح وہ سیئول کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔
چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ جاپان میں دونوں رہنما وسیع تر موضوعات پر گفت شنید کریں گے جس سے ثابت ہو گا کہ یہ دیرینہ اتحاد کس قدر گہرا اور وسیع ہے۔ ان کے مابین سلامتی، معیشت، سائنسی و ثقافتی تعاون اور صحت کے معاملات پر بات ہو گی۔
یقیناً امریکہ جاپان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ دونوں رہنما اس ضمن میں ٹھوس اقدامات پر بات چیت کریں گے اور جاپان کے علاقائی کردار میں وسعت لانے سمیت اس کی صلاحیتوں میں اضافہ بھی زیربحث آئے گا۔ یقیناً اس موقع پر آبدوز شکن جنگ اور بلسٹک میزائلوں کے حوالے سے جاپان، جنوبی کوریا اور امریکہ میں سہ طرفی تعاون پر بھی بات چیت ہو گی۔ ملاقات میں سائبر شعبے میں تعاون بھی زیربحث آئے گا خصوصاً شمالی کوریا کی جانب سے اس شعبے میں اشتعال انگیزیوں کے تناظر میں باہمی تعاون بڑھانے پر بات چیت ہو گی۔ شمالی کوریا سے میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کا ہی خطرہ لاحق نہیں بلکہ اس کی جانب سے سائبر سرگرمیوں کے حوالے سے بھی خطرات کا سامنا ہے۔ ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکہ اور جاپان باہمی تعاون کو مزید بہتر بنا رہے ہیں۔
صدر اور وزیراعظم ایبے اپنی بات چیت کا آغاز وہیں سے کریں گے جہاں گزشتہ ماہ نائب صدر پنس اور نائب وزیراعظم ایسو نے امریکہ جاپان معاشی بات چیت کے دوسرے دور کا اختتام کیا تھا۔ اس دوران امریکہ جاپان تجارتی تعلقات کے مستقبل پر بات ہو گی۔
صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں مزید گرمجوشی آئی ہے اور دونوں ملکوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مجموعی امکانات خاصے حیران کن ہیں۔ اس وقت امریکہ میں جاپانی سرمایہ کاری کا حجم 400 ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور اس میں سالانہ 9 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ جاپان میں ساڑھے آٹھ لاکھ امریکی کارکن کام کرتے ہیں اور ہم اس دو طرفہ سرمایہ کاری کو جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی میں اپنی بات ختم کرتے ہوئے آپ کے سوالات لوں گا۔
سوال : کیا آپ آزاد اور کھلے انڈو پیسفک نظریئے کی کچھ تشریح کرنا اور یہ بتانا پسند کریں گے کہ چین کو اسے کس نظر سے دیکھنا چاہیے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بنیادی طور پر یہ چین کی ابھرتی ہوئی قوت کے آگے بند باندھنے کی حکمت عملی ہے۔آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ کس قدر قرین حقیقت ہے اور کیا چینیوں کو ایسا سمجھنا چاہیے۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:نہیں، بند باندھنے والی کوئی بات نہیں، حقیقت یہ ہے کہ امریکہ خطہ ہندو الکاہل کی اہم طاقت ہے اور یہی بات آپ ہمارے اس دورے کے دوران اور بعد میں بھی سنیں گے ۔ہمیں اپنے ملک کے بام عروج پر پہنچنے کے وقت سے ہی یہ مقام حاصل ہے۔ ہماری سلامتی اور خوشحالی کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکہ اس خطے میں تجارت کے آزادانہ بہاؤ تک اپنی رسائی کو قائم رکھے کیونکہ ہمارے ملک کا تعلق بحرالکاہل کے خطے سے ہے۔
آزاد اور کھلا ہندوالکاہل ہماری اسی سوچ کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم مستقل استحکام چاہتے ہیں۔ ہم اس خطے کے مستقل استحکام کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت نقل و حرکت ، منڈیوں تک رسائی اور آزاد مارکیٹ کی اجازت ہو تاکہ ہم حقیقی معنوں میں اس خطے کی خوشحالی کا سامان کر سکیں۔
امریکہ ایسے طریقے دریافت کر رہا ہے جن کی مددسے ہم حقیقی معنوں میں اپنے اس صدیوں پرانے عزم پر کاربند رہ سکیں۔امریکہ کومحض جنگ عظیم دوم کے نتیجے میں ہی اس خطے میں یہ مقام حاصل نہیں ہے ، ہمارے اس خطے کے ملکوں کے ساتھ دیرینہ اتحاد اور یہاں کے پانچ ملکوں کے ساتھ سلامتی کے معاہدے ہیں جبکہ دیگر کے ساتھ سلامتی اور معیشت کے حوالے سے قریبی روابط ہیں۔
ہمارے بھارت کے ساتھ مضبوط اور بڑھتے ہوئے تعلقات ہیں ہم خطہ ہندوالکاہل کی بات اس لیے کرتے ہیں کیونکہ یہ جملہ بھارت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ سمندری مشترکات کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتا ہے جوہماری سلامتی اور خوشحالی کا عمل جاری رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
سوال:شکریہ، صدارتی طیارے میں’ اے پی ای سی’ کانفرنس پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اجلاس کے موقع پر صدر پوٹن سے ملاقات کی توقع کر رہے ہیں تاکہ شمالی کوریا سے نمٹنے میں ان کا تعاون حاصل کر سکیں۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان کے درمیان کس قسم کی گفتگو متوقع ہے۔ شمالی کوریا کے خطرے کا سامنا کرنے میں صدر پوٹن اور روس کا کیا کردار ہو سکتا ہے۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:جی ہاں روس کی سرحد شمالی کوریا سے متصل ہے۔میرا خیال ہے کہ وہ اس حوالے سے بھی تشویش میں مبتلا ہیں کہ شمالی کوریا خطے کوبحران کی طرف لے جارہا ہے اور فطری طور پر روس بھی مستقبل میں اس حوالے سے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔اقوام متحدہ کا رکن ہونے کی حیثیت سے روس کی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو نافذ کرانے کے حوالے سے کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں جن میں وہ دو اہم اضافے بھی شامل ہیں جنہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے رواں سال صفر کے مقابلے میں پندرہ ووٹوں سے منظور کیا ہے۔میرا خیال ہے کہ دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں یہی بنیادی موضوع ہو گا۔
سوال :بات جب اس دورے کی دو واضح ترجیحات تجارت اور شمالی کوریا کی آتی ہے تو صدر ان دونوں میں کیسے توازن رکھیں گے ۔ جنوبی کوریا کے معاملے پر رعایت حاصل کرنے کیلئے وہ کیسے تجارت کے ایجنڈے میں کمی کریں گے اور اسی طرح اس سے متضاد صورت حال میں، یعنی انہیں کس حد تک تشویش ہے کہ تجارت کا موضوع شمالی کوریا کے معاملے پر بات چیت میں رکاوٹ پیدا کرے گا؟َ
انتظامیہ کے اعلی افسر:یقیناً، میں تجارت میں رو رعایت کی توقع نہیں کر رہا۔ امریکہ تجارت کے معاملےمیں اپنے مفادات اس چیز پر قربان نہیں کر ے گا جس سے نمٹنے کا تہیہ خود پوری دنیا نے کر رکھا ہے ۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ یہ دونوں چیزیں آپس میں مدغم ہوں گی۔
سوال:کیا صدر نے ایسا کچھ نہیں کہا کہ ان دونوں معاملات میں ادغام کا اندیشہ ہے کیونکہ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:نہیں کسی نے کہا تھا۔۔۔۔
سوال:خاص طور پر نہیں؟
انتظامیہ کے اعلی افسر:اگلے دن ایک رپورٹر کے ساتھ گفتگو میں بھی میں نے یہ بات اٹھائی تھی۔ صدر کی توجہ کا محور اس وقت چین ہے جو سب سے بڑا تجارتی ملک ہے یا یوں کہہ لیں کہ شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی اتحادی ہے۔ا مریکہ اس بات کویقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے بلکہ اس سے بڑھ کر بھی کچھ کرے۔
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے سمجھنے میں ابھی تک چین کو مشکل پیش آ رہی ہے۔ شمالی کوریا کوئی اثاثہ نہیں ہے، وہ تو سرد جنگ کی سوچ کا ایک مظہر ہے۔چین نے یقیناًہمیشہ سے بڑھ کر کام کیا ہے اور ہم بھی اس معاملے پر چین کے ساتھ ہمیشہ سے بڑھ کر تعاون کر رہے ہیں اور اس چیز کو آپ چینی قیادت اور صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں دیکھ بھی لیں گے۔
سوال: کیا صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم ایبے امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت پر مشتمل اتحاد کے بارے میں بات کریں گے اور کیا یہ اتحاد چین کو گھیرنے کے لیے ہے اور اس اتحاد کو بنانے کی وجہ کیا ہے۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:میں نہیں سمجھتا کہ چین کو گھیرنے جیسی کوئی بات ہے۔ اگر آپ انیسویں پارٹی کانگریس میں صدر شی جن پنگ کی تقریروں میں کہی گئی باتوں کو دیکھیں تو انہوں نے چین کے مرکزی حیثیت حاصل کرنے کی بات کی ہے۔اس لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے درمیان تعاون کے سوال پر امریکہ ہمیشہ قیادت کی سطح سے لے کر اپنے اتحادیوں آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ بہت قریب رہ کر بات کرتا ہے۔ یقیناًیہ سکیورٹی اتحاد نہیں ۔ ان ملکوں کا بھارت کے ساتھ بھی کوئی سکیورٹی اتحاد نہیں۔ بھارت بلاشبہ ہمارا اہم سکیورٹی شراکت دار ہے۔ایسا ہونا فطری امر ہے کیونکہ وہ خطہ ہندوالکاہل کا مغربی کنارہ ہے۔ امریکہ اس اتحاد کا مشرقی کنارہ ہے اور یہ وہ خطہ ہے جو دنیا کی نصف آبادی پرمشتمل ہے اور دنیا کی معیشت کے ایک تہائی سے زیادہ بنتا ہے بلکہ جلد ہی یہ عالمی معیشت کا نصف بننے والا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جس میں چین بھی شامل ہے، جاپان ، جزیرہ نما کوریا اور شمال مشرقی ایشیا بھی اس میں شامل ہیں۔ اس میں اوشیانا کا خطہ بھی شامل ہے جس میں جنوب میں ہمارا قریبی اتحادی نیوزی لینڈ، الکاہل کے جزائر اور ہمارا دیرینہ اتحادی آسٹریلیا شامل ہیں۔ مغرب میں بھارت ہے جبکہ مشرق میں امریکہ ہے۔
اور یقیناًاس کا راستہ جنوب مشرقی ایشیا ہے اور یہی ایک وجہ ہے کہ صدر اس دورے میں جنوب مشرقی ایشیا میں زیادہ وقت صرف کریں گے۔ اس دورے کا طویل ترین قیام ویت نام میں ہو گا جبکہ وہ فلپائن میں بھی اچھا خاصا وقت گزاریں گے اور اے پی ای سی کے تمام اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔ وہ امریکہ آسیان اجلاس میں بھی شرکت کریں گے اورآسیان کی پچاسویں سالگرہ بھی منائیں گے اور اس کے علاوہ مشرقی ایشیائی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔
سوال : کیا آپ اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ ای اے ایس کانفرنس میں شرکت کے فیصلے کے پیچھے کیا سوچ کارفرما ہے کیونکہ اس سے پہلے ہم نے سنا تھا کہ آپ صدر کو زیادہ دیر واشنگٹن سے باہر نہیں رکھ سکتے اور اب صدر کہہ رہے ہیں کہ یہ دورے کا سب سے اہم حصہ ہے تو اس تبدیلی تک کون سی چیز لے کر آئی ۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:ہم نے دورے پر کچھ نظر ثانی کی ، دورے سے واپسی پر ایک اور جگہ قیام کی گنجائش نکل رہی تھی سو ہم نے سوچا کہ جب ہم وہاں موجود ہوں گے تو کیوں نہ تھوڑا سا اضافی وقت صرف کر لیا جائے اور پھر سیدھے واشنگٹن آ جائیں۔ سو اس سے دورے کی طوالت پر بہت زیادہ اثر نہیں پڑے گا ۔
لیکن میں سمجھتا ہوں کہ صدر خطے کے رہنماؤں سے جتنا زیادہ ملیں جلیں گے ، اتنا ہی خطے کے رہنما انہیں سن سکیں گے اور یقیناًاس کا فائدہ ہی ہو گا کیونکہ وہ لوگ واقعی اجلاس میں صدر کی موجودگی کے خواہاں تھے۔ اسی لیے صدر نے بھی دورے میں تبدیلی سے اتفاق کیا اور وہ بہت خوش ہیں کہ دورے میں ان کا آخری قیام وہاں ہو گا۔
سوال :میں سی بی ایس سے مارگریٹ برینین ہوں۔میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے شمالی کوریا کے حوالے سے کہا کہ آپ کی توجہ اس کا محاصرہ اور مقابلہ کرنے پر ہے۔ کیااس وقت محاصرہ کرنا اولین ترجیح ہے یا پھر اس کی جوہری صلاحیت کو ختم کرانا بھی شرط ہے۔ کیا آپ اس پر کچھ روشنی ڈالنا پسند کریں گے کیونکہ اس وقت بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ بلی تھیلے سے باہر آ چکی ہے اور آپ یہ اندازہ لگانے کے لیے کچھ گفت و شنید کرنا چاہتے ہیں کہ زمینی حقائق کیا ہیں۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:مجھے خوشی ہے کہ آپ نے یہ سوال پوچھا۔ میں اس نکتے کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ امریکہ کی حکمت عملی محاصرہ کرنے کے حوالے سے 1953سے موجود ہے۔ اس لیے گھیرنا یا محدود کرنا کوئی علیحدچیز نہیں ہے بلکہ اس کا اصل مقصد ہی جنوبی کوریا کی جوہری صلاحیت کا مکمل خاتمہ ہے۔
گھیرنے کی سوچ 64سال پرانی ہے کیونکہ شمالی کوریا کا مقصد نہ صرف ان خطرناک ہتھیاروں کو حاصل کرنا ہے بلکہ جزیرہ نما کوریا میں سٹیٹس کو برقرار رکھنا بھی ہے اور میڈیااکثراس بات کو نمایاں نہیں کرتا کہ شمالی کوریا کہہ کیا ہے۔ اس کا مقصد جنوبی کوریا پر قبضہ ہے۔ یہ ہتھیار جنوبی کوریا پر قبضے کے منصوبے پرعمل درآمد کے لیے ہیں۔اس لیے یہاں ڈراوے اور گھیرے کا ایک مستقل عنصر موجود ہے اوراس کا حل خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے میں ہی ہے۔
سوال:لیکن کیا آپ اب بھی اس موضوع پر کسی قسم کے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں کیونکہ پہلے تو ہم نے سنا تھا کہ اس پر کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی تو پھر اب آپ نے اس میں تبدیلی کیسے کی۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:یہ صدر کی حکمت عملی ہے اور یہ حکمت عملی ہمارے اتحادیوں جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی سوچ سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہے کہ دباؤ کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔یہ شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے کے لیے سفارتی اور اقتصادی مہم ہے تاکہ شمالی کوریا کی قیادت کو اس بات پر قائل کیا جا سکے کہ ان کے لیے ایک راستہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے خطرے کو کم کرنے کے لیے جوہری ہتھیاروں میں کمی کی طرف آئیں۔
سوال: میں ڈیوڈ ہوں اور میرا تعلق ناکامورا پوسٹ سے ہے۔میرا خیال ہے کہ ایک کانفرنس کال میں آپ نے اغوا شدگان کے اہل خانہ کے بارے میں کچھ بات کی تھی کہ انہوں نے آپ سے واشنگٹن میں ملاقات کی ہے۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:جی ہاں۔
سوال: کیا آپ اس پر مزید کچھ روشنی ڈالیں گے کہ کیا آپ نے صدر سے ذاتی طور پر اس سلسلے میں بات کی اور ان کا رد عمل کیا تھا۔ اور ہمیں کچھ اس بارے میں بھی آگاہ کریں صدر ان خاندانوں سے کیا کہیں گے اور دنیا کے لیے کیا پیغام ہو گا۔ کیا یہ شمالی کوریا کے خطرے کو مختلف طریقے سے اجاگر کرنا ہے جو جوہری کے بجائے انسانی زیادہ ہے۔
اس میں ایک اور نکتہ یہ ہے کہ وہ جاپانی عہدیدار جس نے واشنگٹن میں رپورٹرز کو چند روز قبل بریف کیا تھاکہ اگرچہ صدر اوبامہ نے بھی ان خاندانوں سے ملاقات کی تھی تاہم انہیں ان میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ شاید ان لوگوں کو صدر ٹرمپ سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔کیا صدر ٹرمپ اوٹو وارمبیر کے بارے میں بات کریں گے نیز وہ ان خاندانوں کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:جی ہاں مجھے رواں سال ان لوگوں سے ملنے اور اس بارے میں صدر ٹرمپ کو بریف کرنے کا موقع ملااور انہوں نے اس معاملے میں بہت دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے دو ما ہ قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں نوجوان میگومی کے واقعے کا تذکرہ کرنا بھی پسند کیا اور کچھ خاندانوں سے بھی ملنا چاہا۔ اب ہمیں انتظار ہے کہ آیا وہ ان سے براہ راست ملتے ہیں یا نہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ وہ اس ملاقات میں اور سیول میں اپنی تقریر میں بھی شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی صورت حال پر بھی روشنی ڈالیں گے۔ میں نے حال ہی میں ایک صحافی کو اسے انسانیت کی تاریخ میں سب سے زیادہ مطلق العنان ریاست بھی کہتے ہوئے سناہے۔ میرا نہیں خیال کہ یہ کوئی مبالغہ آرائی ہے اور صدر بھی اپنی توجہ اسی طرف مرکوز کر رہے ہیں۔
سوال :کیا اس سے مراد شمالی کوریا کے عوام کی حالت زار ہے یا وہ ان امریکیوں کے بارے میں بات کریں گے جنہیں وہاں یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:یقیناًشمالی کوریا کے لوگ بھی اس میں شامل ہیں تاہم اگر آپ پوری دنیا میں شمالی کوریا کی جارحیت کو دیکھیں خواہ اس میں مسافر طیاروں پر بمباری ہو یا بیرون ملک دہشت گرد حملے ہوں یا وہ سینکڑوں حملے جو گزشتہ دہائیوں کے دوران امریکہ اور شمالی کوریا کے لوگوں پر ہوئے ہیں۔ یا پھر جاپانیوں کا غوا ہو یا جنوبی کوریا کے شہری جو گزشتہ برسوں کے دوران اغوا ہوئے ہیں۔ ان سب لوگوں سے ملاقات کے لیے تو پوری زندگی چاہیے جو وقتا ًفوقتا ًشمال کوریا کے ہاتھوں نشانہ بنتے رہے ہیں اور ابھی اس بارے میں بات کرنے کے لیے موجود ہیں۔سو صدر صرف اس انداز میں بات کریں گے کہ شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اس کے طرز عمل پر روشنی ڈالی جا سکے اور یہ کہ اس سے شمالی کوریا کے اپنے باقی دنیا کے لوگوں پر کیا اثرات ہیں۔
سوال:ایک لمحے کے لیے دوبارہ مشرقی ایشیا ئی کانفرنس کی طرف آتے ہیں۔ انتظامیہ کو ابتدائی طور پر کچھ تنقید کا سامنا رہاجب صدر پورے اجلاس میں شرکت پر غور نہیں کر رہے تھے ۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ امریکہ ایک قائدانہ لمحے سے محروم ہو رہا ہے۔ کیا یہ بات صدر کو بتائی گئی اورکیا انہوں نے اس کی بنیاد پر اپنا فیصلہ تبدیل کیا۔ یا اس کی وجہ یہ تھی آپ لوگ ہی دورے کی ابتدائی منصوبہ بندی کرتے وقت اس اجلاس کی اہمیت کو ٹھیک طرح سمجھ نہ پائے۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:دیکھیں، میں نے بھی اس تنقید کو سنا تھا۔ میرا خیال ہے کہ یہ ضرورت سے زیادہ تھی کیونکہ صدر پہلے ہی تمام رہنماؤں سے ملنے کی منصوبہ بندی کر چکے تھے۔ ان میں وہ تمام رہنما شامل ہیں جنہوں نے مشرقی ایشیائی کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔ انہیں 12کے گالا ڈنر میں بھی شرکت کرنا تھی۔ وہ اگلی صبح ان تمام ایونٹس کو شروع کرنے کے لیے منعقد کیے جانے والے اجلاس میں بھی شرکت کر رہے تھے۔لیکن میرا خیال ہے کہ انہیں ان کے دوستوں اور ساتھیوں نے کہا ہو گا کہ آپ دورے کو ایک دن مزید کیوں نہیں بڑھا دیتے ۔ یقیناًایسا کسی گفتگو میں ہوا ہو گا اور انہوں نے کہہ دیا کہ چلو ایسا ہی کر لیتے ہیں۔
سوال :کیا کسی خاص شخص نے انہیں اس فیصلے پر قائل کیا؟
انتظامیہ کے اعلی افسر:میں اس بارے میں کچھ نہیں جا نتا کہ انہوں نے کسی خاص گفتگو یا کسی خاص شخص کے کہنے پر ایسا کیا ہو گالیکن جب میں نے ان سے اس موضوع پر بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ بات توسمجھ میں آتی ہے۔
جب آپ صدارت کے طویل ترین دورے پر جا رہے ہوں تو اس کا شیڈول بنانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔اور اب تو یہ دورہ معمول سے بھی طویل ہو گیا ہے لیکن وہ پرجوش ہیں کہ وہ اس دورے پر جا رہے ہیں۔
جاپانی میڈیا کے لوگ بھی سوال کر سکتے ہیں۔
سوال:ایک سوال سعودی عرب سے متعلق، صدر ٹرمپ نے آج شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے بات کی ۔ کیامعاملہ۔۔۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:مجھے افسوس ہے ۔۔۔۔
سوال: سعودی عرب کی فون کال سے متعلق ۔۔۔۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:ہمارے پاس فون کال کا متن موجود ہے ۔۔۔۔
سوال:کیونکہ سعودی عرب میں کچھ اہم پیش رفت ہوئی ہے، اور میں جاننا چاہتا ہوں کہ ۔۔۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:آپ کا سوال اچھا ہے لیکن ۔۔۔۔ میں اس کا کوئی مفید جواب نہیں دے سکتا ، اس لیے کوئی اور صاحب سوال کریں۔
سوال:تو کیا صدر شمالی کوریا کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دے دیں گے۔اور اگر ایسا کچھ زیر غور ہے تو اس پر کب تک عمل درآمد ہو گا۔ اور کیا آپ اس بارے میں مزید کچھ آگاہی دے سکتے ہیں کہ صدر اور وزیر اعظم ایبے جب گالف کھیل رہے تھے تو ان کے درمیان کیا گفتگو ہوئی۔
انتظامیہ کے اعلی افسر:انتظامیہ اور وزیرخارجہ ٹلر سن اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ کیا کوریا کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دے دینا چاہیے۔ میں خود آپ کے سوال کےجواب کا بڑی بے تابی سے منتظر ہوں تاہم فی الحال اس سوال کا کوئی جواب نہیں، تاہم امید ہے کہ بہت جلداس کا جواب دینے کے قابل ہو ں گا۔
جہاں تک گالف کے دوران گفتگو کا معاملہ ہے تو اس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت کا موضوع زیر بحث رہا۔ انہوں نے شمالی کوریا پر بھی تھوڑی سی بات کی۔ وہ اس پر آج رات کے کھانے پر اور کل بھی مزید تفصیل سے گفتگو کریں گے ۔ وہ آج رات اکٹھے ایک مختصر ڈنر کریں گے۔
یقیناًان کی گفتگو کا اہم موضوع یہی رہا اور یہ دونوں آپس میں خاصی گفت و شنید کرتے ہیں تاریخ کے کسی بھی امریکی یا جاپانی رہنما کے مقابلے میں ان دونوں کے تعلق میں زیادہ قربت ہے اور امریکہ اور جاپان کی پالیسیوں میں بھی ماضی کے مقابلے میں اب کہیں زیادہ مطابقت ہے جو نہ صرف جزیرہ نما کوریا بلکہ خطہ ہندو الکاہل کے معاملات تک پھیلی ہوئی ہے۔
سوال:ان کی گفتگو میں کوئی (ناقابل سماعت) باہمی تجارت کا معاہدہ
انتظامیہ کے اعلی افسر:میرے پاس کہنے کے لیے اور کچھ نہیں، میں تفصیلات سے واقف نہیں لیکن اتنا جانتا ہوں کہ تجارت ہی موضوع بحث تھی(ناقابل سماعت)
سوال:آپ نے کہا بہت جلد، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسی دورے میں ؟
انتظامیہ کے اعلی افسر:میرے پاس آپ کے اس سوال کا جوا ب نہیں ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں