rss

صدر ٹرمپ کا جمہوریہ کوریا کی قومی اسمبلی سے خطاب قومی اسمبلی سیئول، جمہوریہ کوریا

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国), Malay Malay, Tagalog Tagalog, Tiếng Việt Tiếng Việt

وائٹ ہاؤس
دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
8 نومبر 2017
11:24 دن

    
    
    

صدر ٹرمپ: اسمبلی سپیکر چنگ، ایوان کے ممتاز ارکان، خواتین و حضرات، اس عظیم ایوان میں گفتگو اور امریکی عوام کی جانب سے آپ کے لوگوں سے بات کا غیرمعمولی موقع دینے پرشکریہ۔

آپ کے ملک میں مختصر قیام کے دوران میلانیا اور میں یہاں کے قدیم اور جدید عجائبات اور آپ کی جانب سے اپنے گرمجوش استقبال سے بے حد متاثر ہوئے ہیں۔

گزشتہ شب صدر اور مسز مون نے بلیو ہاؤس میں منعقدہ خوبصورت استقبالیے میں ناقابل یقین حد تک بہترین میزبانی کی۔ اس دوران ہمارے مابین فوجی تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک میں شفاف اور دوطرفہ تجارتی تعلقات میں اضافے پر مفید بات چیت ہوئی۔

اس پورے دورے میں امریکہ اور جمہوریہ کوریا میں طویل دوستی کی بنا ڈالنا ہمارے لیے بیک وقت خوشی اور اعزاز کی بات تھی۔

ہماری اقوام میں یہ اتحاد جنگ کی کٹھنائیوں میں تشکیل پایا اور تاریخی آزمائشوں میں مضبوط ہوا ہے۔ انچن میں فوجیں اترنے سے پورک چوپ ہل تک امریکی اور جنوبی کوریائی فوجی اکٹھے لڑتے رہے ہیں، انہوں نے اکٹھے قربانیاں دی ہیں اور اکٹھے فتح پائی۔

قریباً 67 سال قبل 1951 کے موسم بہار میں انہوں نے اس شہر پر دوبارہ قبضہ کیا جہاں آج ہم اس قدر فخریہ طور سے جمع ہوئے ہیں۔ یہ سال میں دوسرا موقع تھا کہ ہماری مشترکہ افواج نے اس دارالحکومت کو کمیونسٹوں سے واپس لینے کے لیے بہت سی جانیں گنوائیں۔

آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں یہ لوگ ڈھلوان پہاڑوں اور خونی جنگوں میں نبردآزما رہے اور شمال کی جانب وہ لکیر کھینچی جو آج زیراستبداد اور آزاد لوگوں کو علیحدہ کرتی ہے۔  امریکی اور کوریائی افواج قریباً سات دہائیوں سے اس لکیر پر اکھٹے موجود ہیں۔ (تالیاں)

پھر جنگ بندی کا وقت آیا، کوریا کی جنگ میں 36 ہزار سے زیادہ امریکیوں نے جان دی جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ بری طرح زخمی ہوئے۔ یہ لوگ ہیرو ہیں اور ہم ان کی قدر کرتے ہیں۔ ہم آپ کے لوگوں کی جانب سے آزادی کے لیے ادا کردہ ہولناک قیمت کی بھی قدر کرتے ہیں اور اسے یاد رکھتے ہیں۔ آپ نے اس مہیب جنگ میں لاکھوں بہادر فوجیوں اور لاتعداد معصوم شہریوں کو کھویا۔

اس عظیم شہر سیئول کا بیشتر حصہ کھنڈر بن گیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں ملک کا بڑا حصہ بری طرح تباہ ہو گیا۔ اس قوم کی معیشت برباد ہو گئی۔

تاہم ساری دنیا جانتی ہے کہ اگلی دو نسلوں کے عرصہ میں اس جزیرہ نما کے جنوبی حصے میں معجزہ رونما ہوا۔ جنوبی کوریا کے لوگوں نے گھر گھر اور شہر شہر اس ملک کو تعمیر کیا جو آج دنیا کی عظیم اقوام میں شامل ہو چکا ہے۔ میں آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں (تالیاں) زندگی کے ایک دورانیے سے بھی کم عرصہ میں جنوبی کوریا مکمل تباہی سے نکل کر کرہ ارض پر امیر ترین اقوام کی صف میں شامل ہو گیا۔

آج آپ کی معیشت 1960 کی نسبت 350 گنا زیادہ بڑی ہے۔ تجارت میں 1900 گنا اضافہ ہوا ہے۔ اوسط عمر 53 سال سے بڑھ کر 82 برس تک پہنچ چکی ہے۔ کوریا کی طرح، میرا انتخاب ٹھیک ایک سال قبل آج کے دن ہوا تھا چنانچہ میں آپ کے ساتھ اس کی خوشی مناتا ہوں (تالیاں) امریکہ بذات خود معجزاتی دور سے گزر رہا ہے۔ ہماری سٹاک مارکیٹ ریکارڈ بلندیوںکو چھو رہی ہے جبکہ بےروزگاری 17 سال میں کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ ہم داعش کو شکست دے رہے ہیں۔ ہم اپنی عدلیہ  بشمول سپریم کورٹ کو مضبوط سے مضبوط تر بنا رہے ہیں۔

اس وقت ایف 35 اور ایف 18 لڑاکا جیٹ جہازوں سے لدے دنیا کے تین سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز اس جزیرہ نما کے قرب و جوار میں موجود ہیں۔ مزید براں ہماری جوہری آبدوزیں بھی مناسب طور سے پوزیشن لیے ہوئے ہیں۔ میری انتظامیہ میں امریکہ اپنی فوج کی مکمل تعمیر نو کر رہا ہے اور جدید و عمدہ ترین فوجی سازوسامان کی خریداری پر کھربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ میں طاقت کے ذریعے امن کا خواہاں ہوں (تالیاں)

ہم جمہوریہ کوریا کی ایسی مدد کر رہے ہیں جو کبھی کسی ملک نے کسی کے لیے نہیں کی۔ میں جانتا ہوں کہ بے پایاں طور سے کامیاب قوم بننے والا جمہوریہ کوریا مستقبل میں طویل عرصہ تک امریکہ کا وفادار اتحادی رہے گا (تالیاں)

آپ کی کامیابی واقعتاً متاثر کن ہے۔ آپ لوگوں کی معاشی تبدیلی کا تعلق سیاسی تبدیلی سے ہے۔ آپ کے ملک کے فاخر، خودمختار اور آزاد لوگوں نے اپنے فیصلے خود کرنے کا حق مانگا تھا۔ آپ نے 1988 میں آزاد پارلیمانی انتخابات منعقد کرائے اور اسی سال پہلے اولمپکس کی میزبانی کی۔

اس سے فوری بعد آپ نے تیس سال سے زیادہ عرصے بعد اپنا پہلا سویلین صدر منتخب کیا۔ جب آپ کی جمہوریہ کو مالی بحران کا سامنا ہوا تو آپ کے لاکھوں لوگ اپنی انتہائی قیمتی چیزیں لے کر قطاروں میں کھڑے ہو گئے، آپ نے اپنی شادی کی انگوٹھیاں، وراثت میں ملنے والی اشیا اور قیمتی چیزیں اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے دے دیں۔ (تالیاں)

آپ کی دولت کا شمار رقم میں نہیں ہوتا، اس کا شمار ذہن اور روح کی کامیابیوں سے ہوتا ہے۔ گزشتہ متعدد دہائیوں میں آپ کے سائنسدانوں نے بہت سی شاندار اشیا بنائی ہیں۔ آپ نے ٹیکنالوجی کی حدود کو سعت دی ہے، معجزاتی طبی طریقہ علاج وضع کیے ہیں اور ہماری کائنات کے اسرار وا کرنے کے عمل میں رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

کوریا کے مصنفین نے اس برس قریباً 40 ہزار کتابیں لکھی ہیں۔ کوریا کے موسیقاروں نے دنیا بھر میں کنسرٹ ہال بھردیے۔ کوریا کے نوجوان طلبہ نے کسی بھی ملک سے زیادہ اونچی شرح سے گریجوایشن مکمل کی اور کوریا کے گالفرز کا شمار روئے زمین پر بہترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ (تالیاں)

درحقیقت ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس سال خواتین کی یو ایس اوپن بیڈمنسٹر نیوجرسی کے ٹرمپ نیشنل گالف کلب میں ہوئی جسے کورین کھلاڑی سنگ ہیون پارک نے جیتا۔ سب سے اچھے 10 کھلاڑیوں میں آٹھ کا تعلق کوریا سے تھا۔ اسی طرح سب سے بہتر چار گالفر، ایک دو تین چار ، پہلے چار کا تعلق کوریا سے تھا۔ مبارک (تالیاں) مبارک، یہ اہم بات ہے، واقعتاً اہم بات ہے۔

یہاں سیئول میں سکسٹی تھری بلڈنگ اور لوٹی ورلڈ ٹاور جیسے تعمیری عجائبات بے حد خوبصورت ہیں، یہ عمارتیں آسمان کی شان اور بہت سی ترقی پاتی صنعتوں میں کام کرنے والوں کا گھر ہیں۔

اب آپ کے شہری دنیا بھر میں بھوکوں کو کھلاتے، دہشت گردی کے خلاف لڑتے اور مسائل حل کرتے ہیں۔ چند ہی ماہ میں آپ لوگ دنیا کی میزبانی کریں گے اور 23ویں سرمائی اولمپکس کا شاندار انعقاد کرائیں گے۔ (تالیاں)

کوریا کے معجزے کی حدود ٹھیک وہیں تک ہیں جہاں 1953 میں آزاد اقوام کی افواج نے پیش قدمی کی تھی۔ 24 میل شمال کی جانب۔ یہیں اس کا اختتام ہوتا ہے۔ یہیں خوشحالی کا اختتام ہوتا ہے جہاں افسوسناک طور سے شمالی کوریا کی جیل شروع ہو جاتی ہے۔

شمالی کوریا میں کارکن طویل گھنٹوں تک ناقابل برداشت حالات میں کام کرتے ہیں اور انہیں قریباً کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ حال ہی میں پوری افرادی قوت کو مسلسل 70 دن کام کا حکم ملا۔ وہاں لوگ ایسے گھروں میں رہتے ہیں جہاں پانی اور نکاسی آب کا انتظام بھی نہیں ہے اور نصف سے بھی کم گھروں میں بجلی کی سہولت پائی جاتی ہے۔ والدین اپنے بچوں بچیوں کو جبری مشقت سے بچانے کے لیے اساتذہ کو رشوت دیتے ہیں۔ 1990 کی دہائی میں شمالی کوریا کے دس لاکھ سے زیادہ لوگ قحط میں ہلاک ہوئے اور آج بھی لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔

پانچ سال سے کم عمر بچوں میں قریباً 30 فیصد کو غذائی قلت کے باعث بڑھوتری کے مسائل کا سامنا ہے۔ 2012 اور 2013 میں حکومت نے اپنے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ملنے والی رقم کا نصف حصہ یادگاریں، مینار اور آمروں کے مجسمے بنانے پر اڑا ڈالا۔ اندازاً یہ رقم 200 ملین ڈالر بنتی ہے۔

شمالی کوریا کی معیشت کا بچا کھچا حصہ حکومت سے وفاداری کی بنیاد پر لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ظالم آمریت اپنے لوگوں کی قدر کرنے اور انہیں برابر حیثیت کا شہری تسلیم کرنے کے بجائے انہیں ریاست سے وفاداری کے من مانے معیارات پر تولتی ہے۔ جو لوگ سب سے زیادہ وفادار ٹھہرتے ہیں وہی بڑے شہر میں رہنے کے حق دار ہیں۔ جو کم وفادار قرار پاتے ہیں وہ بھوکوں مرتے ہیں۔ کسی شہری کی جانب سے چھوٹی سی غلطی جیسا کہ ردی اخبار میں چھپی آمر کی تصویر کو میلا کرنے پر اس کے پورے خاندان کو کئی دہائیوں کے لیے سماجی سطح پر نچلے درجوں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

اندازے کے مطابق شمالی کوریا کے ایک لاکھ باشندے مسلسل دلائی کیمپوں میں جبری مشقت، تشدد، بھوک، جنسی زیادتیوں  اور موت کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایک معلوم واقعے میں 9 سالہ بچے کو اس لیے 10 سال تک جیل بھیج دیا گیا کہ اس کے دادا پر غداری کا الزام تھا۔ ایک اور واقعے میں ایک بچے کو کم جانگ ان کی زندگی کے حوالے سے ایک بات بھولنے پر سکول میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

شمالی کوریا میں فوج غیرملکیوں کو اغوا کر کے انہیں اپنے جاسوسوں کو غیرملکی زبان سکھانے پر مجبور کرتی ہے۔

جنگ سے پہلے شمالی کوریا کا جو علاقہ عیسائیت کا گڑھ تھا وہاں اب عیسائی یا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو عبادت کرنے اور مذہبی کتب پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ جو شخص ایسا کرتا پایا جائے اسے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے حتٰی کہ سزائے موت بھی دے دی جاتی ہے۔

شمالی کوریا کی خواتین کو ایسے بچے ضائع کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جو نسلی طور پر کمتر قرار پاتے ہیں۔ اگر یہ بچے پیدا ہو جائیں تو انہیں فوراً ہلاک کر دیا جاتا ہے۔

ایک چینی باپ سے پیدا ہونے والے بچے کو ماں سے چھین لیا گیا۔ سرکاری اہلکاروں کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ بچہ ناخالص ہے اس لیے زندہ رہنے کا حق نہیں رکھتا۔ ایسے میں چین شمالی کوریا کی مدد کرنا اپنا فرض کیوں سمجھتا ہے؟

شمالی کوریا میں زندگی اس قدر ہولناک ہے کہ لوگ غلاموں کی حیثیت سے بیرون ملک جانے کے لیے سرکاری حکام کو رشوت دیتے ہیں۔ گویا ان کے لیے شمالی کوریا میں رہنے کے بجائے غلامانہ زندگی بسر کرنا کہیں زیادہ بہتر ہے۔

ملک سے فرار کی سزا موت ہے۔ شمالی کوریا سے بھاگ نکلنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ اب جب میں اپنی گزشتہ زندگی پر غور کرتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں انسان نہیں بلکہ جانور تھا۔ شمالی کوریا سے باہر آ کر مجھے اندازہ ہوا کہ زندگی کس شے کا نام ہے۔

چنانچہ اس جزیرہ نما میں ہم نے تاریخ کی لیبارٹری میں ایک المناک تجربے کے نتائج کا جائزہ لیا ہے۔ یہ دو کوریاؤں میں بسنے والے ایک جیسے  لوگوں کی داستان ہے۔ ایک کوریا میں لوگوں نے اپنی زندگی پر اختیار حاصل کیا اور ایسا مستقبل چنا جو آزادی، انصاف، تہذیب اور بے پایاں کامیابیوں سے عبارت تھا۔ دوسرے کوریا میں رہنماؤں نے اپنے لوگوں کو جبر، فسطائیت اور استبداد کا قیدی بنا لیا۔

1950 میں جب کوریا کی جنگ شروع ہوئی تو فی کس جی ڈی پی کے اعتبار سے ملک کے دونوں حصوں کے حالات ایک جیسے تھے۔ مگر 1990 تک جنوبی کوریا کی دولت شمالی کوریا سے 10 گنا بڑھ گئی۔ آج جنوبی کوریا کی معیشت شمالی کوریا سے 40 گنا زیادہ ہے۔ آپ درست سمت میں چلتے رہے ہیں۔

شمالی کوریا کی آمریت اپنے لوگوں کو اس بہیمانہ تضاد سے بے خبر رکھنے کے لیے ہر حربہ اختیار کرتی چلی آئی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ شمالی کوریا کی حکومت کو سچائی سے خطرہ ہے چنانچہ اس نے لوگوں کے بیرونی دنیا سے تمام رابطے منقطع کر رکھے ہیں۔ ناصرف آج میری تقریر بلکہ وہاں کے لوگ جنوبی کوریا کی زندگی کے حوالےسے عام باتیں بھی نہیں جانتے۔ مغربی اور جنوبی کوریائی موسیقی پر پابندی ہے۔ کسی کے پاس غیرملکی میڈیا کی موجودگی کا مطلب موت ہے۔ شہری ایک دوسرے کی جاسوسی کرتے ہیں، ان کے گھروں پر کسی بھی وقت چھاپہ پڑ سکتا ہے اور ان کے ہر عمل کی نگرانی ہوتی ہے۔ شمالی کوریا کے لوگوں پر ہمہ وقت ریاستی پروپیگنڈے کی  بھرمار رہتی ہے۔

شمالی کوریا ایک ایسا ملک ہے جسے کسی فرقے کی طرح چلایا جا رہا ہے۔ اس فوجی فرقے کی بنیادی ترین بات یہ ہے کہ اس میں حکمران کو ہی جزیرہ نما کوریا کے اس حصے اور غلام کورین لوگوں کا مختار کل سمجھا جاتا ہے۔

جنوبی کوریا کو جس قدر کامیابی ملتی ہے شمالی کوریا میں کم حکومت کی ساکھ اسی قدر خراب ہوتی ہے۔ چنانچہ پھلتا پھولتا جنوبی کوریا دراصل شمالی کوریا کی آمریت کے لیے خطرہ ہے۔ یہ شہر اور یہ اسمبلی اس امر کا زندہ ثبوت ہیں کہ آزاد اور خودمختار کوریا دنیا بھر کی اقوام میں مضبوط، خودمختار اور پرفخر انداز میں کھڑا ہو سکتا ہے (تالیاں)

یہاں اس قوم کی قوت کسی آمر کی جھوٹی عظمت سے وابستہ نہیں ہے۔ اس نے مضبوط اور عظیم عوام، جمہوریہ کوریا کے عوام کی حقیقی اور طاقتور عظمت سے جنم لیا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو زندگی کرنے، پھلنے پھولنے، عبادت، پیار محبت، تعمیر اور اپنی قسمت خود بنانے کے لیے آزاد ہیں۔

اس جمہوریہ میں لوگوں نے وہ کچھ کیا ہے جو کوئی آمر کبھی نہیں کر سکا۔ آپ نے امریکہ کی مدد سے اپنی اور اپنے مستقبل کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ آپ کا ایک خواب تھا، کوریا کا خواب، اور آپ نے اس خواب کو عظیم حقیقت میں بدل ڈالا۔

ہاہان کی صورت میں آپ کا معجزہ ہمارے سامنے ہے۔ ہم سیئول کے حیران کن افق سے اس خوبصورت جگہ کے میدانوں اور چوٹیوں تک کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ آپ نے یہ سب کچھ آزادانہ طور سے کیا، آپ نے یہ سب کچھ بخوشی کیا اور اپنے خوبصورت انداز میں کیا۔

یہ حقیقت، یہ خوبصورت جگہ، شمالی کوریا کی حکومت کے لیے بہت بڑی تشویش بلکہ خوف کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم حکومت بیرون ملک جنگ چاہتی ہے اور اندرون ملک مکمل ناکامی سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی خواہش مند ہے۔

نام نہاد جنگ بندی کے بعد اب تک امریکی اور جنوبی کوریائی لوگوں پر سینکڑوں حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں یو ایس ایس پوئبلو کے بہادر امریکی سپاہیوں کا اغوا اور تشدد، امریکی ہیلی کاپٹرز پر مسلسل حملے اور 1969 میں امریکی نگران بحری جہاز کو ڈبونا بھی شامل ہے جس میں31 امریکی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

شمالی کوریا کی حکومت نے جنوبی کوریا پر متعدد مہلک حملے کیے، اس کی اعلیٰ قیادت کو قتل کرنے کی کوشش کی، جنوبی کوریا کے بحری جہازوں پر حملے ہوئے اور اوٹو وارمبیئر پر تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں یہ عمدہ  نوجوان جان سے گیا۔

شمالی کوریا کی حکومت نے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کی تاکہ دنیا کو بلیک میل کر کے اپنے مقاصد حاصل کر سکے۔ ہم اسے ان مقاصد میں کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ جنوبی کوریا ایسا نہیں ہونے دے گا۔

شمالی کوریا نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے ہر یقین دہانی، معاہدے اور وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری اور بلسٹک میزائل پروگرام آگے بڑھایا۔ اس نے وہ تمام وعدے توڑ ڈالے۔ 1994 میں اپنے پلوٹونیم پروگرام کو منجمد کرنے کے وعدے کے بعد اس نے فوائد حاصل کیے اور پھر اچانک اپنی غیرقانونی جوہری سرگرمیاں شروع کر دیں۔

2005 میں سالہا سال کی سفارت کاری کے بعد آمریت بالاآخر اپنے جوہری پروگرام ترک کرنے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی جانب واپسی کے لیے رضامند ہو گئی۔ مگر ایسا کبھی نہ ہو سکا۔ بدترین بات یہ ہے کہ اس نے ہر اس ہتھیار کا تجربہ کیا جس کے بارے میں اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے ترک کر دے گی۔ 2009 میں امریکہ نے بات چیت کا ایک اور موقع دیا اور شمالی کوریا کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ شمالی کوریا نے اس کا جواب جنوبی کوریا کی بحریہ کا جہاز ڈبو کر دیا جس میں 46 ملاح ہلاک ہو گئے۔ آج شمالی کوریا جاپان کی خودمختار سرزمین اور دوسرے ہمسایوں کی فضا میں میزائل داغ رہا ہے، جوہری آلات کے تجربات کر رہا ے اور امریکہ کو دھمکانے کے لیے بین البراعظمی بلسٹک میزائلوں کو ترقی دے رہا ہے۔ شمالی کوریا کی حکومت نے ماضی میں امریکی احتیاط کو اس کی کمزوری پر محمول کیا۔ یہ بہت مہلک غلطی ہو گی۔ امریکہ کی موجودہ حکومت ماضی کی حکومتوں سے بہت مختلف ہے۔

آج میں صرف امریکہ اور جمہوریہ کوریا کے حوالے سے ہی بات نہیں کر رہا بلکہ تمام مہذب اقوام کی جانب سے شمالی کوریا کو کہتا ہوں کہ ہمارے بارے میں غلط اندازہ مت لگائیں۔ ہم اپنی مشترکہ سلامتی، مشترکہ خوشحالی اور مقدس آزادی کا تحفظ کریں گے۔

ہم نے اس جزیرہ نما، اس شاندار جزیرہ نما پر تہذیب کی مہین لکیر نہیں کھینچی تھی۔ تاہم یہاں یہ کھنچ گئی اور آج بھی باقی ہے۔ یہ امن اور جنگ کے درمیان لکیر ہے، یہ شائستگی اور بدکرداری، قانون و جبر اور امید و ناامیدی کے درمیان کھینچی گئی لکیر ہے۔ یہ لکیر تاریخ میں کئی مرتبہ بہت سی جگہوں پر کھینچی جا چکی ہے۔ آزاد اقوام نے ہمیشہ اس لکیر کو قائم رکھا ہے۔ ہم نے مشترکہ طور پر کمزور کی بھاری قیمت اور اس کے دفاع کے بھاری فوائد کی بابت سیکھا ہے۔

امریکی مسلح افواج کے مردوخواتین نے نازی ازم، سامراجیت، اشتراکیت اور دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے جانیں دی ہیں۔

امریکہ جنگ یا مخاصمت کا خواہاں نہیں ہے مگر ہم جنگ سے بھاگیں گے نہیں۔ تاریخ امریکہ کے عزم کا امتحان لینے والی احمقانہ حکومتوں کے تذکروں سے بھری پڑی ہے۔

جس کسی کو بھی امریکہ کی قوت یا عزم پر شبہ ہے تو اسے ہمارے ماضی کا جائزہ لینا چاہیے جس کے بعد یہ شبہ نہیں رہے گا۔ ہمیں اور ہمارے اتحادیوں کو بلیک میل کیا جا سکتا ہے نہ ہی حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ہم امریکی شہروں کو تباہی کے خطرات سے دوچار ہونے نہیں دیں گے۔ ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ ہم تاریخ کے بدترین مظالم کو یہاں اس زمین پر دوبارہ رونما ہونے نہیں دیں گے جس کی حفاظت کے لیے ہم اس قدر کڑے طور سے لڑے اور جانیں دیں (تالیاں)

اسی لیے میں یہاں آزاد اور پھلتے پھولتے کوریا کے مرکز میں دنیا کی امن پسند اقوام کے لیے پیغام لے کر آیا ہوں کہ اب حیلے بہانوں کا وقت گزر چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خود کو مضبوط بنایا جائے۔ اگر آپ امن چاہتے ہیں تو آپ کو ہمہ وقت مضبوط رہنا پڑے گا (تالیاں) دنیا جوہری تباہی سے ڈرانے والی سرکش ریاست کی دھمکیاں برداشت نہیں کرے گی۔

تمام ذمہ دار اقوام کو چاہیے کہ شمالی کوریا کی ظالمانہ حکومت کو تنہا کرنے کے لیے متحدہ ہو جائیں۔ آپ اس کی حمایت نہیں کر سکتے، آپ اسے ترسیل نہیں کر سکتے اور اسے قبول نہیں کر سکتے۔ ہم چین اور روس سمیت ہر ملک پر زور دیں گے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مکمل طور سے عملدرآمد کرائیں، شمالی کوریا کی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کم کریں اور تجارت و ٹیکنالوجی کے تمام تعلقات منقطع کر دیں۔

اس خطرے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا ہماری ذمہ داری اور فرض ہے کیونکہ ہم جتنا انتظار کریں گے خطرہ اسی قدر بڑھتا چلا جائے گا اور پھر ہمارے پاس بہت کم امکانات ہی باقی رہ جائیں گے (تالیاں) اس خطرے کو نظرانداز کرنے والے یا اس کی مدد کرنے والے ممالک کے ضمیر پر اس کا بوجھ ہو گا۔

میں شمالی کوریا کی آمریت کو براہ راست پیغام دینے کے لیے بھی اس جزیرہ نما میں آیا ہوں۔ آپ جو ہتھیار حاصل کرنے میں لگے ہیں یہ آپ کو تحفظ نہیں دیں گے۔ یہ آپ کی حکومت کو سنگین خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔ اس تاریک راہ پر ہر نیا قدم آپ کے لیے خطرات میں اضافہ کر رہا  ہے۔

شمالی کوریا وہ جنت نہیں ہے جس کا خواب آپ کے دادا نے دیکھا تھا۔ یہ ایک ایسی دوزخ ہے جہاں کسی کو بھی نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم خدا اور انسانوں کے خلاف آپ کے ہر جرم کے باوجود آپ پیشکش کے لیے تیار ہیں اور ہم ایسا ہی کریں گے۔ ہم کہیں بہتر مستقبل کے لیے راہ  پیش کریں گے۔ اس کا آغاز آپ کی جانب سے جارحیت کے خاتمے، بلسٹک میزائل پروگرام بند کرنے اور مکمل، قابل تصدیق اور مجموعی طور پر جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی صورت میں ہو گا (تالیاں)

آسمان سے اس جزہرہ نما کو دیکھا جائے تو جنوب روشنیوں سے دمکتا نظر آتا ہے جبکہ شمال میں تاریکی چھائی رہتی ہے۔ ہم روشن، خوشحال اور پرامن مستقبل کے خواہاں ہیں۔ مگر ہم شمالی کوریا کے لیے اس روشن راستے پر صرف اسی صورت بات چیت کریں گے جب اس کے رہنما دھمکیاں بند کر کے اپنا جوہری پروگرام روک لیں گے۔

شمالی کوریا کی شرانگیز حکومت صرف ایک حوالے سے ٹھیک ہے کہ کوریا کے لوگ پرعظمت تقدیر کے مالک ہیں مگر انہیں یہ علم نہیں کہ تقدیر کسے کہتے ہیں۔ کوریا کے لوگوں کی تقدیر میں جبر کی بیڑیاں نہیں بلکہ آزادی سے ترقی کرنا لکھا ہے۔ (تالیاں)

جنوبی کوریا کے لوگوں نے اس جزیرہ نما پر جو کچھ حاصل کیا وہ آپ کی قوم کی فتح سے کہیں آگے کی چیز ہے۔ یہ ہر اس آزاد قوم کی فتح ہے جو انسانی جذبے پر یقین رکھتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ جلد کسی دن شمال میں رہنے والے آپ کے تمام بھائی بہنیں زندگی سے پوری طرح لطف اندوز ہو سکیں گے۔

آپ کی جمہوریہ ہم سب کو بتاتی ہے کہ کیا کچھ ممکن ہے۔ چند ہی دہائیوں میں صرف کڑی محنت، ہمت اور اپنے عوام کی صلاحیتوں کی بدولت آپ نے جنگ سے تباہ حال اس ملک کو دولت، ثقافت اور جذبے سے معمور کر دیا۔ آپ نے ایسا گھر بنایا ہے جس میں تمام خاندان ترقی کر سکتے ہیں اور جہاں بچے اچھے مستقبل کی جانب بڑھتے اور خوش رہتے ہیں۔

یہ کوریا آزاد، پراعتماد اور امن سے محبت کرنے والی عظیم اقوام میں مضبوط اور نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ہم ایسی اقوام ہیں جو اپنے شہریوں کی عزت کرتی ہیں، اپنی آزادی کو عزیز جانتی ہیں، اپنی خودمختاری کا تحفط کرتی ہیں اور اپنی تقدیر کی خود مالک ہیں۔ ہم ہر شخص کے وقار کی توثیق کرتے ہیں اور ہر انسان کی مکمل صلاحیت کو قبول کرتے ہیں۔ ہم جابروں کے ظالمانہ ارادوں کے خلاف اپنے لوگوں کے اہم مفادات کا دفاع کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔

ہم باہم مل کر ایسے ایسے کوریا کا خواب دیکھتے ہیں جو آزاد ہو، ایسا جزیرہ نما جو محفو ہو اور خاندان دوبارہ ایک دوسرے سے آ ملیں۔ ہم شمالی اور جنوبی کوریا کو باہم جوڑنے والی سڑکوں کا خواب دیکھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اطراف سے کزن ایک دوسرے کو گلے لگائیں اور یہ ڈراؤنا جوہری خواب امن کے خوبصورت وعدے سے تبدیل ہو جائے۔

یہ دن آنے تک ہم مضبوطی اور مستعدی سے کھڑے ہیں۔ ہماری آنکھیں شمالی کوریا پر گڑی ہیں اور ہمارے دل اس دن کے لیے دعا کر رہے ہیں جب کوریا کے تمام لوگ آزادی سے رہ سکیں گے (تالیاں)

شکریہ (تالیاں) خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔ کدا کوریا کے عوام پر رحمت کرے۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ شکرہ (تالیاں)

اختتام

11:59 دن


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں