rss

پناہ گزینوں کے لیے انسانی امداد پر کانفرنس کال

English English, हिन्दी हिन्दी, العربية العربية

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
افریقی علاقائی میڈیا مرکز

 

 

آپریٹر: خواتین و حضرات، ساتھ دینے کا شکریہ اور پناہ گزینوں کے لیے انسانی امداد کی کانفرنس کال میں خوش آمدید۔ اس وقت تمام شرکا صرف سنیں گے اور بعدازاں سوال و جواب کا دور ہو گا۔ اسی وقت ہدایات جاری کی جائیں گی۔ اگر آپ کو آج کی کال کے دوران کوئی معاونت درکار ہو تو براہ مہربانی ٭ اور پھر 0 بٹن دبائیے۔ یاد دہانی کے طور پر بتاتے چلیں کہ آج کی کال ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ اب یہ کانفرنس آپ کی میزبان مس ہیلائنا وائٹ کے حوالے کی جا رہی ہے۔ جی بات کیجیے۔

نگران: صبح بخیر، مہتا اور للت جھا، آپ کو اپنے ساتھ پا کر خوشی ہوئی۔ لندن سے سہ پہر بخیر۔ یہ بریفنگ دفتر خارجہ کے لندن میں میڈیا مرکز کی جانب سے ہے۔ دنیا بھر سے فون پر موجود تمام شرکا کو خوش آمدید۔ آج جناب سائمن ہینشا ہمارے ساتھ ہیں جو آبادی، مہاجرین اور مہاجرت کے حوالےسے ہمارے قائم مقام معاون وزیر ہیں۔ قائم مقام معاون وزیر ہینشا خطے میں اپنے حالیہ دورے، راخائن ریاست کے بحران سے جنم لینے والی انسانی اور انسانی حقوق سے متعلق صورتحال اور بنگلہ دیش و خطے میں مہاجرین کے لیے امریکی معاونت پر بات چیت کریں گے۔ قائم مقام معاون وزیر ہینشا واشنگٹن ڈی سی سے ہمارے ساتھ بات کر رہے ہیں۔ ہم معاون وزیر کی بات سے آغاز کریں گے جس کے بعد آپ سے سوالات لیے جائیں گے۔ براہ مہربانی سوالات کی قطار میں شمولیت کے لیے ٭ اور 1 بٹن دبائیے۔ اگر آپ سپیکر فون استعمال کر رہے ہیں تو شاید آپ کو ٭1 میں شمولیت سے پہلے ہینڈ سیٹ اٹھانے کی ضرورت ہو گی۔ آج کی کال آن دی ریکارڈ ہے اور اس کا دورانیہ قریباً 30 منٹ ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی میں قائم مقام معاون وزیر سے کہوں گی کہ وہ بات کا آغاز کریں۔

سائمن ہینشا: بریفنگ میں شمولیت پر بے حد شکریہ۔ میں نے برما اور بنگلہ دیش میں ایک وفد کے دورے کی قیادت کی جس کا مقصد وہاں انسانی حالات اور ہماری معاونت کے اثرات کا براہ راست راست جائزہ لینا تھا۔ اس وفد میں دفتر خارجہ کے شعبہ جمہوریت، انسانی حقوق و محنت کے نائب معاون وزیر سکاٹ بسبی، جنوبی و وسطی ایشیائی امور سے متعلق قائم مقام نائب معاون وزیر ٹام وجڈا اور مشرقی ایشیا و الکاہل سے متعلق امور کے شعبے میں آفس ڈائریکٹر پیٹریشیا میہونی میرے ساتھ تھے۔ آخر میں ہم نے بنگلہ دیش میں کاکس بازار اور ڈھاکہ میں پناہ گزینوں کے کیمپوں کا دورہ کیا جس میں دفتر خارجہ کی ترجمان ہیدا نوئرٹ بھی ہمارے ساتھ تھیں۔

برما میں ہم نے سرکاری حکام اور روہنگیا و راخائن کمیونٹی کے مقامی رہنماؤں سے ملاقات کی اور برما میں اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کے کیمپ کا دورہ بھی کیا۔ ہم نے برما کی حکومت پر زور دیا کہ وہ قانون کی عملداری بحال کرنے، مقامی آبادیوں کے تحفظ، انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ ہم مہاجرین کی واپسی کے حکومتی منصوبوں کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ان منصوبوں پر ہرممکن حد تک فوری عملدرآمد کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ایسے محفوظ حالات پیدا کرنے پر زور دیتے ہیں جن میں تمام مہاجرین رضاکارانہ طور پر اپنے دیہات اور زمینوں کو واپس لوٹ سکیں۔

بعدازاں ہم نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا جہاں سرکاری حکام، عالمی اداروں اور غیرسرکاری تنظیموں سے ہماری ملاقات ہوئی۔ ہم نے کاکس بازار کے قریب مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ بھی کیا۔ ہم نے کیمپوں میں جو کچھ دیکھا وہ بے حد صدمہ انگیز تھا۔ پناہ گزینوں کا بحران بہت بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔ 25 اگست کے بعد چھ لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ حالات بے حد کڑے ہیں اور تا حد نگاہ لوگ عارضی خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ وہاں لوگ مصیبت کا شکار تھے۔ بہت سے پناہ گزینوں نے ہمیں روتے ہوئے بتایا کہ کیسے ان کے گھر جلائے گئے، ان کے عزیزوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے ہلاک کیا گیا اور علاقے سے بھاگنے کی کوشش میں ان پر گولیاں چلائی گئیں۔ اس المیے کے باوجود بہت سے لوگوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر انہیں تحفظ، سلامتی اور حقوق کی ضمانت دی جائے تو وہ اپنے ملک برما میں واپس جانا چاہیں گے۔

میں بنگلہ دیشی حکومت، عوام اور ہمارے امدادی شراکت داروں کی فیاضی اور عزم کی خاص طور پر ستائش کرنا چاہوں گا جو وہاں کام کر رہے ہیں۔ مگر حالات مزید اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ امریکہ پہلا ملک ہے جس نے اس بحران میں عالمی تنظیموں کے لیے فنڈ دیے اور ہمارے عزم کو دیکھتے ہوئے دوسرے عطیہ دہندگان نے بھی فیاضانہ امداد دی۔ تاہم  اس بابت مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ اس بحران سے متاثرہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بدستور پرعزم ہے اور خطے کے ممالک سمیت سبھی سے کہتا ہےکہ وہ اس کام میں ہمارا ساتھ دیں۔ اب مجھے آپ سے چند سوال لے کر خوشی ہو گی۔

آپریٹر: شکریہ، میں ایک مرتبہ پھر بتا دوں کہ فون کے ذریعے سوالات کے لیے ٭ اور پھر 1 بٹن دبائیے۔ آپ کو ایک ٹون سنائی دے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو سوالات کرنے والوں کی قطار میں شامل کر لیا گیا ہے۔ آپ # دبا کر قطار سے الگ ہو سکتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر یاد دلا دوں کہ سوالات کے لیے ٭ اور 1 دبائیں۔

نگران: کیا ہم جناب مہتا کے سوال سے آغاز کر سکتے ہیں، جی بات کیجیے۔ براہ مہربانی سوال سے پہلے اپنا اور اپنے ادارے کا نام بتا دیجیے۔ شکریہ۔

میڈیا: ہیلو، آپ کو صبح بخیر اور لندن والوں کو سہ پہر بخیر۔ میں مانک مہتا ہوں اور (غیرواضح) کی نمائندگی کرتا ہوں جو کہ کوالالمپور کی ایک خبر ایجنسی ہے۔ میں دیگر اداروں کے لیے بھی کام کرتا ہوں۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفری نکی ہیلی نے روہنگیا کے خلاف مظالم کی مذمت کرتے ہوئے برمی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ صورتحال پر قابو پانے کے اقدامات اٹھائے۔ تاہم مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ میانمار میں افواج کی مذمت تو کر رہی ہے مگر سویلین حکومت کے بارے میں اس نے کچھ زیادہ نہیں کہا۔ آپ اس پر کیا کہیں گے؟ شکریہ۔

سائمن ہینشا: فوج ہی سکیورٹی سے متعلق کارروائیوں اور راخائن ریاست میں مجموعی طور پر سکیورٹی معاملات کی ذمہ داری ہے۔ ہم ان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ سلامتی اور استحکام کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائیں اور خاص طور پر مسلح افواج کی جانب سے ڈھائے گئے مظالم کی تحقیقات کریں۔ ہم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مظالم کے سبھی ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

میڈیا: کیا سویلین حکومت اس حوالے سے کچھ کر سکتی ہے؟

سائمن ہینشا: ہم سویلین حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں اور اس سے بھی یہی اقدامات اٹھانے کو کہہ رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ برما کی صورتحال پیچیدہ ہے۔ وہاں جمہوریت کی جانب مراجعت ہوئی ہے، تبدیلی کا عمل جاری ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم سویلین اور عسکری دونوں حکام سے بات چیت کر رہے ہیں۔

نگران: للت، کیا آپ نے کوئی سوال کرنا ہے؟

میڈیا: بریفنگ کے لیے شکریہ۔ کیا آپ کو روہنگیا کے مسئلے پر برما اور بنگلہ دیش کی حکومتوں میں تناؤ کا احساس ہوا ہے؟ آپ دونوں ممالک میں تعلقات کو اب کیسے دیکھتے ہیں؟ دوسری بات یہ کہ کیا روہنگیا سے متعلق مسائل سے نمٹنے میں بنگلہ دیشی حکومت کے کردار کو تفصیل سے بیان کر سکتے ہیں؟

سائمن ہینشا: سوال کرنے کا شکریہ۔ میں دو ممالک کے باہمی تعلقات پر تبصرہ نہیں کروں گا اور صرف یہی کہوں گا کہ ہم ان کے مابین جاری بات چیت اور روہنگیا کا مسئلہ حل کرنے کے لیے مزید گفت و شنید کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس بات چیت کے نتیجے میں روہنگیا کی رضاکارانہ طور سے راخائن میں واپسی ہونی چاہیے، راخائن میں حالات کو محفوظ و مستحکم بنایا جانا چاہیے تاکہ واپسی کے خواہش مند لوگ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں اور راخائن ریاست میں سیاسی مفاہمت ہونی چاہیے۔

جہاں تک بنگلہ دیشی حکومت کے اقدامات کا تعلق ہے تو ہم اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی امداد پر ان کی بے حد ستائش اور قدر کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے دورے میں میری بہت سے وزرا سے بات چیت ہوئی۔ ہمارے وفد نے ان سے بات کی اور مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کی میزبانی پر ان کی تعریف کی۔

نگران: جناب مہتا، کیا آپ کوئی اور سوال بھی کرنا چاہیں گے؟

آپریٹر: اگر آپ نے دوسرا سوال کرنا ہے تو براہ مہربانی ٭ اور 1 دبا کر دوبارہ قطار میں شامل ہو جائیں۔

آپریٹر: ان کی لائن کھلی ہے۔

نگران: آپ بہت سے سوال کر سکتے ہیں۔

آپریٹر: ان کی لائن کھلی ہے۔

میڈیا: ہیلو؟

سائمن ہینشا: جی ہیلو۔

میڈیا: جی، کیا میں سوال کروں؟

سائمن ہینشا: جی کریں۔

میڈیا: ٹھیک ہے، کیا آپ نے بنگلہ دیش اور میانمار میں تناؤ کے خاتمے کے لیے آسیان گروپ کے ممالک کی جانب سے کردار ادا کیے جانے کی بابت سوچا ہے؟

سائمن ہینشا: میں سمجھتا ہوں کہ اس خطے کے ممالک کی جانب سے اس عمل کی حمایت اور دونوں ممالک سے بات چیت اور مہاجرین کی واپسی میں مدد دینا اہم بات ہو گی۔

میڈیا: ٹھیک ہے، مجھے یقین ہے کہ آپ نے یہاں نیویارک میں فلپائن کے وزیرخارجہ کی جانب سے جاری کردہ وہ ڈھیلا ڈھالا بیان دیکھا ہو گا جس سے صورتحال کی سنگینی کا براہ راست اظہار نہیں ہوتا۔ اسی حوالے سے ملائشیا نے تنقید کی ہے۔ کیا آسیان اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر کچھ کر سکتی ہے؟ کیا آپ امریکہ کی جانب سے اس حوالے سے کچھ دیکھنا چاہیں گے؟

سائمن ہینشا: میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالے وہ خود ہی کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش اور برما کے ساتھ آسیان ممالک کے تعلقات کی موجودگی میں ان کے لیے مفاہمتی عمل میں کردار ادا کرنا ممکن ہے اور آسیان ممالک بنگلہ دیش میں آنے والے مہاجرین کی واپسی کے عمل میں مدد دے سکتے ہیں۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ انہیں بنگلہ دیش میں موجود مہاجرین کی امداد جاری رکھنی چاہیے۔

میڈیا: مجھے مزید سوال نہیں پوچھنا۔ آپ کا بے حد شکریہ۔

سائمن ہینشا: بہت شکریہ۔

نگران: مانک، کیا آپ مزید سوالات کرنا چاہیں گے؟

میڈیا: جی، مجھے ایک اور سوال کرنا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ صدر ٹرمپ فلپائن اور ویت نام کے دورے پر ہیں جہاں وہ آسیان کے رہنماؤں سے ملیں گے۔ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ آیا صدر (غیرواضح) اس مسئلے پر آسیان کے رہنماؤں سے بات کریں گے اور یہ بھی کہ (غیرواضح) ان سے ملاقات کا موقع ملے گا؟

سائمن ہینشا: میں صدر کے معاملات پر بات نہیں کر سکتا۔ میں جانتا ہوں کہ انہیں اس صورتحال بارے اچھی طرح آگاہی دی گئی ہے اور وائٹ ہاؤس نے روہنگیا کے حالات پر بیان بھی جاری کیا ہے۔ میں یہ تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ وزیرخارجہ ٹلرسن 15 نومبر کو برما کا دورہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جہاں وہ اعلیٰ سطحی رہنماؤں اور حکام سے مل کر راخائن ریاست میں انسانی بحران سے نمٹنے کے آئندہ اقدامات پر بات چیت کریں گے۔

میڈیا: شکریہ

نگران: معاون وزیر ہینشا، اگر مزید سوالات نہ ہوں تو کیا آپ آخر میں کچھ کہنا چاہیں گے۔

سائمن ہینشا: نہیں، بے حد شکریہ۔

نگران: ٹھیک ہے، آپ کا بے حد شکریہ۔ آج کی کال ختم کی جاتی ہے۔ میں معاون وزیر سائمن ہینشا اور بریفنگ میں شریک ہونے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ اگر آپ کو آج کی کال کے حوالے سے کچھ پوچھنا ہو تو آپ لندن میں میڈیا مرکز سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ مہتا اور للت جھا کے پاس مجھ سے رابطے کی تفصیل موجود ہے۔ ہم اس بات چیت کو تحریری شکل دیں گے اور 24 گھنٹے یا اس سے کم وقت میں آپ تک پہنچائیں گے۔ شکریہ۔

سائمن ہینشا: شکریہ۔

آپریٹر: شکریہ، خواتین و حضرات، آج کی کانفرنس دن 11:30 کے بعد ڈیجیٹل ری پلے کے لیے دستیاب ہو گی جو 10 نومبر کو نصف شب چلے گی۔ آپ 1(800)475-670 ڈال کر کے اور 433331 کوڈ درج کر کے AT&Tٹیلی کانفرنس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے اس مقصد کے لیے (320) 365-3844 ڈائل کر سکتے ہیں۔ دوبارہ بتاتے چلیں کہ اس مقصد کے لیے 1 (800) 475-670 اور (320) 365-3844 کے ساتھ 433331 درج کریں۔ اس کے ساتھ ہی آج کی کانفرنس کا اختتام ہوتا ہے۔ بریفنگ میں شرکت اور AT&T کی ایگزیکٹو ٹیلی کانفرنس سروس استعمال کرنے کا شکریہ۔ اب آپ رابطہ منقطع کر سکتے ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں