rss

محکمہ دفاع کی پریس بریفنگ – جنرل جان ڈبلیو نکلسن جونیئر، کمانڈر ‘ریزولوٹ سپورٹ’ و امریکی افواج، افغانستان

English English

امریکی محکمہ دفاع

20  نومبر 2017

میزبان: جنرل جان ڈبلیو نکلسن جونیئر، کمانڈر ‘ریزولوٹ سپورٹ’ و امریکی افواج، افغانستان کابل سے بذریعہ ٹیلی کانفرنس

نوٹ: اس ترجمے میں سوال و جواب پر مشتمل بریفنگ سے جنرل نکلسن کے صرف افتتاحی کلمات ہی شامل ہیں۔ صورتحال کی مناسبت سے صرف افتتاحی حصے کا ہی ترجمہ کیا گیا ہے۔ عمومی حوالہ جات کے لیے ویڈیوز ‘ڈی وی آئی ڈی ایس’ پر دستیاب ہیں۔

جنرل جان ڈبلیو نکلسن: ہمارے ساتھ شامل ہونے پر سبھی کا شکریہ۔ میں کل ہمارے حملوں سے متعلق آج صبح صدر غنی کی جانب سے دیے گئے ایک بیان کا حوالہ بھی دینا چاہوں گا۔ میں ان کا اور افغان فوج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل یفتالی کا بھی مشکور ہوں جو یہاں کابل میں آج صبح میرے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں شریک ہوئے۔

مجھے آئندہ ہفتے بھی آپ سے بات کرنا ہے جس میں 2017 اور مستقبل میں 2018 کے معاملات زیربحث آئیں گے۔ شاید ان میں سے کچھ باتیں آج بھی ہوں گی۔ تاہم ابتدائی طور پر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہماری جانب سے کیے گئے حملوں پر بات کروں گا۔

جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی حکمت عملی کو ابھی 90 روز بھی نہیں ہوئے۔ اس حکمت عملی کے تحت مجھے نئے اختیارات حاصل ہوئے ہیں۔ یہ افغانستان میں امریکی افواج سے متعلق ہیں۔ یہ نئے اختیارات ہمیں میدان جنگ کے طول وعرض میں دشمن پر حملوں کے قابل بناتے ہیں اور ان کی بدولت ہم ان کے مالیاتی نیٹ ورکس اور مالی وسائل کے راستوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

قبل ازیں ہمارے پاس صرف یہی اختیارات تھے کہ ہمیں اسی جگہ کارروائی کرنا ہے جہاں افغان افواج موجود ہوں تاکہ جب وہ دفاعی حالت میں ہوں تو ہم حملہ کر سکیں اور جب وہ ۔۔۔ (ناقابل سماعت) تاہم دشمن کے مالیاتی ذرائع، معاونتی ڈھانچہ، تربیتی اڈے اور دراندازی کے راستوں جیسے اہداف ہماری رسائی سے باہر تھے اور ہمیں انہیں نشانہ بنانے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔

لہٰذا نئے اختیارات اس اعتبار سے اہم ہیں کہ ان کی بدولت ہمیں نئے انداز میں دشمن کو نشانہ بنانے کی اہلیت حاصل ہو گئی ہے۔ میں اپنی بات میں اسی پر زور دوں گا۔ کل ہونے والے حملے افغان افواج کی قیادت میں کیے گئے جن میں ہلمند میں منشیات بنانے کی جگہوں کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

تاہم شمالی ہلمند میں کیے گئے اس مخصوص حملے میں بنیادی طور پر نام نہاد طالبان امارت کو نشانہ بنایا گیا جہاں وہ کئی سال سے آزادانہ طور سے اپنی کارروائیاں کر رہے تھے اور ان کا منشیات کا بیشتر کاروبار بھی وہیں ہے۔

چنانچہ گزشتہ روز افغان فضائیہ نے ان حملوں کی قیادت کی جن میں اے-29 طیاروں کی مدد سے منشیات سازی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد گزشتہ رات امریکی فضائیہ نے بھی ان کی معاونت کی جس بی-52 اور دیگر طیاروں بشمول ایف-22 ریپٹر جہازوں نے حصہ لیا۔

اس کارروائی سے افغان خصوصی افواج کے حملوں کی تکمیل میں بھی مدد ملی۔ گزشتہ روز ناؤزاد میں طالبان کی جیل پر حملہ کیا گیا۔ ان حملوں سے وسطی ہلمند میں 215 کور کی جانب سے کیے جا رہے روایتی حملوں کی بھی تکمیل ہوئی۔

چنانچہ یہ کارروائی شمالی ہلمند میں فضائی حملوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ ایک بڑی اور جامع مہم نیز موسم سرما کے دوران ہلمند میں دشمن کے مالیاتی مراکز کے حلاف حملوں کا حصہ بھی ہے۔ ان حملوں کے لیے سیکڑوں گھنٹے تیاری کی گئی اور یہ جاری رہیں گے۔ ان حملوں کی مزید تفصیل میں جانے سے قبل میں یہ بتانا چاہوں گا کہ گزشتہ کئی برس سے خصوصاً گزشتہ تین سال سے یعنی ‘آئی ایس اے ایف’ کے اختتام کے بعد افغان سکیورٹی فورسز ہی طالبان، حقانی نیٹ ورک اور داعش کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

یہ کڑی لڑائی ثابت ہوئی ہے۔ گزشتہ برس ہم نے افغان افواج کی جانب سے جارحانہ کارروائیاں دیکھیں جن کی گزشتہ چند برس میں مثال نہیں ملتی۔ ایک موقع پر تمام چھ کورز ملک بھر میں جارحانہ کارروائیاں کر رہی تھیں۔ 2017 میں اکتوبر میں شہروں پر حملے ہوئے، بیک وقت چار شہروں کو ایک ہی وقت نشانہ بنایا گیا۔ ماضی کے مقابلے میں یہ بڑی تبدیلی ہے۔ خصوصی افواج، خصوصی پولیس اور فضائیہ کی استعداد میں اضافہ ہوا ہے اور یہ فورسز میدان جنگ میں اچھی کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ خاص طور پر کمانڈوز نے طالبان کے خلاف کبھی کسی لڑائی میں شکست نہیں کھائی اور ہم ان کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں۔ لہٰذا یہ افغان افواج کی جارحانہ صلاحیتوں میں ایک نمایاں اضافہ ہو گا۔

تاہم اس کی قیمت بھی ادا کرنا ہو گی۔ یہاں ایک لحظہ میں افغان سکیورٹی فورسز کی بہادری اور قربانیوں نیز ان کی حکومت کی کڑی محنت کا اعتراف بھی کروں گا۔ وہ لوگ بدعنوانی کے خلاف لڑ رہے ہیں، وہ بیرونی مداخلت اور دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں، وہ ناصرف اپنے ملک اور خطے بلکہ پوری دنیا کے فائدے کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔

چنانچہ افغانستان کے لیے ہمارا پیغام بالکل واضح ہے یعنی ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کے ساتھ ہی رہیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف ان کی جنگ دنیا کی اہم ترین جنگ ہے اور وہ ہماری جانب سے لڑ رہے ہیں۔ یہ ایسی جنگ ہے جو افغانوں کے ساتھ ساتھ ہماری سرزمین کی حفاظت اور ہمارے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے لڑی جا رہی ہے۔

افغان عوام سلامتی اور پائیدار امن کے حق دار ہیں۔ اس سے حاصل ہونے والا استحکام دہشت گردی اور مہاجرت کے خدشات کو بھی کم کر دے گا۔

میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کی گئی اپنی کارروائیوں کی جانب واپس آتا ہوں۔ یہ ہمارے نئے اختیارات کا اظہار ہیں۔ یہ دشمن کے خلاف ہر پہلو سے لڑنے کے ہمارے ارادے کا اظہار بھی ہیں۔ شمالی ہلمند میں حملوں اور وہاں منشیات کے گڑھ کو نشانہ بنا کر گویا ہم طالبان کو اس جگہ مار رہے ہیں جہاں اسے انہیں سب سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے اور یہ ان کی مالیات ہے۔

2017 کے حوالے سے میں آج یا اگلے ہفتے مزید بتاؤں گا کہ طالبان اپنا کوئی بھی جنگی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ وہ گزشتہ دو برس کی کوششوں میں کسی بھی شہر پر قبضہ نہیں کر سکے۔ افغان فوج کے زیرقیادت حملوں میں انہیں نمایاں جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہم طالبان قیادت میں دراڑیں اور اختلافات دیکھ رہے ہیں۔

وہ جانتے ہیں کہ ان کے لیے جیتنا ممکن نہیں۔ وہ افغان فوج کی بڑھتی صلاحیت کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے۔ ستمبر میں انہیں تدبیراتی شکست ہوئی اور انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ اب انہوں نے شہروں پر حملے بند کر دیے ہیں اور زمین پر قبضہ کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی کوشش ترک کر دی ہے۔ اس کے بجائے وہ خودکش حملوں اور اپنی اہمیت جتانے کے لیے زیادہ سے زیادہ جانی نقصان کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو گوریلا جنگ کی جانب پلٹنا دراصل دشمن کی پسپائی ہے۔

اب طالبان دولت بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ اب منشیات کی جنگ بن چکی ہے اور طالبان قیادت دولت کے لیے آپس میں لڑ رہی ہے اور اکثر اوقات یہ لڑائی قبائلی خطوط پر منقسم ہوتی ہے۔ یہ لوگ کئی انداز میں دولت بناتے ہیں۔ ان میں ایک منشیات کی سمگلنگ، دوسرا غیرقانونی کان کنی، تیسرا اغوا برائےتاوان اور قتل وغیرہ ہے۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ بڑی حد تک ایک جرائم پیشہ تنظیم بن چکے ہیں اور اسے منشیات کے لیے جنگ کہنا مناسب ہو گا۔

ہم دشمن سے کہتے ہیں کہ تم جنگ نہیں جیت سکتے۔ وقت آ گیا ہے کہ اپنے ہتھیار رکھ دیں اور مفاہمتی عمل کا حصہ بن جائیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو افغانوں کی جانب سے اپنے ملک پر کنٹرول میں اضافے کے ساتھ ہی وہ غیرمتعلق ہو جائیں گے یا مارے جائیں گے۔ چنانچہ طالبان کو انہی میں سے کوئی ایک راہ منتخب کرنا ہے۔

یہاں میں یہ بیان کروں گا کہ گزشتہ روز ‘اے این ڈی ایس ایف’ اور امریکی افواج نے کون سے حملے کیے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ہیروئین ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ صحت، معیشت اور سلامتی کے نکتہ نگاہ سے ایک اہم مسئلہ ہے۔ چنانچہ دہشت گردی کی طرح ہیروئین اور افیون ایک عالمگیر مسئلے کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ افغانستان میں یہ جرائم پیشہ لوگ ہی دنیا بھر میں افیون کی 85 فیصد تجارت کے ذمہ دار ہیں اور ان کے طالبان سے قریبی روابط ہیں یا یہ لوگ طالبان ہی کا حصہ ہیں۔

یہ ایک غیرقانونی معیشت ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندازے میں اس کی مالیت قریباً 60 ارب ڈالر ہے۔ ہمارے نفاذ قانون کے ماہرین نے مجھے بتایا کہ امریکہ میں 4 فیصد ہیروئین افغانستان سے آتی ہے اور متوقع طور پر اس شرح میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ افغانستان کی ہیروئین دنیا بھر کے ممالک میں جاتی ہے جن میں کینیڈا، یورپ، روس، ایران اور بلقان سے پرے تمام علاقے شامل ہیں۔

چنانچہ افیون کی صنعت سے طالبان کو کم از کم 200 ملین ڈالر حاصل ہوتے ہیں اور یہی رقم شورش کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ افغانستان میں زیادہ تر پوست انہی علاقوں میں کاشت ہوتی ہے جہاں طالبان کا زور ہے اور یہ ایسے علاقوں پر قبضے کی جنگ ہے۔

یہاں مجھے یہ کہنا ہے کہ ہم پوست کاشت کرنے والے کسانوں کو نشانہ نہیں بنا رہے۔ ان میں بیشتر یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ اس کہانی کا المناک حصہ ہے۔ جب کسان اپنے قرض ادا نہیں کر سکتے تو طالبان ان کے بیٹوں یا بیٹیوں کو رکھ لیتے ہیں یا پھر انہیں ہمیشہ مقروض رہنا پڑتا ہے جو کہ طالبان کی غلامی کی ایک شکل ہے۔ جب وہ طالبان کے زیرتسلط علاقوں میں رہتے ہیں تو انہیں وہاں رہنے کی قیمت افیون اگا کر چکانا پڑتی ہے۔

چنانچہ ان حملوں میں ایسی جگہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں پوست کو افیون، مارفین اور پھر ہیروئین میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم اس علاقے میں منشیات کی سمگلنگ میں ملوث تنظیموں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ خطے میں ایسی قریباً 20 بڑی تنظیمیں موجود ہیں۔ اے پی اے سی خطے میں 13 تنظیمیں افغانستان میں کام کرتی ہیں جن میں 7 کا تعلق ہلمند سے ہے۔ یہاں سے ان حملوں کے آغاز کی یہی وجہ ہے۔

چنانچہ مجھے یہ کہنا ہے کہ امریکہ اور افغانستان میں آج جس درجے کا باہمی اعتماد موجود ہے وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ہم ایسی مشترکہ کارروائیاں کرنے کے قابل ہو چکے ہیں اور اس میں ہمیں افغان حکومت کی مکمل حمایت بلکہ قیادت میسر ہے۔

لہٰذا صدر غنی کے محل کی جانب سے آج صبح ان حملوں کی بابت ایک بیان جاری کیا گیا۔ وہ ان حملوں سے پوری طرح آگاہ تھے اور اس کے لیے ان سے مشاورت بھی کی گئی تھی۔ درحقیقت یہ ایک مشترکہ کارروائی تھی جس میں افغانستان نے اپنی اہلیت کے مطابق کردار ادا کیا۔

چنانچہ اس سے دشمن پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے ۔ ہم میدان جنگ میں عسکری دباؤ جاری رکھیں گے۔ آنے والے برسوں میں اس دباؤ میں مزید اضافہ ہو گا جب خصوصی افواج اور فضائیہ میں ترقی کے باعث افغانستان کی اپنے دشمن پر حملوں کی صلاحیت مزید بڑھ چکی ہو گی۔ یہاں میں آئندہ ہفتے کی بابت کچھ مزید بات کروں گا۔

ہم عالمی برادری کی جانب سے سفارتی اور معاشی دباؤ بھی دیکھ رہے ہیں۔ خصوصاً یہ دباؤ ان بیرونی قوتوں پر ہے جو افغانستان میں شورش کے ذمہ داروں کی معاونت کرتی ہیں۔ بہت جلد افغانستان میں انتخابات سے دشمن پر سماجی دباؤ میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ تاہم اس کے لیے بااعتبار انتخابات ضروری ہیں اور یہ نہایت اہم معاملہ ہے۔

ایسے عسکری، سفارتی، معاشی اور سماجی دباؤ اس امر کا اشارہ ہیں کہ طالبان جیت نہیں سکتے۔ ایسے دباؤ کے نتیجے میں وہ مفاہمتی عمل میں شرکت پر مجبور ہو جائیں گے۔

یہاں میں قدرے توقف کر کے آپ کو گزشتہ رات کے حملوں کی بابت کچھ ویڈیوز دکھاؤں گا۔ میں پہلی ویڈیو کے بارے میں آپ کو مختصراً بتانے کے بعد مائیک سے کہوں گا کہ وہ اسے چلائیں۔

پہلی ویڈیو میں آپ امریکی بی-52 طیارے کا حملہ دیکھیں گے۔ یہ حملہ شمالی ہلمند میں طالبان کے منشیات ٹھکانے پر کیا گیا۔ اس میں ہم نے کم تباہی پھیلانے والے 500 پاؤنڈ کے چھ بم استعمال کیے۔ ہم نے یہ بم کیوں استعمال کیے؟ اس کا مقصد یہ تھا کہ بم سے ہونے والے مجموعی نقصان کی شرح کم از کم رکھی جائے اور ہم نے ایسا ہی کیا۔

چنانچہ اس طرز کے حملوں سے پہلے کئی گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے اور اس دوران ناصرف مخصوص اہداف کی نشاندہی ہوتی ہے بلکہ یہ یقین دہانی بھی حاصل کی جاتی ہے کہ حملے کے نتیجے میں مخصوص ہدف کے علاوہ کسی کو نقصان نہ پہنچے۔

مائیک، براہ مہربانی پہلی ویڈیو شروع کیجیے۔

عملہ: پہلی ویڈیو مکمل ہو گئی۔

جنرل نکلسن: ٹھیک ہے، شکریہ مائیک

دوسری ویڈیو ایف-22 ریپٹر کی جانب سے کیے گئے حملے سے متعلق ہے جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ وہ ہمارا انتہائی جدید ترین لڑاکا طیارہ ہے۔ اس حملے میں یہ طیارہ اس لیے استعمال کیا گیا کہ یہ بالکل درست طور سے ہدف کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس طیارے کے ذریعے 250 پاؤنڈ وزنی بم گرایا گیا جس سے ہدف کے علاوہ نقصان کا اندیشہ نہیں تھا۔

یہ ہدف بھی موسیٰ قلعہ میں طالبان کا منشیات ٹھکانہ تھا۔ میں آپ کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ جب آپ اس حملے پر نظر ڈالیں تو آپ کو اس مکان میں بہت سی تعمیرات دکھائی دیں گی۔ ہم نے ان میں دو کو تباہ کیا جبکہ تیسری کو چھوڑ دیا جس کا مقصد فالتو نقصان سے بچنا تھا۔

مائیک، براہ مہربانی یہ ویڈیو چلائیں۔

عملہ: جناب ویڈیو مکمل ہو گئی۔

جنرل نکلسن: طالبان کے ایک اور منشیات ٹھکانے پر بی-52 طیارے سے ایک اور حملہ بھی کیا گیا۔ یہ مخصوص ٹھکانہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ہدف تھا جسے گزشتہ رات نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے وقت وہاں 50 بیرل افیون تیار ہو رہی تھی۔ یقیناً اس منشیات کی مالیت لاکھوں ڈالر میں ہو گی۔ یہ بی-52 طیارے کا حملہ تھا جس میں 2000 پاؤنڈ کے متعدد بم استعمال ہوئے اور اس میں اس ٹھکانے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں