rss

برما کی ریاست راخائن کا بحران حل کرنے کی کوششیں وزیرخارجہ ٹلرسن کا بیان

English English, 中文 (中国) 中文 (中国), العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
22 نومبر 2017

 

 

میں نے 15 نومبر کو برما میں نیپیٹا کا دورہ کیا جہاں ریاستی قونصلر آنگ سان سوکی اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف سینئر جنرل من آنگ لینگ سے میری الگ الگ ملاقات ہوئی۔ میں نے برما میں کامیاب جمہوری تبدیلی کے حوالے سے امریکہ کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا جہاں منتخب حکومت اصلاحات کے نفاذ، قیام امن، قومی مفاہمت اور راخائن ریاست میں تباہ کن بحران حل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ بہت سے لوگوں کو درپیش ناقابل برداشت مصائب سے چھٹکارا دلانا ہماری پہلی ترجیح ہے۔ ہولناک صورتحال کے جواب میں گزشتہ ہفتے میں نے انسانی امداد کی مد میں اضافی 47 ملین ڈالر کا اعلان کیا تھا۔ یہ امداد راخائن ریاست کے بحران سے متاثرہ لوگوں کو دی جائے گی۔ یوں رواں سال اگست سے جاری اس بحران میں امریکی امداد کا مجموعی حجم 87 ملین ڈالر سے زیادہ ہو گیا  ہے۔

اس بحران پر برما کا ردعمل مزید جمہوری معاشرے کی جانب اس کی کامیاب تبدیلی کے تعین میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ میں نے نیپیٹا میں کہا تھا کسی جمہوریت کا بنیادی امتحان یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے انتہائی کمزور اور پسے ہوئے طبقات سے کیا سلوک کرتی ہے۔ روہنگیا اور دوسری اقلیتی آبادیاں ایسے ہی طبقات کی مثال ہیں۔ برما کی حکومت اور سکیورٹی فورسز کو اپنی سرحدوں کے اندر تمام لوگوں کے انسانی حقوق کا احترام  کرنا چاہیے اور جو ایسا کرنے میں ناکام رہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔

میں نے امریکہ کی جانب سے 25 اگست کو برما کی سکیورٹی فورسز پر اراکان روہنگیا سالویشن آرمی (اے آر ایس اے) کے حملوں کی زوردار مذمت کی۔ تاہم کوئی بھی اشتعال انگیزی ایسے ہولناک مظالم کا جواز نہیں بن سکتی جو وہاں رونما ہوئے۔ برمی فوج، سکیورٹی فورسز ار مقامی لوگوں کی جانب سے ایسی کارروائیوں کے نتیجے میں بے پایاں مصائب نے جنم لیا اور لاکھوں مرد، خواتین اور بچے برما میں اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ دستیاب حقائق کے محتاط اور مفصل تجزیے سے واضح ہو جاتا ہے کہ شمالی راخائن ریاست کی صورتحال روہنگیا کی نسلی صفائی کے مترادف ہے۔

ایسے مظالم کا ارتکاب کرنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ امریکہ احتساب کے عمل میں معاونت کے لیے مزید زمینی حقائق کا جائزہ لینے کی غرض سے بااعتبار اور غیرجانبدارانہ تحقیقات میں مدد دیتا رہے گا۔ ہم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں راخائن کے بحران پر تعمیری عمل کی حمایت کی ہے۔ امریکہ اپنے قانون بشمول ممکنہ مخصوص پابندیوں کے ذریعے بھی اس معاملے پر احتساب کرے گا۔

ہم تمام پناہ گزینوں اور اندرون ملک بے گھر لوگوں کی محفوظ اور رضاکارانہ واپسی کے حالات سازگار بنانے کی غرض سے برمی حکومت کے عزم کی حمایت اور برمی حکومت اور بنگلہ دیش میں مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے حالیہ بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ان حکومتی کوششوں کے لیے برمی فوج کی حمایت اہم ہے۔ یہ ایک مشکل اور پیچیدہ صورتحال ہے۔ اس ضمن میں پیش رفت کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو مل کر چلنا چاہیے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں