rss

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر کی جانب سے وزیرخارجہ کے دورہ یورپ کا جائزہ

العربية العربية, English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी

دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
یکم دسمبر 2017
پس منظر بریفنگ
بذریعہ ٹیلی کانفرنس

 

 

نگران: سہ پہر بخیر۔ ہمارے ساتھ شمولیت پر آپ سبھی کا شکریہ۔ ہمیں خوشی ہے کہ دفتر خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر یہاں موجود ہیں جو وزیرخارجہ کے آئندہ دورہ یورپ کے حوالے سے پس منظر میں بات چیت کریں گے۔ رپورٹنگ نہیں بلکہ حوالے کے لیے ہم انہیں (دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر) کہہ کر پکاریں گے۔ ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ ابتدا میں وہ وزیرخارجہ کے دورے پر بات کریں گے جس کے بعد آپ کے سوالات کے جواب دیں گے۔

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر: تعارف کے لیے شکریہ۔ اس سہ پہر یہاں آنے پر آپ سبھی کا بھی شکریہ۔ وزیرخارجہ عہدہ سنبھالنے کے بعد یورپ کا ساتواں دورہ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ آئندہ ہفتے بیلجیم، آسٹریا اور فرانس جائیں گے۔ ان کی روانگی سوموار کو ہو گی اور وہ جمعے کو واپس آئیں گے۔ اس دورے کا مقصد نیٹو اتحاد کے حوالے سے امریکی عزم کا اعادہ اور یورپ میں اپنے اتحادیوں اور شراکت کاروں کو یہ نمایاں پیغام دینا ہے کہ امریکہ ناصرف مغربی اداروں کی سلامتی بلکہ مزید وسیع تناظر میں مشترکہ مفادات اور اقدار کے طور پر بھی مغرب کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

ہم اس دورے میں بہت سے مقاصد حاصل کرنا چاہیں گے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں وزیر خارجہ نے چند روز قبل ولسن سنٹر میں کی گئی تقریر میں بھی ان پر اظہار خیال کیا تھا۔ انہوں نے یورپ کے حوالے سے امریکہ کی سوچ اور کچھ مخصوص موضوعات اور مفادات کا خاکہ بھی پیش کیا تھا جن پر دورہ یورپ کے دوران زیادہ تفصیل کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا۔

وزیر خارجہ اپنے دورے کا آغاز برسلز سے کریں گے جہاں وہ نیٹووزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔وہ یورپی یونین کے نمائندہ اعلیٰ موگرینی سے بھی ملاقات کریں گے۔وہ یورپی یونین کی خارجہ امور کونسل کے خصوصی اجلاس میں 28وزرائے خارجہ کے ہمراہ ظہرانے میں شرکت کریں گے اور بیلجیم کے  حکام سے ملاقات کریں گے جس میں دفاعی تعاون سمیت دوطرفہ وسیع تر ایجنڈے پر بات چیت ہو گی۔اس کے علاوہ افغان حکمت عملی اور داعش کے حوالے سے معاملات بھی زیربحث آئیں گے ۔برسلز میں وزیر خارجہ کی نیٹو کے سیکریٹری جنرل سٹولٹن برگ سے بھی ملاقات ہو گی جنہوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک وسیع تر ایجنڈے کے صدر کے طور پراتحاد کے لیے بہت کام کیا ہے ۔ وہ نیٹو کے دیگر عہدیداروں سے بھی ملیں گے اور جارجیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کریں گے جس میں جارجیا کی نیٹو کے ساتھ شراکت کو بہتر بنانے کے لیے اپنے تعاون کا یقین دلائیں گے۔ان تمام ملاقاتوں میں ان کا پیغام صدر ٹرمپ کے یورپ کے ساتھ مشترکہ ذمہ داری کے مرکزی پیغام کو تقویت دینا اور اس عالمی ایجنڈے کو فروغ دینا ہو گا جو ہم یورپی یونین، نیٹو اور اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ طور پر آگے بڑھا رہے ہیں جس میں شمالی کوریا، شام اور روس سے متعلق امور شامل ہیں۔

بعدازاں وزیر خارجہ 6دسمبر کو تین روزہ دورے پر ویانا چلے جائیں گے۔اس دورے کا مقصد’ او ایس سی ای ‘اجلاس میں شرکت ہے اور یہاں ان کا بنیادی موضوع ‘او ایس سی ای’ کے رکن ممالک میں انسانی حقوق اور اسلحے کے انضباط پر عملدرآمدکے حوالے سے بات چیت کرنا ہو گا۔اس کے علاوہ ویانااور شاید اگلے تمام مقامات پر بھی وزیر خارجہ یوکرائن کے مسئلے، یوکرائن کی خود مختاری اور علاقائی استحکام پر گفتگو کریں گے۔ویانا میں آسٹریا کے وزیر خارجہ کرز سے بھی ملاقات ہو گی جس میں افغانستان اور کوسوو کے امن مشنز میں کردار اداکرنے پر آسٹریا کا شکریہ ادا کیا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ آسٹریا سے مغربی بلقان اور دہشت گردی کے امور پر کام جاری رکھنے کی استدعا کی جائے گی۔ آخری میں وزیر خارجہ 8دسمبر کو پیرس جائیں گے اور اپنے فرانسیسی ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے کیونکہ فرانس کے ساتھ ہمارے تعلقات ایران، شام، لبنان، لیبیا، کوریا اورافریقی خطے ساحل جیسے عالمی معاملات کے حوالے سے بہت گہرے تعاون پر مبنی ہیں۔

وزیر خارجہ کے دورہ یورپ کا یہ مکمل ایجنڈا ہے۔ ہماری کچھ ملاقاتیں نیٹو فارمیٹ میں ہیں اورکچھ او ایس سی ای فارمیٹ میں ، ان دونوں طرز کی ملاقاتوں سے ہمیں نیٹو، یورپی یونین اور دیگر اتحادی ملکوں کے ساتھ زیادہ وسیع ترمعنوں میں کام کرنے کا موقع ملے گااور ان مواقع کی مدد سے ہم وزیر خارجہ کی گزشتہ ہفتے کی تقریر کے اہم نکات کو آگے بڑھا سکیں گے۔ اگر آپ کو وہ تقریر پڑھنے کا موقع نہیں ملا تو پھر آپ سے درخواست ہے کہ اسے ایک بار پڑھ لیجیے کیونکہ اسے پڑھنے کے بعد دورہ یورپ کے حوالے سے آپ کے ذہن میں پائے جانے والے کئی ابہام دور ہو جائیں گے۔ اب اگر آپ کوئی سوال پوچھنا چاہیں تو ہمیں خوشی ہو گی۔

نگران:تو ہم سوالات کے لیے تیار ہیں۔

آپریٹر:شکریہ، خواتین و حضرات۔ اگر آپ کوئی سوال پوچھنا چاہیں تو اپنے ٹیلی فون پر ٭ کا بٹن دبا کر 1دبائیں۔ آپ کو ایک آواز سنائی دے گی جو اس بات کا اشارہ ہو گا کہ  آپ کو سوالات کی قطار میں شامل کر لیا گیا ہے ۔ اگر آپ اس قطار سے باہر نکلنا چاہیں تو # دبا کر کسی بھی وقت علیحدہ ہو سکتے ہیں۔

ہمارا پہلا سوال ایسوسی ایٹڈ پریس کے جوش لیڈرمین کی طرف سے ہو گا۔ جی جناب سوال کیجیے۔

سوال: شکریہ۔ اب جبکہ امریکہ کے تمام بڑے اخبارات یہ خبر شائع کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ جناب ٹلرسن کو وزیرخارجہ کے عہدے سے ہٹا رہے ہیں تو پھر وہ تمام عالمی رہنما جن کے ساتھ وزیر خارجہ ملاقات کرنے جا رہے ہیں اس بات پر کیوں یقین کریں گے کہ وزیر خارجہ امریکی صدر کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ان کے پاس اس خارجہ پالیسی کو چلانے کا اختیار ہے جسے اب بھی امریکی خارجہ پالیسی سمجھا جاتا ہے جبکہ ان کے جانے میں صرف چند ہفتے باقی ہیں۔ شکریہ

دفتر خارجہ کے اعلی افسر:آپ کے سوال کا شکریہ جوش۔چونکہ وزیر خارجہ کا ذہن بالکل واضح ہے اس لیے اس قسم کے اندازے بالکل بے بنیاد ہیں۔ میں سمجھتا ہو ں کہ وزیر خارجہ کی توجہ اپنے کام پر مرکوز ہے۔ہمارے یورپ میں اپنے بہت سے اتحادیوں کے ساتھ معاملات جاری ہیں۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ذرائع ابلاغ میں اس قسم کی افواہیں پھیلی ہوں ۔اس سے پہلے بھی کبھی ایسی افواہوں نے وزیر خارجہ کواپنے قریبی اتحادیوں اور ساتھیوں کے ساتھ موثر طریقے سے کام کرنے سے نہیں روکا۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیر خارجہ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران بہت سے عالمی رہنماؤں بالخصوص یورپی رہنماؤں کے ساتھ قریبی روابط استوار کر لیے ہیں اور وہ اپنے کام کو جاری رکھنے اور اسے اچھے طریقے سے انجام دینے کے لیے پر عزم ہیں اور ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بہت محنت کر رہےہیں جبکہ  ہمارا بہت سے اہم معاملات بالخصوص سلامتی کے موضوع پر بہت وسیع ایجنڈا ہے۔اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت وزیر خارجہ اپنے بنیادی کام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں ، سو افواہیں جو بھی ہوں ہمیں سردست ان کی کوئی پروا نہیں۔

نگران:ہم اپنے اگلے سوال کے لیے تیار ہیں۔

آپریٹر:شکریہ، اگلاسوال اے ایف پی کے نمائندے ڈیوڈ کلارک کریں گے۔جی سوال کیجیے۔

سوال:شکریہ، جیسا کہ آپ نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا اور وزیر خارجہ نے بھی گزشتہ ہفتے اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ یورپ کے ساتھ تعلقات کا کچھ حصہ ہماری مشترکہ اقدار پر مشتمل ہے لیکن رواں ہفتے ڈچ اور برطانوی رہنماؤں نے صدر کی طرف سے برطانیہ کے انتہائی دائیں بازو کی تحریکوں کی حمایت کرنے اور ‘سب سے پہلے برطانیہ’ کی نسل پرست تحریک کے رہنما کے ٹویٹس کو ری ٹویٹ کرنے کے اقدام پر کڑی تنقید کی ہے ۔ برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ یہ طرز عمل ان کی اقدار کی نمائندگی نہیں کرتا تو کیا وزیر خارجہ کے دورے سے قبل اس قسم کا ماحول ان کی تعلقات مضبوط بنانے کی کوششوں میں رکاوٹ نہیں بنے گا؟

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر:سوال کا شکریہ ڈیوڈ۔ جہاں تک وزیر خارجہ کی گزشتہ ہفتے کی تقریر کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ انہوں نے واشگاف طور پر بتا دیا تھا کہ امریکہ ایک عالمی قوت کے طور پر اور اپنے یورپی اتحادیوں اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر کیا کرنا چاہتا ہے۔ اوقیانوس کے آر پار اتحاد بہت پرانا اور ایسی اقدار کا مجموعہ ہے جنہیں ہم نے بہت برسوں کی محنت کے بعد تشکیل دیا ہے۔ اس کی بنیاد نہ صرف بہت سارے تزویراتی مفادات بلکہ بہت سی مشترکہ اقدار بھی ہیں۔ میرا خیال ہے صدر ٹرمپ نے وارسا میں اپنے خطاب میں اس پر بہت احسن انداز میں روشنی ڈالی تھی۔ یہاں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہم اپنے یورپی اتحادیوں اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر جس ایجنڈے کو آگے بڑھارہے ہیں وہ خود ہی وضاحت کے لیے کافی ہے۔

چنانچہ اس دورے میں  توجہ ان اہم موضوعات پر مرکوز رہے گی جن میں ہماری مشترکہ اقدار بھی شامل ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم’ او ایس سی ای ‘میں شرکت کر رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ایک بہت اہم پیغام لے کر او ایس سی ای میں جائیں  گے جہاں نہ صرف سکیورٹی امورپر بات ہو گی بلکہ انسانی حقوق کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔ چنانچہ ہماری توجہ اب بھی اسی ایجنڈے پر مرکوز ہے جس میں تزویراتی مفادات کے ساتھ ساتھ ہماری مشترکہ اقدار بھی شامل ہیں۔وزیر خارجہ ٹلرسن ان اقدار کا بہت خوب ادراک رکھتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں آپ محسوس کریں گے کہ یہی ہماری خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ  رہے گا۔

آپریٹر:شکریہ ۔ہم  اگلا سوال بلوم برگ نیوز کے نک ویڈمز سے لیں گے۔جی بات کیجیے۔

سوال:شکریہ۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس دورے میں شام کے موضوع پر کس حد تک بات ہو گی۔ کیا وزیر خارجہ تنازع کے بعدشام کی تعمیر نو کی صورت حال پر بھی کوئی بات کریں گے۔اور کیا دورے میں کسی موقع پر روسی وزیر خارجہ سے ملاقات بھی متوقع ہے؟شکریہ

دفتر خارجہ کے اعلی افسر: شکریہ ۔شام کا مسئلہ بہت اہم ہے جس کا وزیر خارجہ کو پوری طرح ادراک ہے۔ آپ نے دیکھا بھی ہو گا کہ وہ حالیہ دنوں اس معاملے پر بہت زیادہ متحرک رہے ہیں۔ ان کا مرکزی نکتہ اپنے روسی حریف کو یہ باور کرانا رہا ہے کہ وہ دوبارہ جنیوا عمل کی طرف واپس جائیں اور جنگ بندی زون کے پھیلاؤ میں مدد دیں جس کے نتیجے میں بہت سی زندگیاں ضائع ہونے سے بچیں گی جن میں خاص طور پر بے گناہ شہری شامل ہیں۔ہماری یہی سوچ ہے اور ہمارے بہت سے اتحادیوں کے ساتھ بات چیت میں شام کا مسئلہ ہی اہم ہے جن میں ہمارے نیٹو اتحادی بھی شامل ہیں۔ اگرچہ شام نیٹو کا مسئلہ نہیں  ہے مگر ہم اس معاملے پر اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر تے ہیں جو ہمارے اتحاد کا حصہ ہیں، اس کے ساتھ ساتھ عرب ریاستیں بھی ہمارے اتحاد کا حصہ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ فرانسیسی اور برطانوی رہنماؤں کے ساتھ ہماری ملاقاتوں میں یہ مسئلہ ہمارا اہم موضوع ہو گا۔

ایک ملاقات وزیر خارجہ لاورو کے ساتھ بھی طے ہے۔ روس کے ساتھ ہماری اور بھی بہت سے معاملات میں گفت و شنید جاری ہے جن میں شمالی کوریا، یوکرائن اور یقیناًشام کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ اس لیے آپ کے سوال کا جواب ہاں میں ہے۔ شام کے معاملے پر بہت زیادہ گفتگو ہو گی اور اس حوالے سے امریکہ کی سوچ یہ ہے کہ شام میں جنگ کے خاتمے کو ایسے نتیجے کے ساتھ یقینی بنایا جائے جو شامی عوام کے مفاد میں ہو۔ ایک متحد شام جس میں اسد پس منظر میں ہوں۔ اس لیے ہم اپنے بہت سے اتحادیوں کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ بھی بہت مثبت مذاکرات جاری ہیں۔

آپریٹر:شکریہ ۔ یاد دہانی کے طور پر بتاتا چلوں کہ اگر آپ سوال پوچھنا چاہیں تو اپنے فون پر ٭ اور 1 دبائیں۔ ہمارا اگلا سوال واشنگٹن پوسٹ کے کارلو موریلو کریں گے۔ جی فرمائیے۔

سوال :آپ کا شکریہ۔ ویانا میں او ایس سی ای اجلاس میں کیا وزیر خارجہ سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ یوکرائن میں امن مشن پر بھی بات کریں گے اور کیا آپ ہمیں اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم کر سکتے ہیں۔ اور آپ نے یہ بھی کہا کہ نیٹو میں وہ یورپی رہنماؤں سے اپنا دفاع خود بہتر انداز سے کرنے کے حوالے سے بھی گفتگو کریں گے۔خیال رہے کہ صدر اور وزیر خارجہ پہلے بھی یہ پیغام متعدد بار دے چکے ہیں تو اب وہ اس موضوع پر مزید کیا گفتگو کریں گے۔ کیا ان کے پاس کہنے کے لیے کوئی نئی بات ہے یا مقصد اسی بات کا اعادہ ہے جو پہلے بھی درجنوں بار کی جا چکی ہے۔

دفتر خارجہ کے اعلی افسر:کارلو آپ کے سوال کا شکریہ۔ ہم اپنی بات’ او ایس سی ای’ سے شروع کرتے ہیں۔ یوکرائن ہمارے ایجنڈے کا اہم حصہ ہو گا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں او ایس سی ای کا یوکرائن میں بہت اہم کردار ہے۔خاص طور پر اس کا خصوصی نگراں مشن بہت اہم ہے۔ وزیر خارجہ کے دل میں بہادر فوجی مردو خواتین کے لیے بہت ہمدردی ہے جو اس خصوصی مشن میں حصہ لے رہے ہیں اور انہوں نے ان کے تحفظ اور سلامتی کے معاملے کو بار بار اٹھایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مقبوضہ مشرقی علاقوں میں یوکرائنی عوام کے تحفظ اور سلامتی کے معاملے کو بھی سامنے لائے ہیں جو روس کی مدداور پشت پناہی سے ہونے والی فوجی کارروائیوں کا ہدف بنتے رہتے ہیں۔

چنانچہ وزیر خارجہ اس ایجنڈا کے حوالے سے بہت حساس ہیں اور دورے کے دوران یوکرائن کے مسئلے کی بہت سی جہات پر بات ہو گی۔ ہم اپنے روسی ہم منصبوں کے ساتھ بھی بات کریں گے جس کی ہماری طرف سے قیادت کرٹ وولکر کرتے ہیں جنہوں نے حالیہ دنوں اپنے روسی ہم منصب سرکوف کے ساتھ بہت سے  مذاکرات کیے ہیں۔ روس کی طرف سے امن بحالی کے حوالے سے ایک تجویز سامنے آ چکی ہے اور اس حوالے سے تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ روسی ایک حد تک ایک قدم پیچھے ہٹے ہیں لیکن ہم ابھی اس کی ممکنہ گنجائش پر غور کر رہے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ امریکی سوچ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اس عمل سے جو بھی نتیجہ نکلے اس سے منسک معاہدے کو تقویت ملنی چاہیے۔اسے ایک ایسا نتیجہ ہونا چاہیے جو متنازع علاقے میں اقوام متحدہ کی فوج سے متعلق ہو نہ کہ ایسا نتیجہ جو صرف ان فوائد کو تقویت دے جو روسی افواج نے حاصل کیے ہیں۔ تو ہمارا مرکزی نکتہ یہی ہو گا۔ہم اس قسم کی سفارت کاری پر کام کر رہے ہیں اور تشدد سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی چیز یوکرائن اور روس کے بھی مفاد میں ہے۔

جہاں تک نیٹو ارکان کے اپنا اپنا بوجھ اٹھانے کی بات ہے تو آپ جانتے ہیں کہ یہ نا صرف ہماری انتظامیہ بلکہ ماضی کے امریکی صدور اور وزرائے خارجہ و دفاع کا بھی مشترکہ پیغام رہا ہے۔وزیر خارجہ اس نقطے کو دہراتے رہیں گے کہ نیٹو اسی صورت میں محفوظ تر اور مضبوط تر ہو سکتا ہے جب تمام اتحادی اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہوں اور اپنے دفاع کا بوجھ برداشت کر رہے ہوں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں آپ دیکھیں گے کہ امریکہ کا مقصدان کامیابیوں کو اجاگر کرنا ہے جو ہمارے اتحادیوں نے حاصل کی ہیں۔ ہم نے گزشتہ چند ماہ کے دوران اخراجات میں اضافے اور اضافی اخراجات کے وعدوں میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھی ہے۔

اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ بوجھ بانٹنے کا ایجنڈانہ صرف اس حوالے سے ہے کہ اتحادی دفاع پر خرچ کر رہے ہیں یا نہیں بلکہ اس حوالے سے بھی ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھ کر بہت حوصلہ ملتا ہے کہ ہمارے  یورپی اتحادی ‘ای ایف پی’ کی چھتری تلے بالٹک کے علاقے میں بہت کچھ کر رہے ہیں۔ شام میں سی ٹی مشنز اور سرگرمیاں واقعی بہت حوصلہ افزا ہیں اور ہم واقعی انہیں آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ ایسی گفتگو ہے جوکبھی  مکمل ہو سکتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ امریکی قیادت کا کچھ حصہ ہمیشہ اسے اپنے ایجنڈے پر رکھتا ہے تاہم یہاں اس کا مقصد یہ ہے کہ نیٹو اجلاس میں اپنے اتحادیوں پر زور دیا جائے کہ انہوں نے وارسا میں جو زبانی وعدے کیے انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے ٹھوس اقدامات بھی کیے جائیں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف مالی اخراجات کا نہیں بلکہ سیاسی عزم کا بھی ہے۔

آپریٹر:شکریہ ۔ میں ایک مرتبہ  پھر یاد کرا دوں کہ اگر آپ کوئی سوال پوچھنا چاہیں تو ٭ اور 1دبائیں۔ اب اگلا سوال آر آئی اے کے نمائندے دمتری زلودو ریو کریں گے۔ جی ، براہ مہربانی سوال کیجیے۔

سوال:شکریہ۔ میرا خیال ہے میرے سوال کا جواب آگیا ہے۔ شکریہ

آپریٹر:ٹھیک ہے ۔ شکریہ۔ اگلا سوال اے ایف پی کے ڈیو کلارک کی جانب سے ہے ۔ جی پوچھیے۔

سوال:نہیں، میرا سوال بھی کیرول نے پوچھ لیا تھا۔ شکریہ۔

آپریٹر:ٹھیک ہے۔ شکریہ ۔ اگلے سوال کے لیے میں بلوم برگ نیوز کے نک ویڈمز کو دعوت دیتا ہوں۔ جی بات کیجیے ۔

سوال:کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ لاورو سے ملاقات کہاں اور کس دن ہو گی؟

دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسر:میرا خیال ہے لاورو سے ملاقات ویانا میں ‘او ایس سی ای’ کے وزارتی اجلاس کے موقع پر ہو گی۔ اس کی تاریخ غالبا 7ًدسمبر ہو گی تاہم ان ملاقاتوں کی اصل تاریخیں تو اس وقت ہی سامنے آتی ہیں جب دورہ جاری ہو۔فی الوقت  میں آپ کو یہی بتا سکتا ہوں کہ یہ ملاقات 7دسمبر کو ‘او ایس سی ای ‘ کے وزارتی اجلاس کے موقع پر ہو گی۔

نگران:بہت شکریہ ۔ میرا خیال ہے کہ اب ہماری بات چیت کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ آپ سب یہاں تشریف لائے اور بہت اچھا وقت گزرا۔ آپ سب کا بہت شکریہ ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں