rss

وزیر دفاع جیمز میٹس کی دورہ پاکستان سے قبل صحافیوں سے غیررسمی بات چیت

English English

امریکی محکمہ دفاع
دفتر ترجمان

 

 

یہ سوال وجواب پر مشتمل بات چیت کے دور سے اخذ کردہ وزیردفاع کا افتتاحی بیان ہے

وزیر دفاع جیمز این میٹس: خواتین و حضرات سہ پہر بخیر۔ ہم اردن کے شہر عقابہ سے آ رہے ہیں جہاں انہوں نے ‘عقابہ کانفرنس’ کا انعقاد کیا تھا۔ اس عمل میں نائجیریا کے صدر نے شاہ کی معاونت کی۔ یہ مغربی افریقی ممالک اور متعلقین کا اکٹھ تھا، متعلقین سے میری مراد معاون ممالک، تنظیمیں اور عالمی ادارے ہیں۔

شاہ عبداللہ ہمیشہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں جو اسلام کے معتدل انداز کی نمائندگی کرتے ہیں اور دنیا کو مزید مستحکم بنانے کی کوششوں میں ناصرف خطے بلکہ پوری دنیا میں دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کے لیے تیار رہتے ہیں۔

یاد رہے کہ ہم معدنی چشمے اور وہاں ہوٹل کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے مصر، سعودی عرب اور اسرائیل چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ مگر ہم سبھی نے وہاں خوبصورت ماحول میں پرسکون انداز میں ملاقات کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ جب مل کر کام کرنے کے لیے سیاسی عزم و ارادہ موجود ہو گا تو مختلف مقامی ایجنڈوں اور مختلف النوع خارجہ پالیسیوں کے حامل ممالک یقیناً مل بیٹھیں گے۔

ایسی دنیا میں یہ مثال خاصی دلچسپ ہو گی جہاں ہم عموماً ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نہیں چلتے ۔ مگر یہاں ایسے رہنما بھی ہیں جو الگ تھلگ رہنے اور جھگڑا کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے مل کر کام کرنے پر رضامند ہیں۔ چنانچہ یہ اچھی بات ہے کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ آج کی کانفرنس میں یہ جائزہ لیا گیا کہ ہم متشدد انتہاپسند تنظیموں کی پرورش کرنے والے حالات کا کیسے خاتمہ کر سکتے ہیں یا ان سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔ اس موقع پر متعدد ممالک اور عالمی اداروں سے 44 اعلیٰ حکام اور فوجی افسر بھی شریک ہوئے، ان میں افریقی یونین، یورپی یونین اور دوسرے ممالک بشمول اٹلی، فرانس، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر شامل ہیں۔

رواں سال اس اجلاس میں مغربی افریقہ کی علاقائی سلامتی بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ یہ اجلاس ہر سال ہوتا ہے۔ حالیہ اجلاس کا مقصد مغربی افریقہ میں بوکوحرام، داعش اور القاعدہ کو شکست دینا اور اس سے لاحق خطرے میں کمی لانا ہے۔ میرے لیے مجموعی طور پر یہ ان کی باتیں سننے کا موقع تھا کیونکہ ہم جن علاقوں میں کام کر رہے ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ آپ کو مختلف علاقوں سے مختلف سبق سیکھنے کو ملیں گے۔ آپ کسی ایک علاقے میں کارروائی کا نمونہ دوسرے علاقے پر نہیں آزما سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر جگہ بگاڑ اور خطرے کا باعث بننے والے حالات کی نوعیت منفرد ہوتی ہے۔ کم از کم ایسا ہے کہ امکان اور شدت کے حوالے سے ان میں فرق پایا جاتا ہے اگرچہ اکثروبیشتر آپ کو ان میں بعض قدریں مشترک بھی دکھائی دیتی ہیں جیسا کہ معیشت ہے۔ معاشی مواقع کی کمی، تعلیمی مواقع کی کمی اور ایسی بہت سی چیزیں ہیں۔

چنانچہ سیکھی گئی باتوں سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جا سکتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ آپ کو یہ تجربات اپنے مقامی حالات کے مطابق عملی شکل میں ڈھالنا ہوں گے۔ اپنے فوجی تعلقات کے حوالے سے ہماری طریق کار یہ ہےکہ ہم دوسروں کے ساتھ اور ان کے ذریعے کام کرتے ہیں اور اس معاملے میں ہم افغانوں کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ آپ میں بعض نے اس حوالے سے سن رکھا ہو گا، میرا خیال ہے گزشتہ روز نائیجیریا میں بوکوحرام نے معصوم لوگوں کو قتل و زخمی کیا، یہ حقیقت اس امر کی یاددہانی کراتی ہے کہ ہمیں کیوں ایک دوسرے سے مل کر کام کرنا ہے، معلومات کا تبادلہ کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے افریقی ممالک کے ساتھ، ان کے ذریعے اور ان کے اداروں سے مل کر کام کرنا ہے جو اس علاقے سے واقف ہیں۔ یہ کثیرالملکی مشترکہ ٹاسک فورس اور جی 5 ساحل تنظیم ہے۔ ساحل میں پانچ ممالک شامل ہیں جو ایک دوسرے سے مل کر کام کر رہے ہیں۔

لہٰذا ہم ان کے ساتھ اور ان کے ذریعے کام کرتے رہیں گے۔ ہم اور شراکت دار دفاعی سفارت کاری اور ترقیاتی امداد کو باہم مربوط کرتے ہیں۔ ہم محدود طور سے صرف فوجی مدد پر انحصار نہیں کرتے۔ اس طرح معاملات کو درست نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے پوری حکومت کو ساتھ لینا ضروری ہے اور اس مخصوص خطے میں ہم ‘صحارا سے پار انسداد دہشت گردی کی شراکت ‘کے ساتھ کام کریں گے تاکہ متشدد انتہاپسندی کو روکا جا سکے۔ وہ لوگ بھی اس سے بخوبی آگاہ ہیں شام اور عراق میں داعش کی مادی خلافت کا خاتمہ ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے بعض کوششیں واضح  دکھائی دے رہی ہیں مثال کے طور پر داعش لیبیا کا رخ کر رہی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ جنوری میں ہم نے انہیں پیچھے دھکیل دیا تھا۔ چند ماہ قبل ہم نے ایک مرتبہ پھر یہی کچھ کیا۔ اس وقت بھی ہم یہی کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج جہاز کے ذریعے یہاں آنے سے پہلےمیں نے لیبیا کے وزیراعظم سے ملاقات کی۔

تو ہم یہاں کھڑے ہیں۔ آج صبح یہ اجلاس نہایت مفید رہا۔ اس دوران میرا بہت سے لوگوں سے رابطہ ہوا جن کے ساتھ میں کام کر سکتا ہوں اور یہ روابط محض افریقہ تک محدود نہیں ہیں۔ میں نے لاطینی امریکہ اور ایشیا والوں سے بھی رابطے کیے ہیں اور یقیناً ہم یورپی یونین اور نیٹو ممالک کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہے ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں