rss

وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن اور یورپی یونین کی نمائندہ اعلیٰ فیڈیریکا موگیرینی کا میڈیا کے لیے مشترکہ بیان برسلز، بیلجیم

Facebooktwittergoogle_plusmail
हिन्दी हिन्दी, English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
5 دسمبر 2017

 
 

نگران: (بات جاری) خواتین و حضرات، خوش آمدید۔ نمائندہ اعلیٰ نائب صدر فیڈیریکا موگیرینی اور امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے کچھ ہی دیر قبل دوطرفہ ملاقات کی ہے اور وہ اپنی بات چیت کے حوالے سے آپ کو آگاہ کرنے کے لیے میڈیا بیانات جاری کریں گے۔

نمائندہ اعلیٰ، آپ بات کیجیے۔

نمائندہ اعلیٰ موگیرینی: شکریہ ماجا، جناب ٹلرسن، بہار میں صدر ٹرمپ اور نائب صدر پنس کے عمدہ دوروں کے بعد یہاں یورپی یونین کے مرکز برسلز میں آپ کا خیرمقدم کرنا ہمارے لیے پرمسرت لمحہ ہے۔ دوستوں کو خوش آمدید کہنا اور اکٹھے کام کرنا خوشی کی بات ہے۔ کچھ ہی دیر قبل ہمارے مابین عمدہ تبادلہ خیال ہوا اور میڈیا سے بات چیت کے بعد یورپی یونین کے تمام ارکان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہماری گفت و شنید جاری رہے گی۔

آج ہماری ملاقات سے یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے باہم قریبی شراکت اور تعاون کی اہمیت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ میرے خیال میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ متعدد اہم نکات پر قریبی تعاون کے حوالے سے ہمارے مجموعی عزم کی تجدید کا موقع بھی ہے۔

باہمی ملاقات کے دوران ہم نے بنیادی طور پر چار مسائل پر بات کی۔ ان میں سب سے پہلے مشرق وسطیٰ میں امن عمل، یورپی یونین کی معاونت اور دوریاستی حل کے لیے بامعنی امن عمل کی بحالی شامل ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی کوششوں کو کمزور کرنے والے کسی بھی عمل سے بہرصورت اجتناب کرنا چاہیے۔ یروشلم کو مستقبل میں دونوں ریاستوں کا دارالحکومت بنانے کے معاملے کا بات چیت کے ذریعے حل نکالا جانا چاہیے  تاکہ فریقین کی خواہشات کی تکمیل ہو سکے۔

آئندہ سوموار کو یہاں برسلز میں وزیراعظم نیتن یاہو اور بعدازاں نئے سال کے آغاز پر صدر عباس کے ساتھ اس معاملے پر مزید بات چیت ہو گی جب امور خارجہ سے متعلق آئندہ اجلاسوں میں ہم ان دونوں کی الگ الگ میزبانی کریں گے۔ ہم دو ریاستی حل  بارے گفت و شنید کی بحالی کے امکانات آگے بڑھانے کے لیے اپنے عالمی اور علاقائی شراکت داروں بشمول چار فریقوں میں بات چیت بھی جاری رکھیں گے۔

ہم نے ایران خصوصاً اس کے ساتھ جوہری معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔ اس موقع پر میں نے یورپی یونین کے اس نکتہ نظر کا اعادہ کیا کہ ایرانی جوہری معاہدے پر عملدرآمد جاری رکھنا ناصرف یورپی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم تزویراتی ترجیح ہے بلکہ یہ علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے بھی اہم ہے۔ ہم نے اس حقیقت پر بات کی کہ بہت سے ایسے مسائل بھی ہیں جن پر ہمیں بات چیت کرنی چاہیے اور انہیں مل کر حل کرنا چاہیے تاہم یہ مسائل جوہری معاہدے سے متعلق نہیں ہیں اسی لیے ہم ان سے معاہدے سے ہٹ کر نمٹنا چاہتے ہیں۔ یورپی یونین اس بنیاد پر امریکہ کے ساتھ مل کر ان مسائل پر قریبی تعاون کے لیے تیار ہے کہ امریکہ جوہری معاہدے پر عملدرآمد جاری رکھے گا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ جوہری معاہدے کا تعلق خالصتاً 14 سال پرانے جوہری مسائل سے ہے اسی لیے اب پہلے سے جاری معاہدے کو توڑنے کے نتیجے میں ہم ایران سے دیگر مسائل پر بات چیت کے لیے بہتر پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نو مرتبہ اس معاہدے کی تصدیق کر چکی ہے۔

اس موقع پر زیربحث آنے والا تیسرا مسئلہ شام تھا اور ہم نے مشرق وسطیٰ کے وسیع تناظر میں اس پر بات چیت کی۔ دونوں فریق اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ جنیوا امن مذاکرات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کی بنیاد پر شام میں  مذکراتی سیاسی تبدیلی کے عمل کی جانب تیزتر پیش رفت ضروری ہے۔ میں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیرخارجہ ٹلرسن کو دوسری وزارتی کانفرنس کی تیاریوں کے بارے میں بتایا جسے ہم آئندہ برس بہار میں یہاں برسلز میں منعقد کریں گے۔ اس کانفرنس میں شام اور خطے کے مستقبل پر بات چیت ہو گی جس میں شامی عوام کی ناصرف امدادی نکتہ نظر سے معاونت بلکہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیرقیادت گفت و شنید میں سیاسی و معاشی امداد کی ضمانت بھی زیربحث آئے گی۔ اس موقع پر شامی بحران کے سیاسی حل کے حوالے سے ترغیبات بھی پیش کی جائیں گی۔

آخر میں مغربی بلقان پر بھی گفت و شنید ہوئی۔ ہم دونوں نے خطے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کی توثیق کی اور وہاں اصلاحات اور بات چیت کی حوصلہ افزائی کی۔

اب ہم اپنے ساتھیوں، یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ یہ بات چیت جاری رکھیں گے۔ مجھے توقع ہے کہ دیگر مسائل پر بھی بات ہو گی۔ ان میں بعض پہلے ہی ہماری بات چیت کا موضوع تھے جن میں جزیرہ نما کوریا کی صورتحال، یوکرائن میں امن و استحکام کے ضمن میں معاونت اور اس کی زمینی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہمارا تعاون اور مشرق وسطیٰ یا لیبیا کی تازہ ترین صورتحال شامل ہیں۔

مجھے توقع ہے کہ ہم 28 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ یورپی یونین کی حیثیت سے عالمی برادری کے ساتھ تعاون پر بھی گفتگو کریں گے، جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں یورپ آزادانہ بین الاقوامی تجارت، اقوام متحدہ کے نظام اور قوانین کی بنیاد پر عالمی نظام کا مضبوط اور قابل اعتبار حامی ہے۔ شکریہ، یہاں آنے اور عمدہ تبادلہ خیال پر آپ کا ایک مرتبہ پھر شکریہ۔

نگران: وزیر خارجہ ٹلرسن۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: آپ کا بے حد شکریہ۔ برسلز میں دوبارہ آمد واقعتاً خوشی کی بات ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ابھی کچھ دیر پہلے نمائندہ اعلیٰ اور میرے درمیان ہونے والی ملاقات جیسے مواقع یورپی اتحاد کے حوالے سے امریکہ کے مضبوط عزم اور سلامتی کے ضمن میں ہمارے مشترکہ مقاصد بارے یورپی اتحاد کے اہم کردار کا اظہار ہیں۔ امریکہ اور یورپی یونین کے مابین دیرپا شراکت قائم ہے۔ اس شراکت کی بنیاد ہماری مشترکہ اقدار اور بحراوقیانوس کے آر پار سلامتی و خوشحالی کے حوالے سے ہمارے مشترکہ مقاصد پر ہے اور ہم اس حوالے سے اپنے عزم پر قائم ہیں۔

میں سمجھتا ہوں جیسا کہ نمائندہ اعلیٰ نے بیان کیا آج ہماری ملاقات کے دوران متعدد اہم امور پر بات چیت ہوئی اور تبادلہ خیال عمل میں آیا۔ خاص طور پر شمالی کوریا کے معاملے پر ہم اپنے یورپی اتحادیوں کے پختہ عزم کی ستائش کرتے ہیں جنہوں نے شمالی کوریا کی حکومت کو پیغام بھیجا ہے کہ ہمیں جوہری ہتھیاروں کا پروگرام قبول نہیں ہے اور ہم جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ معاشی دباؤ اس وقت تک قائم رہے گا جب تک شمالی کوریا اس راہ سے واپس نہیں آ جاتا۔

داعش کو شکست دینے کے حوالے سے ہمارے مشترکہ مقاصد اہم ہیں مگر یہ محض عراق اور شام میں داعش کے خاتمے کی بات نہیں بلکہ اسے پوری دنیا میں شکست سے دوچار کرنے کا معاملہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں دہشت گردی کو سر اٹھاتے ہی کچلنے کے لیے اپنی بات چیت جاری رکھنی ہے اور یقیناً ہم داعش کی خلافت اور عراق اور شام میں اس کی جانب سے روا رکھی گئی دہشت کے اثرات بھی دیکھ رہے ہیں جس کا اب خاتمہ ہو رہا ہے۔

جیسا کہ نمائندہ اعلیٰ نے بیان کیا، ہم نے ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنی مشترکہ کوششوں پر بھی بات چیت کی جن کا مقصد ایران کو اس معاہدے پر مکمل طور سے عملدرآمد پر مجبور کرنا اور اس معاہدے کا مکمل اطلاق یقینی بنانا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی زیربحث آئی کہ ایران خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کر رہا ہے۔ یمن کی جانب سے بلسٹک میزائل داغا جانا اس کا بین ثبوت ہے جس کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ اس کے پیچھے ایران تھا جو حوثی باغیوں کی مدد کر رہا ہے اور یمن میں عدم استحکام کا ذمہ دار ہے۔ ہم شام میں ملیشیا کو ہتھیاروں کی برآمد کے نتیجے میں جنم لینے والے عدم استحکام اور دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کی معاونت سے بھی آگاہ ہیں۔ ایران کے حوالے سے یہ مسائل اور اس کی سرگرمیاں نظرانداز نہیں کی جا سکتیں اور ان سے پہلو تہی ممکن نہیں ہے۔ ہم یہ امر یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران سمجھ جائے  کہ یہ ہمارے لیے کسی طور قابل قبول نہیں ہے اور ہم اس سلسلے میں بھی یورپی یونین کے ساتھ مل کر کام کے منتظر ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہماری بہت سی مشترک اقدار کے لیے خطرہ ہے۔

نیٹو کے رکن کی حیثیت سے امریکہ گزشتہ برس مشترکہ اعلامیے پر دستخط کے بعد نیٹو اور یورپی یونین میں بڑھتے تعاون کو دیکھ کر بے حد خوشی محسوس کرتا ہے اور یقیناً آج نیٹو کے اجلاسوں میں ہمارے پاس مزید گفت و شنید کا موقع بھی ہو گا۔ ہم جانتے ہیں کہ جب اتحادی اور شراکت کار اپنا اپنا بوجھ اٹھائیں گے تو ہماری سلامتی مضبوط تر ہو جائے گی۔ اسی لیے ہم دوسروں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ مشترکہ مقصد اور سبھی کے فائدے کے لیے نیٹو میں اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں۔

ہمارے یورپی اتحادی شام میں امن عمل کے بھی ثابت قدم حامی ہیں۔ جیسا کہ نمائندہ اعلیٰ نے ابھی تصدیق کی ہے ہم اقوام متحدہ کی قرارداد 2254 پر مکمل عملدرآمد کے حامی ہیں۔ داعش کو شکست دینے کی مہم میں کامیابی کے نتیجے میں شام کو اس قرارداد کے تحت مفاہمتی عمل کی جانب بڑھانے کی نمایاں کوشش جاری ہے۔ ہمیں اقوام متحدہ کے نمائندے سٹیفن ڈی مسٹورا کے زیرقیادت جنیوا میں بات چیت کی بحالی پر خوشی ہے اور ہم ہر ممکن طور سے ان مذاکرات میں معاونت کریں گے تاکہ تمام فریقین کو ایک میز پر بٹھا کر شام کے نئے مستقبل کا خاکہ ترتیب دیا جائے تاکہ شامی عوام کو فائدہ پہنچے۔

کسی بھی اچھے تعلق کی طرح یہ رشتہ بھی بہت سی توجہ چاہتا ہے اور میں جانتا ہوں کہ نمائندہ اعلیٰ اس تعلق کے حوالے سے بے حد پرعزم ہیں۔ ہر سطح پر امریکہ اور امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت کے ضمن میں ان کی انتھک کوششیں بے حد اہم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں یہاں موجود ہوں اور ان کی جانب سے دیے گئے وقت اور اہم تبادلہ خیال پر میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ابھی ہمارے سامنے مکمل ایجنڈا موجود ہے اور یہ بات چیت دن بھر جاری رہے گی۔ آپ کا شکریہ۔

نگران: بہت شکریہ، اس کے ساتھ ہی پریس کانفرنس اختتام کو پہنچتی ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
ای میل کے ذریعے تازہ معلومات حاصل کریں
تازہ اطلاعات یا اپنی منتخب کردہ ترجیحات تک رسائی کے لیے مہربانی کر کے ذیل میں اپنی رابطہ معلومات درج کریں