rss

صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ

Facebooktwittergoogle_plusmail
Français Français, English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
6 دسمبر 2017
وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کا بیان

 

 

صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ اس حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے کہ یروشلم میں اسرائیلی مقننہ، سپریم کورٹ، صدارتی دفتر اور وزیراعظم کا دفتر ہے۔

صدر کے اس فیصلے سے قبل بہت سے دوستوں، شراکت داروں اور اتحادیوں سے پیشگی مشاورت کی گئی تھی۔ بالاآخر ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پائیدار امن کے لیے ایک موقع موجود ہے۔

جیسا کہ صدر نے آج کہا ہے ‘امن ان لوگوں کی دسترس میں ہوتا ہے جو اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں’

صدر نے آج یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جیسا کہ کانگریس نے 1995 میں یروشلم کے سفارت خانے سے متعلق قانون میں زور دیا اور اس وقت کے بعد باقاعدگی سے اس کی توثیق کرتی چلی آئی ہے۔

دفتر خارجہ امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کی تیاریاں شروع کر کے اس فیصلے پر عملدرآمد کا فوری آغاز کرے گا۔ امریکیوں کا تحفظ دفتر خارجہ کی اعلیٰ ترین ترجیح ہے اور ہم نے دیگر وفاقی اداروں کے اتفاق سے متاثرہ علاقوں میں امریکیوں کی سلامتی کے تحفظ کے لیے موثر سکیورٹی منصوبوں پر عملدرآمد کیا ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں