rss

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کا اسرائیلی ریاست کے دارالحکومت کی حیثیت سے یروشلم کے بارے میں اعلان

English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国)

وائٹ ہاؤس
پریس سیکرٹری کا دفتر
واشنگٹن، ڈی سی
6 دسمبر 2016

 

 

"میرا آج کا اعلان اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعے کے بارے میں ایک نئی سوچ کے آغاز غماض ہے۔”

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ

یروشلم کو تسلیم کرتے ہوئے: صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ، یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کی حیثیت سے تسلیم کرنے کا اپنا وعدہ ایفا کر رہے ہیں اور انہوں نے وزارت خارجہ کو اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  • آج، 6 دسمبر 2017 کو صدر ٹرمپ نے یہودی قوم کے قدیم دارالحکومت، یروشلم کو اسرائیلی ریاست کے دارالحکومت کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔
  • یہ قدم اٹھا کر، صدر ٹرمپ نے اپنے اور بہت سے سابقہ صدارتی امیدواروں کے ایک بڑے انتخابی وعدے کو پورا کیا ہے۔
  • ٹرمپ انتظامیہ میں صدر کے اس اقدام کی حمایت میں مکمل ربط پایا جاتا ہے اور [انتظامیہ نے] واضح طور پر کانگریس اور بین الاقوامی شراکتداروں کے ساتھ ملکر کام کیا ہے۔
  • یروشلم کے تسلیم کے قانون مجریہ 1995 میں بیان کی گئی حمایت سمیت، صدر ٹرمپ کے اقدام کو کانگریس میں مکمل، دوطرفہ حمایت حاصل ہے۔ محض چھ ماہ قبل متفقہ ووٹ کے ذریعے سینیٹ نے اس قانون کا اعادہ کیا تھا۔
  • صدر ٹرمپ نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کرے۔
  • خطے میں موجود ہمارے شہریوں اور اثاثوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے وزارتیں اور ایجنسیاں تحفظ کے ایک ٹھوس منصوبے کو عملی شکل دے چکی ہیں۔

یروشلم کی حیثیت: صدر ٹرمپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یروشلم کی حاکمیت کی مخصوص حدیں انتہائی حساس ہیں اور وہ حتمی حیثیت کے مذاکرات کے تابع ہیں۔

  • صدر ٹرمپ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یروشلم کی حیثیت ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے مگر اُن کا یہ خیال نہیں ہے کہ امن کے عمل کو اس سادہ سچائی کو نظرانداز کرنے سے کوئی تقویت ملتی ہے کہ یروشلم اسرائیلی مقننہ، سپریم کورٹ، صدر، اور وزیراعظم کے دفاتر کا جائے مقام ہے۔
  • صدر ٹرمپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یروشلم میں اسرائیلی حاکمیت کی مخصوص حدیں فریقین کے درمیان حتمی حیثیت کے بارے میں مذاکرات کے تابع ہیں۔
  • صدر ٹرمپ اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ امریکہ بیت المقدس جو حرم الشریف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے حالات کو جوں کا توں رکھنے کی حمایت کرتا ہے۔

امن کے عمل کے لیے پُرعزم: صدر ٹرمپ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے ایک پائیدار سمجھوتے کے حصول کے لیے پُرعزم ہیں۔

  • صدر ٹرمپ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے ایک پائیدار سمجھوتے کے حصول کے لیے بدستور پُرعزم ہیں اور اس بارے میں پُرامید ہیں کہ امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔
  • گزشتہ دو دہائیوں کے دوران یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے میں تاخیر نے امن حاصل کرنے میں کوئی مدد نہیں کی۔
  • صدر ٹرمپ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعے کے دو ریاستی حل کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ دونوں فریق متفق ہوں۔

یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں