rss

یروشلم پر صدر ٹرمپ کا بیان

Français Français, English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国)

وائٹ ہاؤس
پریس سیکرٹری کا دفتر
واشنگٹن، ڈی سی
6 دسمبر 2016
سفارتی استقبالیے کا کمرہ
ای ایس ٹی وقت کے مطابق: دوپہر ایک بجکر سات منٹ

 

 

صدر: شکریہ۔ جب میں نے اپنا عہدہ سنبھالا تھا تو میں نے دنیا کے چیلنجوں کو کھلی آنکھوں اورایک بالکل نئی سوچ سے دیکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ ہم ناکام مفروضات پر چلتے ہوئے اور ماضی کی ناکام حکمت عملیوں کو دہراتے ہوئے اپنے مسائل حل نہیں کرسکتے۔ پرانے چیلنج نئی سوچوں کا تقاضہ کرتے ہیں۔

میرا آج کا اعلان، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعے کے بارے میں ایک نئی سوچ کے آغاز کا پتہ دیتا ہے۔

1995 میں کانگریس نے یروشلم سفارت خانے کا قانون وفاقی حکومت پر یہ زور دیتے ہوئے منظور کیا کہ امریکی سفارت خانہ یروشلم یہ تسلیم کرنے کی خاطر منتقل کیا جائے کہ یہ شہر – انتہائی اہم بات – اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ یہ قانون کانگریس نے دوطرفہ بھاری اکثریت سے منظور کیا اور چھ ماہ قبل سینیٹ نے بھی متفقہ ووٹ سے اس کا اعادہ کیا۔

اس کے باوجود، گزشتہ20 برسوں میں، ہر سابقہ امریکی صدر نے استثناء کے قانون کا استعمال، امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے یا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومتی شہر ماننے سے انکار کرتے ہوئے، کیا۔

صدور نے یہ استثنا اس یقین کے ساتھ جاری کیے کہ یروشلم کو تسلیم کرنے میں تاخیر سے امن کے مقصد کو فروغ حاصل ہوگا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اُن میں جرات کا فقدان تھا۔ مگر اُن کے فیصلوں کی بنیاد اُن حقائق پر تھی جنہیں انہوں نے اُس وقت اپنے انداز سے سمجھا۔ بہرکیف، ریکارڈ موجود ہے۔ دو عشروں کے استثناؤں کے بعد بھی ہم اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے کسی پائیدار سمجھوتے کے کہیں نزدیک تک بھی نہیں پہنچ پائے۔ یہ فرض کرنا ایک حماقت ہوگی کہ اُسی فارمولے کو دہرانے سے کوئی مختلف یا بہتر نتیجہ سامنے آئے گا۔

لہذا میں نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ یروشلم کو سرکاری طور پر اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔

گوکہ سابقہ صدور نے اسے انتخابی مہموں کا ایک بڑا وعدہ بنایا مگر وہ اسے ایفا کرنے میں ناکام رہے۔ آج میں یہ وعدہ ایفا کر رہا ہوں۔

میری دانست میں یہ راہِ عمل ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے حصول کے بہترین مفاد میں ہے۔ امن کے عمل کو آگے بڑہانے اور کسی پائیدار سمجھوتے کے لیے کام کرنے کے لیے قدم اٹھانا ایک طویل عرصے سے ہم پر واجب چلا آ رہا ہے۔

اسرائیل ایک خودمختار ملک ہے جسے کسی بھی دوسرے خودمختار ملک کی طرح اپنے دارالحکومت کے انتخاب کا حق حاصل ہے۔ اس امر کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا، امن حاصل کرنے کی ایک ضروری شرط ہے۔

یہ 70 سال پہلے کی بات ہے جب امریکہ نے صدر ٹرومین کی قیادت میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کیا تھا۔ تب سے اسرائیل نے یروشلم کے شہر کو اپنا دارالحکومت بنا رکھا ہے — وہ دارالحکومت جسے یہودی قوم نے قدیم زمانے میں قائم کیا تھا۔ آج، یروشلم جدید اسرائیلی حکومت کا جائے مقام ہے۔ یہاں اسرائیلی پارلیمان یعنی کنیسیٹ، اور اسرائیلی سپریم کورٹ واقع ہیں۔ یہ وزیراعظم اور صدر کی سرکاری رہائش گاہوں کا شہر ہے۔ یہاں بہت سی سرکاری وزارتوں کے مرکزی دفاتر ہیں۔

کئی عشروں سے، دوروں پر آنے والے امریکی صدور، وزرائے خارجہ، اور فوجی رہنما اپنے اسرائیلی ہم منصبوں سے یروشلم میں اُسی طرح ملاقاتیں کرتے رہے ہیں جیسے میں نے اس سال کے اوائل میں اسرائیل کے دورے کے موقع پر کیں تھیں۔

یروشلم محض تین عظیم مذاہب کا دل ہی نہیں بلکہ یہ اب دنیا کی کامیاب ترین جمہوریتوں میں سے ایک جمہوریت کا دل بھی ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں میں اسرائیلی قوم نے ایک ایسا ملک تعمیر کیا ہے جہاں یہودی، مسلمان، اور عیسائی اور تمام عقائد کے لوگ رہنے اور اپنے اپنے ضمیر اور عقائد کے مطابق عبادت کرنے میں آزاد ہیں۔

آج یروشلم ایک ایسی جگہ ہے اور اسے بہرصورت ایسا ہی رہنا چاہیے جہاں یہودی مغربی دیوار پر دعائیں مانگتے ہیں، جہاں عیسائی عیسٰی علیہ السلام کی مصلوبیت کی تصاویر کے سامنے سے گزرتے ہیں، اور جہاں مسلمان مسجد الاقصٰی میں نماز ادا کرتے ہیں۔

تاہم، اس پورے عرصے کے دوران، امریکہ کی نمائندگی کرنے والے صدور سرکاری طور پر یروشلم کو اسرائیل کے سرکاری دارالحکومت کی حیثیت سے تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔ درحقیقت، ہم نے اسرائیل کے دارالحکومت کو تسلیم کرنے سے ہی قطعی طور پر انکار کیا۔

مگر آج ہم واضح چیز کو تسلیم کر رہے ہیں: یعنی یہ کہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ یہ بات حقیقیت تسلیم کرنے کی ہے اور اس سے کم یا زیادہ، اور کچھ بھی نہیں۔ یہ ایک راست اقدام بھی ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے جسے کیا جانا ہی ہے۔

اسی بنا پر، یروشلم سفارت خانے کے قانون سے مطابقت رکھتے ہوئے، میں وزارت خارجہ کو یہ ہدایت بھی کر رہا ہوں کہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے کام کی تیاری شروع کی جائے۔ اس سے فوری طور پر ماہرین تعمیرات، انجنیئروں، اور منصوبہ سازوں کو بھرتی کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں جب نیا سفارت خانہ مکمل ہوگا تو یہ امن کے نام ایک شاندار خراج تحسین ہوگا۔

یہ اعلانات کرتے وقت میں ایک نکتے کو بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں: اس فیصلے کا کسی لحاظ سے یہ مقصد نہیں کہ امن کے کسی پائیدار سمجھوتے میں سہولت مہیا کرنے کے ہمارے مضبوط عزم سے انحراف کیا جائے۔ ہم ایک ایسا سمجھوتہ چاہتے ہیں جو اسرائیلیوں کے لیے ایک عظیم معاہدہ ہو اور جو فلسطینیوں کے لیے ایک عظیم معاہدہ ہو۔ ہم یروشلم میں اسرائیلی حاکمیت کی مخصوص حدوں یا نزاعی سرحدوں کے حل سمیت حتمی حیثیت کے تنازعات کے بارے میں کوئی موقف اختیار نہیں کر رہے۔ اِن سوالات کا تعلق متعلقہ فریقین کی صوابدید پر ہے۔

امریکہ امن کے ایک ایسے سمجھوتے کے لیے انتہائی پُرعزم ہے جو دونوں فریقین کو قابل قبول ہو۔ میں اس طرح کے سمجھوتے کے فروغ میں مدد دینے کے لیے ہر وہ کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جو میرے بس میں ہو۔ بلا شک و شبہ، یروشلم اِن مذاکرات میں حساس ترین مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے۔ امریکہ دو ریاستی حل کی حمایت کرے گا، بشرطیکہ دونوں فریقین راضی ہوں۔

اسی اثنا میں میرا تمام فریقین سے یہ کہنا ہے کہ وہ بیت المقدس سمیت جو حرم الشریف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یروشلم کے مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھیں۔

سب سے بڑھکر، ہماری سب سے بڑی امید امن کے لیے ہے جس کی آفاقی تڑپ ہر انسانی روح میں موجود ہوتی ہے۔ آج کے اس اقدام کے ساتھ، میں خطے کے امن اور سلامتی والے مستقبل سے اپنی انتظامیہ کے دیرینہ عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔

اس اعلان کے ضمن میں یقیناً عدم اتفاق اور اختلاف پیدا ہوگا۔ مگر ایسے میں جب ہم اِن اختلافات کو حل کرنے کے لیے کام کریں گے تو ہمیں یقین ہے کہ آخرکار ہم ایک ایسے امن اور ایک ایسے مقام تک پہنچ جائیں گے جو مفاہمت اور تعاون کے لحاظ سے کئی گنا زیادہ عظیم ہوگا۔

اس مقدس شہر کو ہماری نظروں کو ممکنہ چیزوں تک بلند کرتے ہوئے؛ نہ کہ ہمیں اُن لڑائیوں کی جانب پیچھے اور پستی کی طرف کھینچتے ہوئے جن کے بارے میں مکمل طور پر پیشگوئی کی جا سکتی ہے، بہترین انسانیت کا محرک بننا چاہیے۔ امن کبھی بھی اُن لوگوں کی پہنچ سے باہر نہیں ہوتا جو اس تک پہنچنے کے لیے آمادہ ہوں۔

لہذا آج، ہم تحمل، میانہ روی، اور نفرت برداروں پر برداشت کی آوازوں کے غلبے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارے بچوں کو ورثے میں ہمارا پیار ملنا چاہیے نہ کہ ہمارے تنازعات۔

میں اُس پیغام کو دہرا رہا ہوں جو میں نے اس سال کے اوائل میں سعودی عرب کی تاریخی اور غیرمعمولی کانفرنس میں دیا تھا۔ مشرق وسطٰی ایک ایسا خطہ ہے جو ثقافت، جذبے، اور تاریخ سے مالامال ہے۔ اس کے عوام ذہین، غیور، اور متنوع، متحرک اور مضبوط ہیں۔ مگر اس خطے کے شاندار مستقبل کو خونریزی، جہالت، اور دہشت نے جکڑ رکھا ہے۔

آنے والے دنوں میں نائب صدر پینس پورے مشرق وسطٰی میں اُس بنیاد پرستی کو شکست دینے کے لیے شراکتداروں کے ساتھ کام کرنے کے ہمارے عزم کا اعادہ کرنے کی خاطر خطے کا دورہ کریں گے جو مستقبل کی نسلوں کی امیدوں اور خوابوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔

یہ بہت سے امن کے خواہشمندوں کے لیے، اُن کے درمیان پائے جانے والے انتہاپسندوں کو نکال باہر کرنے کا وقت ہے۔ یہ تمام مہذب اقوام، اور لوگوں کے لیے اختلاف رائے کا جواب منطقی مباحثے سے دینے کا وقت ہے – نہ کہ تشدد سے۔

اور یہ مشرق وسطٰی کے طول و عرض کی نوجوان اور میانہ رو آوازوں کا اپنے لیے ایک روشن اور خوبصورت مستقبل پانے کا وقت ہے۔

لہذا آئیے آج ہم اپنے آپ کو باہمی مفاہمت اور احترام کی راہ کے لیے دوبارہ وقف کریں۔ آئیے پرانے مفروضوں پر دوبارہ غور کریں اور اپنے دلوں اور ذہنوں کو ممکنات اور امکانات کے لیے کھولیں۔ اور آخر میں، میرا خطے کے راہنماؤں — سیاسی اور مذہبی، اسرائیلیوں اور فلسطینیوں، یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں – سے یہ کہنا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ پائیدار امن کی ارفع تلاش میں شامل ہوں۔

شکریہ۔ خدا کی آپ پر رحمت ہو۔ خدا کی اسرائیل پر رحمت ہو۔ خدا کی فلسطینیوں پر رحمت ہو۔ اور خدا کی امریکہ پر رحمت ہو۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ آپ کا شکریہ۔

(اعلان پر دستخط کر دیے گئے )

اختتام ای ایس ٹی وقت کے مطابق دوپہر کے ایک بجکر 19 منٹ


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں