rss

اسرائیل میں امریکہ سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے امریکی سفیر نکی ہیلی کا خطاب

Français Français, English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی مشن برائے اقوام متحدہ
دفتر اطلاعات و عوامی سفارت کاری
نیویارک سٹی
8 دسمبر 2017

 

 

شکریہ جناب صدر، یہودی قوم بہت صابر ہے۔ تین ہزار سالہ تہذیب میں غیرملکی قبضے، جلاوطنی اور واپسی کے عمل میں یروشلم ان کا روحانی گھر رہا ہے۔ قریباً گزشتہ 70سال سے مخالفین کی طرف سے اس حقیقت کو نہ ماننے کی کوششوں کے باوجودیروشلم اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت بھی رہا ہے۔

امریکی قوم نسبتاً جلد باز ہے۔ 1948میں امریکہ آزاداسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا۔ 1995میں امریکی کانگریس نے اعلان کیا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا جانا چاہیے اور امریکی سفارت خانہ یروشلم میں ہونا چاہیے۔

صدر کلنٹن، بش اور اوباما سب نے اس موقف سے اتفاق کیا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔ وہ اس امید پر اس معاملے کو معرض التوا میں ڈالتے رہے کہ امن عمل مثبت نتائج پیدا کرے گا لیکن یہ نتائج آج تک سامنے نہ آ سکے۔ 22سال سے امریکی عوام اس موقف کے پرزور حامی ہیں اور مسلسل انتظار کرتے رہے ہیں۔ رواں ہفتے صدر ٹرمپ نے امریکی عوام کی خواہش کو مزید موخر ہونے سے بچانے کے لیے بالآخر یہ فیصلہ کر لیا۔

یہاں یہ سمجھنا اہم ہے کہ صدر کے فیصلے کی اصل مندرجات کیا ہیں۔ صدر نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ انہوں نے دفتر خارجہ کو بھی حکم دیا ہے کہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے۔ توصدر نے یہ کام کیا ہے۔

امریکہ نے سرحدوں کے بارے میں کوئی پوزیشن نہیں لی۔ یروشلم پر حق کے حوالے سے خصوصی پہلوؤں کا ابھی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات میں فیصلہ ہونا ہے۔ امریکہ نے حرم الشریف کے انتظامات میں کسی تبدیلی کی حمایت نہیں کی۔ صدر نے مقدس مقامات کی صورت حال کو جوں کا توں برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ اور آخر میں نہایت سنجیدہ بات کہ امریکہ فریقین میں مذکرات کے معاملات کا پہلے سے تعین نہیں کر رہا۔ ہم ایک پائیدار امن معاہدے کے حصول کے لیے پر عزم ہیں۔ ہم دوریاستی حل کے حامی ہیں بشرطیکہ دونوں فریق اس پر رضا مند ہوں۔ یہ وہ حقائق ہیں جن پر ہم نے رواں ہفتے عمل کیا اور گفتگو کی۔ اب یہاں چند اور نکات بھی ہیں جو اس معاملے پر گفتگو میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

اسرائیل تمام اقوام کی طرح اپنا دارالحکومت متعین کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یروشلم میں اسرائیل کی پارلیمنٹ ہے، یہ ان کے صدر، وزیر اعظم، سپریم کورٹ ا ور بہت سے وزرا کا گھر ہے۔یہ ایک عام فہم بات ہے کہ غیر ملکی سفارت خانے اسی جگہ ہونے چاہئیں۔ دنیا کے تمام ملکوں میں امریکی سفارت خانے میزبان ملکوں کے دارالحکومتوں میں واقع ہیں۔ اسرائیل کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں ہونا چاہیے۔ امریکہ نے یہ اقدام ان تمام حقائق کا ادراک رکھتے ہوئے کیا کہ اس پر بہت سے سوال اٹھیں گے۔ ہمارے اقدامات امن عمل کو آگے بڑھانے کے ارادے سے ہیں۔ ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ جب تمام فریق ایک دوسرے کے ساتھ دیانت دار ہوں تو امن آگے بڑھتا ہے پیچھے نہیں جاتا۔ ہمارے اقدامات حقیقت میں ایک دیانتدارانہ نتیجے کے غماز ہیں۔

میں سمجھ سکتی ہوں کہ ارکان نے آج کا اجلاس کس تشویش میں بلایا۔ تبدیلی مشکل ہوتی ہے لیکن ہمیں اس بات پر کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ سچ کیا کچھ کر سکتا ہے۔ ہمیں اس بات پر کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ جب ہمیں سچ کا سامنا کرنا پڑے، انسانی جذبے پر یقین کرناپڑے اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنا پڑے تو امن آ جاتا ہے۔

وہ لوگ جنہیں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن پر یقین ہے، وہ ایک بار پھر یقین کر لیں کہ صدر اور موجودہ انتظامیہ امن عمل کے حوالے سے پر عزم ہیں۔ جن لوگوں کو اعتبار نہیں خواہ وہ کوئی فرد ہو، کوئی رہنما ہو یا کوئی ملک ہو یا پھر کوئی دہشت گرد تنظیم ہو جو رواں ہفتے کے فیصلے کو تشدد کے بہانے کے طور پر استعمال کرے گا، اسے صرف اتنا کہنا ہے کہ آپ خود کو امن کے لیے غیر موزوں ثابت کر رہے ہیں۔میں آخر میں اس موقع کو اقوام متحدہ پر تبصرے کے بغیر نہیں جانے دوں گی ۔ گزشتہ برسوں کے دوران اقوام متحدہ حیران کن طور پر اسرائیل کے حوالے سے منفی جذبات کا حامل رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے مشرق وسطیٰ کے امن کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے تباہ کرنے میں زیاہ کردار اد کیا ہے۔ ہم اس میں فریق نہیں بنیں گے۔ جب اسرائیل پر اقوام متحدہ میں ناجائز طور پر حملہ کیا جائے گا تو ہم اس کا ساتھ نہیں دیں گے اور امریکہ ان ملکوں کی نصیحتوں پر کوئی کان نہیں دھرے گا جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان انصاف کرنے کی ساکھ سے محروم ہیں۔

یہ کوئی اتفاق نہیں کہ مصر اسرائیل اور اردن اسرائیل جیسے تاریخی سمجھوتوں پر وائٹ ہاؤس کے لان میں دستخط ہوئے تھے۔ جب کبھی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدہ ہوا، اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ بھی وائٹ ہاؤس کے لان میں ہو گا۔ ایسا کیوں ہے، اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ امریکہ پر دونوں فریق یقین کرتے ہیں۔ اسرائیل کو امن معاہدہ کرنے کے لیے کبھی اقوام متحدہ یا ایسے ملکوں کے مجموعے کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے جنہوں نے اسرائیل کی سلامتی کا کبھی احترام نہیں کیا۔

میرے فلسطینی بھائیو اور بہنو ! میں آپ کو پورے اعتماد سے بتا سکتی ہوں کہ امریکہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان ایک امن معاہدے کے حصول کے لیے پوری طرح پر عزم ہے۔ ہم نے گزشتہ برسوں کے دوران متعدد بار اس عزم کا اظہار کیا ہے اور اس کے لیے بھاری سرمایہ اور سفارتی توانائی بھی خرچ کی ہے۔ افسوس ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن حاصل نہیں کیا جا سکالیکن ہم اپنی کوشش ترک نہیں کریں گے۔ ہمارا ہاتھ آپ کی طرف بڑھا رہے گا۔ ہم اسرائیل فلسطین امن کے لیے آج سے زیادہ پرعزم پہلے کبھی نہ تھے اور ہمیں یہ یقین ہے کہ ہم اس کے حل کے پہلے سے زیادہ قریب ہیں۔

اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے پاس سنانے کے لیے بہت سی کہانیاں ہیں۔ مسائل، بے اعتباری اور تباہی کی کہانیاں، لیکن اب ہمیں صرف ماضی تک محدود نہیں رہنااور صرف انہی تکلیف دہ کہانیوں میں نہیں الجھے رہنا۔اب ہمیں اگلی نسلوں کا خیال کرنا ہے۔ فلسطینی اور اسرائیلی بچے سب ایک پر امن مستقبل چاہتے ہیں جو کسی طرح بھی دنیا کے کسی دوسرے حصے سے کمتر نہ ہو۔ جب یہ بچے بڑے ہو جائیں اور پیچھے مڑ کر دیکھیں تو انہیں یہ وقت نظر آئے جب دونوں فریقوں نے دیانتداری سے امن کے لیے کوشش کی۔ یہ فلسطینی اور اسرائیلی بچے ایک روشن تر اور زیادہ پر امن مستقبل کی امید کے مستحق ہیں۔

ہماری خواہش اور دعا ہے کہ اس مرتبہ دونوں فریق موجودہ ضرورتوں کے بارے میں سوچنے کے بجائے اپنی  آئندہ نسلوں کے لیے فکر مند ہوں۔ میں سلامتی کونسل اور مشرق وسطیٰ کے تمام ملکوں پر زور دیتی ہوں کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنے بیانات اور اقدامات کو بدلیں ۔ امن قابل حصول ہے اور اس تک پہنچنے کے لیے ہمیں اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

شکریہ


اصل مواد دیکھیں: https://usun.state.gov/remarks/8206
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں