rss

‘2017 اور مستقبل میں خارجہ پالیسی کے مسائل کا حل’ وزیرخارجہ کا اٹلانٹک کونسل کوریا فاؤنڈیشن فورم 2017 سے خطاب

Français Français, English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Indonesian Indonesian

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
12 دسمبر 2017
واشنگٹن ڈی سی

 

 

وزیرخارجہ ٹلرسن: شکریہ سٹیفن، اس قدر پرجوش خیرمقدم پر میں آپ کا مشکور ہوں۔ ہم ایک دوسرے کو طویل عرصہ سے جانتے ہیں اور میں اپنی گزشتہ زندگی میں اکثروبیشتر آپ سے دنیا کے حوالے سے اپنے نکتہ ہائے نظر کا تبادلہ کرتا رہا ہوں  تاکہ مجھے دائیں بائیں درست راہ اختیار کرنے میں صلاح مل سکے۔ اس سلسلے میں آپ کے مشورے ہمیشہ دانشمندانہ اور درست تھے۔ آپ کا شکریہ۔

میں اپنے تعارف اور خیرمقدم پر سفیر چو کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں اٹلانٹک کونسل کوریا فاؤنڈیشن فورم 2017 سے خطاب کا موقع ملنے کی قدر کرتا ہوں اور میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گزشتہ 11 ماہ کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گا۔ اسی لیے میں گزشتہ برس کے واقعات کا کچھ تذکرہ کر رہا ہوں۔ میں متعدد مسائل پر بات کروں گا جن میں بعض کی نوعیت جغرافیائی ہے اور مجھے امید ہے کہ ایسا کرتے ہوئے اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے صدر کی ترجیحات کے بیان میں ان پالیسیوں کے حوالے سے بہت سی اہم باتیں آپ پر عیاں ہو جائیں گی۔ جیسا کہ سٹیفن ہیڈلے نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ دنیا باہم اس قدر جڑ گئی ہے کہ اس کا کوئی حصہ الگ نہیں رہ سکتا یا اپنی خارجہ پالیسی کے مسائل کو دوسروں سے علیحدہ نہیں رکھ سکتا کیونکہ کسی نہ کسی نکتے پر سبھی کے مسائل آپس میں مل جاتے ہیں۔

چنانچہ کچھ لوگوں کے لیے یہ حیران کن بات ہو سکتی ہے، اگرچہ اس میں حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ ہماری تمام تر پالیسیاں اور حکمت عملی اسی نکتے پر استوار ہے اور ہماری تدابیر اس امر کی واضح مثال پیش کرتی ہیں کہ امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی میں ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے بہت سے اتحادی ہیں۔ ان میں بہت سے اتحادوں نے مشترکہ قربانیوں اور مشترکہ اقدار سے جنم لیا ہے اور جمہوریہ کوریا بھی انہی میں ایک ہے۔ جزیرہ نما میں ہماری مشترکہ قربانی اور مشترکہ اقدار کی بدولت جنوبی کوریا نے ترقی اور خوشحالی کی وہ منزل پائی ہے جو آج ہمارے سامنے ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایشیا کے اپنے حالیہ دورے کے موقع پر سیئول میں جنرل اسمبلی سے خطاب میں واضح کیا تھا کہ جب کوئی دونوں کوریاؤں کے مابین غیرفوجی علاقے میں جائے تو اسے اطراف میں بہت بڑا فرق دکھائی دیتا ہے۔ اس علاقے میں دونوں طرف اقدار کا فرق نظر آتا ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ جمہوریہ کوریا نے جو اقدار اپنائیں ان سے اس کے شہریوں کا معیار زندگی کس قدر بہتر ہوا اور ان کی بدولت شمالی کوریا کے انتخاب سے برعکس عالمی سطح پر معیار زندگی بہتر بنانے میں کس قدر مدد ملی۔

بہت بڑی تعداد میں یہ اتحادی دنیا بھر میں امریکی حکمت عملی کو تقویت فراہم کرتے ہیں اور ہمارے حریفوں میں کسی کے پاس اتنے اتحادی نہیں ہیں۔ ہمارے کسی حریف کو یہ فائدہ حاصل نہیں ہے۔ میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا تاہم اس حوالے سے دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں کا سرسری تذکرہ ضرور کروں گا۔ یقیناً میں شمالی کوریا کی صورتحال اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کا تذکرہ بھی کروں گا تاہم میں داعش کو شکست دینے اور خاص طور پر عراق اور شام میں اپنی کوششوں کی بابت بتاؤں گا۔ یہ انسداد دہشت گردی کی ان وسیع پالیسیوں کا حصہ ہیں جو ہم مشرق وسطیٰ میں اختیار کیے ہوئے ہیں اور جن میں بہت سی صدر کی ریاض کانفرنس میں تاریخی شرکت سے تخلیق پائیں۔ میں یہ بھی بتاؤں گا کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کیسے کام کر رہی ہے، اس حوالے سے افریقہ میں ساحل کے خطے اور لیبیا نیز ایشیا میں فلپائن اور منڈاناؤ کے خطے کا بھی تذکرہ ہو گا۔

میں جنوبی ایشیا اور افغانستان، پاکستان اور انڈیا کے حوالے سے صدر کی پالیسی کا بھی ذکرکروں گا۔ علاوہ ازیں یورپی یونین اور نیٹو سے تعلقات، روس اور اس کے ساتھ تعلقات ازسرنو ترتیب دینے اور پھر مغربی کرے میں ہمیں درپیش چند مسائل پر بھی بات ہو گی۔ میں اٹلانٹک کونسل کی جانب سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی شراکت کے حوالے سے تقریب کے انعقاد کو بھی سراہتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جوہری ہتھیاروں سے مسلح شمالی کوریا کے خطرے سے نمٹنے کے کے لیے اوقیانوس سے الکاہل تک اتحاد اور مضبوط شراکتیں درکار ہیں۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ہی دن صدر ٹرمپ نے دفتر خارجہ کو یہ پالیسی اختیار کرنے کو کہا اور واضح کر دیا کہ وہ اس خطرے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اس مسئلے کو حل  کیے بنا رہیں گے نہ ہی اسے جوں کا توں چھوڑیں گے۔ یہ ہمارے ملک کو لاحق فوری خطرہ ہے اور ہم تزویراتی تحمل کے دور سے نکل کر تزویراتی احتساب کے دور میں داخل ہوں گے۔ یہ خطرہ اس قدر بڑا ہے کہ اسے طویل عرصہ تک نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

شمالی کوریا کے حوالے سے ہماری حکمت عملی بالکل واضح ہے اور حکمت عملی یہ ہے کہ ہم جزیرہ نما کوریا کو مکمل اور قابل تصدیق طور سے جوہری ہتھیاروں سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ خطے میں دیگر ممالک کی مشترکہ پالیسی ہے درحقیقت چین کی بھی یہی پالیسی ہے۔ روس نے کہا ہے کہ وہ بھی اسی پالیسی کا حامی ہے۔ چنانچہ اگرچہ یہ ایک مشترکہ پالیسی ہے تاہم اس پر عملدرآمد کے حوالے سے ہمارا طریق کار خطے میں دیگر فریقین سے قدرے مختلف ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا ہمارا طریق کار یہ ہے کہ شمالی کوریا کی حکومت کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے اور اس پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ اپنا جوہری ہتھیار بنانے کا حالیہ پروگرام اور اس نظام کی تیاری روکنے پرمجبور ہو جائے جس کے ذریعے وہ یہ ہتھیار استعمال کر سکتا ہے اور موجودہ راستے سے ہٹ کر مختلف راہ پر آ جائے۔

ہم نے گزشتہ کئی ماہ میں شمالی کوریا پر انتہائی جامع پابندیاں عائد کی ہیں جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دو جامع ترین قراردادوں کی بدولت ممکن ہوئیں۔ اس سلسلے میں چین اور روس دونوں نے بھی ہماری حمایت کی جو کہ اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ وہ اس خطرے کو کس قدر سنجیدہ سمجھتے ہیں۔

ان پابندیوں کی رو سے اب شمالی کوریا کی جانب سے کوئلے کی تمام برآمد بند ہو چکی ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیکسٹائل برآمدات بھی بند کر دی ہیں۔ اب وہ جبری مزدوروں کو بیرون ملک بھیجنا بھی بند کر دیں گے۔ انہوں نے تیل سمیت دیگر اشیا کی درآمد بھی محدود کر دی ہے اور ایسے ہر اقدام سے شمالی کوریا پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ شمالی کوریا ان پابندیوں سے متاثر ہو رہا ہے۔ یہ امر شمالی کوریا کے لوگوں کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے سے صاف ظاہر ہے جن میں ابتدائی طور پر 90 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اب ان کے پاس 50 فیصد تیل ہی باقی ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں وہاں اشیا کی قلت بھی ہو رہی ہے اور اب وہاں وہ چیزیں بھی دکھائی دینا کم ہو گئی ہیں جو پہلے برآمد کی جاتی تھیں۔ چنانچہ اب وہ صرف اپنے وسائل پر انحصار کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا پر سفارتی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں اور ہم نے دنیا بھر کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کردہ معاشی پابندیوں پر پوری طرح عملدرآمد کرائیں اور جہاں ضروری ہو شمالی کوریا سے اپنے سفارت کار واپس بلا کر اس پر مزید دباؤ ڈالیں، وہاں اپنے سفارتی دفاتر بند کریں اور اسے باور کرائیں کے وہ اپنے ہر اشتعال انگیز تجربے کے ساتھ مزید تنہا ہوتا چلا جائے گا۔

22 سے زیادہ ممالک نے شمالی کوریا کے سفارت کاروں کو واپس بھیج دیا ہے۔ بعض لوگوں کو شاید یہ بات اہم معلوم نہ ہو مگر چھوٹے ممالک کی جانب سے یہ ایک اور اہم اشارہ ہے جو شمالی کوریا پر زیادہ معاشی اثرورسوخ نہیں رکھتے۔ پیرو سے سپین اور اٹلی سے پرتگال تک بہت سے ممالک نے شمالی کوریا سے سفارت تعلقات بھی توڑ لیے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جب کوئی سفیر واپس آتا ہے تو شمالی کوریا کی حکومت بقیہ دنیا سے مزید کٹ جاتی ہے۔

یہ تمام نہایت اہم اقدامات ہیں جن سے شمالی کوریا کو یہ اندازہ ہو گا کہ اس کا ہر قدم اسے مزید تنہا کر رہا ہے اور اس طرح وہ اپنی سلامتی کو مضبوط بنانے کے بجائے الٹا کمزور کر رہا ہے۔ اس حوالے سے امریکہ، جمہوری کوریا اور جاپان کے سہ فریقی تعلقات سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ خطے میں سلامتی کے ڈھانچے کی بنیاد ہے اور ہم اس سلسلے میں مل کر کام کرتے چلے آئے ہیں تاکہ بوقت ضرورت کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔

اس سے بھی بڑھ کر ہم نے افراد اور دوسرے اداروں بشمول بینکوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان میں بعض بینک چین میں جبکہ بعض دیگر مقامات پر ہیں جو شمالی کوریا کی جانب سے ان پابندیوں کی خلاف ورزی میں سہولت دے رہے تھے۔ چنانچہ ہم جہاں کہیں بھی شمالی کوریا کو ان پابندیوں میں موجود سقم سے فائدہ اٹھاتا دیکھتے ہیں وہاں یہ خلا پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وقت آگے بڑھ رہا ہے اور ہر اضافی تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے اپنے ہتھیاروں کے پروگرام میں مزید پیش رفت کا اشارہ دیتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حالیہ بین البراعظمی میزائل تجربہ اس امر کا اشارہ ہے کہ ان کے پاس اپنے پروگرام کو آگے بڑھانے کی اہلیت ہے اور ہمیں توقع ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے نظام پر بھی اسی طرح پیش رفت کر رہے ہیں۔ چنانچہ ہمیں شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو ہم کسی بھی وقت بات چیت کے لیے تیار ہیں مگر اس کے لیے انہیں مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا اور یہ بھی ثابت کرنا ہو گا کہ وہ مختلف راہ اپنانا چاہتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم عسکری اعتبار سے بھی تیار ہیں۔ اسی صورتحال کے باعث صدر نے ہمارے فوجی منصوبہ سازوں کو ہر طرح کی تیاری کا حکم دیا ہے اور وہ تیار ہیں۔ جیسا کہ میں نے متعدد مرتبہ لوگوں کو بتایا ہے میں پہلا بم چلائے جانے تک اس مسئلے کے حل کی اپنی تمام سفارتی کوششیں جاری رکھوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے مگر مجھے یہ بھی یقین ہے کہ اگر وزیر ماٹس کی باری آئی تو وہ بھی کامیاب ٹھہریں گے۔

جہاں تک چین کا تعلق ہے تو نئی امریکی انتظامیہ کا چین سے پہلا رابطہ شمالی کوریا کے حوالے سے ہی تھا۔ میں اپنے پہلے غیرملکی دورے میں جاپان، جنوبی کوریا اور چین گیا تاکہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے پالیسی پر عملدرآمد کا آغاز کروں اور تزویراتی تحمل کا خاتمہ کیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کئی اعتبار سے میں خوش قسمت تھا کہ اس دورے سے انتظامیہ کو چین کے ساتھ پہلی بات چیت میں معاملات آگے بڑھانے کا موقع مل گیا۔ جب ہم نے سمجھ لیا کہ ہماری پالیسیاں ایک سی ہیں اور ہماری مقاصد مشترک ہیں تو پھر ہمیں ایک ایسا پلیٹ فارم مل گیا جس کے ذریعے ہم مثبت طور سے آگے بڑھ سکتے تھے۔

جیسا کہ آپ سبھی جانتے ہیں امریکہ چین تعلقات کی تاریخ صدر نکسن کے دورے سے شروع ہوتی ہے اس سے ناصرف چین اور امریکہ بلکہ پوری دنیا کو فائدہ ہوا۔ مگر وقت تبدیل ہو گیا ہے اور اب چین ایک معاشی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ کئی اعتبار سے بیجنگ اولمپکس کے کامیاب انعقاد سے ہی چین ایک نئے اعتماد سے دنیا کے سامنے آیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ چین دونوں آئندہ 50 برس میں باہمی تعلقات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ایک چین کی پالیسی اور تین مشترکہ اعلامیوں سے تشکیل پانے والے تعلق سے سبھی کو فائدہ ہوا۔ چین دنیا میں معاشی طاقت بن گیا ہے۔ اگرچہ وہ خود کو ترقی پذیر ملک کہتے ہیں کہ وہاں کروڑوں لوگ تاحال غربت کی زندگی بسر کرر ہے ہیں تاہم روایتی طور پر دیکھا جائے تو وہ ترقی پذیر ملک نہیں ہے۔ وہاں بہت بڑی معیشت ہے اور اس کا عالمی منڈیوں پر بھی گہرا اثر ہے۔ مگر چین کے معاشی طاقت بننے کے ساتھ ہی امریکہ اور چین نیز دوسرے ممالک میں تجارتی اعتبار سے متعدد عدم تفاوت بھی سامنے آئے ہیں اور اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

چنانچہ چینی صدر ژی کے ساتھ مار اے لیگو میں پہلی ملاقات کے موقع پر ہم نے اعلیٰ ترین سطح پر باہمی رابطوں کے ذریعے مسائل کا حل ڈھونڈنے پر کام کیا اور جیسا کہ آپ میں بہت سے لوگ جانتے ہیں گزشتہ کئی برس میں چین کے ساتھ بہت سی بات چیت ہوتی رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ جب میں دفتر خارجہ میں آیا تو امریکہ اور چین میں کئی سطحوں پر مختلف طرز کے 26 مذاکرات ہو چکے تھے۔ ہمارا نکتہ نظر یہ تھا کہ ہمیں اس بات چیت کو دونوں ممالک میں فیصلہ سازی کی سطح پر مزید اعلیٰ درجوں پر لے جانے کی ضرورت ہے۔

چنانچہ اس مقصد کے لیے ہم نے اعلیٰ سطح پر چار طرح کی گفت و شنید شروع کی جس میں دونوں اطراف سے صدر ژی  اور صدر ٹرمپ کے انتہائی قریبی لوگوں نے حصہ لیا۔ گفت و شنید کے چاروں ادوار کابینہ کی سطح کے عہدیداروں کی سرکردگی میں ہوئے۔ سفارتی اور تزویراتی بات چیت کی صدارت وزیر ماٹس اور میں نے کی اور اس کا مقصد ایسے امکانات کھوجنا تھا جن کی  بدولت ہم مل کر باہمی اختلافات دور کر سکیں اور نئے تعلقات کی بنیادی ڈالی جا سکے۔ اس کے علاوہ معاشی اور تجارتی حوالے سے بھی بات چیت ہوئی جبکہ نفاذ قانون، سائبر اور عوامی سطح پر روابط کے لیے گفت و شنید بھی اس کا حصہ تھی۔ یہ چاروں ادوار گزشتہ برس ہوئے اور انہیں کچھ یوں ترتیب دیا گیا تھا کہ ان سے نتائج کا حصول ممکن ہو سکے اور یہ نتائج بیجنگ میں کانفرنس کے موقع پر صدر ٹرمپ کو پیش کیے گئے۔

چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ چین سے تعلقات کے حوالے سے ہمارے پاس انتہائی متحرک طریق کار موجود ہے جس کے ذریعے ہم پیچیدہ مسائل پر بھی بات کر سکتے ہیں۔ ہمارے مابین اختلافات بھی سامنے آتے ہیں جیسا کہ جنوبی چینی سمندر کا معاملہ اور وہاں چین کی جانب سے تعمیرات اور عسکری تنصیبات کا مسئلہ ہے جس سے ہمارے اتحادیوں کے مفادات متاثر ہوں گے اور اس سے آزاد اور کھلی تجارت میں بھی خلل آئے گا۔ جیسا کہ ہم نے چینیوں سے کہا ہمیں امید ہے کہ ہم اس مخصوص سرگرمی کو جامد کرنے کا کوئی حل تلاش کر لیں گے۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ہم اس سرگرمی کو روکنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ تاہم یہ قابل قبول نہیں ہے۔ یہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے کہ ان جزائر پر تعمیرات ہوں اور فوجی مقاصد کے لیے تو یہ بالکل بھی قابل قبول نہیں۔

جنوب مشرقی ایشیا میں ہم نے کچھ ہی عرصہ پہلے آزاد اور کھلے خطہ ہندو الکاہل کی پالیسی پیش کی ہے اور یہ چین کی جانب سے ‘ون بیلٹ ون روڈ’ پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی گئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چین کی جانب سے ‘ون بیلٹ ون روڈ’ پالیسی کا مقصد چین کی معیشت کا فروغ ہے جبکہ ہماری پالیسیوں کا مقصد چینی ترقی کے آگے روک لگانا ہرگز نہیں۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ چین کی معاشی ترقی عالمی قوانین اور روایات کے اندر رہ کر ہونی چاہیے اور یوں لگتا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے اپنے قواعد ہیں۔ یہاں میں ون بیلٹ ون روڈ پر وزیر ماٹس کے الفاظ دہرانا چاہوں گا۔ چین کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ‘امریکہ اور بقیہ دنیا کے پاس بہت سی بیلٹس اور بہت سی سڑکیں ہیں اور کوئی ایک ملک فیصلہ نہیں کر سکتا کہ وہ کیا ہیں’ چنانچہ آزاد اور کھلے خطہ ہندوالکاہل کا مطلب یہ ہے کہ تمام ممالک کو اس خطے میں اپنی معاشی ترقی اور تجارت کے لیے آزادانہ رسائی ہونی چاہیے۔

آزادہ اور کھلے خطہ ہند و الکاہل کے لیے ہم نے انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات میں اضافہ کیا ہے۔ اس خطے میں جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ ہمار ےطویل سہ رخی تعلقات ہیں اور اب ہم اس میں انڈیا کو بھی شامل کر رہے ہیں کیونکہ ابھرتی ہوئی معیشت اور قومی سلامتی کے حوالے سے مشترکہ خدشات کے باعث انڈیا ہمارے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

عراق اور شام میں داعش کو شکست دینے کی مہم کے ضمن میں صدر نے عہدہ سنبھالتے ہی اس حوالے سے پالیسی میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا اور نئی جارحانہ حکمت عملی ترتیب دی جس میں ہمارے فوج کمانڈرز کو میدان جنگ میں ایسے فیصلے کرنے کے اختیارات دیے جن کے ذریعے میدان جنگ میں فتح حاصل کی جا سکتی تھی۔ محکمہ دفاع کی جانب سے دوسروں کے ساتھ اور ان کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کے طریق کار کی بدولت فوج نے نمایاں فتوحات حاصل کیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں وزیراعظم عبادی نے حال ہی میں عراق میں داعش کی شکست کا اعلان کیا ہے۔ ہم شام میں تاحال داعش کو شکست دینے میں مصروف ہیں تاہم وہاں بھی نمایاں پیش رفت سامنے آ چکی ہے۔

عسکری محاذ پر فتوحات کے نتیجے میں دفتر خارجہ کو داعش کی شکست کے بعد جنم لینے والے حالات سے بطریق احسن نمٹنے کے لیے بہت تیزی سے کام کرنا پڑا۔ ہم نے داعش کی شکست کے لیے بنائے گئے اتحاد کے تعاون سے یہ مقاصد حاصل کیے۔ یہ 68 ممالک پر مشتمل 74 رکنی اتحاد ہے جس میں نیٹو، انٹرپول، یورپی یونین اور دیگر بھی شامل ہیں۔

اب تک 75 لاکھ لوگوں کو عراق اور شام میں داعش کے شکنجے سے آزاد کرایا جا چکا ہے اور داعش کے زیرتسلط 95 فیصد علاقہ واگزار ہو چکا ہے۔ اب ہماری کوششیں ان علاقوں میں استحکام لانے پر مرکوز ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ناصرف یہاں داعش کو دوبارہ ابھرنے سے روکا جائے بلکہ متعدد گروہوں میں مقامی تنازعات بھی سر اٹھانے نہ پائیں۔

چنانچہ محکمہ دفاع کے ساتھ ہمارا کام یہ ہے کہ جنگ پر قابو پایا جائے اور واگزار کرائے گئے علاقوں میں استحکام لایا جائے۔ اس سلسلے میں ہمیں شام میں اردن اور روس کے تعاون میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جہاں ہم نے پرامن علاقے قائم کیے ہیں جن سے خانہ جنگی کا احیا روکنے میں مدد ملی ہے۔ شام کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرارداد 2254 پر مکمل عملدرآمد کے لیے تمام فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کیا گیا۔ اس قرارداد کی رو سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں نیا شامی آئین بنایا جائے گا اور انتخابات کے ذریعے حکومت منتخب کی جائے گی جن میں تمام شامی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ چنانچہ اس میں ایسے شامیوں کے لیے بھی حق رائے دہی شامل ہے جو جنگ کے باعث گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوئے خواہ انہیں خانہ جنگی کے باعث ایسا کرنا پڑا ہو یا وہ داعش کے ظہور کے بعد بے گھر ہوئے ہوں۔

ویت نام کے شہر دانانگ میں کانفرنس کے موقع پر صدر ٹرمپ اور صدر پوٹن نے ایک نہایت اہم مشترکہ بیان جاری کیا جس میں دونوں رہنماؤں نے اس عمل کے حوالے سے اپنے عزم کا یقین دلایا جس کی بدولت متحدہ، مکمل، جمہوری اور آزاد شام کا ظہور یقینی ہو سکے گا۔ جنیوا میں بات چیت دوبارہ شروع ہو چکی ہے جس میں ترمیم شدہ اپوزیشن کی نمائندگی بھی موجود ہے۔ ہم نے روسیوں سے کیا ہے کہ وہ شامی حکومت کی ان مذاکرات میں شمولیت یقینی بنائیں اور اس بات چیت میں حکومتی نمائندگی بھی موجود ہے۔ اب ہمیں ہر ایک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی ضرورت ہے۔ ہم ایسے شعبوں میں شامیوں کے ساتھ کام جاری رکھیں گے جہاں تشدد کا خاتمہ، جنگ کے بعد علاقوں میں استحکام لانا اور جنیوا عمل کے ذریعے شامی تنازع کا حل ممکن ہو سکے۔

عراق میں اب تمام علاقے واگزار کرائے جا چکے ہیں اور دونوں مہمات کے نتیجے میں ہم نے عراق میں موصل اور شام کے شہر رقہ میں داعش کی خلافت کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عراق میں عرب ہمسایوں کے ساتھ جلد رابطہ عراقی مستقبل کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ جس سے اس کی جمہوری حکومت اور متحدہ ملک کے طور پر عراق کے استحکام میں مدد ملے گی۔ داعش کے خلاف جنگ میں عرب ہمسایوں سے فوری رابطے کو مزید آگے بڑھایا گیا ہے اور اس ضمن میں صدر کے تاریخی دورے کا کردار خاص طور پر اہم ہے۔ عرب دنیا کے عراق کے ساتھ روابط تین دہائیوں بعد دوبارہ شروع ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں سعودیوں نے پہل کی اور معاشی مذاکرات اور مشاورتی کمیٹیاں عمل میں آئی ہیں۔ انہوں نے دونوں سرحدیں دوبارہ کھولی ہیں اور بغداد و ریاض میں پروازیں بحال کی جا رہی ہیں جس سے تمام عراقیوں کو اہم پیغام گیا ہے اور انہیں یہ باور ہوا ہے کہ عراقی بھی عرب ہیں اور انہیں عرب دنیا کے ساتھ دوبارہ متحد ہونا ہے۔

سعودی عرب اور عراق نے باہم مشاورتی کونسلیں قائم کی ہیں اور جنوری میں کویت تعمیرنو کے حوالے سے دوسری کانفرنس منعقد کرے گا۔ ان تمام اقدامات کا مقصد عراقی حکومت اور عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ جنوب کی جانب آپ کے دوست بھی ہیں جو آپ کو تعمیر نو اور ملک کی بحالی میں مدد دینا چاہتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ متحد عراق ہماری پالیسی بھی ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کرد علاقائی حکام کی جانب سے آزادی کے لیے ہونے والا ریفرنڈم ملکی اتحاد کے لیے تباہ کن تھا۔ ہم بغداد اور اربیل کے مابین روابط کے ذریعے یہ امر یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں فریق متحد رہیں اور ہم دونوں میں تنازع روکنے اور عراقی آئین کے تحت دونوں میں روابط کے لیے کوشاں ہیں جس پر کبھی پوری طرح عمل نہیں ہوا۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ عراقی آئین پر مکمل عملدرآمد ممکن بنانے کے لیے ہم کردوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ جب اس پر پوری طرح عمل ہو گا تو کردوں کی بہت سی محرومیوں کا ازالہ ہو جائے گا اور ہمیں امید ہے کہ اس سے عراق کے اتحاد میں مدد ملے گی۔

انسداد دہشت گردی کے حوالے سے مزید وسیع تناظر میں بات کی جائے تو میں کچھ عرصہ قبل ریاض میں صدر کی تاریخی کانفرنس کا تذکرہ کروں گا جہاں دنیا بھر سے مسلم ممالک کے 68 رہنماؤں نے شرکت کی اور انہیں باور کرایا کہ متشدد انتہاپسندی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے وہی ختم کر سکتے ہیں۔ امریکہ یہ مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ ہم اس کے حل میں آپ کو مدد دے سکتے ہیں مگر یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے مسلم دنیا کے رہنماؤں نے ہی حل کرنا ہے۔

چنانچہ اس کانفرنس میں دو نہایت اہم وعدے کیے گئے جو یہ تھے کہ متشدد انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے اور اس کی مالیات روکنے کے لیے سعودی عرب میں مراکز قائم کیے جائیں گے۔ اب یہ دونوں مراکز قائم ہو چکے ہیں اور ان کے ذریعے ناصرف دہشت گردی کو زمین پر شکست دینے بلکہ سائبر دنیا میں بھی اس پر قابو پانے کا کام جاری ہے۔ متشدد انتہاپسندی کے خلاف مرکز میں بہت سے لوگ کام کرتے ہیں جو سوشل میڈیا پر دہشت گردی کی معاونت میں بھیجے گئے پیغامات کو روکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ متشدد انتہاپسندی کے خلاف پیغام رسانی کا کام بھی کرتے ہیں۔

یہ بھی اہم بات ہے اور ہم نے اس حوالے سے سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کی ہے کہ انہیں دہشت گردی کے خلاف ایسے پیغامات کو مساجد تک لے جانا ہو گا، مدارس میں لے جانا ہو گا اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کو ان سے روشناس کرانا ہو گا۔ سعودی عرب اب نیا مواد شائع کر رہا ہے۔ مگر ہمیں متشدد انتہاپسندی کی تعلیم کے آگے بند باندھنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔

دہشت گردی کی مالیات روکنے کے مرکز کا قیام بھی ایک اہم پیش رفت ہے جس میں امریکی محکمہ خزانہ نے بھی معاونت کی۔ اس مرکز کو دنیا بھر میں اطلاعات کے دیگر ذرائع سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ یہ پتا چلایا جا سکے کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مالی وسائل کیسے جمع کیے جاتے ہیں۔ میں ایک مرتبہ پھر یہ بات کہوں گا کہ ہم میدان جنگ میں تو جیت سکتے ہیں تاہم اگر ہم سائبر دنیا میں نہ جیت پائیں اور دہشت گردوں کو دوبارہ ابھرنے کی صلاحیتوں کے حصول سے نہ روک پائیں تو پھر یہ کہیں بھی دوبارہ سر اٹھا لیں گے جیسا کہ ہم نے لیبیا میں اور منڈاناؤ میں دیکھا اور اب افریقی خطے ساحل میں دیکھ رہے ہیں۔

داعش اور دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے عالمی کوششیں صدر کی اول ترجیحات میں شامل ہیں اور اسی مقصد کے لے ہم نے جنوبی ایشیا اور افغانستان، پاکستان و انڈیا کے لیے نئی حکمت عملی تشکیل دی۔ اس پالیسی کے حوالے سے ہمارا طریق کار صحیح معنوں میں علاقائی طریق کار ہے۔ صدر نے ایک فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ امریکہ بدستور افغانستان میں موجود رہے گا اور وہاں طالبان کو شکست دینے کی جنگ لڑے گا۔ اس سلسلے میں وقت اور کوششیں مشروط ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان کو بلینک چیک نہیں دیں گے۔ امریکہ ہمیشہ کے لیے افغانستان میں نہیں رہے گا اسی لیے افغان حکومت کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ انہیں اصلاحات کا عمل ہر صورت جاری رکھنا ہے اور ایسے حالات پیدا کرنا ہیں کہ افغانستان میں ہر نسلی گروہ کے لیے جگہ ہو اور جب طالبان دہشت گردی اور جنگ ترک کر کے مذاکرات پر آمادہ ہوں تو انہیں بھی قانونی طور پر حکومت میں جگہ دی جائے۔ چنانچہ حالات کے مطابق اختیار کیے جانے والے اس طریق کار کا مقصد یہ امر یقینی بنانا ہے کہ طالبان کو باور ہو جائے وہ میدان جنگ میں نہیں جیت سکتے اور ان کے پاس مفاہمتی عمل میں شمولیت ہی بقا کا واحد راستہ ہے اور اسی طرح وہ افغان حکومت میں شامل ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے ساتھ تعلقات اس علاقائی طریق کار کا ایک اہم حصہ ہیں۔ امریکہ اور پاکستان میں طویل عرصہ تک اچھے تعلقات رہے ہیں مگر گزشتہ دہائی میں اس تعلق میں خرابیاں در آئیں اور اب ہم پاکستان کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں تاکہ ان پر ہماری توقعات واضح ہو جائیں اور انہیں اندازہ ہو کہ ہمیں پاکستان کے استحکام کی فکر ہے۔ پاکستان نے بہت سی دہشت گرد تنظیموں کو اپنے ہاں پناہ دی ہے اور ان تنظیموں کا حجم اور اثرونفوذ بڑھتا جا رہا ہے۔ میں نے پاکستانی قیادت سے کہا کہ کسی موقع پر یہ تنظیمیں آپ کو بھی نشانہ  بنا سکتی ہیں اور کابل کے بجائے اسلام آباد ان کے لیے بہتر ہدف ہو سکتا ہے۔

ہم پاکستان میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے بھی اس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں مگر اس کے لیے پاکستان کو حقانی نیٹ اور اور دیگر کے ساتھ اپنے تعلقات میں تبدیلی کا عمل شروع کرکے آغاز کرنا ہو گا۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ شاید ایک دہائی قبل یہ تعلق ان کے تئیں نیک ارادوں سے شروع ہوا تھا مگر اب اس میں بہت تبدیلی آ چکی ہے اور اگر پاکستانی قیادت نے ذمہ داری کا ثبوت نہ دیا تو ان کا اپنے ملک پر کنٹرول بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ ہم ان کے ساتھ مثبت انداز میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ان کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے لیے تیار ہیں اور انہیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر جوں کے توں حالات میں ہمارے لیے آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے اور پاکستان میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں بنانے کی اجازت ہو تو بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔

میں نیٹو اور یورپی تعلقات پر بھی جلدی سے کچھ بات کرنا چاہوں گا ۔ صدر کا ابتدائی دورہ بھی انہی ممالک میں تھا۔ میرے خیال میں اہم بات یہ ہے کہ لوگ جو بھی کہیں اور لکھیں، اوقیانوس کا اتحاد اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ میں یورپ کے ایک ہفتے پر مشتمل دورے سے حال ہی میں واپس آیا ہوں۔ اس دوران میں نے دو دن برسلز میں نیٹو اور اور اس کے یورپی رکن ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ میں او ایس سی ای کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے ویانا میں موجود تھا اور پھر ایک پورا دن پیرس میں گزارا۔ گزشتہ ہفتے ان تمام ملاقاتوں میں یہی سامنے آیا کہ امریکہ اور یورپ میں انتہائی مضبوط تعلقات ہیں اور  فریقین میں سلامتی سے متعلق امور، معاشی اور تجارتی مسائل پر اتحاد پایا جاتا ہے۔

ابھی ہم نے مشترکہ طور پر بہت سا کام کرنا ہے اور یورپی اتحادیوں کے لیے صدر کا پیغام یہ ہے کہ ہم آپ کی معاونت کے لیے موجود ہیں اور ہمیشہ موجود رہیں گے۔ ہم آرٹیکل پانچ کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پر پورا اتریں گے تاہم نیٹو کے اتحادی اور رکن ممالک امریکیوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنے آپ سے بڑھ کر آپ کے شہریوں کی حٖفاظت کریں۔

اسی لیے صدر نے زور دے کر یہ بات کہی کہ نیٹو کے اتحادیوں کو اس مشترکہ دفاع میں اپنے حصے کی پوری ذمہ داری اٹھانا ہو گی کہ امریکی لوگ مستقبل میں اپنے حصے سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے اور سبھی کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ نیٹو کے تمام ممالک میں اتفاق ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات کا دو فیصد نیٹو کو دیں گے اور صدر اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے ان ممالک پر خاصا دباؤ ڈال رہے ہیں۔

اس سلسلے میں بہت سے ممالک نے مثبت پیش رفت کی ہے۔ اس برس نیٹو کی وصولیوں اور اخراجات میں 8 فیصد اضافہ ہوا اور دیگر ممالک نے نیٹو کے لیے دفاعی اخراجات میں اضافے کا وعدہ کیا ہے۔ اس سے نیٹو کو جنوب سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط دفاع میسر آئے گا اور یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم نے نیٹو کو زیادہ توجہ دینے کو کہا ہے۔ یہ انسداد دہشت گردی کا معاملہ ہے کیونکہ داعش کے باعث یورپی ممالک کو تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد کا سامنا ہوا ہے اور اسے مشرق کی جانب سے روس کے ہاتھوں بھی خطرات لاحق ہیں اور اسی لیے میں نے روس کا دورہ کیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں صدر امریکہ اور روس کے مابین عملی تعلقات کی اہمیت کے حوالے سے بالکل واضح خیالات کے حامل ہیں۔ آج ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ میں نے شام کے حوالے سے ایسے معاملات کا تذکرہ کیا ہے جہاں ہم ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔ مگر روس کی جانب سے یوکرائن پر چڑھائی ایک ایسا معاملہ ہے جسے ہم قبول نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ ہفتے یورپ میں دوسرے لوگوں کو بتایا کہ تنازعات میں تمام ممالک کسی ایک سمت کا ساتھ دیتے ہیں۔ روس نے بشارالاسد کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا جبکہ ہمارا فیصلہ اس سے برعکس تھا۔ مگر جب آپ کسی دوسرے ملک پر چڑھائی کرتے ہیں اور اس کی زمین پر قبضہ کرتے ہیں تو پھر یہ معاملہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ نے روس پر پابندیاں عائد کیں اور جب تک روس اس اقدام سے پیچھے نہیں ہٹتا اور یوکرائن کا علاقہ واپس نہیں کرتا یہ پابندیاں برقرار رہیں گی۔

ہم منسک معاہدے پر عملدرآمد ممکن بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ جب صدر نے عہدہ سنبھالا تو مشرقی یوکرائن کے معاملے پر ہونے والی بات چیت معطل تھی۔ صدر پوٹن کے ساتھ میری پہلی ملاقاتوں میں انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آیا ہم کریملن کے ساتھ اس گفت و شنید کی بحالی کے لیے کسی کو نمائندہ مقرر کریں گے۔ میں نے نیٹو میں سابق سفیر کرٹ والکر کو یہ کام سونپ دیا۔ اس سلسلے میں ہم مشرقی یوکرائن پر کام کر رہے ہیں کیونکہ وہاں تشدد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ 2016 کے مقابلے میں 2017 میں وہاں شہریوں کی ہلاکتوں کے زیادہ واقعات پیش آئے ہیں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے چنانچہ ہمیں مشرقی یوکرائن میں تشدد کو بہر صورت ختم کرنا ہے۔ اسی لیے تشدد اور ہلاکتوں کا خاتمہ ہماری ترجیح ہے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی امن فوج کو کوئی کردار دینے کے حوالے سے ہم روس کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ مشرقی یوکرائن میں تشدد کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ اس کے بعد ہم دیگر باتوں کی طرف آ سکتے ہیں۔

کیف میں حکومت کو اصلاحات اور منسک معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔ روس کو مشرقی یوکرائن میں باغی فورسز پر تشدد ختم کرنے کے لے دباؤ ڈالنا ہو گا اور منسک معاہدے کے تحت پیش رفت کرنا ہو گی۔ ہم کرائمیا کے معاملے پر واپس آئیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ صدر پوٹن نے واضح کر دیا ہے کہ کرائمیا کا معاملہ بات چیت میں زیربحث نہیں آئے گا مگر کسی موقع پر ایسا ہونا ہے۔ تاہم آج ہم مشرقی یوکرائن میں تشدد کا خاتمہ چاہتے ہیں اور دیکھنا ہے کہ آیا ہم یہ معاملہ حل کر سکتے ہیں یا نہیں۔

روس کے ساتھ دیگر معاملات میں دیکھا جائے تو ہم انسداد دہشت گردی کے مشترکہ مفاد میں ممکنہ تعاون کے منتظر ہیں۔ ہمیں علم ہے کہ ہمیں روس کی دوغلی جنگ سے نمٹنا ہو گا۔ ہم نے اپنے انتخابات میں بھی محسوس کیا اور اب بہت سے یورپی ممالک سے بھی خبریں آئی ہیں کہ ان کے ہاں بھی روسی مداخلت دیکھی گئی۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ روسی ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ دوسرے ممالک کے آزادانہ و شفاف انتخابات میں مداخلت سے انہیں کوئی فائدہ ہو گا۔ اس سے آپ کو کیا حاصل ہونے کی امید ہے؟ مجھے اس کی سمجھ نہیں آتی اور نہ ہی کوئی مجھے یہ بات سمجھا پایا ہے۔ مگر ہم نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے اور ہمارے مابین تعلقات معمول پر لانے میں یہ بھی ایک رکاوٹ ہے۔

ہم اپنے روسی ہم منصبوں کے ساتھ نہایت متحرک طور سے بات چیت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں نہایت موثر سفارتی گفت و شنید جاری ہے۔ بات چیت کے ساتھ ہم نے اپنے روسی ہم منصبوں سے یہ بھی کہا ہے کہ ہمیں کسی اچھی خبر کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس تعلق کے حوالے سے کچھ اچھی بات کا انتظار ہے اور آج ہمیں ایسی کوئی بات دکھائی نہیں دے رہی۔ ہم انتظار کر رہے ہیں۔ ہم منتظر ہیں۔

آخر میں مجھے مغربی کرے کا ذکر کرنا ہے۔ اس حوالے سے وسطی امریکہ خصوصاً میکسیکو سے مہاجرت، بین الاقوامی مجرم تنظیمیں اور خاص طور پر منشیات کی تجارت اہم مسائل ہیں جن سے انسانی سمگلنگ میں بھی مدد ملتی ہے۔ وسطی اور جنوبی امریکہ کے ساتھ بہت سے دیگر مواقع بھی ہمارے سامنے ہیں۔ ہم نے مجرم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے میکسیکو کے ساتھ موثر بات چیت کی ہے۔ اس ہفتے وزارتی سطح پر بات چیت کا ایک اور دور ہو رہا ہے۔ ہم نے امسال میامی میں مشترکہ طور پر ایک پروگرام کی میزبانی کی تھی جس میں وسطی امریکہ کی سلامتی اور خوشحالی پر بحث ہوئی۔ ہم او اے ایس اور لیما گروپ کے ذریعے وینزویلا کی صورتحال پر بھی کام کر رہے ہیں۔

میں کیوبا اور چند دیگر معاملات پر بھی بات کرتا مگر میں یہاں زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ مجھے اس حوالے سے سوالات کا جواب دے کر خوشی ہو گی۔ افریقہ میں ہم دو بنیادی معاملات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ان میں ممکنہ دہشت گرد تنظیموں کے ظہور سے نمٹنا اور سوڈان سمیت متعدد افریقی خطوں میں انسانی بحران پر قابو پانا شامل ہیں۔

چنانچہ یہ واقعتاً ایک مصروف سال رہا۔ میرے لیے یہ دلچسپی کا باعث ہے کہ بعض لوگ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ دفتر خارجہ میں کچھ نہیں ہو رہا کیونکہ میں اس ہال میں چلتے ہوئے اپنے جوتوں کی آواز سن رہا ہوں (قہقہہ) آج صبح دفتر خارجہ کے تمام ساتھیوں کے ہمراہ ہماری بہت زبردست ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر ہم نے گزشتہ برس کا جائزہ لیا۔ ہم نے دفتر خارجہ کو ازسرنو استوار کرنے پر بات کی اور یہ بھی درست ہے کہ ابھی بہت سے عہدوں پر تقرریاں باقی ہیں۔ میں نے ان عہدوں کے لیے نامزدگیاں کر دی ہیں اور مجھے انہیں وہاں دیکھ کر خوشی ہو گی۔ اس سے بہت فرق پڑے گا۔

تاہم میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ دفتر خارجہ میں ملازمت کرنے والے یہ لوگ اعلیٰ ترین صلاحیتوں کے مالک ہیں اور انہوں نے سفارتی سطح پر اہم فرائض انجام دیے ہیں اور یہی لوگ ان عہدوں پر آئیں گے۔ ہو سکتا ہے وہ قائم مقام کردار ادا کریں۔ وہ ان مسائل سے نمٹ سکتے ہیں۔ وہ صدر کی پالیسیوں کی معاونت کرتے ہیں، میں جانتا ہوں کہ سبھی کے لیے یہ کام آسان نہیں ہو گا کیونکہ وہ گزشتہ انتظامیہ کی پالیسی پر بھی عملدرآمد کرتے چلے آئے ہیں جبکہ اب ہم مختلف سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ تاہم میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کی  اہلیت اور صدر کے مقاصد اور ترجیحات کو سمجھنے میں پھُرتی مسلم ہے اور دفتر خارجہ میں سبھی یہ بات سمجھتے ہیں اور ہم آج صبح اس پر تفصیلی بات کر چکے ہیں۔ مجھے ان کی کامیابیوں پر بیحد فخر ہے۔ میں نے جن معاملات پر ابھی بات کی ہے ان پر ایک دفتر سارا سال کام کرتا رہا ہے جس کا مقصد صدر کی پالیسیوں کی ازسرنو سمت بندی اور ان پر عملدرآمد تھا۔ میں اپنی ٹیم پر بے حد اعتماد کرتا ہوں اور مزید لوگوں کی شمولیت سے یہ مزید مضبوط ہو جائے گی۔

یہاں میں اپنی بات ختم کر کے اپنے پرانے دوست سٹیفن ہیڈلے کے ساتھ بیٹھوں گا اور ہم اس بارے بات چیت کریں گے کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ مگر میرے خیال میں اہم بات یہ ہے کہ میں نے آج جتنے بھی معاملات پر بات کی وہ کسی نہ کسی طور ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جو اب بھرپور طور سے باہم جڑی ہوئی ہے اور اس کا کوئی حصہ الگ نہیں رہ سکتا۔ اس میں بہت سی جڑت ہے اور بہت سے قاطع خطوط بھی ہیں، اگر آپ کو مسائل حل کرنا ہیں تو انہیں مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ چنانچہ اس میں کچھ وقت درکار ہو گا۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ مگر آج کی اس انتہائی پیچیدہ دنیا میں سفارتکاری ایسے ہی ہوتی ہے۔ آج کی دنیا بہت سے تنازعات میں گھری ہوئی ہے اور ہماری زندگی کا مقصد ان میں بعض تنازعات کو ختم کرنا ہے۔ میں دفتر خارجہ میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ صبح اٹھ کر میرا خود سے یہ سوال ہوتا ہے کہ ‘آج میں ایک زندگی کیسے بچا سکتا ہوں؟’ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بہت سے تنازعات میں بہت سی جانیں گنوا دی ہیں۔ شکریہ (تالیاں)

سٹیفن ہیڈلے: آپ کو سٹیج پر آ کر اس انتظامیہ کی پالیسیوں کی وضاحت کرتے دیکھنا اچھا لگا۔ میں نے اندرون اور بیرون ملک بہت سفر کیا ہے اور ہر ایک کی زبان پر یہی سوالات تھے کہ ‘فلاں فلاں کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کی کیا پالیسی ہے؟ آپ نے نہایت وضاحت سے اس کا تذکرہ کیا اور میں کہوں گا کہ آپ نے پہلے سے لکھی باتیں پڑھنے کے بجائے فی البدیہہ گفتگو کی جس سے ان مسائل پر آپ کی دسترس کا اندازہ ہوتا ہے۔ چنانچہ  میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں اور آپ کو مزید بات چیت کرتا دیکھنا اچھا تجربہ ہے۔ ملک اور دنیا یہ سننا چاہتی ہے اور آپ سے بہتر اس کی وضاحت کوئی نہیں کر سکتا۔

میں یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے اس تاثر کی نفی کر دی ہے کہ موجودہ انتظامیہ اتحادوں پر یقین نہیں رکھتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے واضح کر دیا ہے کہ اتحاد اس ملک کی منفرد طاقت ہیں جسے آپ اپنی سفارت کاری میں نہایت متحرک طور سے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: ایسا ہی ہے۔

سٹیفن ہیڈلے: داعش کے حوالے سے ریکارڈ نہایت متاثر کن ہے۔ ہمارے پاس 15 منٹ ہیں جس کے بعد وزیرخارجہ نے جانا ہے۔ یہ زیادہ وقت نہیں ہے اور بہت سے سوالات بھی موجود ہیں۔ چنانچہ میں بعض سوالات کو اکٹھا کرنے کی کوشش کروں گا۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: یقیناً

سٹیفن ہیڈلے: ممکن ہے میں تین یا چار سوالات کو اکٹھا کروں۔

چونکہ یہ کانفرنس جنوبی کوریا اور ایشیا سے متعلق ہے اس لیے غالباً ہمیں شمالی کوریا سے آغاز کرنا چاہیے۔ اس موضوع پر میرے پاس قریباً 10 سوالات ہیں۔ ان میں دو باتوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جنہیں میں آپ کے سامنے بیان کروں گا۔ پہلی بات یہ کہ آپ سفارت کاری کے ذریعے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے میں کس قدر پرامید ہیں؟ اور اگر آپ کو اس کی امید ہے تو پھر یہ سفارت کاری کب شروع ہو گی؟ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انتظامیہ کو شمالی کوریا پر دباؤ ڈالے رکھنا چاہیے، پابندیوں میں اضافہ کرنا چاہیے، چین پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ شمالی کوریا کو مجبور کرے اور روس کو شمالی کوریا کے لیے چین متبادل بننے سے باز رکھنا چاہیے۔ امریکی انتظامیہ یہ سب کچھ کر بھی رہی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ اچھا طریق کار ہو مگر آپ کے خیال میں ہم اس سلسلے میں مذاکرات کب شروع کریں گے۔ کیا اس حوالے سے کوئی پیش گوئی ممکن ہے؟ یقیناً لوگوں کو اس پر تشویش ہے۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار ختم کرنے کے لیے مذاکرات نہیں کرے گا۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ صرف اسی صورت میں مذاکرات ہو سکتے ہیں جب شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرے گا۔ آپ اس معاملے پر کیا کہتے ہیں؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ سفارتی عمل کیسے آگے بڑھے گا؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: سب سے پہلے مجھے یہ کہنا ہے کہ اس حوالے سے سفارت کاری جاری ہے۔ یہ عمل جاری ہے۔ درحقیقت شمالی کوریا پر تمام پابندیاں، دباؤ ڈالنے کی مہم بھی سفارت کاری کا ہی حصہ ہے۔ اس کا مقصد شمالی کوریا والوں کو یہ باور کرانا ہے کہ دنیا اسے قبول نہیں کر سکتی اور اگر انہوں نے اپنے اقدامات نہ روکے تو وہ مزید تنہا ہوتے جائیں گے۔ چنانچہ یہ تمام اقدامات بھی سفارت کاری کا حصہ ہیں۔ یہ سفارتی حوالےسے سوچے سمجھے اقدامات ہیں۔ یہ ایسا معاملہ نہیں تھا کہ فون اٹھا کر کم جانگ ان کو کہہ دیا جاتا کہ ہمیں تمہارا جوہری پروگرام پسند نہیں اس لیے اسے ختم کرو اور آؤ بیٹھ کر اس پر بات کرتے ہیں۔

چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے معاملے کا جائزہ لیا اور گزشتہ کوششوں اور بات چیت پر نظر ڈالی۔ صدر نے متعدد مرتبہ جائزہ لیا کہ دوسروں نے کیا کوششیں کیں اور کیونکر ناکام رہے اور یہ بھی دیکھا گیا کہ شمالی کوریا والوں نے ہمیشہ ان مذاکرات سے غلط فائدہ اٹھایا۔ وہ کبھی قابل اعتبار ثابت نہیں ہوئے۔ چنانچہ ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ اس مرتبہ ہم شمالی کوریا پر پابندیوں کی مہم شروع کریں گے تاہم اس کی کامیابی کے لیے وسیع تر عالمی شراکت ضروری تھی۔ یہ محض امریکہ اور چند دیگر لوگوں کا کام نہیں تھا بلکہ اس کے لیے چین اور روس کو بھی سنجیدہ طور سے ساتھ ملایا جانا ضروری تھا۔ یہی چین کے ساتھ بات چیت کی ابتدا بھی تھی اور اس حوالے سے بیشتر فیصلے چین کی اس یقین دہانی کے نتیجے میں ہوئے کہ وہ ہمارے ساتھ ہے۔ ہم نے یہ دیکھا ہے کہ چین شمالی کوریا کے خلاف اقدامات میں پوری طرح ہمارا ساتھ دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فیصلہ موثر ثابت ہو رہا ہے۔

صدر چین کی جانب سے شمالی کوریا کو تیل کی فراہمی بند ہوتے دیکھنا چاہیں گے۔ اس سے پہلے شمالی کوریا والے اسی وقت مذاکرات کی میز پر آئے تھے جب چین نے ان کا تیل بند کیا تھا۔ تین دن بعد شمالی کوریا مذاکرات پر رضامند ہو گیا تھا۔ صدر سمجھتے ہیں کہ اب یہی مرحلہ ہے۔ چنانچہ وہ چین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ تیل کے حوالے سے مزید اقدامات کرے۔

آپ نے پوچھا ہے کہ یہ مذاکرات کب شروع ہوں گے۔ ہم نے کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا مذاکرات پر آمادہ ہو تو ہم کسی بھی وقت مذاکرات شروع کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم پیشگی شرائط کے بغیر پہلی ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک ملاقات کی جائے۔ ابتدائی طور پر ہم عمومی بات چیت کر سکتے ہیں تاہم یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ سکتے ہیں۔ اس دوران ہم بات چیت کا خاکہ ترتیب دے سکتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ بات حقیقت پسندانہ نہیں ہو گی کہ ہم کہیں کہ مذاکرات تبھی ہوں گے جب آپ اپنا جوہری پروگرام ختم کر دیں گے۔ انہوں نے اس پر بہت سی سرمایہ کاری کی ہے اور صدر اس حوالے سے انتہائی حقیقت پسندانہ سوچ کے مالک ہیں۔

چنانچہ معاملہ یوں ہے کہ آپ باہمی رابطہ کیسے شروع کریں گے کیونکہ ہمارے سامنے شمالی کوریا کا نیا رہنما ہے جس سے ہماری پہلے بات چیت نہیں ہوئی۔ واضح طور پر وہ اپنے والد اور دادا سے مختلف ہے اور ہمیں پوری طرح علم نہیں ہے کہ اس سے بات چیت کیسی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ میں کہتا ہوں سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے سامنے کون ہے۔ مجھے شمالی کوریا کے حوالے سے کچھ جاننا ہے۔ مجھے سمجھنا ہے کہ وہ کیسے چلتے ہیں اور کیسے سوچتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے ہمیں بہت سی چیزوں کے بارے میں جاننا ہو گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ آپ میز پر کیا رکھنا چاہیں گے؟ ہم آپ کو بتائیں گے کہ ہمیں میز پر کیا رکھنا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم گفت و شنید کا آغاز کریں۔

اس سلسلے میں ہماری واحد شرط یہ ہو گی کہ اگر آپ نے مذاکرات کے دوران ایک اور ہتھیار کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا تو پھر معاملات مشکل صورت اختیار کر جائیں گے۔ اگر آپ نے بات چیت کے عین درمیان میں ایک نیا میزائل فائر کیا تو پھر مشکل ہو جائے گی۔ چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں سمجھ جانا چاہیے کہ اگر مذاکرات کرنا ہیں تو کچھ دیر توقف درکار ہو گا۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر تعمیری بات چیت بہت مشکل  ہو گی۔ چنانچہ ہم انہیں بتا رہے ہیں کہ انہیں کچھ دیر کے لیے تجربات روکنا ہوں گے۔ آپ کو ہمیں یہ بتانا ہے کہ آپ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ دروازہ کھلا ہے۔ تاہم جب آپ ہمیں بتائیں گے کہ آپ گفت و شنید کے لیے تیار ہیں تبھی بات شروع ہو گی۔

سٹیفن ہیڈلے: درست، اب مجھے آپ سے دوسرا سوال پوچھنا ہے۔ طاقت کے استعمال پر بہت سی باتیں ہوتی رہی ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جزیرہ نما میں طاقت کے استعمال کا امکان 40 فیصد ہے۔ بسا اوقات شرارتاً میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ یہ ایک اشارہ ہے، لوگ اپنے اپنے انداز میں صدر کی پالیسیوں کی کامیابی کا اندازہ لگا رہے ہیں کیونکہ انہوں نے لوگوں کو واقعتاً قائل کر لیا ہے کہ اس مسئلے کا حل ضروری ہے اور یہ شمالی کوریا اور چین دونوں کی توجہ حاصل کرنے کا ایک حصہ ہے۔ دوسری جانب بہت سے لوگ جنہوں نے خطرات اور خدشات کی بات کی ہے وہ کہتے ہیں کہ کم جانگ ان تنہا ہو چکے ہیں اور وہ سوچ سکتے ہیں کہ امریکہ ان پر حملہ کرنے والا ہے اس لیے وہ پہلے ہی کوئی جارحانہ کارروائی کر سکتے ہیں۔ چنانچہ جب آپ کے ترجمان یہ کہتے ہیں کہ شمالی کوریا کے معاملے میں فوجی کارروائی کا امکان بھی موجود ہے تو ایسے میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ یہ امکان کس قدر ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں سمجھتا ہوں کہ اس نوعیت کی کسی بھی کامیاب سفارت کوشش کے پیچھے کسی طرح کا عسکری متبادل ہونا ضروری ہے اور یہ محض ڈراوا نہیں بلکہ اسے قابل اعتبار متبادل ہونا چاہیے۔ صدر نے بھی ابتدا ہی سے یہی بات کہی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں آپ روک کی پالیسی پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے روس، چین اور دوسروں کے ساتھ بھی تو یہی پالیسی روا رکھی ہے۔ دراصل فرق یہ ہے کہ شمالی کوریا کا ماضی کا رویہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کو صرف ڈیٹرنس کے طور پر نہیں رکھے گا۔ یہ ان کے لیے تجارتی سرگرمی بن سکتی ہے۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ انہوں نے جوہری صلاحیت کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ ایسی دنیا میں ہم اس چیز کو قبول نہیں کر سکتے جہاں غیرریاستی کردار ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ سوویت یونین اور چین کا یہ معاملہ نہیں تھا۔ جوہری ہتھیاروں کے حامل دوسرے ممالک کا بھی یہ رویہ نہیں ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو مخصوص عالمگیر روایات کی پاسداری کرتے ہیں۔ شمالی کوریا کا ایسا کوئی کردار نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کا ریکارڈ ان ممالک سے برعکس ہے۔ اسی لیے صدر اور میں اس بات پر متفق ہیں کہ جوہری ہتھیاروں سے مسلح شمالی کوریا ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سفارتی کوششوں کے پیچھے انتہائی قابل اعتبار عسکری متبادل ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ ہمارے پاس فوجی کارروائی کے حوالے سے بہت سے امکانات ہیں کہ اگر میں ناکام ہوا تو ان سے کام لیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں کہتا ہوں ہم کڑی محنت کر رہے ہیں تاکہ ناکامی کی گنجائش نہ بچے۔ صدر بھی یہی چاہتے ہیں اور انہوں نے ہماری سفارتی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ وہ امریکہ اور ہمارے اتحادیوں کو اس قسم کے خطرے سے بچانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور یہ امر یقینی بنانے کے خواہش مند ہیں کہ شمالی کوریا کے پاس ایسے قابل استعمال ہتھیار نہ ہوں جو امریکی سرزمین تک پہنچ سکیں۔

سٹٰیفن ہیڈلے: ہمارے پاس وقت ختم ہو رہا ہے اور بہت سے موضوعات پر بات چیت باقی ہے۔ میں اسی موضوع پر رہتے ہوئے آپ سے دو باتوں کے جواب چاہوں گا جس کے بعد ہم اپنی بات ختم کریں گے۔ میرا پہلا سوال چین سے متعلق ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ چین کو خطرہ ہے کہ اگر اس نے شمالی کوریا پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا تو وہاں حکومت گر سکتی ہے اور اس کا مطلب یہ ہو گا کہ مہاجرین کی بہت بڑی تعداد سرحد کا رخ کرے گی اور ہو سکتا ہے امریکی اور جنوبی کوریائی فوجیں شمالی کوریا میں داخل ہو جائیں۔ بہت سے لوگ چین کے ساتھ اعلیٰ سطح پر تزویراتی گفت و شنید کی بات کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ایسا ہونے کی صورت میں کیا کچھ ہو سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس حوالے سے کیا امکانات ہو سکتے ہیں؟ کیا امریکہ چین تعلقات اس سطح پر موجود ہیں کہ ایسی بات چیت ہو سکے؟ دوسری بات یہ کہ ہم نے روس کا تذکرہ نہیں کیا کہ اگر چین شمالی کوریا پر زیادہ دباؤ ڈالتا ہے اور اس کے وسائل پر روک لگا دیتا ہے تو روس شمالی کوریا کی مدد کو آ سکتا ہے۔ کیا اس کوشش میں روس کسی ایک جانب کھڑا ہے؟ کیا آپ شمالی کوریا کے حوالے سے روس کے ساتھ سفارت کاری پر کچھ کہیں گے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: پہلے میں چین سے متعلق سوال کا جواب دینا چاہوں گا۔ وزیر ماٹس اور میری جانب سے چینیوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی بات چیت اور سفارتی و تزویراتی گفت و شنید میں جوائنٹ چیف آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈنفورڈ اور ان کے ہم منصب چینی بھی موجود تھے۔ یہ اس بات چیت کے موضوعات ہیں اور سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہے کہ اگر شمالی کوریا میں حکومت گرتی ہے تو چین کی جانب سے پناہ گزینوں کے اپنے ملک میں داخلے کے خدشات کس قدر قابل اعتبار ہیں۔ چین ایسی صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس سے وہ نمٹ سکتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس حوالے سے اتنا بڑا خطرہ پایا جاتا ہے۔ میں اس سے انکار نہیں کرتا مگر یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے حل نہ کیا جا سکتا ہو۔ چنانچہ وہ اس ضمن میں پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔

ہم نے چین سے پہلے ہی یہ بات کی ہے کہ ایسی صورتحال پیش آنے کی صورت میں کیا ہو سکتا ہے۔ اگر شمالی کوریا میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو جوہری ہتھیاروں کو محفوظ بنانا ہماری پہلی ترجیح ہو گی تاکہ یہ ہتھیار ایسے لوگوں کے ہاتھ نہ لگ سکیں جو انہیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے اس حوالے سے بھی چین کے ساتھ بات چیت کی ہے۔

میں نے ایشیا کے اپنے پہلے دور میں چار باتیں واضح کر دی تھیں کہ ہم شمالی کوریا میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے، ہم وہاں حکومت گرانے کے خواہش مند نہیں ہیں، ہم فوری طور پر دونوں کوریاؤں کا اتحاد نہیں چاہتے اور ہمیں غیرفوجی علاقے سے شمال میں اپنی فوجیں بھیجنے کے لیے کسی بہانے کی تلاش نہیں ہے۔ اگر ایسی صورتحال پیش آئی کہ ہمیں لکیر سے اس پار جانا پڑا تو ہم نے چین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ خواہ جیسے بھی حالات ہوں ہم جنوب کی جانب واپس آ جائیں گے۔ ہم نے ان سے یہی وعدہ کیا ہے۔

ہمارا واحد مقصد جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا ہے اور اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں چاہتے۔ اس بات چیت کے نتیجے میں ہم شمالی کوریا کے لوگوں کے لیے ایک مختلف مستقبل تخلیق کر سکتے ہیں کیونکہ فی الوقت ان کا مستقبل بے حد مخدوش ہے۔

جہاں تک روس کا تعلق ہے تو اس نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پرزور حمایت کی ہے۔ وہ انہیں ویٹو کر سکتے تھے۔ وہ انہیں روک سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ جہاں تک پابندیوں پر عملدرآمد کا معاملہ ہے تو یہ واضح نہیں ہے کہ ان پر مکمل طور سے کیسے عمل ہو سکتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان پابندیوں کی بعض خلاف ورزیاں بھی ہوئی ہیں۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ روسی وزیرخارجہ لاورو سے مخصوص مسائل پر میری بہت سی بات چیت ہوئی ہے اور ہم انہیں کہیں گے کہ وہ ایسی خلاف ورزی نہ کریں۔ جبری مزدوری ان میں سے ایک ہے۔ اس وقت شمالی کوریا کے قریباً 35 ہزار لوگ روس میں کام کر رہے ہیں جو کہ بہت بڑی تعداد ہے۔ روس میں مزدورں کی قلت ہے۔ وہاں ملک کے ملک کے مشرقی حصے میں معاشی پیش رفت ہو رہی ہے۔ چنانچہ میں اس کی وجہ سمجھ سکتا ہوں۔ تاہم اس سے پابندیوں پر موثر طور سے عملدرآمد میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ چنانچہ ہم نے اپنے روسی ہم منصب سے اس بابت خاص طور پر بات کی۔

مجموعی طور پر سلامتی کونسل میں انہوں نے پابندیوں کی حمایت کی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان میں بعض پابندیاں کیسے موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم اس معاملے میں ہمیں روس کی معاونت درکار ہے۔ جب ہم اس نکتے پر پہنچے کہ ہمیں اس مسئلے کا حل نکالنا ہے تو ہمیں ہمسایوں میں سبھی سے معاونت درکار ہو گی۔ یقیناً یہ اہم بات ہے، سب سے پہلے جمہوریہ کوریا میں ہمارے اتحادیوں کے حوالے سےاس کی اہمیت ہے  تاہم یہ جاپان، روس اور چین کے لیے بھی اہم ہے، ہر کوئی ہماری سفارتی بات چیت کی کامیابی میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

سٹیفن ہیڈلے: اب ہمارا پروگرام اختتام کو پہنچتا ہے۔ میں اپنے کوریائی شرکا اور شراکت دار کوریا فاؤنڈیشن اور یقیناً اٹلانٹک کونسل کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ خاص طور پر میں ڈاکٹر مائی اون او کا مشکور ہوں جنہوں نے آج اس بات چیت کے اہتمام  میں شاندار کردار ادا کیا۔ میں تمام شرکا ء کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ براہ کرم وزیرخارجہ سے اظہار تشکر کے لیے بھی میرا ساتھ دیجیے جو آج یہاں تشریف لائے (تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں