rss

وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کا شمالی کوریا کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بیان

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国), Indonesian Indonesian

وزیرخارجہ ریکس ٹِلرسن

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شمالی کوریا میں بیان

15 دسمبر 2017

 

 

سہ پہر کا سلام اور آج یہاں بات کرنے کا موقع دینے پر آپ کا شکریہ۔ امریکہ کی جانب سے، میں جاپان اور وزیر خارجہ کونو کا شمالی کوریا کے روزافزوں خطرے کے بارے میں یہ وزارتی اجلاس بلانے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

صدر ٹرمپ نےاپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد شمالی کوریا کی امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑے خطرے کے طور پر نشاندہی کی تھی۔ اُن کا آج بھی یہی فیصلہ ہے۔

29 نومبر کے بین البراعظمی میزائل کے داغنے کے بعد، شمالی کوریا نے یہ دعوٰی کیا تھا کہ اب اُس کی پاس اتنی استعداد ہے کہ وہ براعظم امریکہ کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنا سکے۔ شمالی کوریا کی روز افزوں استعدادیں ہماری سلامتی اور دنیا کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ہم اس دعوے کو خالی دھمکی نہیں سمجھتے۔

شمالی کوریا کی حکومت کے مسلسل میزائل داغنے اور اس کی تجرباتی سرگرمیاں اس کی امریکہ، ایشیا میں اس کے ہمسایوں اور اقوام متحدہ کے تمام اراکین کے لیے حقارت کا پتہ دیتی ہیں۔

 ایسے خطرے کا سامنا کرتے ہوئے، کسی بھی قوم کی عدم کاروائی ایک ناقابل قبول عمل ہے۔ سلامتی کونسل کی ٹھوس قراردادوں کے ایک سلسلے کے ذریعے، اس ادارے نے شمالی کوریا کے غیرقانونی جوہری اور میزائل پروگراموں کی مذمت کرنے اور اس کے نتائجہ بھگتنے کے لیے پابندیاں لگانے میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اپنے اس مصمم ارادے پر قائم ہے کہ وہ جوہری شمالی کوریا کو قبول نہیں کرے گی۔

اقوام متحدہ کے ہر رکن ملک کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی موجودہ قراردادوں کو بہر صورت نافذ کرنا چاہیے۔ جن ممالک نے ایسا نہیں کیا یا جو سلامتی کونسل کی قراردوں پر عمل درآمد کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اُن کی یہ ہچکچاہٹ یہ سوال اٹھاتی ہے کہ آیا آپ کا ووٹ محض لفظی عزم ہے یا عملی اقدامات کا عزم ہے۔ جن ممالک نے عملی اقدامات نہیں اٹھائے، میں اُن پر زور دیتا ہوں کہ وہ اِس شدید اور عالمی خطرے کی روشنی میں اپنے مفادات، اپنی وفاداریوں، اور اپنی اقدار پر غور کریں۔

ہمیں یقین ہے کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں ڈی پی آر کے [شمالی کوریا] کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کے کم از کم لوازمات کو پورا کرنے سے بڑھکر اور بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے اور ہر صورت ایسا کیا جانا چاہیے۔ گزشتہ موسم بہار میں، امریکہ نے شمالی کوریا کے خلاف ایک پُرامن اقتصادی اور سفارتی دباؤ کی مہم کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد شمالی کوریا کے لیے ایسے حالات پیدا کرنے تھے جن کے تحت اِس کے ساتھ مکمل، قابل تصدیق، اور اُس کے جوہری ہتھیاروں کے پروگراموں کو مستقل طور پر ختم کرنے کی خاطر سنجیدہ مذاکرات کرنا تھا۔ ہمارا اس مہم کو جاری رکھنے کا عزم آج پہلے سے کہیں زیادہ بڑھکر ہے۔ گزشتہ برس کے دوران امریکہ کے بہت سے اتحادی اور شراکتدار سلامتی کونسل کی قراردادوں کی تعمیل سے کہیں آگے تک جاکر، ہماری اس مہم میں شامل ہوئے۔ ہمارا اِن ممالک سے یہ کہنا ہے کہ وہ یکطرفہ اقدامات کے ذریعے اس دباؤ کو جاری رکھیں۔ ایسا کرنے سے شمالی کوریا سیاسی اور اقتصادی طور پر مزید تنہا ہوگا جس کے نتیجے میں اُس کے جوہری اور میزائلوں کے غیرقانونی پروگراموں کی حمایت اور مالی وسائل ختم ہو جائیں گے۔

ہم خاص طور پر روس اور چین سے دباؤ میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سے بڑھکر اقدامات شامل ہیں۔ شمالی کوریا کے مزدوروں کو اُن اجرتوں کے بدلے روس کے اندر غلامانہ حالات میں مشقت کرنے کی اجازت دیئے رکھنا جن سے جوہری ہتھیاروں کے پروگراموں کے لیے مالی رقومات دستیاب ہوتی ہیں، روس کے امن کے ایک شراکتدار کی حیثیت سے خلوص پر سوال اٹھاتا ہے۔ اسی طرح جب چین کا خام تیل شمالی کوریا کے تیل صاف کرنے کے کارخانوں میں پہنچتا ہے تو امریکہ چین کے ایک ایسے مسئلے کو حل کرنے کےعزم پر سوال اٹھاتا ہے جو اُس کے اپنے شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے اپنے اندر سنجیدہ پیچیدگیاں لیے ہوئے ہے۔

حال ہی میں شمالی کوریا کی حکومت نے اقوام متحدہ کی پابندیوں کو عورتوں اور بچوں کے لیے ضرر رساں قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ مگر یہ ایک ایسی حکومت ہے جو منافقانہ طور پر جوہری اور بیلسٹک میزائل کے پروگراموں پر اربوں خرچ کرتی ہے جبکہ اس کے عوام شدید غربت کا شکار ہیں۔ یہ حکومت اگر اپنے عوام کی فلاح و بہبود کو ہتھیاروں کی تیاری پر فوقیت دینے کا انتخاب کرتی تو یہ عورتوں، بچوں، اور شمالی کوریا کے عام شہریوں کو خوراک مہیا کر سکتی تھی اور اِن کی دیکھ بھال کر سکتی تھی۔ ڈی پی آر کے کی حکومت کو دو میں سے ایک راہ کا انتخاب کرنا ہے: یا و ہ اس راہ سے واپس آسکتی ہے، جوہری ہتھیاروں کے اپنے غیر قانونی پروگرام ترک کر سکتی ہے اور اقوام کی برادری میں شامل ہو سکتی ہے۔ یا پھر یہ اپنے عوام کو غربت اور تنہائی میں دھکیل سکتی ہے۔ عوام کی بھلائی کی حتمی  ذمہ داری پیانگ یانگ کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

شمالی کوریا دعوٰی کرتا ہے کہ  اس کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام  اس کی حکومت کی بقا کے لیے اٹھایا جانے والا ایک ضروری قدم ہے۔ یہ انتخاب کرکے شمالی کوریا نے اپنے آپ کو کم محفوظ، اور اپنی معیشت کو الگ تھلگ اور بین الاقوامی معیشت سے کاٹ کر رکھ  دیا ہے۔

ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہمارے پاس تمام راستے کھلے ہیں۔ تاہم نہ تو ہماری کوشش ہے اور نہ ہی ہم شمالی کوریا کے ساتھ جنگ چاہتے ہیں۔ امریکہ شمالی کوریا کی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔ تاہم ہمیں بدستور یہ امید ہے کہ سفارت کاری کے نتیجے میں کوئی حل نکل آئے گا۔ جیسا کہ میں نے اس ہفتے کے شروع میں کہا، اس سے پہلے کہ بات چیت شروع ہو، شمالی کوریا کے دھمکی آمیز رویے کا پائیدار خاتمہ ہونا لازمی ہے۔ شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز پر واپسی کے راستے کا اپنے آپ کو بہر صورت حقدار ثابت کرنا ہوگا۔ دباؤ کی مہم کو لازماً اس وقت تک جاری رہنا چاہیے، اور جاری رہے گی جب تک جوہری ہتھیار ختم نہیں ہو جاتے۔ اسی اثنا میں ہم نے رابطے کے تمام ذرائع کھلے رکھ چھوڑے ہیں۔

ہمارا آج کا پیغام وہ پیغام ہے جو یہ ادارہ پہلے بھی سن چکا ہے اور ایک ایسا پیغام ہے جسے ہم دہراتے رہیں گے: یعنی امریکہ پیانگ یانگ کی حکومت کو دنیا کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ہم آج اور مستقبل میں، شمالی کوریا کو اپنا غیرذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز رویہ جاری رکھنے پر قابل احتساب ٹھہراتے رہیں گے۔ ہمارا یہاں پر موجود ہر ایک قوم سے یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کی سلامتی کی خاطر اپنی عملداری کے استعمال میں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔ ہمارا آپ سب سے یہ کہنا ہے کہ جزیرہ نمائے کوریا کو مکمل اور قابل تصدیق طور پر جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مقصد کے حصول کی متحدہ کاوش میں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔ آپ کا شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں