rss

یروشلم پرسلامتی کونسل کی قرارداد کا مسودہ ویٹو کیے جانے کے بعد رائے کی وضاحت

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Español Español

امریکی مشن برائے اقوام متحد
دفتر اطلاعات و عوامی سفارت کاری
اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل سفیر نکی ہیلی کا خطاب
نیویارک سٹی

 

 

شکریہ جناب صدر!

مجھے اقوام متحدہ میں امریکی نمائندگی پر فخر ہے اور اب مجھے یہ ذمہ داری نبھاتے قریباً ایک سال ہو چکا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ میں نے سلامتی کونسل میں ویٹو کا امریکی حق استعمال کیا۔ امریکہ اکثروبیشتر ویٹو نہیں کیا کرتا۔ ہم نے قریباً چھ برس سے یہ حق استعمال نہیں کیا تھا۔ ہمیں ایسا کرتے ہوئے کوئی خوشی نہیں ہوتی مگر ایسا کرتے ہوئے ہمیں کوئی تذبذب بھی نہیں ہوتا۔

ہم نے یہ ویٹو امریکی خودمختاری اور مشرق وسطیٰ کے امن عمل میں امریکی کردار کے تحفظ میں کیا جس پر ہمیں کوئی شرمندگی نہیں۔ یہ بقیہ سلامتی کونسل کے لیے شرمندگی کی بات ہونی چاہیے۔

جیسا کہ 10 روز قبل اس موضوع پر بات چیت کے دوران میں نے نشاندہی کی تھی اسی طرح میں ایک مرتبہ پھر یروشلم کے حوالے سے صدر کے بیان کے چیدہ نکات کی وضاحت کروں گی۔ صدر نے کمال احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے یروشلم میں اسرائیلی خودمختاری سے متعلق مخصوص حدود سمیت جاری مذاکرات پر قبل ازوقت کوئی فیصلہ نہیں لیا۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ صرف دونوں فریقین کی بات چیت میں ہی ہونا ہے۔ صدر کا یہ موقف سلامتی کونسل کی گزشتہ قراردادوں سے پوری طری موافقت رکھتا ہے۔

صدر نے بالااحتیاط طور سے یہ بھی کہا کہ ہم یروشلم کے مقامات مقدسہ کے حوالے سے جوں کی توں صورتحال کی حمایت کرتے ہیں اور اگر فریقین رضامند ہوں تو اس مسئلے کے دو ریاستی حل کے حامی ہیں۔ میں یاد دہانی کراتی چلوں کہ یہ موقف سلامتی کونسل کی گزشتہ قراردادوں سے پوری طرح مطابقت رکھتے ہیں۔

یہ بے حد افسوسناک امر ہے کہ بعض عناصر اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے صدر کے موقف کو توڑموڑ کر پیش کر رہے ہیں۔

بعض لوگوں کو یہ مسئلہ نہیں، جیسا کہ وہ کہتے ہیں امریکہ نے امن عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔ درحقیقت ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس کے بجائے بعض لوگوں کو اس بات سے مسئلہ ہے کہ امریکہ کے پاس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرنے کی ہمت اور دیانت موجود ہے۔ یروشلم ہزاروں سال سے یہودیوں کا سیاسی، ثقافتی اور روحانی مرکز رہا ہے۔ ان کے پاس کوئی اور ایسا مرکزی شہر نہیں ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے یروشلم کو جدید اسرائیلی حکومت کا مرکز تسلیم کرنے سے بعض لوگوں کو بے حد تکلیف پہنچی ہے۔

بعض نے گلیوں میں تشدد پھیلنے سے ڈرایا جیسے تشدد سے امن کے امکانات بہتر ہو جائیں گے۔ آج بعض لوگ سفارتی زبان میں امریکہ کو یہ بتا رہے ہیں کہ ہمارا سفارت خانہ کہاں ہونا چاہیے۔ یہ تعین کرنا امریکہ کا آزادانہ حق ہے کہ اس کا سفارت خانہ کہاں ہو گا۔ میرا اندازہ ہے کہ بہت کم ممالک اپنے آزادانہ حق کی بابت ارکان سلامتی کونسل کی جانب سے کسی اعلان کو قبول کریں گے۔ مجھے بعض ایسے ممالک کا خیال آتا ہے جنہیں اس سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ یہ امریکہ کا نیا موقف نہیں ہے۔ 1980 میں جب جمی کارٹر امریکی صدر تھے تو سلامتی کونسل نے قرارداد 478 پر رائے دی تھی جس میں سفارتی مشنز کو یروشلم سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ امریکہ نے قرارداد 478 کی حمایت نہیں کی تھی۔

اس وقت کے امریکی وزیرخارجہ ایڈماسکی نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ‘ہمارے سامنے موجود قرارداد کا مسودہ اس فکر کا آئینہ دار ہے جس نے مشرقی وسطیٰ کے مسائل پر اس غیرمتوازن اور غیرحقیقی متن کے سلسلے کو جنم دیا’

خاص طور پر یروشلم میں سفارتی مشنز کے حوالے سے وزیر ماسکی کا کہنا تھا ‘ہمارے مطابق یہ لازمی نہیں ہے۔ یہ بلاجبر ہے۔ ہم اسے دوسرے ممالک پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی خلل انگیز کوشش کے طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اس سے اسرائیل اور اس کے ہمسایوں کو درپیش مشکل مسائل کے حل میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ اس کا امن کے فروغ سے کوئی واسطہ نہیں’

یہ 1980 کی بات ہے۔ آج بھی یہی سچ ہے۔ کوئی ملک امریکہ کو یہ نہ بتائے کہ ہمیں اپنا سفارت خانہ کہاں قائم کرنا چاہیے۔

اس قرارداد کے پیچھے یہ الزام دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات کو پس پشت ڈال رہا ہے۔ یہ ایک بیہودہ الزام ہے۔ جو لوگ یہ الزام عائد کر رہے ہیں انہیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ ان کی بات سے صرف ان فلسطینی عوام کو نقصان پہنچے گا جن کے لیے وہ بات کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مذاکرات کا راستہ بند کرنے سے یہ رہنما فلسطینی عوام کے لیے کیا حاصل کر لیں گے؟

ایسا ‘امن عمل’ جسے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے نقصان پہنچے وہ امن عمل نہیں کہلا سکتا ۔ یہ محض لامحدود تعطل کا جواز ہے۔ بعض فلسطینی رہنما امریکہ پر امن دشمنی کا الزام عائد کر کے فلسطینی عوام کے لیے کیا حاصل کر لیں گے؟ اس سے انہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا اور وہ الٹا نقصان اٹھائیں گے۔

امریکہ نے فلسطینی عوام کی مدد کے لیے کسی بھی دوسرے ملک سے بڑھ کر کام کیا ہے۔ 1994 سے اب تک ہم دوطرفہ معاشی معاونت، سلامتی اور انسانی امداد کی مد میں 5 ارب ڈالر سے زیادہ رقم دے چکے ہیں۔

فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی پورے خطے میں سکول اور طبی مراکز چلا رہی ہے۔ اسے قریباً تمام تر مالیات رضاکارانہ عطیات سے حاصل ہوتی ہے۔ گزشتہ برس امریکہ نے رضاکارانہ طور سے ‘یواین آر ڈبلیو اے’ کے بجٹ میں قریباً 30 فیصد حصہ ڈالا۔ یہ اگلے دو بڑے عطیہ دہندگان کی دی ہوئی مجموعی رقم سے بھی بڑی امداد ہے۔ یہ اس کونسل کے بعض ارکان کے عطیے سے بھی بڑی رقم ہے جن کے پاس مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں۔

میں کھل کر بات کروں گی۔ جب امریکہ عوام ایسے ممالک کو دیکھتے ہیں جن کی جانب سے فلسطینی عوام کے لیے مجموعی مدد ‘یواین آرڈبلیو اے’ کے بجٹ کے ایک فیصد سے بھی کم ہے، جب وہ ان ممالک کو امریکہ پر امن عمل سے پہلو تہی کا الزام عائد کرتے دیکھتے ہیں تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔

میں فلسطینی مہاجرین کے کیمپوں میں گئی ہوں جو امریکی مدد سے چل رہے ہیں۔ وہاں میں مردوخواتین اور بچوں سے ملی۔ میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ ان کے رہنما امن مذاکرات ترک کر کے ان کی کوئی مدد نہیں کر رہے۔

امریکہ مشرقی وسطیٰ میں امن کے لیے جس قدر پرعزم ہے اتنا پہلے کبھی نہ تھا۔ ہم صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے سے قبل بھی اتنے ہی پرعزم تھے اور آج بھی اسی قدر پرعزم ہیں۔

آج سلامتی کونسل میں ہماری توہین ہوئی ہے۔ ہم اسے نہیں بھولیں گے۔ یہ اقوام متحدہ کی جانب سے اسرائیل فلسطین تنازع حل کرنے کے بجائے اس مسئلے کو نقصان پہنچانے کی ایک اور مثال ہے۔

آج اپنا سفارت خانہ قائم کرنے کی سادہ سی بات پر امریکہ کو اپنی خودمختاری کا تحفظ کرنا پڑ گیا۔ ریکارڈ سے ظاہر ہو گا کہ ہم نے یہ قدم نہایت فخریہ طور سے اٹھایا۔ آج اسرائیل کے دارالحکومت کی بابت ایک بنیادی سچائی کا اعتراف کرنے پر ہمیں امن عمل کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ ریکارڈ سے اس امر کا اظہار ہو گا کہ ہم نے اس توہین آمیز دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔

انہی وجوہات کی بنا پر اور اسرائیلی و فلسطینی عوام کے مفادات مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیتا ہے۔

شکریہ


اصل مواد دیکھیں: https://usun.state.gov/remarks/8222
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں