rss

امریکی حکومت کی قومی سلامتی سے متعلق حکمت عملی پر صدر ٹرمپ کا بیان

العربية العربية, English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Indonesian Indonesian

وائٹ ہاؤس
دفتر ترجمان
رونلڈ ریگن بلڈنگ اینڈ انٹرنیشنل ٹریڈ سنٹر
واشنگٹن ڈٰی سی
2:03 سہ پہر

صدر: آپ کا بے حد شکریہ، میں نائب صدر پنس اور اپنی کابینہ کے ارکان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو آج یہاں ہمارے ساتھ موجود ہیں۔

میں اپنے مقصد سے جڑے فوجی، سویلین اور نفاذ قانون کے اداروں سے متعلق تمام پیشہ ور لوگوں کا بھی مشکور ہوں جو اپنی زندگیاں ہماری قوم کی خدمت کے لیے وقف کرتے ہیں۔ خاص طور پر میں جنرل ڈنفورڈ اور جوائٹ چیفس آف سٹاف کے ارکان کی قدرافزائی کرتا ہوں۔ شکریہ، شکریہ، شکریہ (تالیاں)

مزیدبراں ایوان میں اکثریتی رہنما کیون میکارتھی، داخلی سلامتی کے چیئرمین مائیک میککال اور سینیٹ میں اکثریتی وہپ جان کورنن کی یہاں موجودگی ہمارے لیے اعزاز ہے۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ یہاں تشریف لانے پر شکریہ، شکریہ، شکریہ (تالیاں)

آغاز میں مجھے واشنگٹن ریاست میں ٹرین حادثے کے متاثرین سے دلی ہمدردی اور ان کے لیے خلوص دل سے دعا کرنی ہے۔ ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور مقامی حکام سے رابطے میں ہیں۔ اس واقعے سے اس بات کی اہمیت ثابت ہوتی ہے کہ ہمیں امریکہ میں تنصیبات کو فوری طور پر بہتر بنانا ہے۔

آج ہم یہاں جس معاملے پر بات کے لیے جمع ہوئے ہیں وہ ہم سب کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ امریکہ کی سلامتی، خوشحالی اور دنیا میں اس کے مقام و مرتبے کا معاملہ ہے۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم کیا تھے، اب کہاں ہیں اور بالاآخر آنے والے برسوں میں ہماری حکمت عملی کیا ہو گی۔

گزشتہ 11 ماہ کے دوران میں نے 13 ممالک کے دورے میں ہزاروں میل سفر کیا۔ اس دوران میں دنیا میں 100 سے زیادہ ممالک کے رہنماؤں سے ملا۔ میں نے امریکی پیغام سعودی عرب کے ایوان اعلیٰ، وارسا کے عظیم چوک، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور جزیرہ نما کوریا میں جمہوریت کے مرکز میں پہنچایا۔ ہر جگہ امریکی عوام کی نمائندگی میرے لیے اعلیٰ ترین حیثیت اور بہت بڑے اعزاز کی بات تھی۔

اپنی پوری تاریخ میں امریکی عوام ہمیشہ امریکی عظمت کا حقیقی منبع رہے ہیں۔ ہمارے لوگوں نے اپنی ثقافت اور اقدار کو فروغ دیا ہے۔ امریکی دنیا بھر کے جنگی میدانوں میں لڑے اور قربانیاں دی ہیں۔ ہم نے اسیر اقوام کو رہائی دلائی، سابقہ دشمنوں کو بہترین دوستوں میں تبدیل کیا اور زمین پر پورے خطوں کو غربت سے نکال کر خوشحالی کی راہ پر ڈالا۔

اپنے عوام کی بدولت ہی امریکہ دنیا کی تاریخ میں امن اور انصاف کی عظیم ترین قوتوں میں شمار ہوتا چلا آیا ہے۔ امریکی عوام فیاض ہیں۔ آپ پرعزم، بہادر، مضبوط اور دانشمند ہیں۔

جب امریکی عوام بولتے ہیں تو ہم سب کو سننا چاہیے۔ ایک سال قبل ہی آپ لوگ باآواز بلند اور واضح طور سے بولے تھے۔ 8 نومبر 2016 کو آپ نے امریکہ کو دوبارہ عظیم ملک بنانے کے لیے ووٹ دیا (تالیاں) آپ نے نئی قیادت، نئی حکمت عملی اور نئی پرشکوہ امید کو گلے لگایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم یہاں موجود ہیں۔

تاہم مستقبل کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں سب سے پہلے ماضی کی ناکامیوں کا ادراک کرنا ہو گا۔ کئی سال تک ہمارے شہریوں نے واشنگٹن کے سیاست دانوں کو ایک کے بعد دوسری مایوسی لاتے دیکھا۔ ہمارے بہت سے رہنما یہ بھول گئے کہ انہوں نے کون سی آوازوں پر کان دھرنا ہے اور کون سے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ واشنگٹن میں ہمارے رہنماؤں نے تباہ کن تجارتی معاہدے کیے جن کے نتیجے میں بہت سے دوسرے ممالک کو بھاری منافع ہوا اور ہزاروں امریکی کارخانے اور لاکھوں امریکی نوکریاں دوسرے ممالک کو چلی گئیں۔

ہمارے رہنما بیرون ملک اقوام کی تعمیر میں مصروف رہے جبکہ اندرون ملک اپنی ہی قوم کی تعمیر اور اسے بہتر بنانے میں ناکام رہے۔ ناکافی وسائل، غیرمستحکم مالیات اور غیرواضح مقاصد کے باعث انہوں نے ہماری فورسز کے مردوخواتین کے لیے فرائض کی موثر طور سے ادائیگی مشکل بنا دی۔ وہ یہ کہنے میں بھی ناکام رہے کہ عموماً ہمارے انتہائی امیر اتحادی بھی دفاعی مد میں اپنا پورا حصہ نہیں ڈالتے جس سے امریکی ٹیکس دہندگان اور ہماری عظیم فوج پر ناجائز بوجھ پڑتا ہے۔

انہوں نے شمالی کوریا میں جوہری خطرے سے صرف نظر کیا، ایران سے تباہ کن، کمزور اور ناقابل فہم طور سے برا معاہدہ کیا اور داعش جیسے دہشت گردوں کو مشرق وسطیٰ میں بڑے بڑے خطوں پر قابض ہونے کی اجازت دی۔

انہوں نے امریکی توانائی کو جامد کر کے رکھ دیا۔ انہوں نے کڑے ضوابطے اور محصولات عائد کیے۔ انہوں نے ہماری خودمختاری دور دراز ممالک کی افسرشاہی کو سونپ دی۔

ہمارے سیاست دانوں نے ہماری سرحدیں کھلی چھوڑ دیں۔ لاکھوں تارکین وطن غیرقانونی طور پر امریکہ آ گئے۔ لاکھوں مزید لوگوں کو اپنی سلامتی اور معیشت کے تحفط کے لیے مناسب جائزے کے عمل سے گزارے بغیر امریکہ داخل کر لیا گیا۔ واشنگٹن میں بیٹھے رہنماؤں نے ملک پر ایک ایسی امیگریشن پالیسی مسلط کی جس کے لیے امریکہ عوام نے کبھی ووٹ نہیں دیے تھے اور جس کی انہوں نے کبھی توثیق نہیں کی تھی۔ یہ وہ پالیسی تھی جس کے تحت غلط لوگوں کو ہمارے ملک میں داخلے کی اجازت مل گئی جبکہ درست لوگوں کو یہاں آنے سے روک دیا گیا۔ حسب معمول امریکی شہریوں کو ہی اس کی قیمت چکانا پڑی۔

سب سے بڑھ کر یہ ہوا کہ ہمارے رہنماؤں نے امریکی اصول پس پشت ڈال دیے۔ انہوں نے امریکی عظمت پر اپنا اعتقاد کھو دیا۔ نتیجتاً ہمارے شہریوں نے بھی کچھ کھو دیا۔ لوگ اپنی حکومت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کھو بیٹھے۔

مگر گزشتہ برس یہ سب کچھ تبدیل ہونا شروع ہوا۔ امریکی عوام نے ماضی کی ناکامیوں کو مسترد کر دیا۔ آپ نے اپنی آواز دوبارہ پائی اور اس قوم اور اس کا مقدر دوبارہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

20 جنوری 2017 کو میں اس دن کی منادی کے لیے کیپیٹل ہل کی سیڑھیوں پر کھڑا ہوا جب لوگ اپنے ملک کے دوبارہ حکمران بن گئے تھے (تالیاں) شکریہ۔ اب ایک سال سے بھی کم وقت میں مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ پوری دنیا نے یہ خبر سن لی ہے اور اس کے آثار بھی دکھائی دینا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکہ واپس آ رہا ہے اور امریکہ مضبوط ہو کر واپس آ رہا ہے۔

میں نے اپنی تقریب حلف برداری میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ ایک سادہ اصول کی جانب مراجعت کرے گا۔ ہماری حکومت کا پہلا فرض اپنے شہریوں کی خدمت کرنا ہے جن میں بہت سوں کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ تاہم اب وہ نظرانداز شدہ نہیں رہے۔ اب ہم ہر فیصلے اور ہر عمل کے ساتھ امریکہ کے مفاد کو مقدم رکھ رہے ہیں۔

ہم اپنے ملک، اپنے اعتماد اور دنیا میں اپنے مقام و مرتبے کی تعمیرنو کر رہے ہیں۔ ہم تیزی سے اپنے مسائل سے نمٹنے کے قابل ہوئے ہیں اور ہم نے مقابل آ کر ان کا سامنا کیا ہے۔

ہم ایک مرتبہ پھر اپنے دفاع پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور ہم نے آنے والے سال کے لیے اس مد میں قریباً 700 ارب ڈالر رکھے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ ہم غیرمعمولی طاقت کے خواہاں ہیں جو پرامید طور سے طویل اور غیرمعمولی امن کی جانب لے جائے گی۔ ہم اپنی بہادر فوج کے مردو خواتین کو وہ معاونت فراہم کر رہے ہیں جس کی انہیں اشد ضرورت ہے۔

ہم نے امریکہ کو ‘ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ’ جیسے معاہدوں سے نکال لیا ہے جو ہماری نوکریوں کے لیے خطرہ ہیں اور ہم نے پیرس ماحولیاتی معاہدہ بھی ترک کر دیا ہے جو نہایت مہنگا اور غیرمنصفانہ تھا۔ میں نے گزشتہ ماہ ایشیا کے دورے میں اعلان کیا تھا کہ ہم تجارتی میدان میں خلاف ورزیوں کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ ہم نے دہشت گردوں کو امریکہ سے دور رکھنے کے لیے جائزے کے نئے کڑے طریقہ ہائے کار متعارف کرائے ہیں اور ہمارا جانچ پڑتال کا عمل ہر گزرتے ماہ کے ساتھ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

ایران کا مقابلہ کرنے اور اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے میں نے پاسداران انقلاب پر پابندیاں عائد کیں جو دہشت گردی کی معاونت کرتے ہیں جبکہ میں نے ایران معاہدے کی تصدیق سے بھی انکار کیا۔

مشرق وسطیٰ میں میرے دورے کے بعد خلیجی ریاستیں اور مسلم اکثریت کے دیگر ممالک بنیاد پرستانہ اسلامی نظریے اور دہشت گردی کی مالیات کے خلاف اکٹھے ہو گئے۔ ہم نے داعش کو ایک کے بعد ایک تباہ کن شکست دی ہے۔ داعش کو شکست دینے کے لیے بنائے گئے اتحاد نے اب عراق اور شام میں دہشت گردوں کے زیرقبضہ قریباً 100 فیصد علاقے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ یہ زبردست کام ہے (تالیاں) بہت اچھا کام ہے۔ شکریہ، شکریہ۔

ہماری فوج بے حد عظیم ہے، اب ہم ہر جگہ ان کا پیچھا کر رہے ہیں اور ہم انہیں امریکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔

افغانستان میں اب ہماری فوج مصنوعی تواریخ سے جنم لینے والی کمزوریوں کا شکار نہیں ہے اور اب ہم دشمنوں کو اپنے منصوبوں سے آگاہ نہیں کرتے۔ ہم میدان جنگ میں نتائج دیکھنا شروع کر رہے ہیں۔ ہم نے پاکستان پر واضح کر دیا ہے کہ اگرچہ ہم اس کے ساتھ شراکت جاری رکھنے کے خواہاں ہیں تاہم ہمیں ان کے ملک میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات دیکھنا ہیں۔ ہم ہر سال پاکستان کو بھاری ادائیگی کرتے ہیں۔ انہیں ہماری مدد کرنا ہو گی۔

نیٹو اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے ہماری کوششوں کی بدولت دفاعی بجٹ میں ارکان کے حصے میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے اور لاکھوں مزید ڈالر آ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں رکن ممالک کو نادہندہ ہونے نہیں دوں گا جبکہ ہم ان کی حفاظت کی ضمانت دیتے ہیں اور ان کے لیے جنگیں لڑنے کو تیار ہیں۔ ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امیر ممالک کو چاہیے کہ امریکہ کو اپنے دفاع کی قیمت ادا کریں۔ یہ ماضی کی پالیسی سے ایک بڑی مراجعت ہے مگر یہ شفاف اور ضروری اقدام تھا، یہ اقدام ہمارے ملک، ہمارے ٹیکس دہندگان اور ہمارے اپنے فکری عمل کے لیے ضروری تھا۔

شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم کے نتیجے میں اس پر کڑی ترین پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ہم نے شمالی کوریا کو تنہا کرنے کی بے مثل کاوش میں اپنے تمام اتحادیوں کو اکٹھا کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے اور دنیا کو اس حکومت سے لاحق خطرے سے پاک کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔ (تالیاں) شکریہ۔ اس صورتحال کا بہت پہلے ازالہ ہو جانا چاہیے تھا کیونکہ اس وقت اس سے نمٹنا بہت آسان تھا۔ مگر ہم اس سے نمٹ لیں گے۔ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

اندرون ملک ہم اپنے وعدے پورے کر رہے ہیں اور امریکی معیشت کو بیڑیوں سے نجات دلا رہے ہیں۔ ہم نے انتخابات کے بعد 20 لاکھ سے زیادہ نئی نوکریاں پیدا کی ہیں۔ اس وقت بےروزگاری گزشتہ 17 برس کی کم ترین سطح پر ہے۔ سٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے اور کچھ ہی عرصہ پہلے یہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی۔ میرے انتخاب کے بعد 85ویں مرتبہ ایسا ہوا ہے۔ (تالیاں)

ہم نے ہر ایک نئے ضابطے کے بدلے میں 22 ضوابط ختم کیے ہیں جو ہماری تاریخ میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ ہم نے امریکی توانائی کے وسیع ذخائر کو کھول دیا ہے۔

دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہم امریکی خاندانوں اور کاروباری طبقے کے لیے ٹیکس میں تاریخی کٹوتیاں کرنے کو ہیں۔ یہ ٹیکس میں سب سے بڑی تخفیف ہو گی اور ہمارے ملک کی تاریخ میں سب سے بڑی ٹیکس اصلاحات کہلائیں گی (تالیاں) شکریہ، شکریہ، شکریہ۔

ہمیں وہ ردعمل دکھائی دے رہا ہے جس کی ہمیں پوری طرح توقع تھی۔ معاشی ترقی میں تین فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جی ڈی پی نمو واقعتاً امریکہ کا سب سے بڑا ہتھیار بن جائے گی۔

امید میں اضافہ ہوا ہے۔ اعتماد بحال ہوا ہے۔ اس نئے اعتماد کے ساتھ ہم اپنی سوچ کو دوبارہ واضح کر رہے ہیں۔ ہم ان بنیادی حقیقتوں کا دوبارہ دعویٰ کر رہے ہیں:

کوئی ملک سرحدوں کے بغیر ملک نہیں کہلا سکتا (تالیاں)

جو قوم درون خانہ خوشحالی کا تحفظ نہیں کر سکتی وہ بیرون ملک اپنے مفاد کی حفاظت بھی نہیں کر سکتی۔

جو قوم جنگ جیتنے کے لیے تیار نہیں ہوتی وہ جنگ روکنے کی اہل بھی نہیں ہوتی۔

جو قوم اپنی تاریخ پر فخر نہیں کرتی وہ اپنے مستقبل کی بابت پراعتماد نہیں ہوتی۔

اور جس قوم کو اپنی اقدار پر یقین نہیں ہوتا وہ ان کی حفاظت بھی نہیں کر سکتی۔

آج انہی حقیقتوں کی بنیاد پر ہم اپنی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔ میری ہدایات کی بنیاد پر یہ دستاویز ایک سال میں تیار کی گئی ہے۔ میری پوری کابینہ نے اس کی منظوری دی ہے۔

ہماری نئی حکمت عملی کی بنیاد اصولی حقیقت پسندی پر ہے جو ہمارے اہم قومی مفادات اور غیرمختتم اقدار کی رہنمائی میں ترتیب دی گئی ہے۔ اس حکمت عملی کی رو سے ،خواہ ہم پسند کریں یا نہ کریں،ہم مسابقت کے ایک نئے دور میں جی رہے ہیں۔ ہم اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں زوردار عسکری، معاشی و سیاسی مقابلے جاری ہیں۔

ہمیں ایسی سرکش ریاستوں کا سامنا ہے جو امریکہ اور ہمارے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہیں۔ ہمیں دہشت گرد تنظیموں، جرائم کے بین الاقوامی نیٹ ورکس اور دیگر عناصر کا سامنا ہے جو دنیا بھر میں تشدد اور برائی پھیلا رہے ہیں۔

ہمیں روس اور چین جیسی حریف طاقتوں کا بھی سامنا ہے جو امریکہ کے رسوخ، اقدار اور امارت کے لیے خطرہ ہیں۔ ہم ایسے انداز میں ان ممالک اور دیگر سے بڑی شراکتیں قائم کریں گے جن سے ہمارے قومی مفادات کا ہمیشہ تحفظ ہو۔

مثال کے طور پر گزشتہ روز مجھے روسی صدر پوٹن کی کال موصول ہوئی جس میں انہوں نے سینٹ پیٹرز برگ میں دہشت گردی کے ایک بڑے حملے کی بابت ہماری سی آئی اے کی جانب سے خبردار کیے جانے پر شکریہ ادا کیا تھا۔ اس حملے میں بہت سے لوگ ہلاک ہو سکتے تھے غالباً ہزاروں جانیں جا سکتی تھیں۔ چنانچہ وہ لوگ حملے سے پہلے ہی ان دہشت گردوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ بہت بڑی بات ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔

تاہم جہاں ہم تعاون کے لیے ایسے مواقع کے خواہاں ہیں وہیں اپنے لیے اور اپنے ملک کے لیے بھی کھڑے ہیں اور یوں کھڑے ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی (تالیاں) شکریہ، شکریہ، شکریہ

ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کو ہر صورت کامیاب ہونا اور جیتنا ہے۔ ہمارے حریف بے حد مضبوط، محکم اور طویل عرصہ کے لیے پرعزم ہیں۔ مگر ہم بھی ایسے ہی ہیں۔

کامیابی کے لیے ہمیں اپنی قومی طاقت کے ہر پہلو کو یکجا کرنا ہو گا اور اپنی قومی طاقت کے ہر ذریعے سے کام لینا ہو گا۔

ٹرمپ انتظامیہ میں امریکی دولت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ الیکشن کے بعد سٹاک مارکیٹ میں 6 ٹریلن ڈالر سے زیادہ نئی رقم آئی ہے۔ 6 ٹریلین ڈالر۔

آج اس حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے مجھے یہ کہنا ہے کہ امریکہ کھیل میں شریک ہے اور جیتے گا (تالیاں) شکریہ۔

ہماری حکمت عملی میں چار اہم قومی مفادات کی ترویج شامل ہے۔ ان میں پہلا مفاد یہ ہے کہ ہمیں امریکی عوام، اپنی سرزمین، اور اپنے عظیم امریکی طرز زندگی کا تحفظ کرنا ہے۔ اس حکمت عملی میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت نہیں کر سکتے تو ہمارے لیے اپنی قوم کی حفاظت ممکن نہیں ہو گی۔ چنانچہ پہلی مرتبہ امریکی حکمت عملی میں ہماری سرزمین کی حفاظت کے لیے ایک سنجیدہ منصوبہ شامل ہے۔اس میں ہماری جنوبی سرحد پر دیوار کی تعمیر، سلسلہ وار مہاجرت، ویزا اور لاٹری پروگرام کے خاتمے کی بات کی گئی ہے۔ اس میں عملدرآمد کو کمزور کرنے والی خامیوں پر قابو پانے، بارڈر پیٹرول ایجنٹس، آئی سی ای افسروں اور داخلی سلامتی کے اہلکاروں کی کڑی معاونت کی بات شامل ہے۔ (تالیاں)

مزید براں ہماری حکمت عملی میں بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی اور نظریے کا مقابلہ کرنے، اس کی ساکھ ختم کرنے اور اسے امریکہ میں پھیلنے سے روکنے کی بات کی گئی ہے۔ ہم ان عناصر کو روکنے کے لیے نئے طریقہ ہائے کار اختیار کریں گے جو سائبر سپیس اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہماری قوم پر حملہ کرتے ہیں یا ہمارے سماج کے لیے خطرات کھڑے کرتے ہیں۔

امریکی خوشحالی کا فروغ ہماری حکمت عملی کا دوسرا ستون ہے۔ پہلی مرتبہ امریکی حکمت عملی میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ معاشی سلامی ہی قومی سلامتی ہوتی ہے۔ درون خانہ معاشی فروغ، نمو اور خوشحالی بیرون ملک امریکی طاقت اور رسوخ کے لیے مطلق حیثیت رکھتی ہے۔ جو قوم سلامتی کی خاطر اپنی خوشحالی کو تج دے وہ دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قومی سلامتی کی اس حکمت عملی میں پہلے سے کہیں بڑھ کر ایسے کڑے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جو ہمیں اپنی قوم کی خوشحالی کی خاطر بہت پہلے اٹھا لینا چاہیے تھے۔

اس حکمت عملی میں ٹیکسوں میں تخفیف اور غیرضروری ضوابط واپس لینے کی بات کی گئی ہے۔ یہ شفافیت اور دوطرفہ اصولوں پر تجارت کی بات کرتی ہے۔ یہ حکمت عملی غیرمنصفانہ تجارتی اقدامات اور فکری سرمایے کی چوری کے خلاف کڑے اقدامات اٹھانے کو کہتی ہے۔ اس حکمت عملی میں ہماری قومی سلامتی کی صنعتی و اختراعی بنیاد کے تحفظ کی خاطر نئے اقدامات اٹھانے کی بات کہی گئی ہے۔

یہ حکمت عملی امریکی تنصیبات کی مکمل تعمیر نو کی تجویز دیتی ہے جس میں ہماری سڑکیں، پل، ایئرپورٹ، آبی گزرگاہیں اور مواصلاتی تنصیبات شامل ہیں۔ اس میں توانائی کے میدان میں امریکی بالادستی اور خودکفالت کی بات کی گئی ہے۔

طاقت کے ذریعے امن کا تحفظ ہماری حکمت عملی کا تیسرا ستون ہے (تالیاں)

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ کمزوری جنگ کا یقینی راستہ ہے اور بے مثل طاقت دفاع کا یقینی ترین ذریعہ ہے۔ اسی لیے ہماری حکمت عملی میں قومی سلامتی کو درپیش خطرات میں اضافے کے پیش نظر اپنی فوج کو مکمل طور سے جدید بنانے اور فوج کے حجم میں کمی کے سابقہ فیصلوں کو واپس لینے کی بات کی گئی ہے۔ یہ حکمت عملی دفاعی سازوسامان کے اکتساب میں خامیوں کو دور کرنے، افسرشاہی کی رکاوٹوں کے خاتمے اور فوج کو بھرپور طور سے استوار کرنے کا تقاضا کرتی ہے جس سے لاکھوں مزید نوکریاں تخلیق کرنے کا اضافی فائدہ حاصل ہو گا۔

اس حکمت عملی میں جدید خطرات جیسے سائبر اور برقی مقناطیسی حملوں سے نمٹنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ اس میں خلا کو ایک مسابقتی میدان تسلیم کیا گیا ہے اور تہہ دار میزائل دفاعی نظام کی بات کی گئی ہے (تالیاں) یہ حکمت عملی جنگ کی نئی اقسام جیسے معاشی و سیاسی جارحیت سے نمٹنے کے اہم اقدامات کا خاکہ بھی پیش کرتی ہے۔

ہماری حکمت عملی ان خطرات پر قابو پانے کے لیے اتحادوں کو مضبوط بنانے پر زور دیتی ہے۔ اس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ہماری طاقت ہمارے مشترکہ اصولوں پر یقین رکھنے والے اتحادیوں سے ظاہر ہوتی ہے اور انہیں ہمارے مشترکہ دفاع کی خاطر اپنا معقول حصہ ڈالنا ہو گا۔

ہماری حکمت عملی کا چوتھا اور آخری ستون دنیا میں امریکی اثرورسوخ کی ترویج ہے مگر اس کے لیے پہلے ہمیں درون خانہ اپنی دولت اور طاقت بڑھانا ہو گی۔

امریکہ ایک مرتبہ پھر دنیا کی قیادت کرے گا۔ ہم کسی پر اپنا طرز زندگی مسلط کرنے کے خواہاں نہیں ہیں مگر ہم کسی تذبذب کے بغیر اپنی اقدار کو فروغ دیں گے۔ ہم تعاون اور دوطرفہ مفاد پر مبنی مضبوط اتحاددوں اور شراکتوں کے خواہاں ہیں۔ ہم ایسے ممالک کے ساتھ نئی شراکتیں قائم کریں گے جن کے مقاصد ہمارے اہداف سے مطابقت رکھتے ہیں اور ہم مشترکہ مقصد کے لیے مشترکہ مفادات کو فروغ دیں گے۔ ہم غیرلچکدار نظریے کو امن کی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دیں گے۔

ہم گزشتہ برس دنیا بھر میں جس سوچ کو لے کر چلے اسی کو آگے بڑھائیں گے۔ یہ مضبوط، خودمختار اور آزاد ممالک کی سوچ ہے جو اپنے شہریوں اور اپنے ہمسایوں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔ ہم اس دنیا کے لیے اسی مستقبل کی خواہش کرتے ہیں اور امریکہ کے لیے بھی یہی مستقبل چاہتے ہیں (تالیاں)

اس حکمت عملی کے ذریعے ہم امریکہ کو ازسرنو بیدار کرنا چاہتے ہیں، ہم اس کے اعتماد کی بحالی اور حب الوطنی، خوشحالی اور قومی فخر کا نیا جنم چاہتے ہیں۔

ہم اپنے بانیوں کی دانش کی جانب واپس لوٹ رہے ہیں۔ امریکہ میں عوام حکومت کرتے ہیں، عوام ہی حکمران ہوتے ہیں اور عوام ہی خودمختار ہوتے ہیں۔ ہم نے امریکہ میں جو کچھ تعمیر کیا وہ بیش قیمت اور منفرد ہے۔ ہم نے 250 برس میں جس طرح آزادانہ طور سے حکمرانی کی، قانون کی راہ پر چلے اور لوگوں نے ترقی پائی اس کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔

ہمیں اس سے محبت ہونی چاہیے اور اس کا دفاع کرنا چاہیے۔ ہمیں چوکس رہ کر اور جذبے کے تحت اس کی حفاظت کرنا ہو گی اور اگر ضروری ہوا تو اپنے پیشروؤں کی طرح اس کے تحفظ میں جان کی قربانی دینا ہو گی۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے جذبے کی تجدید ہو چکی ہے، ہمارا مستقبل محفوظ ہے اور ہمارے خواب بحالی ہو چکے ہیں۔ قومی سطح کی اس بڑی کوشش میں ہر امریکی کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ آج میں ہر شہری کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس اہم مشن میں ہمارے ساتھ چلے۔ ہمارا مقصد اپنے خاندانوں کو مضبوط بنانا، اپنے معاشروں کی تعمیر، اپنے شہریوں کی خدمات، اور دنیا کے لیے روشن مثال کے طور پر امریکہ کی عظمت کا جشن منانا ہے۔

جب تک ہمیں اپنے آپ پر فخر ہے، جب تک ہمیں یہ احساس ہے کہ ہم کس طرح یہاں تک پہنچے اور ہم کس شے کی حفاظت کے لیے لڑ رہے ہیں اس وقت تک ہم ناکام نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم یہ سب کچھ کریں، اگر ہم اپنے عزم کو ازسرنو دریافت کریں اور دوبارہ لڑنے اور جیتنے کا عہد کریں تو ہم اپنے بچوں اور ان کے بچوں کے لیے ایک ایسی قوم چھوڑ جائیں گے جو مضبوط، بہتر، آزاد اور پرفخر ہو گی اور یہ پہلے سے بہتر امریکہ ہو گا۔

خدا آپ پر رحمت کرے، آپ کا بے حد شکریہ، شکریہ (تالیاں)

اختتام


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں