rss

ایرانی جوہری معاہدے پر صدر کا بیان

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

وائٹ ہاؤس
دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
12 جنوری 2018

 
 

ایرانی حکومت دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بڑی سہولت کار ہے۔ یہ افراتفری پھیلانے اور معصوم لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے حزب اللہ، حماس اور بہت سے دوسرے دہشت گردوں کو مدد دیتی ہے۔ اس نے پورے مشرق وسطیٰ میں تباہی پھیلانے کے لیے ایک لاکھ سے زیادہ عسکریت پسندوں کو مالی مدد دی، مسلح کیا اور تربیت دی۔ یہ بشارالاسد کی قاتلانہ حکومت کو سہارا دیتی ہے اور اسے اپنے ہی لوگوں کو قتل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ ایرانی حکومت کے تباہ کن میزائلوں سے ہمسایہ ممالک اور عالمی جہازرانی کو خطرات لاحق ہیں۔ ایران میں سپریم لیڈر اور اس کے پاسداران انقلاب ایرانی عوام کو دبانے اور خاموش کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر گرفتاریوں اور تشدد سے کام لیتے ہیں۔ ایران کی مقتدر اشرافیہ  نےاپنے شہریوں کو بھوکا رکھا ہے جبکہ خود ملک کی قومی دولت سے جیبیں بھر رہی ہے۔

گزشتہ اکتوبر میں، میں نے ایسی اور دیگر تباہ کن سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی کا خاکہ امریکی عوام اور دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ ہم یمن اور شام میں ایران کے ایما پر لڑی جانے والی جنگوں سے نمٹ رہے ہیں۔ ہم ایرانی حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو رقم کی ترسیل کا سلسلہ روک رہے ہیں۔ ہم نے ایرانی حکومت کے بلسٹک میزائل پروگرام اور اس کی دوسری ناجائز سرگرمیوں میں مدد دینے والے قریباً 100 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ آج میں 14 مزید افراد اور اداروں کو اس فہرست میں شامل کر رہا ہوں۔ ہم بہادر ایرانی شہریوں کی حمایت بھی کر رہے ہیں جو بدعنوان حکومت سے چھٹکارا چاہتے ہیں جو کہ ایرانی عوام کی دولت کو اندرون و بیرون ملک دہشت گردی کی غرض سے ہتھیاروں کے نظام پر ضائع کرتی ہے۔ خاص طور پر ہم تمام ممالک سے مطالبت کرتے ہیں کہ وہ بھی ایرانی عوام کی اسی طرح مدد کریں جو ایسی حکومت میں تکالیف جھیل رہے ہیں جس نے بنیادی آزادیاں سلب کر رکھی ہیں اور اپنے شہریوں کو اپنے اہلخانہ کے لیے اچھی زندگی کے مواقع سے محروم رکھے ہوئے ہے جو کہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔

اس حوالے سے ہمارے تمام اقدامات گزشتہ امریکی انتظامیہ کی حکمت عملی اور اقدامات سے یکسر متضاد ہیں۔ 2009 میں جب ایرانی عوام سڑکوں پر نکلے تو صدر اوبامہ کوئی قدم اٹھانے میں ناکام رہے تھے۔ انہوں نے ایران کی جانب سے خطرناک میزائلوں کی تیاری اور تجربات نیز دہشت گردی کی برآمد پر آنکھیں بند کیے رکھیں۔ انہوں نے تباہ کن خامیوں سے معمور جوہری معاہدے کے ذریعے ایرانی حکومت کی حمایت کی۔

میں اس معاہدے کے حوالے سے اپنے موقف میں بالکل واضح ہوں۔ اس نے ایران کو بہت تھوڑی چیز کے بدلے میں بہت بڑا فائدہ دیا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ایرانی حکومت کو بہت بڑے معاشی فوائد حاصل ہوئے جن میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ رقم بشمول 1.8 ارب ڈالر نقد تک رسائی شامل ہے۔ یہ رقم ایرانی عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال نہیں ہوئی۔ اس کے بجائے یہ رقم ہتھیاروں، دہشت گردی، جبر اور بدعنوان حکومتی رہنماؤں کی جیبیں مزید بھرنے کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ ایرانی عوام یہ بات جانتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ سڑکوں پر نکلے۔

اس حوالے سے اپنی کڑی سوچ کے باوجود میں نے تاحال امریکہ کو ایرانی جوہری معاہدے سے دستبردار نہیں کیا۔ اس کے بجائے میں نے مستقبل کے حوالے سے دو ممکنہ راستوں کا خاکہ پیش کیا ہے کہ یا تو اس معاہدے میں تباہ کن خامیوں کو دور کیا جائے بصورت دیگر امریکہ اس سے دستبردار ہو جائے گا۔

میں ایران کے حوالے سے دو فریقی قانون سازی کے لیے کانگریس کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں۔ مگر مجھے جس مسودہ قانون پر دستخط کرنا ہوں اس میں چار اہم اجزا کا ہونا ضروری ہے۔

پہلی بات یہ کہ اس میں ایران سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ عالمی معائنہ کاروں کی درخواست پر تمام مقامات کے فوری معائنے کی اجازت دے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیاروں کے حصول کا نہیں سوچے گا۔

اس حوالے سے تیسری بات یہ ہے کہ جوہری معاہدے سے برعکس ان شرائط کی کوئی اختتامی تاریخ نہیں ہونی چاہیے۔ میری حکمت عملی یہ ہے کہ ایران کو محض دس برس کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔

اگر ایران ایسی شرائط پر پورا نہیں اترتا تو امریکی جوہری پابندیاں خود بخود لاگو ہو جائیں گی۔

چوتھی بات یہ کہ قانون سازی بہرصورت امریکی قانون کے مطابق ہونی چاہیے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور جوہری ہتھیاروں کے پروگرام ایک دوسرے سے جڑے ہیں اور ایران کی جانب سے میزائلوں کی تیاری اور تجربات کی صورت میں اس کے خلاف کڑی پابندیاں عائد ہونی چاہئیں۔

2015 میں اوبامہ انتظامیہ نے اس کمزور جوہری معاہدے کے لیے کثیرطرفی پابندیوں کے معاملے سے احمقانہ طور پر صرف نظر کیا۔ اس سے برعکس میری انتظامیہ نے ایک نئے ضمنی معاہدے کے لیے اہم یورپی اتحادیوں سے بات کی ہے جس کی رو سے اگر ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار یا ان کا تجربہ کرے، معائنوں کو روکے یا جوہری ہتھیاروں کے حصول کی جانب پیش رفت کرے تو اس پر نئی کثیرطرفی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ یہ وہ شرائط ہیں جو پہلے ہی جوہری معاہدے میں شامل ہونا چاہیےتھیں۔  مجھے کانگرس کی جانب سے جیسے مسودہ قانون کی توقع ہے اسی طرح ضمنی معاہدے کے حوالے سے یہ شرائط بھی ہمیشہ کے لیے ہونی چاہئیں۔

میں اپنے تمام اتحادیوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ ایران کی دیگر مضرت رساں سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے ہمارے ساتھ مل کر کڑے اقدامات اٹھائیں۔ دیگر اقدامات کے علاوہ ہمارے اتحادیوں کو پاسداران انقلاب، اس کے عسکری آلہ کاروں اور ہر ایسے فرد اور اداروں کی مالی امداد بند کرنی چاہیے جو دہشت گردی کی معاونت میں ایران کی مدد کرتے ہیں۔ انہیں حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا چاہیے۔ انہیں ایرانی میزائل پروگرام کی ترقی روکنے اور میزائلوں کی ترسیل خصوصاً یمن کو فراہمی کا سدباب کرنا چاہیے۔ انہیں ایران کی جانب سے لاحق سائبر خطرات سے نمٹنے میں ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ انہیں عالمی جہازرانی کے خلاف ایرانی جارحیت روکنے میں ہماری مدد کرنی چاہیے۔ انہیں ایرانی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی روک دے۔ انہیں ایسے اداروں کے ساتھ کاروبار نہیں کرنا چاہیے جو ایرانی آمریت کو فائدہ پہنچاتے ہیں یا پاسداران انقلاب اور اس کے دہشت گرد آلہ کاروں کی مالی مدد کرتے ہیں۔

آج میں مخصوص جوہری پابندیوں کا اطلاق روک رہا ہوں جس کا مقصد ہمارے یورپی اتحادیوں کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنا ہے جس سے ایرانی جوہری معاہدے میں خوفناک خامیوں کو دور کیا جا سکے۔ یہ آخری موقع ہے۔ ایسے کسی معاہدے کی غیرموجودگی میں امریکہ ایرانی جوہری معاہدے میں شامل رہنے کے لیے دوبارہ پابندیوں میں چھوٹ نہیں دے گا۔ اگر کسی موقع پر میں نے محسوس کیا کہ ایسا معاہدہ ہونا ممکن نہیں تو میں فوری طور پر ایرانی جوہری معاہدے سے دستبردار ہو جاؤں گا۔

کسی کو میرے الفاظ پر شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے کہا تھا کہ میں جوہری معاہدے کی تصدیق نہیں کروں گا اور میں نے نہیں کی۔ میں تمام اہم یورپی ممالک سے کہتا ہوں کہ وہ اس معاہدے میں نمایاں خامیوں کو دور کرنے، ایرانی جارحیت کی روک تھام اور ایرانی عوام کی مدد کے لیے امریکہ کا ساتھ دیں۔ اگر دوسرے ممالک اس وقت کوئی قدم اٹھانے میں ناکام رہے تو میں ایران کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دوں گا۔ جن ممالک نے کسی بھی وجہ سے ہمارا ساتھ نہ دیا وہ ایرانی حکومت کے جوہری عزائم کے حامی اور ایرانی عوام نیز دنیا بھر کی پرامن اقوام کے مخالف متصور ہوں گے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں