rss

ایران پر پابندیوں کے حوالے سے پریس بریفنگ

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

وائٹ ہاؤس
دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
12 جنوری 2018
بذریعہ ٹیلی کانفرنس

 
 
انتظامیہ کے اعلیٰ افسر: مجھے یہ بتانا ہے کہ ہمیں بعض تکنیکی مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی لیے ہمارے معلومات کنندگان ابتدائی بات کریں گے اوربدقسمتی سے ہمارے لیے آپ کے سوالات لینا ممکن نہیں ہے۔ تاہم اگر آپ نے سوال کرنا ہو تو بریفنگ کے بعد این ایس سی پریس آفس کو ای میل کر سکتے ہیں۔

اس بریفنگ کی نشرواشاعت پر آج سہ پہر 1:30 بجے تک پابندی رہے گی اور اس میں بتائی گئی تمام معلومات ‘انتظامیہ کے اعلیٰ افسر’ سے منسوب کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی میں پہلے معلومات کنندہ کو بات کی دعوت دوں گا۔

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر: ٹھیک ہے، مختصر طور سے مجھے یہ بتانا ہے کہ صدر 1:30 بجے سہ پہر آج کے اقدامات اور اپنے فیصلے کے بارے میں بیان جاری کریں گے۔ محکمہ خزانہ بھی اپنی پریس ریلیز جاری کرے گا جس میں امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے لیے نامزد کردہ 14 نئے ایرانی افراد اور اداروں کی تفصیلات ہوں گی۔

صدر نے ایرانی جوہری معاہدے کی مطابقت سے پابندیوں میں ایک مرتبہ پھر چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم صدر یہ بھی واضح کریں گے کہ وہ آخری مرتبہ یہ چھوٹ دے رہے ہیں۔

وہ ہمارے یورپی اتحادیوں کےتعاون سے کسی طرح کے ضمنی معاہدے پر کام کا ارادہ رکھتے ہیں جس کا مقصد ایرانی حکومت کو بلسٹک میزائلوں اور جوہری پروگرام پر پیش رفت سے روکنا، تنصیبات کا معائنہ ممکن بنانا اور شرائط کو کسی مخصوص مدت کے بجائے ہمیشہ کے لیے لاگو کرنا ہے۔

اگر صدر ایسے معاہدے کے حصول میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے ہو اور ان کے مقاصد پر پورا اترتا ہو تو جیسا کہ انہوں نے اکتوبر میں ایران کے بارے میں اپنی حکمت عملی پر مبنی تقریر میں کہا تھا، وہ اس تبدیل شدہ معاہدے کو قبول کریں گے۔ یہ ایسا معاہدہ ہو گا جس سے ایران کو 10 برس یا کسی مختصر دورانیے کے بجائے ہمیشہ کے لیے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکا جا سکے گا۔

مجھے اس بات پر بھی زور دینا ہے کہ اس میں ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت شامل نہیں ہو گی، یہ ضمنی معاہدہ امریکہ اور اس کے یورپی شراکت داروں میں ہو گا جس کی رو سے اگر ایرانیوں نے مخصوص شرائط کی خلاف ورزی کی تو اس پر کثیر طرفی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔

یہی آج کے فیصلے کا لب لباب ہے، اس کے ساتھ ہی میں اپنے ساتھی کو بات کا موقع دوں گا۔

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر: شکریہ، مجھے مختصر طور سے آپ کو محکمہ خزانہ کے اقدامات کی بابت بتانا ہے۔ آج ہماری جانب سے عائد کی جانے والی پابندیاں ایرانی حکومت کے مسلسل اور بڑھتے ہوئے تخریبی رویے کی روک تھام کے لیے امریکی انتظامیہ کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔

آپ سبھی گزشتہ چند ہفتوں میں ایرانی حکومت کی مضرت رساں سرگرمیاں اچھی طرح دیکھ چکے ہیں۔ ان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، احتجاجی مظاہرین نیز جیلوں میں قید لوگوں پر سختیاں اور ہتھیاروں کے خطرناک نظام میں مسلسل پیش رفت شامل ہیں۔

آج ‘او ایف اے سی’ ایران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور احتساب نیز ایرانی ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں ملوث عناصر سے روابط پر 14 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ جیسا کہ وزیر منوچن نے اپنے بیان میں بتایا ہے امریکہ ایرانی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ناانصافی پر خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔ ہم ایرانی حکومت بشمول اس کی عدلیہ کے سربراہ کو شہریوں سے ہولناک بدسلوکی کی بنا پر ہدف بنا رہے ہیں۔ اس بدسلوکی میں آزادی اجتماع کا حق استعمال کرنے والوں کو قید تنہائی میں ڈالنا اور حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں کو کڑی سزائیں دینا شامل ہیں۔

ہم ایران کے بلسٹک میزائل پروگرام اور تخریبی سرگرمیوں کو بھی ہدف بنا رہے ہیں۔ ایران اپنے بلسٹک میزائل پروگرام پر کروڑوں ڈالر خرچ کر رہا ہے اور ایرانی عوام کی بہبود کی قیمت پر ایسے اور دیگر تخریبی کاموں کو ترجیح دے رہا ہے۔

آج کے اقدامات انتظامی احکامات کی مطابقت سے جاری کیے گئے جن کا اجرا ایرانی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، سنسرشپ اور ایرانی شہریوں نیز میڈیا کی آزادی اظہار و آزادی اجتماع میں مزاحم سرگرمیوں کی بنا پر عمل میں آیا۔

ہم انتظامی حکم کے تحت ایسے اقدامات بھی اٹھا رہے ہیں جن کے ذریعے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کے پھیلاؤ میں ملوث عناصر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ میں کچھ دیر آپ کو مختصر طور سے ایسی نامزدگیوں کے بارے میں بتاؤں گا۔ بقیہ تفصیلات آپ پریس ریلیز میں دیکھ لیں گے۔

آج ہم صادق آمولی لاریجانی کو پابندیوں کے لیے نامزد کر رہے ہیں جو ایرانی عدلیہ کا سربراہ اور ایسی سزائیں دینے کا ذمہ دار ہے جو ایرانی عالمی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ذیل میں آتی ہیں۔ ان میں نوعمر افراد کو سزائے موت، قیدیوں پر تشدد اور ان سے غیرانسانی سلوک بشمول اعضا کاٹنا بھی شامل ہے۔

ہم رجائی شہر کی جیل کو بھی پابندیوں کی فہرست میں نامزد کر رہے ہیں جہاں قیدیوں کو مناسب  طبی نگہداشت اور قانونی نمائندگی تک رسائی نہیں دی جاتی۔ حال ہی میں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے بہت سے ایرانیوں کو اسی جیل میں رکھا گیا ہے۔ یہ وہ جیل ہے جس میں قیدی بھوک ہڑتال کرتے ہیں اور انہیں طبی امداد نہیں دی جاتی، یہاں قیدیوں سے جنسی بدسلوکی اور غیرقانونی پھانسیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور یہاں جیل حکام نے ایک قیدی کی آنکھ نکال دی تھی۔

نامزدگیوں میں غلام رضا ضیائی کا نام بھی شامل ہے جو اکتوبر 2017 سے اس جیل کا ڈائریکٹر ہے۔ ہم ایرانی پاسداران انقلاب کے شعبہ الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر ڈیفنس کو بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اس فہرست میں شامل کر رہے ہیں۔ یہ تنظیم پاسداران انقلاب کی جانب سے تربیتی کورسز کا انتظام و اہتمام کرتی ہے اور ایرانیوں کی مغربی میڈیا تک رسائی روکتی ہے۔

اسی طرح ہم ایرانی سپریم کونسل برائے سائبرسپیس کو سنسرشپ یا ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں پابندیوں کے لیے نامزد کر رہے ہیں جن سے ایرانی عوام یا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی آزادی اظہار و اجتماع ممنوع، محدود یا قابل سزا قرار پاتا ہے۔

یہ کونسل ‘ملک کو سائبر سپیس کے منفی مواد سے بچانے’ کے مقصد سے بنائی گئی تھی۔ یہ لاکھوں ویب سائٹ تک رسائی روکتی ہے جن میں خاص طور پر اطلاعات کے عالمی ذرائع، حکومت مخالف اداروں، نسلی و مذہبی اقلیتوں، انسانی حقوق کے گروہوں اور سماجی میڈیا کی مقبول ویب سائٹس شامل ہیں۔

ہم ایرانی ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں مدد دینے والے آٹھ افراد اور اداروں پر بھی پابندی عائد کر رہے ہیں۔ ان میں ایران کی ہیلی کاپٹر سپورٹ اینڈ رینیول کمپنی، جہاز سازی کی صنعتیں اور دفاعی صنعت کے دو ادارے شامل ہیں جو ایرانی فوج کو ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کے لیے تعمیر و مرمت کی اہم سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

ہم انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے اشیا کے حصول کے ایرانی و چینی نیٹ ورک بشمول پاردازان سسٹم المعروف ارمان اور بوچوانگ سرامک کو بھی پابندیوں کے لیے نامزد کر رہے ہیں جس کا مقصد وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کی تیاری میں مدد دینے والوں کو ہدف بنانا ہے۔

اس حوالے سے مکمل تفصیلات اور دیگر نامزدگیوں کی بابت معلومات پریس ریلیز میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ہی بتایا ہے بریفنگ کے بعد آپ ہمیں اپنے سوالات بھیج سکتے ہیں۔

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر: میں اس میں کچھ اضافہ کروں گا اور چند دیگر باتوں پر روشنی ڈالوں گا۔ پہلی بات یہ کہ آج ایرانی جوہری معاہدے اور محکمہ خزانہ کی جانب سے نئی نامزدگیوں کے حوالے سے صدر کا فیصلہ اس حکمت عملی کے اگلے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جس کا اعلان صدر نے اکتوبر میں کیا تھا۔ یہ حکمت عملی ایرانی مسئلے کے تمام پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے وضع کی گئی ہے۔

اس حوالے سے جن باتوں پر روشنی ڈالی جانا ہے وہ کچھ یوں ہیں کہ صدر نے اپنے بیان میں یہ واضح کیا کہ انہیں توقع ہے ایران کے خلاف پابندیوں میں چھوٹ کے عرصہ میں وہ ہمارے یورپی اتحادیوں کے تعاون سے ایک ضمنی معاہدے کے خواہاں ہیں۔ اس حوالے سے ہم پہلے ہی اپنے یورپی اتحادیوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ہم نے یورپی اتحادیوں پر واضح کر دیا ہے کہ ان سے ہمیں کیا توقعات ہیں۔ ایرانی مسئلے کی نوعیت بارے اندازے اور اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے مستقبل کی مشترکہ راہ پر بھی بات چیت رہی ہے۔

صدر آج اپنے بیان میں یہ بات بھی واضح کریں گے کہ وہ اب بھی ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے جائزے کے قانون  میں ترمیم کی امید رکھتے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ کانگریس اس قانون میں ترمیم کرے گی جس کے چار بنیادی اجزا ہیں۔

ان میں پہلا جزو یہ ہے کہ ترمیمی قانون میں ایران سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی شرائط کے مطابق اپنی تمام تنصیبات کے بروقت، خاطرخواہ اور فوری جائزے کی اجازت دے۔

دوسرا نکتہ یہ امر یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہیں کرے گا۔

تیسری بات یہ کہ ایرانی جوہری معاہدے کی مخصوص مدت کا خاتمہ ہونا چاہیے اور اگر ایران نئے معیار پر پورا نہیں اترتا تو امریکہ کو کسی اختتامی تاریخ کے بغیر جوہری پابندیاں نافذ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔

اس حوالے سے آخری نکتہ یہ ہے کہ اس قانون سازی میں جامع طور پر یہ بیان ہو کہ ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام اور جوہری ہتھیار ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور ایران کی جانب سے میزائلوں کی تیاری اور تجربے کی صورت میں اس پر کڑی پابندیاں عائد کی جانا چاہئیں۔

مجھے جس آخری نکتے کی وضاحت کرنا ہے وہ یہ کہ محکمہ خزانہ آج جن 14 افراد اور اداروں کو پابندیوں کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کر رہا ہے اس کے سنجیدہ سیاسی اثرات سامنے آئیں گے تاہم ان سب سے موثر امر ایرانی عدلیہ کے سربراہ صادق لاریجانی کی نامزدگی سے ہو گا۔ وہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر علی لاریجانی کا بھائی ہے۔

لہٰذا باالفاظ دیگر آج کی نامزدگیاں سیاسی طور پر ایرانی حکومت کو اعلیٰ سطح پر متاثر کریں گی اور ان سے امریکہ کے حوالے سے مضبوط پیغام جائے گا کہ وہ ایران کی جانب سے اپنے شہریوں کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔

شکریہ

انتظامیہ کے اعلیٰ افسر: ہمارے ساتھ شامل ہونے پر آپ سبھی کا شکریہ۔ تکنیکی مسائل کے حوالے سے معذرت۔ اگر آپ کو سوالات کرنا ہوں تو انہیں این ایس سی پریس کو بھجوا دیجیے۔ اس بریفنگ کی نشرواشاعت پر آج 1:30 بجے سہ پہر تک پابندی ہو گی اور معلومات کنندگان کو انتظامیہ کے اعلیٰ افسر لکھا اور پکارا جائے گا۔

شکریہ۔

اختتام


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں