rss

جزیرہ نما کوریا میں سلامتی و استحکام وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن، کینیڈین وزیرخارجہ کرسٹیا فریلینڈ، جنوبی کورین وزیرخارجہ کانگ کیونگ وا، جاپانی وزیرخارجہ تاروکونو اور برطانوی وزیرخارجہ بورس جانسن کی وینکوور میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر بات چیت

Русский Русский, English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
16 جنوری 2018
وینکوور کنونشن سنٹر
وینکوور، کینیڈا

 
 
غیرمدون/ مسودہ

وزیرخارجہ فریلینڈ: اب میں، ریکس، وزیر کونو، وزیر کانگ اور بورس میڈیا سے مختصراً ابتدائی بات چیت کریں گے۔ اس کے بعد ہم اپنے صحافی ساتھیوں کو الوداع کہیں گے۔ میرے اور بورس کے لیے یہ خاص طور پر افسردگی کی بات ہے کیونکہ ہم خود میڈیا کا حصہ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہم اپنا غوروخوض دوبارہ شروع کریں گے۔

وزیرخارجہ فریلینڈ: ہمارے قابل احترام ساتھیو، خواتین و حضرات، یہاں وینکوور میں ہمارے ساتھ شامل ہونے پر آپ کا شکریہ۔ میں ابتدا میں یہ کہنا چاہوں گی کہ ہم جس سرزمین پر موجود ہیں یہ کوسٹ سیلش کے لوگوں کا ناقابل تسخیر علاقہ ہے جس میں موسقویم، سکویمیش اور سلیوا ٹوتھ کی اقوام بھی شامل ہیں جیسا کہ ڈیانا نے ہمیں بتایا۔

شمالی کوریا کا جوہری بحران آج دنیا کو درپیش سب سے بڑے خطرات میں ایک ہے جو ہمیں یہاں وینکوور میں لایا ہے۔ یہاں مجھے جمہوریہ کوریا کے وزیر کانگ اور جاپان کے وزیر کونو کا خاص طور پر خیرمقدم کرنا ہے۔ آپ کے ممالک کے لوگ جزیرہ نما کوریا میں عدم استحکام سے براہ راست طور پر سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

میں امریکی وزیرخارجہ اور اپنے دوست ریکس ٹلرسن کو بھی خوش آمدید کہنا چاہوں گی۔ شکریہ ریکس۔ اپنے امریکی ہمسایوں کے ساتھ اس بات چیت کی مشترکہ میزبانی ہمارے لیے واقعتاً ایک اعزاز ہے۔

(فرانسیسی میں)

کینیڈا ہم سب کے لیے امن اور سلامتی کے ضامن قوانین پر مبنی عالمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایشیائی الکاہل خطے میں امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ گزشتہ سو سال کے عرصہ میں کینیڈا اور کوریا کے عوام میں باہمی تعلقات تنازعات اور امن دونوں طرح کے زمانوں میں فروغ پائے ہیں۔ درحقیقت کوریا سے تعلق رکھنے والے 206000 سے زیادہ افراد اب کینیڈا میں مقیم ہیں۔ کوریا  سے باہر اس کے باشندوں کی سب سے بڑی تعداد یہیں پائی جاتی ہے۔ درحقیقت مجھے فخر ہے کہ کینیڈا کے بہت سے کورین باشندے اسی علاقے میں رہتے ہیں جس کی نمائندگی کا اعزاز مجھے حاصل ہے۔ یہ ٹورنٹو میں یونیورسٹی روزڈیل کا علاقہ ہے جہاں ٹورنٹو کا کوریا ٹاؤن بنا تھا۔

یہ تعلقات جزیرہ نما میں تباہ کن تنازعے سے بچنے کے لیے ہماری مستحکم خواہش میں اضافہ کرتے ہیں۔ ہم نے شمالی اور جنوبی کوریا میں آئندہ ماہ سرمائی اولمپکس کے لیے فوجی سطح پر بات چیت کے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ حوصلہ افزا اشارے ہیں۔

تاہم یہاں مجھے ایک بات واضح کرنا ہے کہ جب تک شمالی کوریا اپنی روش تبدیل نہیں کرتا اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اپنے تمام ہتھیاروں کو قابل تصدیق و ناقابل تنسیخ طور سے ترک نہیں کر دیتا اس وقت تک جزیرہ نما کوریا میں عدم استحکام پر قابو پانے کے ضمن میں کوئی حقیقی پیش رفت ممکن نہیں ہو سکتی۔ آپ سب کی طرح ہم کینیڈا میں بھی یہ بات سمجھتے ہیں کہ اس غیرمعمولی وقت میں جارحیت کے خطرات کے خلاف ہمارا ہمسایوں، دوستوں، شراکت داروں اور اتحادیوں کی حیثیت سے اکٹھا ہونا بے حد اہم ہے۔ دنیا میں شمالی کوریا جتنا ہتھیاروں کا پھیلاؤ اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا مواد کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ہم اس خطرے کے سامنے خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتے۔ اس وقت دنیا بھر کے لوگوں کا تحفظ اور سلامتی داؤ پر لگی ہے۔

اسی لیے ہم یہاں جزیرہ نما کوریا میں امن کے لیے مل کر کام کرنے اور اپنے اتحاد و عزم کے مظاہرے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ عالمی برادری کے طور پر ہم نے  اپنے قول و فعل دونوں طرح سے ثابت کیا ہے کہ ہم شمالی کوریا کو دنیا کے لیے خطرے کے طور پر کبھی قبول نہیں کریں گے۔ اسی مقصد کے لیے سلامتی کونسل نے شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہاں وینکوور میں موجود 20 ممالک کو یہ امر یقینی بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے کہ ان اقدامات پر مکمل اور مخلصانہ طور سے عملدرآمد ہوا ہے اور ہمیں اس اجلاس کو ایسے اقدامات موثر بنانے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ مجھے اعتماد ہے کہ ہم ایسا ہی کریں گے۔

شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں سفارت کاری کا ایک اہم ذریعہ ہیں جن کا مقصد اسے مذاکرات کی میز پر لانا اور اس مسئلے کا سفارتی راستہ تلاش کرنا ہے۔ شمالی کوریا کے عوام کے لیے ہمارا پیغام واضح ہے کہ اگرچہ آپ کو بدترین تکالیف کا سامنا ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ شمالی کوریا کی حکومت دنیا کے لیے نمایاں ترین خطرہ ہے۔ شمالی کوریا کی قیادت کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش سے آپ کو تحفظ ملے گا اور نہ ہی خوشحالی میسر آئے گی۔ اس سے آپ کو مزید پابندیوں کا سامنا ہو گا اور جزیرہ نما دائم طور سے عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔

اس اجلاس میں شریک ممالک شمالی کوریا کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتے۔ ہم وہاں حکومت تبدیل کرنا یا گرانا نہیں چاہتے۔ ہم اس بحران کو حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور ہمارا مقصد وہی ہے جس سے ہمارا مجموعی بہترین مفاد وابستہ ہے یعنی جزیرہ نما کوریا اور پوری دنیا میں سلامتی اور استحکام ہونا چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ شمالی کوریا کی حکومت کی جانب سے قابل تصدیق طور سے اپنے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے تمام ہتھیار ترک کرنے سے ملکی سلامتی اور معاشی ترقی میں مدد ملے گی نتیجتاً وہاں کے لوگوں کا مستقبل مزید بہتر، روشن، محفوظ اور خوشحال ہو جائے گا۔ اب یہ شمالی کوریا پر منحصر ہے کہ وہ اپنے لیے کون سا مستقبل منتخب کرتا ہے۔

60 سال قبل عظیم کینیڈین وزیرخارجہ و وزیراعظم لیسٹر بی پیئرسن نے امن کا نوبیل انعام وصول کرتے ہوئے کہا تھا ‘آج دنیا میں امن سے زیادہ کسی خواب کی تعبیر کا حصول اس قدر اہم اور مشکل نہیں ہے۔ خدا کرے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہمارا ایقان و ارادہ کبھی متزلزل نہ ہو’

آج دنیا کو درپیش بہت بڑے مسائل کے باوجود ہمیں اس خواب کو ترک نہیں کرنا چاہیے اور پیئرسن کے الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ سب کچھ کرنا چاہیے جو ہم کر سکتے ہیں۔ شکریہ۔ میں ایک مرتبہ پھر تمام ساتھیوں کا خیرمقدم کرتی ہیں۔ مجھےگفت وشنید کا انتظار ہے۔ اب میں ریکس کو بات کی دعوت دوں گی۔

وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن: سب سے پہلے مجھے اس اجلاس کی مشترکہ میزبانی کے لیے رضامندی پر وزیرخارجہ فریلینڈ کا شکریہ ادا کرنا ہے جبکہ وینکوور میں اجلاس کے لیے میں کینیڈا کا بھی شکرگزار ہوں۔ شمالی کوریا سلامتی کے حوالے سے ایسے بہت سے مسائل میں ایک ہے جن کے بارے میں امریکہ سمجھتا ہے کہ ہم اپنے ہمسایے اور دوست کینیڈا کے ساتھ قریبی وابستگی اختیار کر سکتے ہیں۔ میں جمہوریہ کوریا کے وزیرخارجہ کانگ اور جاپانی وزیرخارجہ کونو کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ہمارے ساتھ شامل ہوئے۔ اتحادیوں کے طور پر ان کے ممالک شمالی کوریا کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم کا نمایاں ترین حصہ ہیں اور ان کے ساتھ ہمارا قریبی ربط جاری رہے گا۔ امریکہ شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے کی مہم میں اب تک کی گئی کوششوں پر یہاں موجود تمام ممالک کی ستائش کرتا ہے۔

یہاں موجود تمام  ممالک کی نمائندگی وزرائے خارجہ اور سفارت کاروں نے کی ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جنہوں نے قریباً 60 برس قبل جزیرہ نما کوریا میں آزادی کے تحفظ کی خاطر جنگ کی منادی پر لبیک کہا تھا اور انہوں نے عظیم قربانیاں دے کر جمہوریہ کوریا کے لیے آزادی ممکن بنائی تھی۔ اگرچہ وہ جنگ بظاہر سرد پڑ چکی ہے مگر ان ممالک نے جزیرہ نما کوریا میں آزادی برقرار رکھنے میں کبھی عدم دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

میں سمجھتا ہوں جیسا کہ صدر ٹرمپ نے نومبر میں جمہوریہ کوریا کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا تھا جمہوریہ کوریا کے لوگوں کا شمالی کوریا کی استبدادی حکومت کے زیرتسلط زندگی بسر کرنے والوں سے موازنہ کیا جائے تو آزادی اور جمہوریت میں فرق واضح ہو جاتا ہے۔ یہ سنگین جوہری خطرہ ہی ہے جس نے ایسے ممالک اور  چین کو ایک  ساتھ لا کھڑا کیا ہے جو کبھی ایک دوسرے کے مخالف تھے۔ یہ اتحاد جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مشترکہ مقصد کی بدولت ہوا۔ یہ ممالک چین، جمہوریہ کوریا، جاپان، روس اور اب پوری عالمی برادری کے ساتھ کھڑے ہو کر شمالی کوریا سے کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ کو جوہری ریاست کے طور پر قبول کر سکتے ہیں اور نہ ہی کریں گے۔

امریکہ کی جانب سے اپنے اتحادیوں اور شراکت دارں کی مشاورت سے شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم شروع کیے قریباً ایک سال ہو چکا ہے۔ ابتدا میں اس مہم کا بڑا مقصد شمالی کوریا کی مالیات کے ذرائع پر روک لگانا تھا جنہیں وہ اپنے غیرقانونی جوہری اور بلسٹک میزائل پروگرام کے لیے استعمال کرتا ہے۔ مزید براں ہمیں شمالی کوریا کے رویے پر اپنے یہ اقدامات اس حد تک لے جانا چاہئیں کہ وہ قابل اعتبار مذاکرات کے لیے آمادہ ہو جائے۔

اگر مذاکرات کا مرحلہ آتا ہے تو ان کا مقصد مکمل، قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ طور سے شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا ہو گا۔ آج یہاں موجود تمام ممالک اس حوالے سے متفق ہیں۔ یہاں میں یہ بات واضح کر دوں کہ ہم شمالی کوریا کو اپنے عزم یا یکجہتی کی راہ میں حائل ہونے نہیں دیں گے۔ ہم انجماد برائے انجماد کے طریق کار کو مسترد کرتے ہیں جس میں جائز دفاعی فوجی مشقوں کو شمالی کوریا کے غیرقانونی اقدامات کے برابر قرار دیا جاتا ہے۔

شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی مہم جاری رہے گی یہاں تک کہ وہ جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات نہ اٹھا لے۔ یہ حکمت عملی تحمل کا تقاضا کرتی ہے مگر یہاں موجود سبھی فریقین اور دنیا بھر کے ممالک کی بدولت شمالی کوریا کی حکومت پر اس مہم کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ امریکہ تمام شرکا سے یہ سننے کا منتظر ہے کہ ہم اس مقصد کو بہترین طور سے کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔

دنیا بھر کے ممالک اس ضمن میں جو اقدامات اٹھا رہے ہیں ان سے امریکہ کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ 2017 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا پر کڑی ترین پابندیوں کے حوالے سے تین متفقہ قراردادیں منظور کی تھیں۔ دنیا بھر کے ممالک نے اس حوالے سے یکطرفہ طور پر اقدامات اٹھائے جن میں شمالی کوریا کے مزدوروں کی بے دخلی، شمالی کوریا کے سفارت خانے بند کرنا اور شمالی کوریا سے درآمدات پر پابندی شامل ہیں۔ امریکہ ایسے اقدامات پر ان ممالک کی ستائش کرتا ہے۔

یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے مگر ابھی ہم اطمینان سے نہیں بیٹھ سکتے۔ کم جانگ ان کی حکومت اپنے بلسٹک میزائلوں اور جوہری تجربات کے ذریعے عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ میں آپ سے اپنے عقب میں موجود نقشے پر ایک نظر ڈالنے کو کہوں گا۔ اس کا مقصد دفاعی فوجی مشقوں اور شمالی کوریا کے غیرذمہ دارانہ تجربات کا تقابل ہے۔ اس نقشے پر جمعے کی صبح ایشیا میں فضائی ٹریفک دکھائی گئی ہے۔ جہاز کا ہر نشان خطے سے گزرنے والی پرواز کو ظاہر کرتا ہے اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہاں روزانہ ایسی بہت سی پروازیں گزرتی ہیں۔

سویلین جہازوں کے شمالی کورین میزائل یا اس کے ٹکڑوں سے متاثر ہونے کے خطرات حقیقی ہیں۔ 28 نومبر کو سان فرانسسکو سے ہانگ کانگ جانے والی پرواز کے مسافروں نے اپنی آنکھوں سے آسمان میں شمالی کوریا کے بین البراعظمی بلسٹک میزائل کے ٹکڑے دیکھے تھے۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق یہ پرواز اس میزائل سے 280 ناٹیکل میل دور تھی جبکہ اس وقت نو دیگر پروازیں بھی وہاں سے گزر رہی تھیں۔ محکمہ دفاع کے مطابق دن بھر وہاں سے 716 پروازوں نے گزرنا تھا۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہےکہ ان 716 پروازوں کے ذریعے 152110 مسافر سفر کر رہے تھے۔ یوں بلسٹک میزائلوں کے غیرذمہ دارانہ تجربات سے بہت سے ممالک کے بہت سے لوگوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ شمالی کوریا کی جانب سے کسی بھی وقت میزائل داغنا روزانہ خطے کی فضائی حدود سے گزرنے والے تمام ممالک کے لوگوں کے لیے خطرہ ہے۔ ماضی میں اس کے لاپرواہانہ رویے کی بنیاد پر ہم شمالی کوریا سے یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ اسے اپنے میزائلوں یا ان کے ٹکڑوں کی راہ میں آنے والی کسی شے کی پروا ہو گی۔ میزائل تجربے سے وابستہ تکنیکی خامیاں کسی بھی وقت بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہیں

یقیناً یہ شمالی کوریا کے میزائلوں سے لاحق واحد یا ممکنہ خطرہ نہیں ہے۔ گزشتہ برس شمالی کوریا کے دو میزائل جاپانی فضا سے گزرے جو آبادی کے مراکز پر بھی گر سکتے تھے۔ شمالی کوریا کے خطرے کی کئی جہتیں ہیں اور ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھا جانا چاہیے۔ یہ دنیا بھر میں سب سے لاپرواہانہ طرزعمل کی حامل حکومت ہے۔ اس کے حالیہ اقدامات کی بنیاد پر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جب اسے جوہری ہتھیار اور انہیں داغنے کی صلاحیت حاصل ہو گئی تو وہ کیا کرے گا۔

اگر ہم شمالی کوریا کی جانب سے شہری اہداف پر حملوں کا تصور کریں تو سیاٹل کی نسبت اوسلو پیانگ یانگ سے زیادہ قریب ہے، لاس اینجلس کی نسبت لندن شمالی کوریا سے زیادہ قریب ہے اسی طرح نیویارک سٹی کی نسبت ایمسٹرڈیم، انقرہ، برسلز، بیجنگ، پیرس اور ماسکو شمالی کوریا سے زیادہ قریبی فاصلے پر واقع ہیں۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جو کہ عالمگیر حل کا تقاضا کرتا ہے۔ شمالی کوریا کے جارحانہ عزائم کو دیکھتے ہوئے ہمیں مستقبل کے بحرانوں کا مستقل اور پرامن حل ڈھونڈنا ہو گا۔ شمالی کوریا کی اشتعال انگیزیوں کا واضح اور ٹھوس نتائج کا حامل جواب ہونا چاہیے۔

سب سے پہلے ہم سب کو سلامتی کونسل کی پابندیوں پر مکمل عملدرآمد کے لیے زور دینا چاہیے۔ اس حوالے سے روس اور چین کی ذمہ داری خاص طور پر اہم ہے۔ ان کے لوگوں کی سلامتی کے لیے پابندیوں پر مکمل عملدرآمد ایک ضروری اقدام اور عالمی ذمہ داریوں کے احترام پر ان کی  رضامندی کا واضح اشارہ ہے۔ ہم اس ضمن میں کوتاہیاں اور پابندیوں کی خلاف ورزیاں برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم ایسے اقدامات پر توجہ دلانے اور ذمہ دار اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

دوسری بات یہ کہ ہم سب کو سمندری ممانعتی کارروائیاں بہتر بنانے کے لیے مل کر کا کرنا ہو گا۔ ہمیں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جہاز سے جہاز کو  منتقلی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ تیسری بات یہ کہ شمالی کوریا کی حکومت نے جب بھی نئی جارحیت کی تو اسے نئے نتائج کا سامنا ہو گا۔

ہم جانتے ہیں کہ کوئی ایک اقدام یا قرارداد شمالی کوریا کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتی، تاہم گر تمام ممالک شمالی کوریا کے ساتھ اپنا معاشی و سفارتی تعلق ختم یا محدود کر دیں تو تمام ممالک کی انفرادی کوششیں باہم مل کر اس مسئلے کا مذاکراتی حل ممکن بنا دیں گی۔ ہم شمالی کوریا کے لیے اچھا مستقبل چاہتے ہیں مگر اس نئے مستقبل کو تخلیق کرنے کی حتمی ذمہ داری شمالی کوریا پر ہی عائد ہوتی ہے۔ شمالی کوریا اپنی موجودہ روش ترک کر کے ہی مطلوبہ سلامتی، استحکام اور اپنے لوگوں کے لیے خوشحال مستقبل ممکن بنا سکتا ہے۔

میں امریکہ کی جانب سے آج اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ تجاویز کے تبادلے کا منتظر ہوں تاکہ شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم کو مزید موثر بنایا جائے اور نتیجتاً تمام ممالک کے لوگوں کی سلامتی کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔ شکریہ۔

وزیرخارجہ فریلینڈ: ریکس آپ کا بے حد شکریہ۔ عکسی معاونت پر بھی ہم آپ کے مشکور ہیں۔ اب ہم جاپان کے وزیرخارجہ تارو کونو کے خیالات سنیں گے۔ جیسا کہ ریکس نے نشاندہی کی، جاپان کو شمالی کوریا سے لاحق خطرات کا براہ راست سامنا ہے۔ جناب وزیر، آپ کی یہاں موجودگی ہمارے لیے اعزاز ہے۔

وزیرخارجہ کونو: محترمہ چیئرپرسن، جناب چیئرپرسن، قابل احترام وزرا اور مندوبین، میں اپنی بات کے آغاز میں وزیرخارجہ فریلینڈ اور ریکس ٹلرسن کو سراہوں گا جنہوں نے ہم سب کو آج یہاں اکٹھا کرنے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔ میں ان کی فراخ دلی کا بھی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اپنے بعد مجھے بات کی دعوت دی۔

جیسا کہ ہم سب نے دیکھا، شمالی کوریا کی اشتعال انگیزیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ عالمی برادری کو شمالی کوریا کی جانب سے لاحق ناگزیر اور سنگین خطرے کا مل کر تدارک کرنا ہو گا۔ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس میری صدارت میں ہوا اور بریفنگ میں یہ بات واضح کر دی گئی کہ جوہری ہتھیاروں سے مسلح  شمالی کوریا کو کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس پس منظر میں آج کا اجلاس نہایت بروقت اور بامعنی ہے۔ اس کی بدولت عالمی برادری شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا خاتمہ ممکن بنانے کے  لیے ایک مرتبہ پھر خود کو یکجا کرے گی۔ میں اپنی بات کے آغاز میں یہ بتانا چاہوں گا کہ میں موجودہ صورتحال اور شمالی کوریا کے ارادوں کو کیسے دیکھتا ہوں۔ اس کے ساتھ میں مستقبل کے حوالے سے بھی کچھ بات کروں گا۔

سب سے پہلے میں جزیرہ نما کی موجودہ صورتحال بارے اپنا مشاہدہ بیان کرتا ہوں۔ جیسا کہ وزیراعظم ایبے نے کہا ہے، ہماری حکومت شمالی کوریا کی پیانگ چانگ اولمپکس میں شرکت کے حوالے سے دونوں کوریاؤں میں حالیہ بات چیت کا خیرمقدم کرتی ہے۔ بہرحال اولمپکس اور پیرالمپک کھیلیں پرامن مواقع ہیں۔ ہم ان مواقع کو کامیاب بنانے کے لیے جمہوریہ کوریا تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

مگر ہمیں یہ بات نظرانداز نہیں کرنی چاہیے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری اور میزائل پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ میں جانتا ہوں کہ بعض لوگ کہیں گے اب جبکہ شمالی کوریا جنوبی کوریا سے بات چیت کر رہا ہے تو ہمیں پابندیاں اٹھا کر یا انہیں کسی طرح کی معاونت فراہم کر کے اس کا صلہ دینا چاہیے۔ تاہم صاف بات یہ ہے کہ یہ نہایات معصومانہ نکتہ نظر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شمالی کوریا اپنے جوہری اور میزائل پروگرام آگے بڑھانے کے لیے کچھ وقت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس بات چیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے میں کہوں گا کہ آج کی بات چیت اسی حقیقت کو مدنظر رکھ کر شروع کی جانی چاہیے۔

دوسری بات یہ کہ ہمیں ان کی نیت کو بھانپنے کے لیے اس بات کو بنیاد بنانا چاہیے کہ وہ حقیقت میں کیا کر رہے ہیں نہ کہ اس بات کو کہ ہمیں کیا امید ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ ہمیں شمالی کوریا کی مذاکرات پر آمادگی اور جوہری و میزائل پروگرام سے متعلق اس کے عزم کی کس طرح تشریح کرنی چاہیے۔ اول یہ کہ وہ کچھ ملکوں سے خود پر عائد پابندیاں ختم کرانے کی امید کر رہے ہوں گے۔ دوم یہ کہ وہ دوسروں کی ساکھ خراب کر کے کسی بھی شکل میں مالی امداد حاصل کر نے کی کوشش کر رہے ہوں گے۔ سوم یہ کہ وہ یقیناًیہ امید بھی کر رہے ہوں گے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں منسوخ ہو جائیں اور چوتھی بات  یہ کہ وہ کڑے اور نرم موقف کے حامل ممالک میں اختلاف پیدا کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہوں گے۔ اس کے علاوہ اگر دونوں کوریاؤں کے درمیان مذاکرات اس طرح آگے نہیں بڑھتے جیسا کہ شمالی کوریا چاہتا ہے تو وہ  اس کا الزام دوسروں کو دے سکتا ہے اور اسے مزید اشتعال انگیز اور خطرناک کارروائیوں کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

سو ہمیں ہر صورت میں یہ بات ذہن میں رکھنی ہے کہ خواہ ہم شمالی کوریا سے مذاکرات بھی کر رہے ہوں ،  وہ تب  بھی اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو آگے بڑھائے گا اور ہمیں اس کے ارادوں کے حوالے سے بالکل بھی غافل نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی شمالی کوریا کی دفاعی جارحیت کی طرف سے آنکھیں بند کرنی چاہئیں۔ مختصر یہ کہ یہ وقت شمالی کوریا پر دباؤ کم کرنے یا اسے کوئی انعام دینے کا نہیں۔

میرا آخری نکتہ میرے ابتدائی مشاہدے سے ابھر تا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کو برقرار رکھنا ہے۔ بین الاقوامی پابندیاں رفتہ رفتہ رنگ لے آئی ہیں۔ جہاز سے جہاز تک منتقلی کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ پابندیوں کا حالیہ دور خاصا کارگر رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ پابندیاں رواں سال کے دوران مزید بہتر نتائج دیں۔ یہ حقیقت کہ شمالی کوریا مذاکرات کی طرف آیا ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ پابندیاں اپنا کام دکھا رہی ہیں۔ اس لیے میں یہ کہوں گا کہ اب وقت ہے کہ تمام ممالک سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں کو بھر پور طریقے سے نافذ کرنے کے عزم کا اعادہ کریں تاکہ جب اور جہاں ضرورت ہو خود مختار اقدامات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ ان میں شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی تعلقات کا خاتمہ بھی شامل ہو سکتا ہے اور شمالی کوریا کے کارکنوں کو ملک بدر کرنا بھی۔ صرف انہی اقدامات کی مدد سے ہم شمالی کوریا کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اردن کی ہاشمی سلطنت نے شمالی کوریا کے ساتھ اپنے سفارتی روابط منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جاپان اردن کے اس اقدام کا تہہ دل سے خیر مقدم کرتا ہے اور دیگر ملکوں سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے مزید کارروائیاں کریں۔

جیسا کہ میں نے ابتدا میں کہا کہ رواں سال کا آغاز شمالی کوریا کی طرف سے بین الکوریائی مذاکرات کے اقدام سے ہوا۔ تاہم جوہری میزائل پروگرام کو حل کرنے اور اغوا کے معاملے کے حوالے سے کوئی مثبت اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ آج وزرائے خارجہ کی ملاقات اس بات کے اظہار کابروقت موقع فراہم کرتی ہے کہ عالمی برادری جزیرہ نما کوریا کی مکمل جوہری تخفیف کا غیر متزلزل عزم ظاہر کرے اور شمالی کوریا کو مزید اشتعال انگیزی کرنے سے روکے۔ ہمیں مل کر شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانا ہو گا اور اسے جوہری تخفیف کی پالیسی کی طرف لے جانے کے لیے تنہا کرنا ہو گا۔

چیئرپرسن  اور آپ سب کا بہت شکریہ۔

وزیر خارجہ فریلینڈ:بہت شکریہ جناب کونو۔ آپ کے دانائی سے بھر پور الفاظ اور امن کی کوششوں کے عزم کیلیے بہت شکریہ۔اور اب ہم وزیر خارجہ کانگ کا نکتہ نظر سنیں گے۔ ہم سب خود کو درپیش مشترکہ خطرے کی بات کرتے رہے ہیں اور میں سمجھتی ہوں ہمیں یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ کسی دوسرے ملک کا اس معاملے سے اتنا مفاد وابستہ نہیں جتنا ہمارے دوست جنوبی کوریا کا ہے۔ اس لیے میں اس موضوع پر وزیر کانگ کو بولنے کی دعوت دیتی ہوں۔

وزیر خارجہ کانگ: بہت شکریہ وزیرخارجہ فریلینڈ، وزیر خارجہ ٹلر سن، ساتھیو، دوستو، خواتین و حضرات سب سے پہلے میں اپنے دو معزز میزبانوں کا شکریہ ادا کروں گا جنہوں نے اس نشست کے انعقاد میں انتھک محنت کی۔ جزیرہ نما کوریا میں تیزی سے بدلتی صورت حال کے تناظر میں حالیہ ملاقات بہت بر محل ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں جنوبی اور شمالی کوریا نے طویل وقفے کے بعد رواں سال مذاکرات کا آغاز کیا ہے اور طویل غیر حاضری کے باوجود میں بتاتا چلوں کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات خاصے تعمیری اور مثبت رہے۔

9جنوری کو ہونے والے اعلی سطحی مذاکرات میں دونوں ملکوں نے پیانگ چانگ اولمپک اور پیرالمپک کھیلوں میں شمالی کوریا کی شرکت کے لیے تعاون ، تناؤ کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے ، جزیرہ نما کوریا میں پر امن ماحول پیدا کرنے اور مذاکرات کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان موجود مسائل حل کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ بلاشبہ پیانگ چانگ کھیلوں کیلئے ایک اہم پیش رفت ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں کوریاؤں میں  روابط کی بحالی کی طرف ایک اہم قدم ہے جوکئی سال سے منجمد رہے ہیں۔ ہم اس ابتدائی پیش رفت کو آگے بڑھانے اور خطے میں تناؤ کم کرنے نیز شمالی کوریا کے جوہری مسئلے کا پر امن حل تلاش کرنے کے لیے ساز گار حالات پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ جزیرہ نما کوریا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پر امید ہیں۔ میرے ساتھیو، دوستو اور محترم سفراء، جنوبی کوریا سے روابط بہتر کرنے کے ان اقدامات کے باوجود شمالی کوریا کو جوہری تخفیف کی اپنی عالمی ذمہ داری پوری کرنے کے ارادوں کا ابھی اظہار کرنا ہے۔ اس سے برعکس شمالی کوریا اپنے اس دعوے پر قائم ہے کہ اس نے اپنی جوہری قوت مکمل کر لی ہے اور اب دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا جوہری وار ہیڈ سے لیس بلسٹک میزائل امریکہ میں کہیں بھی نشانہ لگا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام سے پیدا ہونے والا خطرہ اس وقت شمال مشرقی ایشیا تک محدود نہیں رہا بلکہ حقیقی معنوں میں عالمی خطرہ بن چکا ہے۔ اس کے جواب میں عالمی برابری اس نکتے کو اجاگر کرنے پر متحد ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری عزائم قابل قبول نہیں اور اسے جوہری تخفیف کے راستے پر واپس آجانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف 2017کے دوسرے نصف میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی زیادہ سخت پابندیوں والی تین مزید قرار دادیں متفقہ طور پر منظور ہوئی تھیں اور بہت سے رکن ممالک شمالی کوریا پر اضافی دباؤ ڈالنے کے لیے یک طرفہ اقدامات عمل میں لا رہے ہیں۔

جمہوریہ کوریا اپنے کلیدی اتحادیوں اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں پر عمل درآمد کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ شمالی کوریا کو اپنا راستہ بدلنے اور جوہری تخفیف کے لیے مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اور اس مقصد کے لیے تمام رکن ممالک کی طرف سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کے اطلاق کو یقینی بنانا اور ان کے موثر ہونے کی شدت بڑھانا اشد ضروری ہے۔ میری حکومت اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

ہم نے شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی کو ترک کرے اور مذاکرات کی طرف واپس آئے ۔ ہم نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ اس کی مسلسل اشتعال انگیزی کا نتیجہ مزید پابندیاں اور دباؤ کی صورت میں ہی نکلے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ صدر مون اور بہت سے دوسرے رہنماؤں نے متعدد بار اپنے بیانات اور شمالی کوریا کو بھیجے گئے پیغامات میں کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا درست فیصلہ کرتا ہے تو ہم اسے زیادہ بہتر اور روشن مستقبل فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ دونوں ہتھیار یعنی سخت پابندیاں اور دباؤ ایک ہاتھ میں اور دوسرے ہاتھ میں مختلف اورروشن مستقبل کی پیش کش ہو تو بہت کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری کی مشترکہ کوششیں رنگ لے آئی ہیں۔ ہمیں اس چیز پر غور کرنا چاہیے کہ شمالی کوریا سرمائی کھیلوں  کیلئے جنوبی کوریا کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آ گیا ہے اور یہ بات مشاہدے میں آ رہی ہے کہ پابندیوں اور د باؤ کے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔

خواتین و حضرات جیسا کہ آپ جانتے ہیں دونوں کوریاؤں میں  مذاکراتی عمل شمالی کوریا کے جوہری مسئلے کو حل کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا تو ان دونوں معاملات کو بیک وقت آگے بڑھانا چاہیے۔ جوہری تخفیف ہی جزیرہ نما کوریا میں پائیدار امن کا بنیادی عنصر ہے۔سو ہماری شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں جوہری تخفیف کی بنیاد پر ہی ہیں۔ کوریائی  حکومت اور بین الاقوامی برادری کا اصل مطمح نظر شمالی کوریا کی مکمل، قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ جوہری تخفیف ہے۔ جب تک شمالی کوریا جوہری قوت میں اضافے کے راستے پر گامزن ہے، اس پر پابندیاں برقرار رہیں گی اور جنوبی کوریا عالمی برادری کے ساتھ مل کر شمالی کوریا پر جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالتا رہے گا۔ جزیرہ نما کوریا سے متعلقہ مسائل کا بنیاد ی حل شمالی کوریا کی جوہری تخفیف کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا اور ہم اس مقصد کے حصول کے لیے جلد از جلد مذاکرات کریں گے۔

عزیز دوستو ، قریباً  70سال قبل عالمی برادری نے جزیرہ نما کوریا کے جنوبی حصے میں مرتی ہوئی جمہوریت کو بچانے کیلئے اپنی فوج اور انسانی امداد یہاں بھیجی تھی۔ ہم کوریائی عوام ان ملکوں کی نمائندگی کرنے والے مردو اور خواتین کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے اور اس کے اظہار کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم ان لوگوں کو، ان کے اہل خانہ اور ہم وطنوں کو ان کی نیکی لوٹائیں۔ جنگ سے تباہ شدہ اس چھوٹی سی قوم نے بہت محنت کی ہے اور اب یہ شمال مشرقی ایشیا اور دنیا بھر میں آزادی، جمہوریت اور اقتصادی قوت کا ایک استعارہ بن گئی ہے۔ لیکن ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تکہ اپنی قربانیوں کا آخری صلہ بھی وصول نہ کر لیں اور وہ ہے جزیرہ نما کوریا میں پائیدار امن۔

عزیز دوستو پیانگ چانگ میں  سرمائی اولمپکس اور پیرالمپک کھیل شروع ہونے میں اب ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ شمالی کوریا کی اس میں شرکت نے ہمارے لیے اضافی کام پیدا کر دیا ہے لیکن ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں کہ ان کے کھلاڑیوں، آفیشلز، تماشائیوں اور پرجوش ہجوم کی شرکت کھیلوں کے جشن اور خوشیوں میں اضافہ کرے۔ شمالی کوریا کے شرکا کے لیے یقیناًدنیا بھر کے کھلاڑیوں سے میل ملاقات کا یہ ایک اہم موقع ہو گا اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس کے اثرات پیانگ چانگ سے باہر بھی جائیں گے۔

ہم ان کوششوں میں آپ کی حمایت کے متمنی ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ شمالی کوریا کو اپنا راستہ تبدیل کرنے اور اس کے جوہری معاملے کو پر امن حل کی طرف لانے اورجزیرہ نما کوریا میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ ہماری آج کی ملاقات اس معاملے پر عالمی برادری کی طرف سے ہمارے ساتھ یک جہتی کا بہت بروقت مظاہرہ ہے اور میں آج کی تعمیری گفتگو سے بہت پر امید ہوں۔ آپ کا بہت شکریہ۔

وزیر خارجہ فریلینڈ:جناب وزیر، خوبصورت گفتگو کابہت شکریہ ۔ جیسا کہ آپ نے کہا ہم سب ملک 70سال قبل آپ کے ملک کی مدد کرنے پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں اور ہماری یہاں موجودگی کی ایک وجہ آپ اور جنوبی کوریا کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرنا بھی ہے۔

ہم سب اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی معاونت کے لیے کام کر رہے ہیںاور اس مقصد نیز اس کے  علاوہ کئی مقاصد کے لیے  میں اپنے دوست ، اتحادی اور ساتھی برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن کو دعوت دوں گی کہ وہ آئیں اور اپنے خیالات کا اظہار کریں۔

وزیر خارجہ جانسن:شکریہ، آپ سب کا اور کرسٹیا کا بھی شکریہ ۔ وینکوور آنا میرے لیے بہت خوشی کی بات ہے اور میں اس کے لیے کینیڈا کی میزبانی کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ اس نے اس قدر اہم ملاقات کا اہتمام کیا اور ایسے لوگوں کو مدعو کیا جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک جیسی سوچ رکھتے ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس لمحے کیا ہورہا ہے تو اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ ہم نے گزشتہ سال 20میزائل تجربے دیکھے جن میں سے دو جاپان کے اوپر سے گزرے جبکہ ایک جوہری تجربہ بھی ہوا۔ ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ یہ صرف خطے میں جوہری عدم پھیلاؤ کا معاملہ نہیں بلکہ جوہری ہتھیاروں تک غیر ریاستی عناصر کی دسترس کا بھی مسئلہ ہے جس کے دنیا کے لیے نتائج بہت ہی ہولناک ہو سکتے ہیں۔

چنانچہ یہ بہت اہم ہے اور حوصلہ افزا بھی کہ دنیا پیانگ یانگ کی دھمکیوں سے ڈری یا تقسیم نہیں ہوئی بلکہ حقیقت میں ہم متحد ہو گئے ہیں اور قرار داد نمبر 2397میں عالمی اتفاق رائے کا بے مثال اقدام اٹھایا گیا تاکہ شمالی کوریا پر سیاسی و اقتصادی دباؤ کی شدت کو بڑھایا جا سکے۔ میں ان سب لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں، ان کا بھی شکر گزار ہوں  کہ ہم سب نے مل کر اس عمل کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

اب جیساکہ کیونگ وا اور تارو نے کہا ہے یہ بہت اچھی بات ہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں اور یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ دونوں نے اولمپک کے معاملے پر صلح کا ہاتھ بڑھایا ہے جو کہ اولمپک کی اصل روح بھی ہے۔ میں یہ کہوں گا کہ اس اقدام کی تاریخ قدیم اولمپک کھیلوں جتنی ہی  پرانی ہے۔ تاہم تاریخ میں ایسا ہوتا رہا کہ جیسے ہی اولمپکس ختم ہوتے صلح بھی ختم ہو جاتی ، کہیں اب بھی ایسا نہ ہو۔

میں امید رکھتا ہوں کہ لوگ جلد اس بات کو جان لیں گے جیسا کہ تارو کونو نے بھی کہا ہے کہ شمالی کوریا کا پروگرام جاری ہے۔ کم جانگ ان اپنے غیر قانونی پروگرام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ مجھے خطرہ ہے کہ وہ ابھی تک خوف زدہ نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا اس وقت کام یہ ہے کہ ہم ایک واضح پیغام دیں کہ ہم اپنے دباؤ کی شدت بڑھا رہے ہیں ۔ انہیں اب دو میں سے ایک راستے کا انتخاب کرنا ہو گا، یا تو وہ ایٹمی پھیلاؤ کے راستے پر چلتے رہیں اور مزید تنہائی کا شکار ہو جائیں اور مزید اقتصادی سختیاں جھیلنے کے لیے تیار رہیں یا پھر دوسرا راستہ اختیار کریں جو شمالی کوریا کے لوگوں کی فلاح کی طرف جاتا ہے اور جس میں جنوبی کوریا کی حیرت انگیز کامیابیوں کی تقلید کا موقع موجود ہے۔ہمارا کام ہر صورت میں ان کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ درست راستے کا انتخاب کریں اور اس کے لیےمستقبل قریب میں  عزم صمیم کی ضرورت ہے۔

وزیر خارجہ فریلینڈ:ٹھیک ہے۔ بہت شکریہ بورس، آپ نے بالکل وہی بات کی جو میں نے سوچا تھا۔

ابتدائی گفتگو پر آپ سبھی کا بے حد شکریہ ۔ میرا خیال ہے کہ ہم نے اپنا مدعا بخوبی بیان کیا ہے تاکہ ہماری شہریوں اور دنیا کو بھی اندازہ ہو  جو ہمیں اور ہمارے کام کو بغور دیکھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں ۔ اب ہم رخصت چاہتے ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں