rss

امریکی خارجہ پالیسی – افریقہ میں شمالی کوریا کی سرگرمیاں

English English, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان

 
 

قائم مقام نائب معاون وزیر برائے افریقی امور رابرٹ سکاٹ، شمالی کوریا سے متعلق پالیسی بارے خصوصی نائب نمائندہ مارک لیمبرٹ، قائم مقام نائب معاون وزیر برائے اقتصادی بیورو سینڈرا اوڈکرک اور نگران برائن نیوبرٹ کی بریفنگ

میزبان: خواتین و حضرات، آپ نے انتظار کیا جس کے لیے ہم آپ کے مشکور ہیں۔ افریقہ میں شمالی کوریا کی سرگرمیوں سے متعلق کانفرنس کال میں خوش آمدید۔ اس وقت شرکا صرف ہماری بات ہی سن سکتے ہیں۔ بعدازاں سوال جواب کا دور ہو گا اور اس بارے ہدایات بھی اسی وقت دی جائیں گی۔ اگر اس کال کے دوران آپ کو معاونت درکار ہو تو براہ مہربانی ٭ اور پھر 0 بٹن دبائیں۔ یاد دہانی کے طور پر بتاتے چلیں کہ یہ کانفرنس ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ اب آپ کے میزبان برائن نیوبرٹ بات کریں گے۔

برائن نیوبرٹ: امریکی دفتر خارجہ میں افریقی خطے کے علاقائی میڈیا مرکز کی جانب سے سبھی کو سہ پہر بخیر۔ میں پورے براعظم سے ٹیلی فون پر ہمارے ساتھ موجود تمام شرکا کا خیرمقدم اور اس گفت و شنید میں شمولیت پر آپ سبھی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ آج ہمیں بے حد خوشی ہے کہ واشنگٹن سے افریقی امور کے بیورو، مشرقی ایشیا والکاہل بیورو اور اقتصادی بیورو سے تعلق رکھنے والے دو اعلیٰ عہدیدار ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ ان میں قائم مقام نائب معاون وزیر برائے افریقی امور رابرٹ سکاٹ، شمالی کوریا سے متعلق پالیسی بارے خصوصی نائب نمائندہ مارک لیمبرٹ اور قائم مقام نائب معاون وزیر برائے اقتصادی بیورو سینڈرا اوڈکرک شامل ہیں۔ مقررین شمالی کوریا بارے امریکی خارجہ پالیسی، افریقہ میں شمالی کوریا کی سرگرمیوں اور اس کی جانب سے عالمی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے حالیہ سفارتی کوششوں بشمول شمالی کوریا سے تعلقات ختم کرانے کے لیے افریقی حکومتوں کے ساتھ امریکی کوششوں پر بات کریں گے۔

ہم اس گفت وشنید کا آغاز افتتاحی کلمات سے کریں گے اور پھر آپ کے سوالات لیے جائیں گے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ مقررہ وقت میں زیادہ سے زیادہ سوالات کے جواب دیے جا سکیں۔ ہمارے پاس 45 منٹ یا شاید اس سے کچھ زیادہ وقت ہے۔ کال کے دوران کسی بھی وقت آپ کوئی سوال کرنا چاہیں تو اپنے فون پر ٭ اور پھر 1 بٹن دبائیں۔ اگر آپ ٹویٹر پر اس بات چیت میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہیش ٹیگ #DPRK استعمال کریں۔ آپ ہمیں @AfricaMediaHubپر بھی فالو کر سکتے ہیں۔ یاد دہانی کے طور پر بتاتے چلیں کہ آج کی کال ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں قائم مقام نائب معاون وزیر رابرٹ سکاٹ کو بات کرنے کی دعوت دوں گا۔

رابرٹ سکاٹ: برائن، تعارف کے لیے شکریہ، میں آج اس بریفنگ کے لیے ہمارے ساتھ موجود میڈیا کے تمام ارکان کا بھی مشکور ہوں۔ میں اس اہم بات چیت میں شمولیت پر دفتر خارجہ کے ساتھیوں کی جانب سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم نے اس کال کا اہتمام اس امر پر زور دینے کے لیے کیا ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کی جانب سے لاحق خطرے کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔

میں مشرقی ایشیا اور الکاہل امور کے دفاتر سے متعلق اپنے ساتھیوں کا بھی شکرگزار ہوں جیسا کہ برائن نے بتایا ان میں شمالی کوریا سے متعلق پالیسی بارے خصوصی نائب نمائندہ مارک لیمبرٹ اور قائم مقام نائب معاون وزیر برائے اقتصادی بیورو سینڈرا اوڈکرک شامل ہیں۔ جیسا کہ ہم نے یکم جنوری کو کم جانگ ان کا بیان دیکھا کہ شمالی کوریا جوہری طاقت بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مزید براں ان کی جانب سے امریکی سرزمین پر حملوں کے ارادوں کا مسلسل اعلان اس امر کو نمایاں کرتا ہے کہ امریکہ اس معاملے کو فوری اہمیت کیوں دیتا ہے۔

شمالی کوریا کے الفاظ اور اقدامات مشرقی ایشیا اور بقیہ دنیا کو عدم استحکام اور وسیع تنازعے کے دھانے پر لے آئے ہیں۔ امریکہ عالمی برادری کے تعاون سے شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور جزیرہ نما کوریا کو مکمل، قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ طور پر جوہری اسلحے سے پاک کرنے کے لیے تمام تر دستیاب سفارتی و مالیاتی ذرائع استعمال کر رہا ہے۔

آج ہم آپ کو یہ وضاحت دینے کے لیے یہاں موجود ہیں کہ شمالی کوریا کی تخریبی سرگرمیاں اس کے میزائل پروگرام سے کس قدر آگے بڑھ چکی ہیں۔ شمالی کوریا دنیا بھر میں تخریبی قوت بن چکا ہے۔ شمالی کوریا سے متعلق پالیسی بارے ہمارے خصوصی نائب نمائندے مارک لیمبرٹ اس بات کی وضاحت کریں گے کہ ہم شمالی کوریا سے متعلق پالیسی، افریقی حکومتوں سے اس کے متعلقات اور افریقہ میں شمالی کوریا کے حوالے سے دباؤ بڑھانے کی مہم کو کیسے دیکھتے ہیں۔ براعظم افریقہ میں بہت سی حکومتوں کے شمالی کوریا سے دیرینہ تعلقات ہیں جو سنجیدہ اور ازسرنو جائزے کا تقاضا کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے عرصہ میں شمالی کوریا پر پابندیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والی چار قراردادیں اس امر کا اظہار ہیں کہ یہ معاملہ کس قدر فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ ان قراردادوں سے اس مسئلے کے سفارتی حل بارے عالمی برادری کی مجموعی خواہش کا اظہار بھی ہوتا ہے۔

مارک کی گفتگو کے بعد قائم مقام نائب معاون وزیر سینڈرا اوڈکرک ایسی سرگرمیوں کی بابت بتائیں گی جو اقوام متحدہ کی نئی قراردادوں کی رو سے ممنوع قرار پائی ہیں۔ شمالی کوریا سے تعلقات پر نظرثانی کرنے والے ممالک کو یہ بات مدنظر رکھنا ہو گی کہ شمالی کوریا عالمی تجارتی و مالیاتی نظام تک رسائی کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات سے کام لیتا اور یوں اپنے غیرقانونی جوہری و بلسٹک میزائل پروگراموں کو ترقی دیتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے شمالی کوریا تسلسل سے سفارتی رعایات کا ناجائز استعمال کرتا اور اپنے سفارت خانوں اور تجارتی مشنز کی میزبانی کرنے والی حکومتوں کی عالمی شہرت کو داغدار کرتا ہے۔

شمالی کوریا عالمی مالیاتی نظام تک اپنی رسائی سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے، یہ وہ رسائی ہے جو دوسرے ممالک نے اسے نیک نیتی سے فراہم کر رکھی ہے۔ شمالی کوریا دوسرے ممالک اور ان کے اداروں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی غیرقانونی مالیاتی سرگرمیوں کو چھپاتا ہے۔ شمالی کوریا کو اچھی طرح علم ہے کہ ایسا غیرقانونی لین دین اس کے عالمی شراکت داروں کے لیے مالیاتی سزاؤں کا سبب بنے گا۔ مزید براں شمالی کوریا سے متعلق اقوام متحدہ کے پینل نے اپنی یکے بعد دیگرے سالانہ رپورٹس میں متعدد افریقی حکومتوں کے ساتھ شمالی کوریا کی اسلحے سے متعلق متعدد سرگرمیوں کا تذکرہ کیا ہے۔ امریکہ ان رپورٹس کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے کیونکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی رو سے شمالی کوریا کے ساتھ تجارت اور اسلحے سے متعلق لین دین سختی سے ممنوع ہے۔ سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے ساتھ فوج، پولیس یا سکیورٹی سے متعلق کسی بھی تربیتی سرگرمی کو بھی ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ ایسی سرگرمیوں سے شمالی کوریا کو اپنے غیرقانونی جوہری اور بلسٹک میزائل پروگرام کے لیے رقم جمع کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ان مثالوں سے اس امر کی ضرورت نمایاں ہوتی ہے کہ ہمارے شراکت داروں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ شمالی کوریا ان کی سرزمین پر کیا کر رہا ہے اور انہیں یہ سرگرمیاں بند کرنی چاہئیں۔ گزشتہ برس ہم نے دیکھا کہ بہت سے افریقی ممالک نے شمالی کوریا سے تعلقات منقطع کرنے کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں سے بھی بڑھ کر انتہائی مثبت اقدامات اٹھائے تھے۔ گزشتہ برس بہت سے ممالک کی جانب سے خطے میں شمالی کوریا کی سرگرمی ختم کرنے کے اقدامات سے ہمارے بے حد حوصلہ افزائی ہوئی۔ ایسے اقدامات میں شمالی کوریا کے مزدوروں کی بے دخلی، تجارتی تعلقات میں کمی یا خاتمہ، شمالی کوریا کے ساتھ مزدوری کے ٹھیکوں کی تجدید سے انکار، پیانگ یانگ کے ساتھ اعلیٰ سطحی دوروں کا خاتمہ اور شمالی کوریا کی غیرقانونی سرگرمیوں کی کھلم کھلا مذمت شامل ہیں۔ ان تمام اقدامات سے شمالی کوریا کو کڑا پیغام گیا اور دنیا بھر میں شمالی کوریا کی سرگرمیوں کے اثرورسوخ میں کمی کے لیے عالمی حمایت سامنے آئی۔ تاہم افریقہ میں شمالی کوریا کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

ان تمام وجوہات کی بنا پر ہم نے دنیا بھر کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ سیاسی و معاشی تعلقات محدود کریں تاکہ اس پر واضح ہو جائے کہ عالمی برادری کے لیے اس کا رویہ ناقابل قبول ہو گا۔ آپ کے ساتھ آج کی بریفنگ شمالی کوریا کے حوالے سے امریکی پالیسی اجاگر کرنے کی کوششوں کے سلسلے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ افریقی ممالک کے ساتھ شمالی کوریا کے تعلقات اور اقدامات امریکہ کے لیے بے حد تشویش کا باعث ہیں۔

دنیا بھر کے ممالک جوں جوں شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات ختم کر رہے ہیں اس کی جانب سے رقم اکٹھی کرنے اور مزید سفارتی تعلقات بنانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ میں آج کی اس گفت و شنید میں شمولیت پر ایک مرتبہ پھر آپ کا مشکور ہوں۔ اب  میں مارک لیمبرٹ کو دعوت دوں گا کہ وہ اس موضوع پر مزید بات کریں کہ ہم شمالی کوریا کے خطرے سے کیسے نمٹ رہے ہیں۔

مارک لیمبرٹ: آپ کا بے حد شکریہ۔ صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی یہ بات بالکل واضح کر دی تھی کہ شمالی کوریا سے لاحق خطرہ امریکہ کو درپیش خطرات میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہ کرہ ارض پر واحد ملک ہے جو میزائل کے ذریعے جوہری ہتھیاروں سے امریکہ کو نشانہ بنانا چاہتا ہے اور ہم ہر ذریعے سے اس خطرے کا تدارک کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ ہم شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالیں گے۔ اس کا مطلب معاشی دباؤ، سفارتی دباؤ اور فوجی دباؤ ہے۔ اس دباؤ کا مقصد شمالی کوریا کی حکومت گرانا نہیں بلکہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے اسے مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔

ہم نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے حوالے سے متعدد افریقی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا ہے مگر ہمارے لیے یہ قراردادیں محض نقطہ آغاز ہیں۔ مزید براں ہمارے پاس ایسی بہت سے کڑی یکطرفہ پابندیوں کا آپشن بھی موجود ہے جو ہم ایسے کسی بھی فرد یا ادارے کے خلاف عائد کر سکتے ہیں جو شمالی کوریا کے ساتھ اہم نوعیت کی تجارتی سرگرمیوں میں ملوث ہو۔ ہم دنیا بھر کے ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ وہ شمالی کوریا کے سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیں۔ یہ بات نہایت واضح ہے کہ شمالی کوریا کے سفارت کار اپنے سفارتی استحقاق کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے سفارت خانوں کو منافع کمانے کے مراکز میں تبدیل کیے ہوئے ہیں۔ ہم دنیا بھر کے ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ وہ شمالی کوریا کے کارکنوں کو ملک بدر کر دیں۔ ان کارکنوں کی مزدوری کا معاوضہ ان کے خاندانوں کو نہیں ملتا بلکہ یہ رقم شمالی کوریا کی حکومت کو جاتی ہے جو اسے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو ترقی دینے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ مزید براں ہم دنیا بھر کے ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی انتہائی محتاط رہیں۔ شمالی کوریا کے کارکن دنیا بھر میں سائبر جرائم میں ملوث ہیں۔ مختصر الفاظ میں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ دنیا میں شمالی کوریا کا کوئی سیاح نہیں ہوتا، اس کے بجائے جس ملک میں بھی شمالی کوریا کا کوئی باشندہ موجود ہو گا اس کے ادارے اور لوگ خطرے کی زد میں ہوں گے۔

ہم افریقہ میں آپ کے ساتھ شراکت چاہتے ہیں۔ ہم شمالی کوریا کو دو واضح پیغامات بھیجنے کے لیے آپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ پہلا پیغام یہ ہے کہ عالمی برادری اس حوالے سے متحد ہے کہ وہ شمالی کوریا کو جوہری طاقت کے طور پر کبھی بھی قبول نہیں کرے گی اور ہم اس پر مزید دباؤ ڈالیں گے یہاں تک کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آ جائے۔ دوسری بات یہ کہ ہم شمالی کوریا کے عوام اور رہنماؤں پر یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ان کے لیے اچھا مستقبل بھی موجود ہے، اگر شمالی کوریا مذاکرات کی میز پر آ جائے تو ہم اس کی معیشت کو ترقی دینے اور عوام کی حالت بہتر بنانے کے لیے اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی میں اپنی ساتھی کو بات کا موقع دوں گا جس کے بعد آپ کے سوالات لیے جائیں گے۔

رابرٹ سکاٹ: شکریہ مارک، اب سینڈرا بات کریں گی۔

سینڈرا اوڈکرک: شکریہ رابرٹ۔ میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا پر عائد کردہ پابندیوں بارے مختصر جائزہ پیش کروں گی جن کا مقصد شمالی کوریا کو مکمل، قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ طور سے جوہری اسلحے سے پاک کرنا ہے۔ 2006 میں پہلی مرتبہ شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کی گئیں جس کے بعد ان میں وسعت آتی گئی اور اب اس حوالے سے دس الگ قراردادیں آ چکی ہیں جن میں ایسے جامع اقدامات کی بات کی گئی ہے جو قبل ازیں اقوام  متحدہ کے کسی رکن ملک کے خلاف نہیں اٹھائے گئے۔ ان دس میں سے چار قراردادیں سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے جوہری اور بلسٹک میزائل تجربات کے خلاف گزشتہ برس منظور کی تھیں۔ ان قراردادوں میں شمالی کوریا کو آمدنی روکنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جسے وہ اپنے غیرقانونی پروگرام کو پیش رفت دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ان قراردادوں کی بدولت شمالی کوریا کے رویے کی مذمت میں کڑا پیغام گیا ہے۔

گزشتہ برس کے اختتام تک اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بدولت شمالی کوریا کی تمام تر برآمدات پر روک لگ گئی جن میں کوئلہ، خام لوہا، سیسہ، ٹیکسٹائل مصنوعات، سمندری خوراک، بھاری مشینری، بجلی کے آلات اور زرعی پیداوار شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں کام کرنے والے شمالی کوریا کے تمام کارکنوں کو دو سال کے اندر ملک بدر کر دیں اور انہیں ایسے کارکنوں کے لیے کام کے موجودہ اجازت ناموں کی تجدید اور شمالی کوریا کے باشندوں کو نئے اجازت نامے جاری کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ مزید براں اقوام متحدہ کے ان اقدامات نے شمالی کوریا کی جانب سے آمدنی کے حصول اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کی اہلیت پر بھی اضافی رکاوٹیں عائد کر دی ہیں۔ ان میں شمالی کوریا کے ساتھ تمام مشترکہ کاروباری سرگرمیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے جس سے شمالی کوریا ناصرف ایسی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے محروم ہو گیا ہے بلکہ اس کے لیے مستقبل میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے امکانات بھی ختم ہو گئے ہیں۔

علاوہ ازیں سلامتی کونسل نے حال ہی میں رکن ممالک کی جانب سے شمالی کوریا کو برآمدات پر بھی نئی کڑی پابندیاں عائد کی ہیں جس سے اس کی تیل تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔ شمالی کوریا اب سالانہ پانچ لاکھ بیرل صاف تیل تک محدود ہو چکا ہے جو کہ 2016 میں اس کی جانب سے ساڑھے چار ملین بیرل تیل کی درآمد سے 89 فیصد کم ہے۔ شمالی کوریا کو خام تیل کی ترسیل چار ملین بیرل سالانہ تک محدود کر دی گئی ہے اور اب ترسیل کنندگان کو ہر تین ماہ بعد 1718 کمیٹی کو رپورٹ دینی ہو گی کہ انہوں نے شمالی کوریا کو مقررہ مقدار سے زیادہ تیل فراہم نہیں کیا۔ مزید براں دسمبر 2017 میں منظور کردہ قرارداد 2397 میں یہ وارننگ بھی شامل ہے کہ اگر شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں یا بین البراعظمی میزائل کا نیا تجربہ کیا تو اسے تیل کی فراہمی مزید محدود کر دی جائے گی۔

اگر رکن ممالک پابندیوں پر پوری طرح عملدرآمد کریں تو شمالی کوریا کی حکومت پر ان اقدامات کے ٹھوس اثرات مرتب ہوں گے۔ مثال کے طور پر صرف کوئلے کی برآمدات پر پابندیوں سے شمالی کوریا سالانہ ایک ارب ڈالر سے محروم ہو چکا ہے۔ مختلف شعبوں میں لگائی گئی پابندیوں سے 2018 میں شمالی کوریا کی مجموعی برآمدی آمدنی میں ڈھائی ارب ڈالر کمی آئے گی جو کہ 2016 میں اس کی معلوم برآمدی آمدنی کا 95 فیصد بنتا ہے۔ شمالی کوریا کے مزدوروں پر مزید پابندیوں سے اسے آئندہ دو برس میں اندازاً پانچ سو ملین ڈالر سے محروم ہونا پڑے گا جس سے 2019 تک اس کی بیرون ملک سے نقد رقم حاصل کرنے کی اہلیت ختم ہو جائے گی۔

میں یہاں مارک کی بیان کردہ ایک بات دہرانا چاہوں گی۔ امریکہ کے پاس انتظامی حکم 13810 کی صورت میں ایک نیا اور موثر ہتھیار موجود ہے جس کے ذریعے ایسے افراد اور مالیاتی اداروں پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں جو شمالی کوریا کے ساتھ لین دین میں ملوث پائے گئے ہوں۔ یہ انتظامی حکم ستمبر 2017 میں جاری کیا گیا تھا جو امریکی محکمہ خارجہ کو کسی بھی ملک سے تعلق رکھنے والے ایسے فرد یا ادارے کو پابندیوں کے لیے نامزد کرنے کا اختیار دیتا ہے جو شمالی کوریا کے ساتھ اشیا، خدمات یا ٹیکنالوجی کے لین دین میں ملوث ہوں۔ انتظامی حکم 13810 نئی ثانوی مالیاتی پابندیوں کا اختیار بھی دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ تجارت میں ملوث کسی بھی فرد یا ادارے کو اپنے مالیاتی نظام سے علیحدہ اور اس کی جائیداد بلاک کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم آپ کے سوالات لیں گے۔ شکریہ

برائن نیوبرٹ: تمام مقررین کا شکریہ۔ اب ہم سوال و جواب کا سلسلہ شروع کریں گے۔ جو خواتین و حضرات سوال کرنا چاہتے ہیں وہ اپنا اور اپنے ادارے کا نام بتائیں اور آج کے موضوع تک ہی محدود رہیں جو کہ خاص طور پر افریقہ میں شمالی کوریا کی سرگرمیوں سے متعلق امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی کے بارے میں ہے۔ انگریزی زبان میں سننے والوں سے درخواست ہے کہ وہ سوالات کی قطار میں شامل ہونے کے لیے ٭ اور پھر 1 بٹن دبائیں۔ اگر آپ سپیکر فون استعمال کر رہے ہیں تو ٭ اور 1 بٹن دبانے سے پہلے ہینڈ سیٹ لے سکتے ہیں۔ اگر آپ فرانسیسی اور پرتگیز زبان میں ہماری بات سن رہے ہیں تو آپ کے بعض سوالات ہمیں پیشگی موصول ہو چکے ہیں جبکہ آپ انگریزی میں سوالات لکھ کر ہمیں ای میل کے ذریعے بھی بھیج سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔

اس کے ساتھ ہی میں ‘بزنس ڈے نیوز’ سے پہلا سوال لوں گا۔ جناب اپنا اور اپنے ادارے کا نام بتائیے اور سوال کیجیے۔ جی، کیا ڈوکولو مٹساکو لائن پر موجود ہیں؟

ڈوکولو مٹساکو: جی میرا نام ڈوکولو مٹساکو ہے اور میں امریکی شہری ہوں۔ میرا تعلق جنوبی افریقہ کے ‘بزنس ڈے’ سے ہے اور میرا سوال شمالی کوریا کے ساتھ درآمدات و برآمدات کرنے والوں کے خلاف کڑی امریکی پابندیوں سے متعلق ہے۔

کیا امریکہ کو اس امر کا احساس ہے کہ شمالی کوریا نے افریقی ممالک کو نوآبادیات سے چھٹکارا پانے میں مدد دی اور اسی لیے ان ممالک کے شمالی کوریا سے دیرینہ تعلقات قائم ہیں، کیا امریکہ نہیں سمجھتا کہ اگر وہ دونوں فریقین میں تعلقات کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے وہی چیزیں افریقی ممالک کو فراہم کرنی چاہئیں جو شمالی کوریا دے رہا ہے۔ اس میں فوجی امداد، تربیت اور ہتھیار وغیرہ شامل ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ افریقیوں کو وہی کچھ فراہم کرنا کس قدر بہتر ہو سکتا ہے جو شمالی کوریا انہیں دے رہا ہے۔ کیونکہ تکنیکی طور پر دیکھا جائے کہ اگر امریکہ ۔۔۔۔

برائن نیوبرٹ: سوال کے لیے شکریہ۔ ہم مقررین کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اس سوال کا جواب دیں۔ آپ کا بے حد شکریہ۔

رابرٹ سکاٹ: بے حد شکریہ۔ میرا خیال ہے کہ مارک اور پھر سینڈرا آپ کے سوال کا جواب دے سکتے ہیں۔

مارک لیمبرٹ: سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اقوام متحدہ کے ہر رکن ملک کی ذمہ داری ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ افریقی ممالک میں شمالی کوریا کے اداروں کا چھوڑا ہوا خلا پر کرنا ہمارے لیے آگے بڑھنے کا کوئی راستہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا افریقی ممالک میں اپنی میزبانی سے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرنا ہر افریقی ملک کی ذمہ داری ہے۔ جہاں تک ماضی میں شمالی کوریا کی جانب سے ہتھیاروں کی ترسیل کے حوالے سے پیدا شدہ خلا پُر کرنے کا معاملہ ہے تو میرے خیال میں ہم اس حوالے سے مخصوص معاملات کو فرداً فرداً دیکھ سکتے ہیں مگر میں کہوں گا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنا ہر افریقی ملک کی ذمہ داری ہے جن کی حکومتوں نے ان قراردادوں کی توثیق کی ہے۔

سینڈرا اوڈکرک: امریکی مالیاتی پابندیوں کا مقصد اداروں یا افراد کو امریکی مالیاتی نظام تک رسائی پانے سے روکنا ہے۔ اس معاملے میں امریکی مالیاتی پابندیاں شمالی کوریا کے ساتھ تجارتی ممانعت کے حوالے سے عالمی برادری کی خواہش کی ترجمانی کرتی ہیں۔

برائن نیوبرٹ: جوابات کے لیے بے حد شکریہ۔ اب ہم جناب کیون کیلی کا سوال لیں گے۔ براہ مہربانی اپنا اور اپنے ادارے کا تعارف کرایے۔ آپ کی لائن کھلی ہے۔

کیون کیلی: بریفنگ کے لیے شکریہ۔ میرا نام کیون کیلی ہے اور میں نیویارک میں کینیا کے اخبار ‘نیشن ریویو’ کے لیے کام کرتا ہوں۔

میرا سوال افریقہ کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے حالیہ بے باکانہ بیان سے متعلق ہے۔ کیا اس سے افریقی ممالک کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل پر مجبور کرنے کے لیے امریکی سفارتی کوششوں میں پیچیدگی جنم نہیں لے گی؟ کیا آپ اسے اپنی کوششوں میں رکاوٹ نہیں سمجھتے؟

رابرٹ سکاٹ: سوال کا شکریہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ براعظم افریقہ کے ممالک کے ساتھ ہمارے بے حد مضبوط تعلقات ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ حال ہی میں، نومبر میں وزارتی سطح کے 37 ارکان پر مشتمل وفد نے واشنگٹن میں وزیرخارجہ ٹلرسن سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے انہیں ایک دن کے وزارتی اجلاس کے لیے مدعو کیا تھا۔ حال ہی میں ہمارے نائب وزیر نے افریقہ کا دورہ کیا اور ہمارا خیال ہے کہ وزیرخارجہ آنے والے مہینوں میں افریقہ کے متعدد ممالک میں جائیں گے۔ تاہم ابھی اس دورے کا شیڈول طے نہیں ہوا۔

چنانچہ افریقہ کے ساتھ ہمارے مضبوط روابط ہیں اور اس کال کا مقصد بھی یہی بتانا ہے کہ ہم شمالی کوریا کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ان روابط سے کیسے کام لے رہے ہیں۔ ہم نے اس حوالے سے براعظم افریقہ سے نہایت مثبت ردعمل کا مشاہدہ کیا ہے۔ قریباً نصف درجن افریقی ممالک نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے واضح اقدامات اٹھائے ہیں۔ ہم اپنے سفیروں کے ذریعے اور حکومتی سطح پر ان سے رابطے میں ہیں اور اس حوالے سے یہاں واشنگٹن میں بھی بات چیت چل رہی ہے۔ چنانچہ یہ ایک جاری اور پرجوش بات چیت ہے اور ابھی اس ضمن میں بہت کچھ کہا جانا ہے۔ چنانچہ میرے خیال میں ہمیں اس مسئلے پر افریقہ سے نہایت مثبت اشارے ملے ہیں اور ہم اس حوالے سے بات چیت جاری رکھیں گے۔

برائن نیوبرٹ: ہمیں جنوبی افریقہ سے پیٹر فیبریشیس کی جانب سے ای میل کے ذریعے سوال موصول ہوا ہے جو میں اپنے مقررین کے روبرو دہراؤں گا۔ وہ پوچھتے ہیں کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ آیا امریکہ نے جنوبی افریقہ کی حکومت کو شمالی کوریا سے تعلقات منقطع کرنے کو کہا ہے یا نہیں؟ اگر کہا ہے تو جنوبی افریقہ نے کیا جواب دیا؟

رابرٹ سکاٹ: جی ہاں، ہم نے دنیا کی دیگر حکومتوں کی طرح جنوبی افریقہ سے بھی یہ بات کی کہ وہ شمالی کوریا سے تعلقات منقطع کرے یا کم از کم انہیں محدود کر دے۔ جنوبی افریقہ نے ابھی ہمیں اپنی پالیسی کے حوالے سے واضح جواب نہیں دیا۔

برائن نیوبرٹ: شکریہ، اس کے ساتھ ہی میں انیتا پاول کی کال لوں گا۔ براہ مہربانی اپنا اور اپنے ادارے کا تعارف کرائیے اور پھر سوال کیجیے۔

انیتا پاول: یقینا، شکریہ، کیا سبھی کو میری آواز سنائی دے رہی ہے؟

برائن نیوبرٹ: جی

انیتا پاول: اچھی بات ہے۔ میں انیتا پاول ہوں اور میرا تعلق وائس آف امریکہ سے ہے۔ میں کیون کے سوال کی بابت آپ سے کچھ مزید پوچھنا چاہتی ہوں۔

کیا افریقی حکومتوں نے آپ سے یہ پوچھا ہے کہ ‘آپ کے صدر نے ہمارے بارے میں برے الفاظ استعمال کیے، ایسے میں ہم آپ کی بات کیوں سنیں؟ ہم شمالی کوریا کو قابو کرنے کے مقصد میں آپ کے شراکت دار کیوں بنیں؟ ‘آپ نے انہیں کیا کہا؟ مجھے یہ بھی پوچھنا ہے کہ شمالی کوریا کے تجارتی شراکت دار افریقی ممالک بہت بڑے نہیں ہیں اور اس تجارت میں ان کا حصہ بہت معمولی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ افریقی ممالک کی شمالی کوریا کے ساتھ تجارت کس قدر اہم ہو سکتی ہے اور آپ خاص طور پر افریقی ممالک کی شمالی کوریا کے ساتھ تجارت کے حوالے سے ہی کیوں تشویش کا شکار ہیں حالانکہ چین، انڈیا اور پاکستان جیسے بڑے ممالک بھی شمالی کوریا کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں۔

سینڈرا اوڈکرک: جواب کا آغاز میں کروں گی کیونکہ میرے خیال میں ہم آپ کے سوال کے پہلے حصے کا قدرے مفصل جواب دے چکے ہیں۔ میں تجارتی شراکت داروں کے معاملے پر بات کروں گی۔ میں سمجھتی ہوں کہ شمالی کوریا کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کمائی گئی تمام رقم وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول پر خرچ کرتا ہے جن میں بلسٹک میزائل پروگرام بھی شامل ہے جس سے امریکہ کو براہ راست خطرہ ہے۔ بعض اوقات لوگ اعدادوشمار کے چکر میں پڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھیں جی افریقی ممالک کی شمالی کوریا سے تجارت کا حجم تو بے حد معمولی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ شمالی کوریا معیاری اور مقداری اعتبار سے امریکہ کو لاحق دیگر خطرات سے خاصا مختلف ہے اور ہمیں یہ امر یقینی بنانا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ چھوٹے سے چھوٹے پیمانے کی تجارت اور چھوٹی سے چھوٹی رقم کی ترسیل بھی نہ ہو۔ ہمارے لیے اس حوالے سے ہر بات اہم ہے۔

مارک لیمبرٹ: میں اس میں یہ اضافہ کروں گا کہ شمالی کوریا کی غیرملکی تجارت کا معاملہ ایران سے بے حد مختلف ہے۔ ایران عالمی معیشت سے پوری طرح جڑا ہوا ہے جبکہ شمالی کوریا کا یہ معاملہ نہیں ہے۔ جنوبی کوریا کا اندازہ ہے کہ شمالی کوریا کی غیرملکی تجارت کا حجم پانچ یا چھ ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جس کے ساتھ ہم بات چیت کر رہے ہیں جبکہ روس سے بھی اس ضمن میں گفت و شنید جاری ہے جو چین کے بعد شمالی کوریا کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ یہ ایک عالمی کوشش ہے۔ ہم صرف افریقہ کی بات نہیں کر رہے۔ ہم لاطینی  امریکہ، جنوبی مشرقی ایشیا اور یورپ کی بات بھی کر رہے ہیں۔ یہ ایک عالمگیر کوشش ہے۔

برائن نیوبرٹ: ہم چند مزید سوالات لے سکتے ہیں۔ اب میں جناب مکڈونلڈ کا سوال لوں گا۔ براہ مہربانی اپنا اور اپنے ادارے کا تعارف کرائیے۔

ہیمش مکڈونلڈ: میرا نام ہیمش مکڈونلڈ ہے اور میں ‘این کے نیوز’ کے لیے کام کرتا ہوں جو خاص طور پر شمالی کوریا کے حوالے سے خبریں دیتی ہے۔ میرا سوال سمندری ممانعات کے حوالے سے ہے جنہیں حال ہی میں سلامتی کونسل کی تازہ ترین قرارداد میں شامل کیا گیا ہے اور وزیرخارجہ ٹلرسن نے خود بھی ان کوششوں کے حوالے سے بات کی ہے۔ جیسا کہ شمالی کوریا کے بحری جہاز سیرالیون، آئیوری کوسٹ، ٹوگو، تنزانیہ اور کوموروز کے جھنڈے اور تجارتی مقاصد کے لے ان ممالک کی بندرگاہیں استعمال کرتے رہے ہیں۔ کیا امریکی دفتر خارجہ نے کھلے پانیوں میں ایسی سرگرمیوں اور ایسے جہازوں کو روکنے کے لیے کوئی کوششیں کی ہیں اور اس حوالے سے ان جھنڈوں والے ممالک کی جانب سے کیا ردعمل سامنے آیا؟

مارک لیمبرٹ: شکریہ مکڈونلڈ، جی ہاں ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب شمالی کوریا جہاز سے جہاز میں سازوسامان کی منتقلی کا طریقہ اختیار کر رہا ہے اور چوری چھپے اشیا فروخت کر رہا ہے۔ یہ اس امر کا اشارہ ہے کہ اس پر دباؤ ڈالنے کی مہم کے اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ اب وہ مزید مجرمانہ سرگرمیوں کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ عالمی کوشش کے طور پر ہم ایسے جہازوں کو ڈھونڈ رہے ہیں جو ایسی تجارت میں ملوث ہیں۔ آپ کی بات درست ہے وہ اپنے جہازوں کی ملکیت چھپانے کے لیے دوسرے ممالک کے جھنڈے استعمال کرتے ہیں۔ جن ممالک کے جھنڈے  استعمال کیے جاتے ہیں ہم ان سے بھی بات کر رہے ہیں اور انہیں کہہ رہے ہیں کہ وہ شمالی کوریا کی ایسی معاونت بند کر دیں۔ مختصر یہ کہ ہم ایسے جہازوں کو مثال بنانا چاہتے ہیں تاکہ واضح ہو جائے کہ ایسی تجارت میں ملوث کمپنی نہ صرف اپنے سامان سے ہاتھ دھوئے گی بلکہ اس کا جہاز بھی قبضے میں لے لیا جائے گا۔

برائن نیوبرٹ: آپ کا شکریہ۔ آج شمالی کوریا بارے پالیسی پر افریقی علاقائی میڈیا مرکز کے زیراہتمام ٹیلی فون پریس بریفنگ میں شرکت پر آپ کا ایک مرتبہ پھر شکریہ۔ اب ہم پیٹر فیبریشیس سے بات کریں گے۔ پیٹر کیا آپ کو ہماری آواز سنائی دے رہی ہے؟ ہمیں چند تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ ہم نے جنوبی افریقہ سے متعلق آپ کے پہلے سوال کا جواب دے دیا ہے، اگر آپ کے پاس مزید کوئی سوال ہو تو کیجیے۔

پیٹر فیبریشیس: آپ کا بے حد شکریہ۔ میں بریفنگ کا پہلا حصہ نہیں سن سکا۔ میں نے سوالات نہیں سنے اور ہو سکتا ہے یہ سوال پہلے ہی کیا جا چکا ہو، تاہم اگر آپ نے پہلے ہی بیان نہیں کر دیا تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ شمالی کوریا افریقی جھنڈے استعمال کرنے کے علاوہ ان ممالک میں کیسی سرگرمیوں میں ملوث ہے؟

مارک لیمبرٹ:بہت شکریہ، افریقہ ایک بڑا براعظم ہے اور شمالی کوریا ناقابل یقین حد تک وسائل سے مالامال ملک ہے، اس لیے یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت سی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔مثال کے طور پر افریقہ کے کچھ ملکوں کے شمالی کوریا کے ساتھ فوجی روابط ہیں جنہیں شمالی کوریا چھوٹے ہتھیار اور ان کے استعمال  کی تربیت فراہم کرتا ہے۔ دیگر ملکوں میں شمالی کوریا کے لوگ مزدوری کرتے ہیں۔ یہ بات بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن ہے کہ بہت سے غریب ملکوں میں کمپنیاں ایسے کام کرنے کے لیے شمالی کوریا کے لوگوں کی خدمات حاصل کر رہی ہیں جو کام وہاں کے مقامی لوگ بھی آسانی سے کر سکتے ہیں۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ یہ مزدور اپنی تنخواہ عام طور پر خود وصول نہیں کرتے بلکہ یہ شمالی کوریا کو بھیج دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چونکہ شمالی کورین مختلف ذرائع سے پیسہ بنانے کے ماہر ہیں، اس لیے ہمارے پاس واضح شواہد موجود ہیں کہ وہ جنگلی حیات کی سمگلنگ میں بھی ملوث ہیں جس میں گینڈے کے سینگ سمیت ایسی دیگر اشیا شامل ہوتی ہیں جنہیں سیامیز کنونشن کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

سینڈرا اوڈکرک: یہاں میں اس چیز کا اضافہ بھی کروں گی کہ امریکہ ایسے لوگوں یا اداروں پرپابندیاں لگانے یا ان کی نشاندہی کرنے کے اپنے اختیار کو استعمال کر رہا ہے جو افریقی ممالک میں موجود ہیں لیکن بہرصورت شمالی کوریائی شہری یا کمپنیاں ہیں اور جنوبی افریقہ اورایسے افریقی ملکوں میں شمالی کوریائی ناموں کے ساتھ موجود ہیں جو گزشتہ چند برس کے دوران شمالی کوریا کے اسلحے کے پھیلاؤ میں ملوث تھے۔اس ضمن میں پہلی نشاندہی جنوری 2015میں ہوئی جس سے ظاہر ہے کہ براعظم افریقہ میں ایسی کوششیں ایک عرصے سے جاری ہیں۔

برائن نیوبرٹ:آپ سبھی کا سوال و جواب  کی اس نشست میں شمولیت پر شکریہ ۔ ہمارے پاس ابھی کچھ مزید سوالوں کے لیے وقت دستیاب ہے۔جو لوگ سپیکر فون پر موجود ہیں انہیں سوال کرنے کے لیے ہینڈ سیٹ اٹھانا ہو گا۔ اب ہم ایشلن لینگ کو موقع دیں گے ،براہ مہربانی  اپنا اور اپنے ادارے کا تعارف کرائیں اور سوال پوچھیں۔

ایشلن لینگ:میرا نام ایشلن لینگ ہے اور میں ‘ٹائمز آف لندن’ میں نمائندہ برائے افریقہ ہوں۔مجھے آپ سے منسوڈی نامی کمپنی کے حوالے سے کارروائیوں کے بارے میں جانناہے۔ جہاں تک مجھے سمجھ ہے یہ ایک تعمیراتی کمپنی ہے جس نے افریقہ میں بہت سی بڑی عمارتیں تعمیر کی ہیں جبکہ کچھ دلچسپ مجسمے بھی بنائے ہیں ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کمپنی ان کاموں کے ساتھ دفاعی خدمات بھی مہیا کرتی ہے۔ کیا آپ کی نظر میں اس کا کوئی ایسا تعمیراتی یا دفاعی منصوبہ ہے جو شروع ہونے والا ہو یا جاری ہو اور آپ چاہتے ہوں کہ یہ رک جائے ۔ مجھے علم ہے کہ یہ کافی طویل المدت منصوبے ہوتے ہیں اور کیا آپ نے ان میں سے کسی کا سراغ لگایا ہے۔

سینڈرا اوڈ کرک:جی میں جواب دیتی ہوں۔ میرا نام سینڈراہے، کچھ  دیر پہلے میں نے ذکر کیا کہ امریکی حکومت نے کچھ ایسے اداروں یا افراد کی نشان دہی کی ہوئی ہے ۔ منسودی اوورسیز پراجیکٹ گروپ کی نشاندہی دسمبر 2016میں کی گئی تھی۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کمپنی براعظم افریقہ کے بہت سے ملکوں میں کاروبار کر رہی ہے اور اس کی نشان دہی کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ کمپنی بہت سے شمالی کوریائی کارکنوں کی فراہمی اور شمالی کوریا کے میوٹیشنز انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ کے لیے پیسہ اکٹھا کرنے میں ملوث تھی ۔ میں آپ کوثبوت کے طور پر امریکی محکمہ خزانہ کی دو دسمبر 2016کی پریس ریلیز کا بھی حوالہ دیتی ہوں جس میں اس ماہ کے دوران کمپنی کی افریقہ میں سرگرمیوں کی کچھ تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔

مارک لیمبرٹ:مس لینگ میں یہاں اس بات کی طرف بھی توجہ دلانا چاہوں گا کہ منسوڈی پر اقوام متحدہ نے بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ایسی بہت سی خوفناک کہانیاں ہیں جو اس کمپنی کے شمالی کوریا کی فوج کے ساتھ تعلق کو ثابت کرتی ہیں۔سچ کہوں تو یہی وہ میدان ہے جس میں ہمیں متعدد افریقی ملکوں کی طرف سے ملنے والے تعاون پر خوشی ہے۔ ہمیں اس حوالے سے مستعد رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسے اداروں میں دوسرے ناموں سے دوبارہ ابھرنے کی صلاحیت ہوتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں منسوڈی کی افریقہ میں کام کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کے حوالے سے بہت سے ملکوں میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

برائن نیوبرٹ:آپ کا بہت شکریہ، اپنے شرکا کو یاد دہانی کراتا چلوں کہ محکمہ خارجہ میں ہمارے پاس افریقہ و ایشیا ئی بیورو کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اقتصادی  بیورو کے نمائندے بھی موجود ہیں۔ اس لیے جو آپ سن رہے ہیں وہ شمالی کوریا کے حوالے سے پالیسی کے تین مربوط عناصر ہیں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ ابھی بہت سے شرکا موجود ہیں لیکن ہمارے پاس وقت صرف ایک یا دو سوالوں کے لیے بچا ہے۔ میرا خیال ہے ہیمش مکڈونلڈ کوئی ضمنی سوال پوچھنا چاہیں گے۔ ہم آپ کی لائن کھول رہے ہیں،جی  سوال کیجیے۔

ہیمش مکڈونلڈ:دوبارہ بات کا موقع دینے کا  شکریہ ، میں ہیمش مکڈونلڈ ہوں اور میرا تعلق ‘این کے نیوز’ سے ہے۔ میں ماہرین کے پینل  کی رپورٹ کے حوالے سے مختصر سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ ایک ایسی وسط مدتی رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے شمالی کوریا کی افریقہ میں سرگرمیوں کے حوالے سے بہت سی جاری تحقیقات کا انکشاف کیا ہے جن میں سے متعدد کا تعلق تربیتی اور فوجی تعاون سے ہے اور اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ یوگنڈا، تنزانیہ، نمیبیا، موزمبیق، اریٹیریا، جمہوریہ کانگو اور انگولا سے تحقیقات کر رہے تھے لیکن انہیں ان ملکوں کی طرف سے خاطر خواہ تعاون نہیں ملا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ کیا محکمہ خارجہ اس حوالے سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران حاصل ہونے والی کسی خاص کامیابی پر روشنی ڈالے گاجس سے پتا چلے کہ یہ ملک شمالی کوریا کے ساتھ فوجی تعاون میں ملوث رہے ہیں خواہ ان میں فوجی تعمیرات ہی شامل ہوں۔

مارک لیمبرٹ : آپ کے سوال نے ہمیں مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ جیسا کہ آپ نے اپنے سوال میں اشارہ دیا کہ ماہرین کے پینل  کی رپورٹ لیک ہوئی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا اس پر بات کرنااس وقت تک غیر مناسب ہو گاجب تک کہ یہ مکمل نہ ہوجائے۔ہمیں حال ہی میں کچھ کامیابیاں ملی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ان کے بارے میں کچھ معلومات آپ تک بھی پہنچائیں تاکہ ان پر مزید تفصیل سے بات ہو سکے۔ میں آپ کو انکار تو نہیں کر رہا بس یہ درخواست ہے کہ ابھی کچھ انتظار کریں تاکہ ہم آپ کواس موضوع پر کچھ زیادہ واضح معلومات مہیا کر سکیں۔

برائن نیوبرٹ:میں ہیمش مکڈونلڈ  اور دیگر شرکا کو یاد دہانی کراتا چلوں کہ آپ سب کے پاس افریقی علاقائی میڈیا مرکز کی ای میل ہو گی ۔ سو آپ کو جب اس کال کا مسودہ اور دیگر معلومات ملیں تو آپ ہمیں اپنے سوالات ضروربھیجیں ہم ان کے حوالے سے معلومات اور جواب فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہمارے پاس ابھی ایک اور سوال بھی ہے۔ مس ڈوکولو ہم آپ کے لیے لائن کھول رہے ہیں۔ معافی چاہتا ہوں کہ ہمیں آپ کا گزشتہ سوال کاٹنا پڑا کیونکہ وہ کچھ طویل ہو گیا تھا۔ براہ مہربانی  اس بار سوال مختصر رکھیے ۔ شکریہ۔

ڈوکولو مٹساکو:شکریہ، میرا تعلق ‘بزنس ڈے’ سے ہے۔اس وقت آپ افریقی حکومتوں پر تو دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی تعمیل کریں لیکن اس پر عمل درآمد کے مجوزہ طریقہ کار کے پیش نظر امریکہ افریقی حکومتوں کے شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات ختم کرانے کیلئے ان کے ساتھ بات چیت کے علاوہ اور کیا اقدامات کر رہا ہے؟

سینڈرا اوڈ کرک:جی، اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کو اپنے مقامی اختیار سے نافذ کرانے کی کوشش کریں ، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ اس کا کوئی مجوزہ طریقہ کار نہیں ہے۔ دنیا کا ہر ملک اپنا مقامی اختیار استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی پابندیوں پر عمل درآمد کرتا ہے چاہے وہ شمالی کوریا کے خلاف ہوں یا کسی اور ملک ، فرد یا پروگرام کےخلاف عائد کی گئی ہوں  اور یہ اختیار ہر ملک کے حوالے سے مختلف ہو سکتا ہے۔ ہم یہ کر رہے ہیں کہ تمام ملکوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کو پوری طرح لاگو کریں۔

برائن نیوبرٹ:ایک بار پھر شکریہ۔میں دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے پاس اب مزید کوئی سوال نہیں ، اس لیے اس نشست کو ختم کرنے سے قبل میں رابرٹ  سکاٹ اور دیگر حکام سے درخواست کروں گا کہ وہ اس موضوع پر اپنی اختتامی رائے دیں۔

رابرٹ سکاٹ:شکریہ برائن۔ میں رابرٹ سکاٹ ہوں۔ میں آپ سبھی، میڈیا مرکز اور صحافیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو یہاں تشریف لائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری آج کی گفتگو واضح کرتی ہے کہ یہ موضوع ہمارے لیے کتنا حساس ہے۔ وزیر خارجہ ٹلرسن گزشتہ روز کینیڈا کی جانب  سے منعقد کی گئی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے وینکوور میں موجود تھے جس میں متعدد ممالک  شریک ہوئے ۔یہ تمام ملک 1950کی دہائی میں کسی نہ کسی طور کوریا کی جنگ کا حصہ رہے ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد اس خطرے کے حوالے سے یک جہتی کا اظہار کرنا تھاجو یہ ملک محسوس کرتے ہیں اور یہ ایک بہت مخصوص قسم کا خطرہ ہے۔ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اسے افریقی ملکوں کے ساتھ شراکت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم متفقہ پالیسی کے اطلاق کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کام کر رہے ہیں چنانچہ یہ کوئی یکطرفہ پالیسی نہیں جو امریکہ نے کسی پر مسلط کر دی ہو۔یہ اقوام متحدہ میں سب کا معاہدہ ہے کہ ہمیں کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اس کارروائی کو عمل میں لانے کے لیے سب سے موثر طریقہ ڈھونڈنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس لیے یہاں محکمہ خارجہ کے افریقہ بیورو میں ہمیں اس بات کا حوصلہ ہے کہ بہت سے ملک کارروائی کرنا چاہتے ہیں اور ہم سب اپنے سفیروں اور سفارت خانوں کی مدد سے مل کر کام کرنے کے نئے راستے دریافت کر رہے ہیں۔ میں اب مارک اور سینڈرا کو دعوت دوں گا کہ اگرا نہوں نے اس موضوع پر کچھ کہنا ہے تو آغاز کریں۔ مارک پہلے آپ بات کریں۔

مارک لیمبرٹ:میں یہاں ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا جس کا ذکر میں پہلے بھی کر چکا ہوں کہ یہ ایک بین الاقوامی کوشش ہے۔ شمالی کوریا کے مسئلے کو حل کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ تمام ملک مل کر کام کریں۔ ہمیں صحافی برادری کی مدد کی بھی ضرورت ہے۔ جب آپ کے پاس اس موضوع پر سوالات ہوں تو براہ کرم برائن کو ارسال کریں۔ وہ انہیں واشنگٹن روانہ کر دیں گے اور ہم آپ کے لیے ان کے جوابات حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے۔ براہ کرم اس بات کو سمجھیں کہ ان میں سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ ان میں سے کچھ قانونی ہیں، اس لیے کچھ معاملات پر ہمارے پاس کہنے کے لیے کچھ زیادہ مواد نہیں لیکن جب ہم کچھ کہنے کے قابل ہوئے تو آپ کے ساتھ اچھی معلومات کا تبادلہ کرناچاہیں گے، ایسی معتبر معلومات جنہیں آپ اپنے قارئین کے سامنے بھی پیش کر سکیں۔

سینڈر ااوڈ کرک:میں سینڈرا ہوں۔ آج کی نشست میں آپ سب کی شرکت کا شکریہ۔میں مخصوص سوالات کے جواب دینے کے حوالے سے رابرٹ اور مارک کی بات کی تائید کرونگی۔ جب آپ کو میرے ریمارکس کے ساتھ منسلک تحریری نقل  ملے گی تو آپ دیکھیں گے کہ اس میں ایک دو ویب سائٹس بھی ہیں۔یہ وہ سائٹس ہیں جہاں آپ امریکہ کی مقامی نشان دہی کے حوالے سے براہ راست معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور اگر کوئی سوال ہو تو وہ بھی پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

برائن نیوبرٹ:آپ کا ایک بار پھر شکریہ۔اگر اجازت ہو تو ہم ایک اور سوال لے لیں کیونکہ پہلے مجھے ان خاتون تک پہنچنے میں کچھ مشکل پیش آئی لیکن ابھی ہمارے پاس چند لمحے باقی ہیں تو ہم شینن ابراہیم کا سوال لیں گے۔ براہ مہربانی  اپنا اور اپنے ادارے کا مختصر تعارف کرائیں ۔

شینن ابراہیم:بہت شکریہ، میرا نام شینن ابراہیم ہے اور میں جنوبی افریقہ میں’ انڈپینڈینٹ میڈیا ‘کی گروپ فارن ایڈیٹر ہوں جو بیس اخبارات اور ایک آن لائن ویب سائٹ پر مشتمل ہے۔میں جنوبی اور شمالی کوریا اور ان کے تنازع کے بارے میں لکھتی رہتی ہوں۔ رواں ہفتے میں اولمپکس کے بارے میں لکھ رہی ہوں اور یہ کہ آیا  ان سے اقوام متحدہ کی نومبر کی قرارداد کی روشنی میں امن کی کوئی نئی راہ نکلے گی جس میں اولمپکس کے امن اور مذاکرات کیلئے ایک اہم قدم بننے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ میں نہیں جانتی کہ آپ نے اپنی بریفنگ میں پہلے اس موضوع پر کوئی بات کی ہے یا نہیں لیکن اس پر بات کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ آیا اقوام متحدہ اسے حقیقی معنوں میں امن کی طرف ایک قدم سمجھتی ہے کہ شمالی کوریا ان کھیلوں میں حصہ لے گا۔ اب تو دونوں ملکوں نے مشترکہ طو رپر خواتین کی آئس ہاکی ٹیم بھی بنا لی ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ پیش رفت شمالی کوریا کو مذاکرات کے میز پر لے آئے گی تاکہ ان موضوعات پر بات ہو سکے جو ان میں اختلافات کا باعث ہیں۔

رابرٹ سکاٹ:مس ابراہیم ، ہم اس حوالے سے جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان کی حکومت سے بہت قریبی رابطے میں رہے ہیں۔انہوں نے اس پیش رفت کے حوالے سے دوبار صدر ٹرمپ سے بات کی ہے ۔ اس وقت تو ایسا لگ رہا ہے کہ زیادہ تر بات چیت اولمپکس کو محفوظ بنانے کے لیے ہے لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ یہ ایک مستقل صلح ہو گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ شمالی کوریا کی طرف سے ایسی پیش رفت بھی دیکھنے میں آئے گی جس سے اشارہ مل سکے کہ وہ جزیرہ نما کوریامیں جوہری تخفیف پر بھی رضا مند ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے شمالی کوریا کی طرف سے ایسی کوئی چیز دیکھنے یا سننے میں نہیں آئی۔

برائن نیوبرٹ: بہت شکریہ، اس کے ساتھ ہی آج کی نشست کا اختتام ہوتا ہے۔میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، اس کے علاوہ قائم مقام نائب معاون وزیر برائے افریقی  امور رابرٹ سکاٹ کا بھی شکر گزار ہوں۔ شمالی کوریا سے متعلق پالیسی بارے خصوصی نائب نمائندے مارک لیمبرٹ او رقائم مقام نائب معاون وزیر برائے معاشی امور   سینڈرا اوڈکرک کا بھی شکریہ

افریقہ اور دنیا بھر سے ٹیلی فون کرنے والے ہمارے تمام شرکا کا شکریہ۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا اگر آپ نے مزید سوالات کرنا ہوں تو افریقی علاقائی مرکز سے رابطہ کیجیے۔ اس کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔ آپ سبھی کا بے حد شکریہ


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں